Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد  23708 ،انٹرنیٹ سروس بھی بند

    غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 23708 ،انٹرنیٹ سروس بھی بند

    غزہ:اسرائیلی فوج کی غزہ میں ہفتے کے روز بھی بمباری جاری ہے، ہلاکتوں کی تعداد 24 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے،جبکہ فلسطینیوں کے لیے انٹرنیٹ کی سروس ایک بار پھر بند کر کے مواصلاتی لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں بمباری صبح سویرے کی ،بمباری غزہ کے جنوبی شہر خان یونس اور رفح کی طرف کی گئی ہے، یہ زیادہ پر ہجوم علاقے ہیں،جمعہ کے روز اس بمباری سے پہلے ہی ‘پال ٹیل’ نامی ٹیلی کام کمپنی نے غزہ میں انٹرنیٹ سروسز بن کرنے کا اعلان کر دیا تھا ‘ ایکس ‘ پر اپنی پوسٹ میں ‘ پال ٹیل’ نے لکھا تھا ‘ غزہ میں پھر انٹر نیٹ کا بلیک آؤٹ ہو گیا۔’

    فلسطینی ہلال احمر نے اس مواصلاتی بندش کے بعد کہا ہے کہ بمباری کے بعد زخمیوں تک فوری پہنچننا مشکل ہو رہا ہے کہ اطلاعات کا فوری موصول ہونا مشکل ہو گیا ہے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک غزہ میں بچوں اور فلسطینی عورتوں سمیت کل ہلاک شدگان کی تعداد 23708 ہو گئی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہے۔

    امریکی انٹیلی جنس کاخان یونس میں سرنگوں میں حماس کی قیادت کی موجودگی کا انکشاف

    الجزیرہ نے جمعہ کے روز اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ حقوق کے ادارے نے بتایا کہ غزہ میں ہونے والی قتل و غارت کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی جہاں اسرائیل نے تین ماہ سے زیادہ عرصے سے سرحد بند رکھی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے زندہ بچ جانے والے افراد بھوک، بیماری اور سردی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بمباری کے نشانے پر ہیں۔

    آکسفیم نے اپنے بیان میں بتایا کہ اسرائیل فوج روزانہ کی بنیاد پر 250 کی اوسط سے فلسطینیوں کو قتل کر رہی ہے، جو حالیہ برسوں میں پیش آنے والے کسی بھی بڑے تنازع میں ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہے ادارے نے دیگر تنازعات سے موازنہ کیا ہے کہ 21 ویں صدی میں ہونے والے بڑے تنازعات میں روزانہ کی بنیاد پر سب سے زیادہ شام میں 96.5، سوڈان میں 51.6، عراق میں 50.8، یوکرین میں 43.9، افغانستان میں 23.8 اور یمن میں 15.8 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی نئی تجویز

    بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے غزہ کو امداد بھیجنے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے مسائل مزید گھمبیر ہو رہے ہیں کیونکہ صرف ہفتہ وار صرف 10 فیصد غذائی امداد پہنچائی جارہی ہے، جو بمباری اور کارروائیوں کے دوران بچ جانے والوں کے لیے شدید خطرات کا باعث ہے۔

    ادھر امریکی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے ورلڈ رپورٹ 2024 جاری کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں گزشتہ برس ہونے والی بمباری، کارروائیاں، بدسلوکی اور قتل و غارت کی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

    غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 151 فلسطینی شہید،مکمل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ

  • غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 151 فلسطینی شہید،مکمل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ

    غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 151 فلسطینی شہید،مکمل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ

    غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں مزید151 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ بمباری کی وجہ سے انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز بھی معطل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں اسرائیلی حملوں میں مزید 151 فلسطینی شہید اور 248 زخمی ہوئے، 7 اکتوبر سےجاری اسرائیلی حملوں میں23ہزار708 فلسطینی شہید اور 60 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ غزہ پٹی میں ایک بار پھر مکمل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کر دیا گیا ، اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز معطل ہوگئی۔

    عرب میڈیا کے مطابق دیر البلاح میں الاقصیٰ شہدا اسپتال کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے اسپتال جلد بند ہو جائے گا،جنریٹر مکمل طور پر بند ہونے کی صورت میں بچوں اور مریضوں کو موت کا خطرہ ہے۔

