Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ:  اسرائیلی فوج کا ایمبولینس  پر  حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج کا ایمبولینس پر حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید

    غزہ: غزہ میں اسرائیلی فوج کے ایمبولینس پر حملے میں فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: فلسطینی ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے دیرالبلح کے نزدیک ایمبولینس کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جس میں ہلال احمر کے 4 کارکن شہید ہوگئے،چاروں افراد طب کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے،انہیں ہلال احمر کا نشان پہنے ہوئے شہید کیا گیا، جس کا بین الاقوامی قانون کے مطابق تحفظ ہونا چاہیے۔
    https://x.com/PalestineRCS/status/1745129136555733331?s=20
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ میں الاقصیٰ اسپتال کے اطراف شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 40 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 150 سے زیادہ زخمی ہوگئے24 گھنٹوں میں 150 سے زائد صیہونی حملوں میں 200 فلسطینی شہید ہوگئے،7 اکتوبر سے اب تک شہدا کی تعداد 23 ہزار 350 سے تجاوز کرگئی ہے۔

    ہمسائیوں کا بچہ 2 لاکھ روپے میں فروخت کرنے والی خاتون سمیت 4 افراد …

    قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو کہا ہے کہ فوج جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں اپنی کارروائیاں تیز کرے گی ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ کے مطابق گیلنٹ نے بلنکن کو اسرائیل کے دورے کے دوران مطلع کیا کہ خان یونس میں کارروائیوں میں شدت لائی جائے گی تاکہ حماس کے لیڈروں کو تلاش کیا جائےاور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے۔

    ن لیگ نے راولپنڈی، اٹک، چکوال،گوجرانوالہ، جہلم اور تلہ گنگ سے امیدواروں کی ٹکٹوں …

    علاوہ ازیں مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فورسز کی پُرتشدد کارروائیاں جاری ہیں عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں چھاپہ مارکارروائی میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 12 فلسطینی زخمی ہوگئے، اس دوران 5 فلسطینی گرفتار بھی کرلیےگئے۔

    ایک اور سیاسی جماعت کا الیکشن کمیشن سے بلے کے نشان کا مطالبہ

  • اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا بڑا بیٹا بھی شہید

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا بڑا بیٹا بھی شہید

    غزہ: اتوار کے روز غزہ کی پٹی پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں حمزہ وائل الدحدوح اور مصطفیٰ ثریا نام کے دو مزید صحافی شہید ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے بدترین جارحیت جاری ہے جہاں فضائی حملوں میں معصوم فلسطینیوں سمیت قطری میڈیا الجزیرہ غزہ کے بیوروچیف وائل الدحدوح کا بیٹا صحافی حمزہ الدحدوح بھی شہید ہوگیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصطفیٰ ثریا ‘اے ایف پی’ کے لیے ویڈیو سٹرینگر کی حیثیت سے اور حمزہ الدحدوح الجزیرہ کے ساتھ کام کرتے تھے دونوں صحافی گاڑی میں سفر کر رہے تھے اس دوران حملے کا نشانہ بنے، اسرائیل نے پچھلے تین ماہ کے دوران 79 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے، زیادہ تر صحافی اسرائیلی بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں-

    اسرائیلی فورسز کی بمباری کے بعد غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے،اقوام متحدہ

    حمزہ کے والد الدحدوح بھی حال ہی میں ایک ایسی ہی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے تاہم ان کی جان بچ گئی اس سے قبل حمزہ الدحدوح کے خاندان کے تین افراد ایک اور بمباری کی نتیجے میں شہید ہوگئے تھے،ان میں حمزہ کی والدہ اور دو چھوٹے بھائی تھے اس طرح اس صحافی خاندان کے کل چار افراد اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں جبکہ دیگر کئی صحافیوں کے خاندان بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔

    اسرائیلی مظالم پر صدر جوبائیڈن کی خاموشی،سینئیر رہنما عہدے سے احتجاجاً مستعفیٰ

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار 925 سے متجاوز ہو چکی ہے جبکہ 57 ہزار 910 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شہید فلسطینیوں میں 9 ہزار 600 سے زائد بچے اور 6 ہزار 750 سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں بھی 8 ہزار 663 بچے اور 6 ہزار 327 سے زائد خواتین شامل ہیں۔

