Baaghi TV

Tag: غزہ

  • یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    جنیوا: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : "عرب میڈیا” کے مطابق عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے 193 رکن ممالک میں سے 153 ممالک نے قرارداد کے حق میں جبکہ 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا، 23 ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے، قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر شامل ہیں یہ تعداد ان 140 ممالک سے زیادہ ہے جنہوں نے یوکرین پر حملے کرنے کی وجہ سے روس کی مذمتی قراردادوں کی حمایت کی تھی۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ ووٹنگ عالمی امن و سلامتی کی ذمہ دار سلامتی کونسل کی بار بار ناکامی کے بعد ہوئی ہےاسرائیل کے سب سے طاقتور اتحادی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک، امریکہ نے جمعہ کو فائر بندی کے مسودے کو روکنے کے لیے ویٹو کا استعمال کیا تھاسلامتی کونسل کو کوئی بیان جاری کرنے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد ایک ماہ سے زیادہ وقت لگا اس نے نومبر کے وسط میں اس تنازع میں انسانی بنیادوں پر ’تعطل‘ کے لیے چار متن مسترد کیے۔

    فلسطینی مندوب ریاض منصور نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی دن قرار دیا، مذکورہ قرارداد میں امداد کی رسائی اور یرغمال افراد کو غیرمشروط طور پر رہا کرنےکا مطالبہ کیا گیا،اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے غزہ میں جنگ بندی فوری ممکن بنانے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوذمہ دار نہ ٹھہرایا گیا تو اسے جنگ جاری رکھنے کا جواز مل جائےگااسرائیل کا مقصد فلسطین کے پورے تصورکو مٹانا ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر اسامہ محمود عبدالخالق محمود نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ یہ افسوسناک کوششیں دوہرے معیار کی ایک گھناؤنی علامت ہیں۔

    صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ ڈینس فرانسز نے کہا کہ انسانی زندگیاں بچانا سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ہمیں جنگ کے بنیادی اصولوں اور اقدار سے انحراف نہیں کرنا چاہیے دنیا اس وقت غزہ میں انسانی زندگیوں کےخاتمے کا مشاہدہ کررہی ہے، اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریس نے غزہ کی پٹی میں امن عامہ کی مکمل تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے بہت سے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ جمعے کو سلامتی کونسل کی ناکامی کی مذمت کی تھی اور سیکرٹری جنرل نے اتوار کو کونسل کے اختیارات اور ساکھ کو ’کمزور‘ قرار دیا تھا۔

    ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد ایردان نے اس قرارداد کو ’منافقانہ قرارداد‘ قرار دیا کہا کہ اس میں حماس کے انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ اس میں حماس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد بھی فلسطین پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے حماس کے 7 اکتوبر اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیل کی بمباری میں 18,400 سے زائد فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔

    دوسری جانب "العربیہ” کےمطابق اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے مزید شہری بے گھر ہوں گے اور وسیع پیمانے پر مزید نقل مکانیوں کو خدشہ ہو گا ، اس وقت دنیا میں 114 ملین شہری بے گھر ہو کر در بدر ہیں ان میں سے 40 ملین لوگ درجنوں جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں، ایک بڑی تعداد یوکرین اور سوڈان کے شہریوں کی ہے ۔

    پناہ گزینوں کے شعبے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے ہر چار سال بعد جنیوا میں ہونے والی تقریب میں کہا کہ اس وقت غزہ میں بھی بڑی تباہی جاری ہے لیکن ابھی تک سلامتی کونسل جنگ بندی کروانے میں ناکام ہے ہم دیکھ رہے ہیں ابھی مزید ہلاکتیں ہوں گی اور مزید شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گا اس لیے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ان بحران میں پھنسے فلسطینیوں کو نہ بلائے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اوہ غزہ پر اپنی پوری توجہ رکھے ، اس سے اپنی نظریں نہ ہٹائے انہوں نے نقل مکانی کرنے ، بے گھر اور مصائب میں مبتلا ہونے والے کروڑوں لوگوں کے لیے فنڈنگ کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔

  • غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4  افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے 27 اکتوبر کو غزہ میں زمینی آپریشن شروع کیا تھا اور اب تک اسے مجاہدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہےزمینی آپریشن میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،اسرائیلی افواج نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 4 افسران سمیت 7 فوجی مارے گئے ہیں جس کے بعد زمینی آپریشن میں ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 104 ہوگئی، زخمی فوجیوں میں سے 133 کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب مزاحمتی تنظیم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کے اندرونی علاقوں میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج سے دو بدو لڑائی جاری ہے اور اسرائیل کے فیلڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو مارٹر گولوں، دھماکا خیز آلات سے نشانہ بنایا ہے اسرائیلی فوج کی 44 گاڑیاں تباہ اور 40 اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    قبل ازیں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نےکہا تھا کہ اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا،فوجی طاقت سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرایا جا سکتا۔

    ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی کابینہ مذاکرات کیے بغیر اپنے یرغمالیوں کو رہا نہیں کراسکتی، اسرائیلی یرغمالی کی ہلاکت طاقت کے زور پر رہا کرانےکی کوشش کا نتیجہ ہے،گزشتہ 10 روز میں غزہ میں ہمارے لوگوں نے 180 سے زائد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا ہے، جھڑپوں میں اسرائیلی فوجیوں کا بڑا جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہماری مزاحمت جاری رہےگی انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور جنگ بندی کے لیے احتجاج جاری رکھیں۔

  • غزہ کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ناکام ہونے پر افسوس ہے،انتونیو گوئتریس