    دوسری جانب گزشتہ24گھنٹوں میں غزہ پٹی میں 15 اسرائیلی اہلکار زخمی ہوئے،7 اکتوبر سےاب تک 580 فوجی ہلاک اور 2 ہزار 511 زخمی ہوئے جبکہ جنوبی افریقا نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کرکے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں کیس دائر کیا ہوا ہے۔

  • اسرائیل غزہ  میں فلسطینیوں کی منظم طریقے سے نسل کشی کر رہا ہے،جنوبی افریقہ کے عالمی عدالت میں دلائل

    اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی منظم طریقے سے نسل کشی کر رہا ہے،جنوبی افریقہ کے عالمی عدالت میں دلائل

    دی ہیگ: جنوبی افریقا نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کرکے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں کیس دائر کیا ہے، دلائل میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی منظم طریقے سے نسل کشی کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : نیدر لینڈز کے شہر دی ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے مقدمےکی سماعت ہوئی دوران سماعت جنوبی افریقا کی جانب دلائل میں کہا گیا کہ غزہ میں 3 مہینے میں 23 ہزار فلسطینی شہری قتل کیےگئے ہیں جس میں 70 فیصد بچے اور خواتین ہیں، نو زائیدہ بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا،اسرائیل اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے، جن علاقوں کو اسرائیل نے خود محفوظ قرار دیا وہاں بم مارے گئے، اسپتالوں پر بمباری کی گئی۔

    دلائل میں کہا گیا کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد روک کر قحط کی صورتجال پیدا کردی ہے، 93 فیصد آبادی کو بھوک کا سامنا ہے، اب اسرائیل کی فضائی بمباری سے بھی زیادہ غزہ میں فلسطینیوں کے بھوک سے مرنےکا خدشہ ہے جنوبی افریقا نے عالمی عدالت انصاف سے اسرائیلی حملے فوری رُکوانے کی اپیل کی ہے غزہ کو تباہ کرنےکا منصوبہ اسرائیل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے، اسرائیل کی جانب سے دلائل جمعےکو پیش کیے جائیں گے۔

    کیس کے حوالے سے یو این جنیوا مرکز نےکہا ہےکہ انسانی حقوق کے ماہرین اسرائیل کے خلاف کیس کی سماعت کا خیرمقدم کرتے ہیں، جنوبی افریقا نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے الزامات پرکیس دائر کیا ہے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے جس پر نظر ثانی اپیل ممکن نہیں، تمام ریاستوں سے درخواست ہےکہ عالمی عدالت انصاف سے تعاون کریں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعدغزہ میں سویلین آبادی پر اسرائیلی حملوں پر جنوبی افریقا نے الزام لگایا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کر رہا ہےجنوبی افریقا کی طرف سے جمع کرائےگئے شواہد میں کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائی کا مقصد فلسطینی قومی اور نسلی گروہ کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنا ہے اس مقدمے میں اسرائیلی عوامی بیان بازی اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے فلسطینیوں کی "نسل کشی کے ارادے” کے بیانات کو بھی ثبوت کے طور پیش کیا گیا ہےبین الاقوامی قانون کے تحت، نسل کشی کی تعریف کسی قومی، نسلی، مذہبی گروہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے ایک یا زیادہ کارروائیوں کے ارتکاب سے کی جاتی ہے۔

    جنوبی افریقا چاہتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے اگرچہ اسرائیل اور جنوبی افریقا سمیت تمام فریقین عالمی عدالت کے فیصلےکو ماننے کے پابند ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا، اس لیے یہ یقینی ہےکہ اسرائیل ہمیشہ کی طرح اس طرح کے کسی بھی حکم کو نظر انداز کرے گا اور اس کی تعمیل نہیں کرے گا، 2022 میں، عالمی عدالت انصاف نے روس کو یوکرین میں فوری طور پر فوجی آپریشن معطل کرنے کا حکم دیا لیکن اس حکم کو نظر انداز کر دیا گیا۔

  • غزہ:  اسرائیلی فوج کا ایمبولینس  پر  حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج کا ایمبولینس پر حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید

    غزہ: غزہ میں اسرائیلی فوج کے ایمبولینس پر حملے میں فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: فلسطینی ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے دیرالبلح کے نزدیک ایمبولینس کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جس میں ہلال احمر کے 4 کارکن شہید ہوگئے،چاروں افراد طب کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے،انہیں ہلال احمر کا نشان پہنے ہوئے شہید کیا گیا، جس کا بین الاقوامی قانون کے مطابق تحفظ ہونا چاہیے۔
    https://x.com/PalestineRCS/status/1745129136555733331?s=20
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ میں الاقصیٰ اسپتال کے اطراف شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 40 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 150 سے زیادہ زخمی ہوگئے24 گھنٹوں میں 150 سے زائد صیہونی حملوں میں 200 فلسطینی شہید ہوگئے،7 اکتوبر سے اب تک شہدا کی تعداد 23 ہزار 350 سے تجاوز کرگئی ہے۔

    ہمسائیوں کا بچہ 2 لاکھ روپے میں فروخت کرنے والی خاتون سمیت 4 افراد …

    قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو کہا ہے کہ فوج جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں اپنی کارروائیاں تیز کرے گی ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ کے مطابق گیلنٹ نے بلنکن کو اسرائیل کے دورے کے دوران مطلع کیا کہ خان یونس میں کارروائیوں میں شدت لائی جائے گی تاکہ حماس کے لیڈروں کو تلاش کیا جائےاور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے۔

    ن لیگ نے راولپنڈی، اٹک، چکوال،گوجرانوالہ، جہلم اور تلہ گنگ سے امیدواروں کی ٹکٹوں …

    علاوہ ازیں مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فورسز کی پُرتشدد کارروائیاں جاری ہیں عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں چھاپہ مارکارروائی میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 12 فلسطینی زخمی ہوگئے، اس دوران 5 فلسطینی گرفتار بھی کرلیےگئے۔

    ایک اور سیاسی جماعت کا الیکشن کمیشن سے بلے کے نشان کا مطالبہ

  • اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا بڑا بیٹا بھی شہید

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا بڑا بیٹا بھی شہید

    غزہ: اتوار کے روز غزہ کی پٹی پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں حمزہ وائل الدحدوح اور مصطفیٰ ثریا نام کے دو مزید صحافی شہید ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے بدترین جارحیت جاری ہے جہاں فضائی حملوں میں معصوم فلسطینیوں سمیت قطری میڈیا الجزیرہ غزہ کے بیوروچیف وائل الدحدوح کا بیٹا صحافی حمزہ الدحدوح بھی شہید ہوگیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصطفیٰ ثریا ‘اے ایف پی’ کے لیے ویڈیو سٹرینگر کی حیثیت سے اور حمزہ الدحدوح الجزیرہ کے ساتھ کام کرتے تھے دونوں صحافی گاڑی میں سفر کر رہے تھے اس دوران حملے کا نشانہ بنے، اسرائیل نے پچھلے تین ماہ کے دوران 79 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے، زیادہ تر صحافی اسرائیلی بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں-

    اسرائیلی فورسز کی بمباری کے بعد غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے،اقوام متحدہ

    حمزہ کے والد الدحدوح بھی حال ہی میں ایک ایسی ہی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے تاہم ان کی جان بچ گئی اس سے قبل حمزہ الدحدوح کے خاندان کے تین افراد ایک اور بمباری کی نتیجے میں شہید ہوگئے تھے،ان میں حمزہ کی والدہ اور دو چھوٹے بھائی تھے اس طرح اس صحافی خاندان کے کل چار افراد اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں جبکہ دیگر کئی صحافیوں کے خاندان بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔

    اسرائیلی مظالم پر صدر جوبائیڈن کی خاموشی،سینئیر رہنما عہدے سے احتجاجاً مستعفیٰ

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار 925 سے متجاوز ہو چکی ہے جبکہ 57 ہزار 910 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شہید فلسطینیوں میں 9 ہزار 600 سے زائد بچے اور 6 ہزار 750 سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں بھی 8 ہزار 663 بچے اور 6 ہزار 327 سے زائد خواتین شامل ہیں۔

    امریکہ کی 9 ریاستوں میں بم کی اطلاعات، سرکاری عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا

  • اسرائیلی فورسز کی بمباری کے بعد  غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے،اقوام متحدہ

    اسرائیلی فورسز کی بمباری کے بعد غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے،اقوام متحدہ

    جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے سربراہ مارٹن گریفتس نے جمعے کو کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسلسل بمباری کے بعد غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے۔