    امریکہ کی 9 ریاستوں میں بم کی اطلاعات، سرکاری عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا

  • اسرائیلی فورسز کی بمباری کے بعد  غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے،اقوام متحدہ

    اسرائیلی فورسز کی بمباری کے بعد غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے،اقوام متحدہ

    جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے سربراہ مارٹن گریفتس نے جمعے کو کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسلسل بمباری کے بعد غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے۔

    باغی ٹی وی: فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گریفتس نے ایک بیان میں کہا کہ سات اکتوبر 2023 سے جاری خوفناک حملوں کے تین ماہ بعد، غزہ موت اور مایوسی کی جگہ بن گیا ہے غزہ ناقابل رہائش ہو گیا ہے اس کے لوگوں کے وجود کو روزانہ خطرات کا سامنا ہے جبکہ دنیا صرف دیکھ رہی ہے انسانی برادری کو 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی مدد کا ناممکن مشن درپیش ہے، ہم مسلسل جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کے لوگوں اور خطرے سے دوچار اس کے پڑوسیوں کے لیے، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے جو ان 90 دنوں کے جہنم اور انسانیت کے بنیادی اصولوں پر ہونے والے حملوں کو کبھی نہیں بھولیں گے، یہ جنگ کبھی شروع نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن اس کے ختم ہونے میں بہت وقت گزر چکا ہے۔

    روس کا یوکرین میں میزائل حملہ، 11 افراد ہلاک

    واضح رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں کم از کم 22 ہزار 600 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے،غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران شہریوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ نے انسانی بحران کے بارے میں متنبہ کیا ہے اس لڑائی کے دوران لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور قحط اور بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    الاسکا ائیر لائنز نے اپنے تمام 65 ’737 میکس 9‘ طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں فائرنگ کی جس میں 2 فلسطینی زخمی ہوگئے جب کہ فورسز نے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا،عرب میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے پر متعدد کارروائیاں کی ہیں جن میں 3800 فلسطینی زخمی ہوئے اور 325 شہید ہوچکے ہیں۔

    انٹونی بلنکن کا دورہ ترکیہ،ترک صدر سے ملاقات

  • امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن آج اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دورے پر جائیں گے

    امریکی وزیر خارجہ کے ہمراہ امریکی انتظامیہ کے اہلکار آموس ہوچسٹین ہوں گے، ایک سینئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل اور غزہ تنازع کے حوالہ سے سفارتی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینئر اہلکار آموس ہوچسٹین کا دورہ اسرائیل لبنان کے درمیان تازہ پیدا شدہ صورتحال کے پس منظر میں ہے،امریکی وزیر خارجہ سات اکتوبر سے اسرائیل حماس جنگ کے بعد اسرائیل کے متعددد ورے کر چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب، قطر سمیت دیگر ممالک کے دورے بھی کر چکے ہیں،

    دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیڈی آف وار، دی کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطینی گروپوں نے الشطی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فوجیوں پر ایک بڑا حملہ کیا ہے ،فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی ڈرون بھی گرانے کا دعویٰ کیا ہے، فلسطینی عسکریت پسندوں نے شیخ عجلین محلہ میں اسرائیلی فوج پر راکٹ بھی فائر کئے ہیں

    دوسری جانب اسرائیل کی انٹیلی جنس سروس،موسادکے سربراہ ڈیوڈ برنیا کا کہنا ہے کہ موساد سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث حماس کے ہر رکن کو تلاش کرے گی، خواہ وہ کہیں بھی ہو،برنیا نے موساد کے ایک سابق سربراہ زیوی ضمیر کی تدفین کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے 1972 کے میونخ میں قتل عام کے ردعمل کا ذکر کیا جب موساد کے اہلکاروں نے اس سال اولمپک گیمز میں اسرائیلی کھلاڑیوں کی ہلاکت میں ملوث متعدد فلسطینی عسکریت پسندوں کو تلاش کیا تھا اور انہیں ہلاک کر دیا تھا

