Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کی بجائے بحران کا زمہ دار جہانگیر ترین کیوں؟ محبوب اسلم

    وفاقی کابینہ کا سربراہ وزیر اعظم ھوتا ھے اور صوبائی کابینہ کا سربراہ وزیر اعلی تو پھر سارا ملبہ جہانگیر ترین پر کیسے گرایا جا سکتا ھے؟؟؟

    اھلیان پاکستان
    السلام و علیکم

    یہ سوال واقعی قابل توجہ ھے کہ جب وفاقی کابینہ اور صوبائی کابینہ میں یہ سارے چور ملکر چینی اور آٹے کا بحران پیدا کر رھے تھے اور سبسڈی اور درآمدات کی پالیسیاں منظور کروائی جارھی تھیں تو اسوقت یہ وزیر اعظم اور پنجاب کےوزیر اعلی کدھر تھے؟؟؟ صاف ظاھر ھے کہ اسکی دو ھی وجوھات ھو سکتی ھیں یا تو یہ رَج کے نااھل تھے یا اندر سے ملے ھوئے تھے!

    مجھے چونکہ کم ازکم وزیر اعظم کیساتھ کام کا تھوڑا بہت تجربہ ھے تو میرا خیال ھے کہ یہ دونوں ھی وجوھات رھی ھونگیں کہ یہ بندہ رَج کے نا اھل بھی ھے اور چوروں کی سر پرستی کا ٹریک ریکارڈ بھی رکھتا ھے۔ یقین نہ آئے تو جسٹس وجیہ الدین سے کبھی پوچھ لیا جائے!

    دوسری طرف ملبہ جہانگیر ترین پر اسلئیے گرایا جارھا ھے کہ اس کو جتنا عمران خان نے استعمال کرنا تھا وہ کر لیا اور اب اسکی ضرورت نہیں رھی۔۔۔اب وہ پرانی والی بات کہاں۔۔۔اگر یقین نہ آۓ تو پارٹی کے اگر لاکھوں نہیں تو ھزاروں ایسے عمران خان کے ”ساتھی“ مل جائینگے جن کا خون چوس کر ھڈیاں عمران خان نے پھینک دیں!

    جہاں تک بات ھے رپورٹ شائع کرنے کے کریڈٹ کی تو شنود ھے کہ رپورٹ پہلے ھی میڈیا کو لیک ھو چکی تھی تو پھر آگے بڑھکر قبول کرنے کے علاوہ چارہ کچھ بچا نہ تھا وگرنہ اگر عمران خان نے کرپشن کا قلع قمع کرنا ھوتا تو خسرو بختیار کو ایک گندا کچھا اتروا کر دوسرا نہ پہنایا جاتا اور یہی حال سیٹھ داؤد رزاق کیساتھ کیا گیا کہ ان ساروں نے خوب پیسہ بنایا اور
    جواب میں صرف انکی وزارت بدل دی گئی۔۔۔

    شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
    رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی!!!

    باقی رھی مونس الہی کی بات تو وھاں تک تو مجال کس کی ھے کہ یہ خاندان بوٹ والوں کا سدا وفادار ھیں بقول چوھدری صاب ھن مٹی پاؤ تے آگاں ودو؟؟؟

    لیکن معاملہ اتنا آسان بھی نہیں ھے کیونکہ آخر پارلیمانی نظام حکومت میں کابینہ کا فیصلہ وزیر اعظم کی مرضی سے آگے چلتا ھے تو پھر بہرحال آخری ذمہداری تو عمران خان کی ھی بنتی ھے اِدھر ادھر کی جتنی بھی ھانک لیں آخر تو ذمہداری سیلیکٹڈ کی ھی بنتی ھے؟؟؟

    اور یہ معاملات اگرکورٹ تک پہنچتے ھیںں تو پھر ان معاملات کا کھرا وھاں جا کر ملیگا جہاں اقتدار کی طاقت ھے کہ جتنا بڑا اختیار اتنی ھی بڑی ذمہداری۔۔۔لیکن یہ عمران خان کی پرانی عادت ھے کہ اختیار اور پاور تو انجوائے کرو اور ذمہداری ھمیشہ دوسروں پر ڈالو۔۔۔یوں آثار تو یہ نظر آرھے ھیں کہ یہ سارا معاملہ دب جائیگاکہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں؟؟؟

    دوسری طرف کچھ بھولے بادشاہ امید لگائے بیٹھے ھیں کہ عمران خان کب استعفی دے رھا ھے۔۔۔لیکن اسمیں انکا کوئی قصور نہیں ھے۔۔۔یقین نہ آئے تو خود عمران خان سے پوچھ لیں جو ھمیں یہ بتاتے بتاتے ھلکان ھو جاتا تھاکہ کیسے مغرب میں وزیر اعظم اپنی کابینہ کی اسطرح کی کرپشن پر استعفی دے دیتے ھیں؟؟؟