    باغی ٹی وی: فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گریفتس نے ایک بیان میں کہا کہ سات اکتوبر 2023 سے جاری خوفناک حملوں کے تین ماہ بعد، غزہ موت اور مایوسی کی جگہ بن گیا ہے غزہ ناقابل رہائش ہو گیا ہے اس کے لوگوں کے وجود کو روزانہ خطرات کا سامنا ہے جبکہ دنیا صرف دیکھ رہی ہے انسانی برادری کو 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی مدد کا ناممکن مشن درپیش ہے، ہم مسلسل جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کے لوگوں اور خطرے سے دوچار اس کے پڑوسیوں کے لیے، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے جو ان 90 دنوں کے جہنم اور انسانیت کے بنیادی اصولوں پر ہونے والے حملوں کو کبھی نہیں بھولیں گے، یہ جنگ کبھی شروع نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن اس کے ختم ہونے میں بہت وقت گزر چکا ہے۔

    روس کا یوکرین میں میزائل حملہ، 11 افراد ہلاک

    واضح رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں کم از کم 22 ہزار 600 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے،غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران شہریوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ نے انسانی بحران کے بارے میں متنبہ کیا ہے اس لڑائی کے دوران لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور قحط اور بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    الاسکا ائیر لائنز نے اپنے تمام 65 ’737 میکس 9‘ طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں فائرنگ کی جس میں 2 فلسطینی زخمی ہوگئے جب کہ فورسز نے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا،عرب میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے پر متعدد کارروائیاں کی ہیں جن میں 3800 فلسطینی زخمی ہوئے اور 325 شہید ہوچکے ہیں۔

    انٹونی بلنکن کا دورہ ترکیہ،ترک صدر سے ملاقات

  • امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن آج اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دورے پر جائیں گے

    امریکی وزیر خارجہ کے ہمراہ امریکی انتظامیہ کے اہلکار آموس ہوچسٹین ہوں گے، ایک سینئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل اور غزہ تنازع کے حوالہ سے سفارتی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینئر اہلکار آموس ہوچسٹین کا دورہ اسرائیل لبنان کے درمیان تازہ پیدا شدہ صورتحال کے پس منظر میں ہے،امریکی وزیر خارجہ سات اکتوبر سے اسرائیل حماس جنگ کے بعد اسرائیل کے متعددد ورے کر چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب، قطر سمیت دیگر ممالک کے دورے بھی کر چکے ہیں،

    دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیڈی آف وار، دی کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطینی گروپوں نے الشطی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فوجیوں پر ایک بڑا حملہ کیا ہے ،فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی ڈرون بھی گرانے کا دعویٰ کیا ہے، فلسطینی عسکریت پسندوں نے شیخ عجلین محلہ میں اسرائیلی فوج پر راکٹ بھی فائر کئے ہیں

    دوسری جانب اسرائیل کی انٹیلی جنس سروس،موسادکے سربراہ ڈیوڈ برنیا کا کہنا ہے کہ موساد سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث حماس کے ہر رکن کو تلاش کرے گی، خواہ وہ کہیں بھی ہو،برنیا نے موساد کے ایک سابق سربراہ زیوی ضمیر کی تدفین کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے 1972 کے میونخ میں قتل عام کے ردعمل کا ذکر کیا جب موساد کے اہلکاروں نے اس سال اولمپک گیمز میں اسرائیلی کھلاڑیوں کی ہلاکت میں ملوث متعدد فلسطینی عسکریت پسندوں کو تلاش کیا تھا اور انہیں ہلاک کر دیا تھا

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کیخلاف عالمی عدالت جانےکا اعلان

    قاسم سلیمانی بارے اطلاع دینے والے ایرانی شہری، امریکی جاسوس کو ایران نے سنائی سزائے موت

  • غزہ میں رہائشی علاقوں پر بمباری،مزید 120 فلسطینی شہید

    غزہ میں رہائشی علاقوں پر بمباری،مزید 120 فلسطینی شہید

    غزہ: گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 120 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے-