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کیخلاف عالمی عدالت جانےکا اعلان

    قاسم سلیمانی بارے اطلاع دینے والے ایرانی شہری، امریکی جاسوس کو ایران نے سنائی سزائے موت

  • غزہ میں رہائشی علاقوں پر بمباری،مزید 120 فلسطینی شہید

    غزہ میں رہائشی علاقوں پر بمباری،مزید 120 فلسطینی شہید

    غزہ: گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 120 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے-

    باغی ٹی وی: غزہ کے رہائشی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے،جبکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار 637 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 57 ہزار 296 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    شہدا میں 9 ہزار 100 سے زائد بچے اور 6 ہزار 500 سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 8 ہزار 663 بچے اور 6 ہزار 327 خواتین بھی شامل ہیں،ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں پر صیہونی مظالم میں کوئی کمی نہ آسکی، مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں 83 بچوں سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 324 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 3 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوانے والے صحافیوں میں 80 فلسطینی، تین لبنانی اور 4 اسرائیلی صحافی شامل ہیں، فلسطینی وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غذائی قلت کے باعث غزہ کے شہری مختلف وباؤں کا شکار ہو رہے ہیں بیروت پر اسرائیلی ڈرون حملے میں 6 ساتھیوں سمیت حماس رہنما صالح العاروری کی شہادت کے بعد لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر بھی صورتِ حال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔

  • صالح العاروی کی موت،اسرائیل کو قیمت چکانا پڑے گی،حزب اللہ

    صالح العاروی کی موت،اسرائیل کو قیمت چکانا پڑے گی،حزب اللہ

    حماس رہنما صالح العاروی کی ڈرون حملے میں موت کے بعد حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنا ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے،حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا ہو گی،

    صالح العاروری کے قتل پر حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ صالح العاروری کی شہادت سے کوئی افراتفری یا خلا نہیں ہوگا، ایران کا کہنا ہے کہ حماس رہنما کا قتل اسرائیل کے خلاف مزاحمت مزید بڑھائے گا، لبنان میں اسرائیلی حملہ لبنان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے ،حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو صالح العاروری کی شہادت کی بھاری قیمت چکانی ہوگی ،حماس رہنما عزت الرشق کا کہنا تھا کہ حماس رہنماؤں کا قتل غاصب اسرائیل کا بزدلانہ اقدام ہے اسرائیلی قتل عام فلسطینیوں کے عزم اور استقامت کو توڑنے اور جرات مندانہ مزاحمت کو کم زور کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا

    بیروت کے مرکز میں حماس رہنما پر حملے کے خلاف حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھر پور جواب دیں گے، اس حملے کے بعد مغربی کنارے رام اللہ میں شہری سڑکوں پر نکل آئے،فلسطینی شہریوں نے رام اللہ میں بدھ کی ہڑتال کی کال دی ہے، رام اللہ صالح العاروی کا آبائی علاقہ ہے

    حماس رہنما کی موت کے بعد اقوام متحدہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صالح کی موت کے بعد صورتحال انتہائی پریشان کُن ہوچکی ہے، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ترجمان نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی کشیدگی اور حالات کی نزاکت پر فریقین سے تحمل کا مطالبہ ہے،کوئی ایسی جلدباز کارروائی نہیں ہونی چاہیے جو مزید تشدد کو ہوا دے،

    ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنما صالح العروری کی شہادت اسرائیل کے خلاف مزید مزاحمت کو بڑھائے گا،اسرائیلی حملہ لبنان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے، حماس رہنما کے قتل کے بعد فلسطینی تحریک میں نئی جہت پیدا ہوگی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر پر ڈرون حملہ کیا جس میں حماس کے سینیئر رہنما شہید ہوگئے۔

  • قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہے،علی خامنہ ای

    قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہے،علی خامنہ ای

    تہران: ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قاسم سلیمانی اور اسماعیل قاآنی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