    لیکن صاحب۔۔۔ھماری قوم کے یہ نصیب کہاں؟ کہاں ھم ایک اسلامی جمہوری مملکت اور مدینہ کی ریاست اور کہاں وہ کافر مغربی ممالک؟؟؟ بھلا جس وزیر اعظم اور سپہ سالار کی ضامن جید ”علما“ کی آنسوؤں کی لڑی ھو اسے کونسی غیرت استفعی پر راضی کر سکتی ھے۔۔۔لا حول پڑھیں صاحب لا حول؟؟؟

    اللہ ھی پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔۔۔ھم نے تو کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی؟؟؟

    دعا گو
    محبوب اسلم

  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.

  • ٹک ٹاک ماڈل حریم شاہ کی اہم شخصیات و حساس مقامات تک رسائی حکومت پر سوالیہ نشان، رپورٹ

    حریم شاہ اور صندل خٹک نے معروف سوشل سائیٹ ٹک ٹاک سے شہرت پائی. ٹک ٹاک پر مختلف گانوں اور آوازوں پر اپنی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں.چند ماہ قبل حریم شاہ کی صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوئیں.
    بعد ازاں انہیں معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کے جہاز پر دیکھا گیا.مبشر لقمان نے ان پر جہاز سے چوری کا الزام لگایا ، ایف آئی آر کے بعد تحقیقات جاری ہیں.
    چند دنوں بعد انکی دفتر خارجہ کے میٹنگ روم میں وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کی ویڈیو وائرل ہو گئی. شدید عوامی ردعمل پر حریم کے خلاف تحقیقات کا آغاز تو ہوا لیکن اسکے بعد خاموشی ہے.
    حریم شاہ کی ویڈیوز سے انکے شاہانہ لائف سٹائل کا اندازہ ہوتا ہے.نجی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں حریم شاہ نے بتایا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے زاتی گھر ہیں.حریم شاہ نے ٹک ٹاک اور ماڈلنگ کو اپنا زریعہ معاش بتایا ہے.لیکن یہ شاہانہ طرز زندگی صرف مبینہ کمائی سے ممکن نہیں.کمائی کے اور زرائع کیا ہیں متعلقہ اداروں کو اسکی تحقیقات کرنی چاہئیں.
    چند دن پہلے حریم شاہ نے شیخ رشید کے ساتھ چیٹ کی ویڈیو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئر کی. حریم شاہ نے الزام لگایا کہ شیخ رشید نے پہلے بیٹی اور اب "بےبی ” کہا ہے.سوشل میڈیا پر پی ٹٰی آئی کارکنان کے شدید ردعمل کے بعد حریم شاہ نے وزیر اعظم کی ویڈیو لیک کرنے کی دھمکی دی ہے.ماضی میں بھی حریم شاہ کی جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی سمیت حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں کی ساتھ تصاویر وائرل ہو چکی ہیں
    ایک ٹک ٹاک سٹار ماڈل کی اس قدر اہم اور حساس شخصیات و مقامات تک رسائی حکومتی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے.کیا حریم شاہ اور اس سے متعلقہ کرداروں کے خلاف تحقیقات ہونگی ؟