    باغی ٹی وی: غزہ کے رہائشی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے،جبکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار 637 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 57 ہزار 296 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    شہدا میں 9 ہزار 100 سے زائد بچے اور 6 ہزار 500 سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 8 ہزار 663 بچے اور 6 ہزار 327 خواتین بھی شامل ہیں،ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں پر صیہونی مظالم میں کوئی کمی نہ آسکی، مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں 83 بچوں سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 324 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 3 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوانے والے صحافیوں میں 80 فلسطینی، تین لبنانی اور 4 اسرائیلی صحافی شامل ہیں، فلسطینی وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غذائی قلت کے باعث غزہ کے شہری مختلف وباؤں کا شکار ہو رہے ہیں بیروت پر اسرائیلی ڈرون حملے میں 6 ساتھیوں سمیت حماس رہنما صالح العاروری کی شہادت کے بعد لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر بھی صورتِ حال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔

  • صالح العاروی کی موت،اسرائیل کو قیمت چکانا پڑے گی،حزب اللہ

    صالح العاروی کی موت،اسرائیل کو قیمت چکانا پڑے گی،حزب اللہ

    حماس رہنما صالح العاروی کی ڈرون حملے میں موت کے بعد حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنا ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے،حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا ہو گی،

    صالح العاروری کے قتل پر حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ صالح العاروری کی شہادت سے کوئی افراتفری یا خلا نہیں ہوگا، ایران کا کہنا ہے کہ حماس رہنما کا قتل اسرائیل کے خلاف مزاحمت مزید بڑھائے گا، لبنان میں اسرائیلی حملہ لبنان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے ،حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو صالح العاروری کی شہادت کی بھاری قیمت چکانی ہوگی ،حماس رہنما عزت الرشق کا کہنا تھا کہ حماس رہنماؤں کا قتل غاصب اسرائیل کا بزدلانہ اقدام ہے اسرائیلی قتل عام فلسطینیوں کے عزم اور استقامت کو توڑنے اور جرات مندانہ مزاحمت کو کم زور کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا

    بیروت کے مرکز میں حماس رہنما پر حملے کے خلاف حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھر پور جواب دیں گے، اس حملے کے بعد مغربی کنارے رام اللہ میں شہری سڑکوں پر نکل آئے،فلسطینی شہریوں نے رام اللہ میں بدھ کی ہڑتال کی کال دی ہے، رام اللہ صالح العاروی کا آبائی علاقہ ہے

    حماس رہنما کی موت کے بعد اقوام متحدہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صالح کی موت کے بعد صورتحال انتہائی پریشان کُن ہوچکی ہے، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ترجمان نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی کشیدگی اور حالات کی نزاکت پر فریقین سے تحمل کا مطالبہ ہے،کوئی ایسی جلدباز کارروائی نہیں ہونی چاہیے جو مزید تشدد کو ہوا دے،

    ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنما صالح العروری کی شہادت اسرائیل کے خلاف مزید مزاحمت کو بڑھائے گا،اسرائیلی حملہ لبنان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے، حماس رہنما کے قتل کے بعد فلسطینی تحریک میں نئی جہت پیدا ہوگی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر پر ڈرون حملہ کیا جس میں حماس کے سینیئر رہنما شہید ہوگئے۔

  • قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہے،علی خامنہ ای

    قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہے،علی خامنہ ای

    تہران: ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قاسم سلیمانی اور اسماعیل قاآنی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

    باغی ٹی وی: ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہےغزہ میں تقریباً تین ماہ سے جاری مزاحمت مزاحمتی محاذ کی موجودگی کی وجہ سے ہےقاسم سلیمانی نے مزاحمتی محاذ کو بحال کرنے کی بھرپور کوشش کی، انہوں نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی کمان سنبھالنے والے اسماعیل قاآنی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ مزاحمتی محاذ کو مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

    العربیہ کے مطابق یہ بیانات ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے "طوفان الاقصیٰ” آپریشن پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں کیا گیا ہے تاہم حماس نے اس کی ترید کی تھی، بعد ازاں ایرانی حکام نے بھی اس بیان کو رد کردیا تھا انہوں نے قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ سات اکتوبر کے واقعات سلیمانی کے قتل کی انتقامی کارروائیوں میں سے ایک تھے، انہوں نے تل ابیب کو پاسداران انقلاب کے ایک سینیر جنرل رضی موسوی کے شام میں قتل کے نتائج سے بھی خبردار کیا،دریں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے جمعرات کے روز کہا کہ حماس کی طرف سے گذشتہ سات اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف شروع کئے گئے "طوفان الا اقصیٰ” آپریشن "مکمل طور پر فلسطینی” تھا۔