    باغی ٹی وی: ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہےغزہ میں تقریباً تین ماہ سے جاری مزاحمت مزاحمتی محاذ کی موجودگی کی وجہ سے ہےقاسم سلیمانی نے مزاحمتی محاذ کو بحال کرنے کی بھرپور کوشش کی، انہوں نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی کمان سنبھالنے والے اسماعیل قاآنی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ مزاحمتی محاذ کو مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

    العربیہ کے مطابق یہ بیانات ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے "طوفان الاقصیٰ” آپریشن پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں کیا گیا ہے تاہم حماس نے اس کی ترید کی تھی، بعد ازاں ایرانی حکام نے بھی اس بیان کو رد کردیا تھا انہوں نے قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ سات اکتوبر کے واقعات سلیمانی کے قتل کی انتقامی کارروائیوں میں سے ایک تھے، انہوں نے تل ابیب کو پاسداران انقلاب کے ایک سینیر جنرل رضی موسوی کے شام میں قتل کے نتائج سے بھی خبردار کیا،دریں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے جمعرات کے روز کہا کہ حماس کی طرف سے گذشتہ سات اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف شروع کئے گئے "طوفان الا اقصیٰ” آپریشن "مکمل طور پر فلسطینی” تھا۔

  • دنیا  بھر  میں غزہ پر  اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج

    دنیا بھر میں غزہ پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج

    اسلام آباد: نئے سال کے آغاز پر دنیا بھر میں غزہ پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا –

    باغی ٹی وی : امریکا میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، واشنگٹن، نیویارک اور بوسٹن میں فلسطینی پرچم لہراتے لوگوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا،آئرلینڈ میں مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے احتجاجی ریلی نکالی، ترکی کے شہر استنبول میں ہزاروں افراد نے امریکی قونصل خانےکا سامنے احتجاج کیا، عراق میں غزہ کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے لیےکرسمس ٹری کو کفن میں لپٹے بچوں سے مماثل اشیا سے سجا دیا گیافلسطینی شہر رام اللہ میں غزہ شہدا کے ناموں سے بھرا طویل بینر اٹھا کر احتجاج کیا گیا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں نئے سال بھی اسرائیلی فوج کی بمباری نہ رُکی، جبالیہ، مغازی، نصیرات کیمپوں پر اسرائیلی طیاروں کے حملے جاری رہے،سات اکتوبر 2023 سے اب تک 22,141 اموات بھی شامل ہیں، جن میں سے 98 فیصد غزہ کی پٹی میں ہوئی ہیں شہید ہونے والوں میں تقریباً 9,000 بچے اور 6,450 خواتین شامل ہیں۔

    اسرائیلی کی بمباری ،مسجد اقصیٰ کے سابق امام شہید

    سات اکتوبر سے مغربی کنارے میں ہلاکتوں کی تعداد 319 تک پہنچ گئی ہے جن میں 111 بچے اور چار خواتین شامل ہیں اور فلسطینی وزارت صحت کے ریکارڈ کے مطابق 100 سے زائد صحافی ہلاک ہوئے جب کہ لاپتا افراد کی تعداد غزہ کی پٹی میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں 7,000 سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے، ان میں سے 67 فی صد بچے اور خواتین ہیں اور تقریباً انیس لاکھ شہری غزہ کی پٹی کے اندر اپنی رہائش گاہوں سے دور بے گھر ہو گئے ہیں-

    جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کوئی بات …

  • اسرائیلی کی بمباری ،مسجد اقصیٰ کے سابق امام شہید

    اسرائیلی کی بمباری ،مسجد اقصیٰ کے سابق امام شہید

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے مسجد اقصیٰ کے سابق امام شیخ یوسف شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے مغازی پناہ گزین کیمپ میں شیخ یوسف کے گھر کو نشانہ بنایا جس میں وہ شہید ہوگئے اسرائیلی حملے میں شیخ یوسف کے اہلخانہ زخمی بھی ہوئے ہیں68 سالہ شیخ یوسف 2005 سے 2006 تک فلسطین کے وزیر مذہبی امور بھی رہے تھے ،دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے سابق خطیب کی شہادت پر اسرائیل کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