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

  • ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    بارگاہِ رسالت مآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی مقدس و مکرم ہے اس کا اندازہ شاید ہی ایک دنیادار کو کبھی ہو سکے،
    اس دنیا کا سب سے زیادہ مہذب، باشعور، باادب اور بااخلاق شخص بھی شاید سید عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب کا حق ادا نہ کر سکے.
    میر تقی میر کا ایک مصرعہ ہے کہ
    "لے سانس بھی آہستہ کے نازک ہے بہت کام”
    سیاسی وابستگی اور نظریے سے قطع نظر اس بات کا حد درجہ خیال رکھیں کہ آپ کس کا ذکر کر رہے ہیں، اور جب آپ عالم کے سب سے زیادہ حسین، اکمل و کامل انسان کا تذکرہ کر رہے ہوں، جو نہ صرف سب سے عظیم انسان ہوں بلکہ صاحب شریعت ہوں. اللہ کے آخری نبی ہی نہیں بلکہ سیدالانبیاء ہوں. جن کے متعلق اللہ نے ادب کا حکم دیا ہو تو پھر اس وقت تک کچھ نہ کہیں جب دل، دماغ، زبان، جسم اور روح ایک پیج پر نہ ہوں.
    جب آپ ہر طرح کی احتیاط کو ملحوظ رکھیں گے تو غلطی کا امکان بہت کم ہے. میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں بداحتیاطی بھی جرم ہے. اور ایسے عادی مجرم کو اس کی سزا ملنی چاہیے. اب اس کی سزا امت کے مجتہدین ہی طے کر سکتے ہیں. ہم تو عام سے لوگ ہیں.
    مگر جب آپکو علم ہو کہ یہ بد احتیاطی کرنے والے کی نیت توہین و گستاخی کی نہیں تو پھر کافر و گستاخ کے فتوے لگانا بھی مناسب نہیں. بلکہ علماء کو چاہیے کہ ایسے بندے کو پیار سے سمجھائیں کہ یہ معاملہ کتنا حساس ہے. اگر بارہا سمجھانے پر بھی وہ شخص نہیں سمجھ پاتا تو اس کے لیے سزا ضرور ہونی چاہیے.
    کل سے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کے منہ سے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق انتہائی نازیبا جملہ نکلا. وزیر اعظم صاحب سیدالانبیاء سید البشر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد کا تذکرہ کر رہے تھے. اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو معاذ اللہ ذلالت کہہ دیا. جو کہ سراسر بے ادبی ہے. اس پر خان صاحب کو اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہیے. اور آئندہ کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے. اور وسائل ہوں تو اس اچھا سا عالم دین بھی رکھ لیں جو انہیں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب سکھائے.
    البتہ اس ایک کلپ کی بنیاد پر گستاخ و کافر کہنا قطعاً درست نہیں. لہٰذا تنقید کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے اور شدت کی فضاء قائم کرنے کے بجائے اصلاح کے راستے کو اپنائیں. اور ایسے کلپ کو ایسے شئیر کر کے اپنا مذاق نہ بنوائیں. آپ کی شئیرنگ پر ملحدین قہقہے لگاتے ہیں. اور سوچیں کے مذمت کے نام پر ہم جو کر رہے ہیں وہ بھی کہیں اسی زمرے میں تو نہیں آتا.

  • جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے 20 لاکھ کا اعلان، ریلوے کابھی احتساب ہوگا عمران خان

    اسلام آباد:احتساب سب کا ہوگا، اب ریلوے میں حادثات کے حوالے سے احتساب کا عمل شروع کریں ، وزیر اعظم عمران خان نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو ٹیلی فون کر کے تیزگام حادثے کی تفصیلات حاصل کیں، وزیر اعظم نے اپنی طرف سے جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے مزید ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کل امداد کی رقم 20 لاکھ روپے کردی ہے

    تفصیلات کے مطابق لیاقت پور میں تیزگام سانحے کے سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے وزیر ریلوے شیخ رشید کو ٹیلی فون کیا جس میں جاں بحق افراد کے ورثا کو وزیر اعظم کی طرف سے فی کس 5 لاکھ مزید ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    وزیر اعظم نے فون پر شیخ رشید کو حادثے کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا حادثے کے سلسلے میں کوتاہی کے مرتکب افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جائے، ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے ریلوے میں احتساب کا عمل بھی شروع کیا جائے۔

    وزیر اعظم نے شیخ رشید کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری مدد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا زخمی افراد کو بھی بہترین طبی سہولیات فراہم کریں، واقعے کی تحقیقات سے مسلسل آگاہ رکھیں۔ وزیر ریلوے نے اعلان کیا تھا کہ جاں بحق مسافروں کے ورثا کو فی کس 15 لاکھ روپے دیے جائیں گے، جب کہ زخمی ہونے والے مسافروں کو 3 سے 5 لاکھ ادا کیے جائیں گے۔

  • جتنی جلدی ممکن ہوسکے عوام کو ریلیف ملنا چاہیے،گورنراسٹیٹ بینک کو وزیراعظم کی ہدایت

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے عوام کے جلد از جلد ریلیف دینے کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک کو بلاکرہدایات جاری کردیں ،اطلاعات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر نے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے ملکی معیشت اور مالیاتی امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

    یونیورسٹی میں خواتین کے واش رومز میں کیمرے نصب ہونے کا انکشاف

    ملک کی تازہ ترین معاشی صورت حال سے متعلق رضا باقر نے اسٹیٹ بینک اور مالیاتی معاملات سے متعلق وزیر اعظم کو بریفنگ دی، ڈالر کی قدر میں استحکام سمیت زر مبادلہ کے ذخائر پر بھی گفتگو کی گئی، گورنر اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم کو شرح سود اور افراطِ زر کنٹرول کرنے کے معاملات پر بھی بریف کیا۔

    ٹرین حادثے میں جھلسنے والے افراد کہاں کہاں بھیجے جاسکتے ہیں،رپورٹ آگئی

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور گورنراسٹیٹ بینک کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے اور اہم اصلاحات کی ضرورت پر گفتگو کی گئی، کاروبار اور روزگار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے، عوام کو بہترین تعلیم، صحت اور ہنر کی فراہمی پر بھی بات چیت ہوئی۔