    دوسری جانب جبکہ اسرائیلی حملوں میں گھرے فلسطینیوں کے لیے سال 2023 نسل کشی کا سال ثابت ہوا، سال کے آخری تین ماہ کا ہر دن اور ہر لمحہ اسرائیلی بمباری اور میزائلوں کی زد میں گزرا غزہ کی فضا بارود کی بو میں ڈوبی رہی، لوگ اپنے بچوں کے زخمی جسم اٹھائے اسپتالوں میں زندگی کی تلاش میں بھاگتے نظر آئے، ماؤں کی آہوں نے عرش ہلادیا۔

    یوکرین کا روس پر جوابی حملہ،14 افراد ہلاک

    اسرائیلی فوج کے غزہ کے رہائشی علاقوں پر فضائی، زمینی اور بحری حملے جاری ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 150 سے زیادہ فلسطینی شہیدکر دئیے گئے7 اکتوبر سے جاری حملوں میں فلسطینی شہدا کی تعداد 21 ہزار 800 سے بڑھ گئی ہے ان شہید ہونے والے فلسطینیوں میں بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہےفلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 56 ہزار 451 ہوگئی ہے، ان میں صحافیوں اور طبی عملے سے وابستہ لوگ شامل ہیں،مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں سے سال2023 میں 506 فلسطینی شہید ہوئے فلسطینی ادارہ شماریات کے مطابق 1948 میں نکبہ کے بعد سال 2023 فلسطینیوں کے لیے بدترین سال رہا، نکبہ کے بعدسال 2023 میں سب سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے۔

    برطانیہ کی متعدد اسلامی ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزا داخلے کی اجازت

    برطانوی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر وحشیانہ بمباری اور ہزاروں شہادتوں کے باوجود اسرائیل کو کامیابی کے اشارے نہیں مل رہے، اسرائیل “عالمی تنہائی” کا شکار بھی ہونے لگا ہے۔

  • غزہ میں  جنگ لڑنے سے انکار  پر  اسرائیلی لڑکے کو قید کی سزا

    غزہ میں جنگ لڑنے سے انکار پر اسرائیلی لڑکے کو قید کی سزا

    تل ابیب : اسرائیل کی فوجی عدالت نے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں لڑنے سے انکار پر 18 سالہ نوجوان کو قید کی سزا سنادی۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب کے 18 سالہ رہائشی اسرائیلی نوجوان نے غزہ میں جنگ لڑنے سے انکار کر دیا،ویڈیو پیغام میں نوجوان کا کہنا تھاکہ مجھے یقین نہیں کہ تشدد بڑھانے سے سلامتی آئے گی، میں بدلے کی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کرتا ہوں غزہ میں لڑائی سےنہیں بات چیت سے ہی یرغمالی رہا ہوئے، غزہ میں فوجی آپریشن ہی اسرائیلی یرغمالیوں کی ہلاکتوں کا سبب بنا، جس پر اسرائیلی فوجی عدالت نے اسرائیلی نوجوان کو 30 روز قیدکی سزا سنا دی جس کے بعد اسے فوجی جیل میں قید کرلیا گیا ہے نوجوان کی سزا میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے غزہ میں حماس کے خلاف جاری جنگ میں جنوبی قصبے خان یونس پر بمباری اور ٹینک سے گولے فائر کیے جب کہ محصور فلسطینی علاقے پر متعدد حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 200 شہادتوں کی اطلاعات ہیں۔

    القسام بریگیڈز کے ساتھ جھڑپ، اسرائیلی اسپیشل فورسز کے 20 اہلکار …

    خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اس کے ایک صحافی نے خان یونس اور رفح میں مسلسل گولہ باری کی اطلاع دی ہے مصر کے قریب واقع رفح وہ مقام ہے جہاں ہزاروں فلسطینیوں نے لڑائی سے پناہ حاصل کی ہے۔

    غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 200 افراد شہید ہوئے ہیں خان یونس پر شدید بمباری قصبے میں اسرائیلی فوج کی متوقع پیش قدمی سے قبل مہم کا حصہ ہےوسطی غزہ میں اسرائیل نے نصیرات کیمپ کو فضائی حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی غزہ کے بیت لاہیا علاقے میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے دو کمپاؤنڈز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