    کون ہوگافیل اور کون ہوگا پاس ، 9 نومبر کو سب پتا چل جائے گا

    واضح رہے کہ آج ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپس نے بھی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستانی معیشت کے استحکام اور اس کے لیے اہم اصلاحات کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

  • مالیاتی پالیسی اور معاشی پالیسی کے حوالے سے وزیراعظم کو بریفنگ

    وزیرِ اعظم کو پنجاب کی مالیاتی پالیسی اور معاشی پالیسی کے اس مالی سال کے اہداف سے آگاہ کیا گیا۔ صو با ئی وزیر خزانہ ہاشم بخت نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے سہ ماہی کے اہداف کو گذشتہ سال کی نسبت بہتر طور پر حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

    صو با ئی وزیر خزانہ ہاشم بخت نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ اس مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں پچھلے سال کی نسبت نمایا ں اضافہ کیا گیا ہے اور سماجی بہبود کے منصوبو ں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے اور ہسپتال اورتعلیمی اداروں کے لئے مختص فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کی ہر ممکن کوشس کی جا رہی ہے تاہم اورینج ٹرین کی سبسڈی اور دیگر ایسے منصوبوں کی وجہ سے صوبائی حکومت کو مسائل در پیش ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ عوام کو موجودہ حکومت کے فلاحی کاموں کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔

    ماضی کی حکومتوں کے جانب سے حاصل کیے گئے قرضوں اور انکا استعمال اور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور قرضوں کا موازنہ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے عملی اقدامات اور حکمت عملی پر توجہ دی جائے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جائے اس تناظر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو صوبائی اور ملکی معاشی ترقی کے لیے بھرپور طور پر استعمال کیا جا سکتا ہےوزیراعظم نے کہا کہ ایزآف ڈوئنگ بزنس اور معیشت کے شعبے میں دیگر مثبت اعشاریوں کو عوام اور سرمایہ کاروں تک موثر انداز میں پہنچائیں

    وزیراعظم عمران خان کو صوبائی وزیرخوراک اورصوبائی سیکرٹری خوراک نے گندم کی قیمت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ صوبے بھر میں اشیائے خوردنوش اور خصوصا گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کم سے کم رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں

  • صحت مند پنجاب وزیراعظم کو اہم بریفنگ اہم رہنما شریک

    لاہور:وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے میں سہولیات کی بہتری اور اصلاحات کے حوالے سے اجلاس۔اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر تعلیم شفقت محمود، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، چیف سیکرٹری پنجاب نسیم یوسف کھوکھر اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے

    اس اہم اجلاس میں صحت کے شعبے میں سہولیات کو بہتر بنانے کے ضمن میں نئے اقدامات کے تحت پانچ بڑے ہسپتالوں کے شعبہ حادثات میں فراہم کی جانے والی سروسز کو مزید بہتر بنانے، ہسپتالوں کی او پی ڈیز کی مرمت و تزئین ، مددگار کاونٹرز کا قیام اور ہسپتالوں کے انتظامی و مالی امور کو بہتر بنانے کی غرض سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی

    بریفنگ کے دوران ہسپتالوں کے انتظامی امور میں سزا اور جزا کے نظام اور غریب مریضوں کو بہتر اور بروقت علاج کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات پر وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا ۔

    وزیراعظم کو بتایا گیا کہ تیس ضلعوں میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ بقایا چھ اضلاع میں بھی جلد ہیلتھ کارڈ کا اجرا کردیا جائے گا ۔ ہیلتھ کارڈ سہولت کے ذریعے مستحقین کو علاج کی سہولیات کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔ زیادہ سے زیادہ مستحقین کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج معالجے کی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ مستقبل میں امراض قلب کے نئے ہسپتالوں کے قیام کے منصوبوں اور صوبہ میں ڈینگی پر قابو پانے کےلئے اقدامات پر وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کیا گیا ۔

    وزیراعظم عمران خان نے محکمہ اوقاف کے زیر انتظام زمینوں کی نشاندہی کر کے نجی شعبے کے ہسپتالوں کو لیز پر دینے اور ہیلتھ کارڈ کے تحت ان نجی ہسپتالوں سے مستحقین کے علاج کو منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔عوام الناس کو صحت کی بروقت اورمعیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ اس ضمن میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ماضی میں امیر کو تو معیاری علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اقدامات لئے گئے مگر غریب اور متوسط طبقے کو معیاری اور بر وقت علاج کی سہولیات کی فراہمی پر کوئ توجہ نہیں دی گئی ۔ موجودہ حکومت اس ضمن میں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت وضع کیے گئے روڈ میپ کی تکمیل پر عمل پیرا ہے جس سے طبقات کے فرق کے بغیر ہر شہری علاج معالجے کی بہترین سہولیات حاصل کر سکے گا ۔