    ادھر اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی فورسز کی طرف سے حال ہی میں غزہ کے امدادی قافلے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے امدادی قافلے پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ اسرائیلی فوج کے مقرر کردہ راستے پر شمالی غزہ سے واپس آ رہا تھا۔

    مکڈونلڈ ملائشیا کا فلسطین کے حامی گروپ کے خلاف مقدمہ درج

    اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے رابطہ کار مارٹن گریفتھس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والے کارکنوں پر حملے غیر قانونی ہیں۔

    عالمی ادارے کے بچوں کی بہبود کے ادارے یونیسیف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کو کم از کم چھ لاکھ ویکسین فراہم کیں اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کے آغاز کے بعد سے، تقریباً 17,000 بچے پولیو اور خسرہ سمیت اپنے معمول کے قطرے پلانے سے محروم ہیں عالمی ادارۂ صحت، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ساتھ مل کر ان بچوں تک پہنچ رہے ہیں۔

    وسطی اور جنوبی غزہ میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں نے دسیوں ہزار فلسطینیوں کو رفح میں پناہ کے لیے دھکیل دیا ہے، جہاں اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق آبادی تین گنا زیادہ ہو کر 850,000 ہو گئی ہے پناہ گزینوں کے ادارے کی ترجمان جولیٹ ٹوما نے کہا کہ لوگ کسی بھی خالی جگہ کو دیکھ کر جھاڑیوں سے سر چھبانے کی پناہ گاہیں بنا رہے ہیں۔ کچھ اپنی گاڑیوں میں سو رہے ہیں اور کچھ کھلے آسماں تلے سو رہے ہیں۔

    یوکرین کا روس پر جوابی حملہ،14 افراد ہلاک

    سات اکتوبر کر حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے جاری جنگ کے شکار علاقے میں زیادہ تر دستیاب پانی آلودہ ہے۔ صفائی کا نظام بری طرح متاثر ہے اور قابل استعمال بیت الخلاء نایاب ہیں فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے کے سربراہ فلپ لازارینی کے مطابق غزہ کی تقریباً پوری آبادی خوراک سمیت بین الاقوامی امداد پر منحصر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی طرف سے فوری اور بلا روک ٹوک امداد میں اضافے کے مطالبے کی قرارداد کے باوجود امداد میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا جب کہ امدادی کارروائی کو اسرائیلی حکام کی جانب سے ‘سخت پابندیوں’ کا سامنا ہے ٹرکوں کو مصر کی سرحد پر رفح کراسنگ اور اسرائیل سے دوبارہ کھولی گئی کریم شالوم کراسنگ پر امدادی ترسیل کو طویل تاخیر کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلسل بمباری، لڑائی میں شدت اور مواصلاتی رابطوں کے منقطع ہونے کی وجہ سے غزہ کے اندر امداد کی تقسیم میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں جنگ زدہ علاقے میں مایوس ہجوم آنے والے اکثر امدادی ٹرکوں پر دھاوا بول کر امدادی سامان اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے وسطی غزہ کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کو کہا ہے لیکن وہاں بھی لوگ محفوظ نہیں ہیں۔

    7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حماس کے حملے پر تحقیقاتی رپورٹ جاری

    واضح رہے کہ بارہ ہفتے قبل یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس کے اسرائیل کی جنوبی علاقوں پر حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا اسرائیلی فورسز نے جوابی حملوں میں غزہ کے زیادہ تر علاقے کو مسمار کر دیا ہے اس کی آبادی کے تقریباً تمام 23 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق جنگ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 21,507 تک پہنچ گئی ہے جو کہ غزہ کی آبادی کا تقریباً ایک فی صد ہے خدشہ ہے کہ غزہ کے تباہ شدہ محلوں کے کھنڈرات میں مزید ہزاروں لاشیں دبی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ اکتوبر سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 56,000 شہری زخمی ہو چکے ہیں دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ میں اس کے 167 فوجی مارے گئے ہیں۔