    جنیوا: اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا کہ اسرائیل کا منصوبہ فلسطینیوں کو غزہ سے مصر میں دھکیلنا ہے۔

    باغی ٹی وی : امدادی ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی شمالی غزہ میں تباہی اس منصوبے کا پہلا قدم تھاجنوبی غزہ سے فلسطینیوں کو انخلا کی دھمکی اس منصوبے کا اگلا قدم ہے، جنوبی غزہ میں 19 لاکھ فلسطینی بدترین حالات میں پھنسے ہیں، اسرائیل کی فلسطینیوں کو مصر میں دھکیلنے کی کوششیں جاری ہیں، اگر یہی صورتحال رہی تو یہ دوسرا نکبا ہوگا، غزہ کی سرزمین فلسطینیوں کی نہیں رہے گی۔

    خیال رہے کہ 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور اس دن کو نکبا یا قیامت کے طور پر مناتے ہیں۔

    دوسری جانب صیہونی فورسز کی غزہ میں بدترین جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے چوبیس گھنٹے میں جبالیہ شہر پر مکمل قبضہ کرنے کا اعلان کردیا ہے اسرائیل نے خان یونس بھی خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے، غزہ میں اسرائیل کی تازہ بمباری سے مزید ڈھائی سو فلسطینی شہید ہوگئے، جس کے بعد سات اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد سترہ ہزار سات سو ہوگئی۔

    اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے قطر میں دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ناکام ہونے پر افسوس ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی غزہ پر منقسم رائے نے ادارے کو مفلوج کرکے رکھ دیا،سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی غزہ پر رائے تقسیم ہونے کی مذمت کرتے ہیں-

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک جیو اسٹریٹیجک تقسیم کی وجہ سے غزہ میں 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی ’اسرائیل-حماس جنگ‘ کا حل نہیں ڈھونڈ پائے جس سے ادارے کی ساکھ اور اختیار کو شدید نقصان پہنچا، افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل ایسا کرنے میں ناکام رہی لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہار نہیں مانوں گا۔

    یاد رہے کہ غزہ پر ہونے والے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں اور رکن ممالک ایک متفقہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی ناکام رہے،امریکا نے جمعہ کو غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی قرار داد کو ویٹو کردیا تھا۔ امریکا کا کہنا تھا کہ اس طرح کا اقدام خطرناک اور غیر حقیقی ہو گا،غزہ پر 7 اکتوبر سے جاری جارحیت میں تاحال 17 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ 28 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

  • غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

    غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے فوجی اپنی بینائی کھونے لگے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ”یروشلم نے کے اے این نیوز“ کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے سینکڑوں اسرائیلی فوجیوں کو آنکھوں کی شدید چوٹیں آئی ہیں، جن میں سے کچھ ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے بھی محروم ہوچکے ہیں آنکھوں کی یہ زیادہ تر چوٹیں جنگ کے دوران ضرورت کے مطابق حفاظتی پوشاک، یعنی آنکھوں کی حفاظت کا سامان نہ پہننے کی وجہ سے آئیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی آنکھیں گولیوں کے ٹکڑوں چھینٹے اور بندوق کے ری کوئل کے قریب منہ ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوئیں، جبکہ کچھ فوجیوں کو حماس کے جنگجوؤں نے براہ راست نشانہ بنایا ان چوٹوں میں سے 10 سے 15 فیصد کے نتیجے میں ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک بیر شیبہ کے سوروکا میڈیکل سینٹر میں آنکھ کے زخموں والے تقریباً 40 فوجی داخل ہیں، پانچ اس ہفتے کے شروع میں شدید زخموں کے ساتھ اسپتال پہنچے پچھلے 24 گھنٹوں میں مبینہ طور پر 5 میں سے 2 کی سرجری ہوئی ہے۔

    پچھلے مہینے، یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ سوروکا کے ماہرین امراض چشم نے ہر وقت حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت کے بارے میں فوج کے شعور کو بڑھانے کے لیے ایک مختصر ویڈیو تیار کی تھی اسرائیلی فوج نے نیوز رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ فوج کے پاس آنکھوں کی حفاظت کرنے والے آلات کی کمی نہیں ہے آئی ڈی ایف ایسے واقعات کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جن میں فوجی جنہیں حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت ہوتی ہے وہ باقاعدگی سے ایسا نہیں کرتے۔

    دوسری جانب”العربیہ” کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً 1.9 ملین افراد کے اندرونی طور پر بے گھر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ لاکھوں لوگ اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری کے دوران جنوب کے پرہجوم علاقے میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے رابطہ کاری دفتر برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) کے مطابق غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے 80 فیصد سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر نے شمال سے انخلاء کا حکم ملنے کے بعد پٹی کے جنوب کا رخ کیا ہے،غزہ کے گنجان آباد جنوب میں خان یونس میں پناہ لینے والے لوگ اس ناممکن فیصلے کا سامنا کر رہے ہیں کہ آیا دوبارہ انخلاء کریں یا موت یا زخمی ہونے کا خطرہ مول لیں کیونکہ شہر شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

    ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے،اسرائیل نے کہا تھا جنوب محفوظ رہے گا، لیکن العربیہ کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے علاقے میں کارروائی شروع کرنے سے بہت پہلے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی محلوں کو بار بار گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، اب اسرائیلی فوج کی طرف سے خان یونس شہر کے 20 فیصد علاقے کے لیے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں یہ شہر بحران سے پہلے 117,000 لوگوں کا مسکن تھا اور اب یہاں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے اضافی 50,000 افراد 21 پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں غزہ کے 19 فیصد حصے پر محیط شہر کے مزید مشرقی حصے میں ایک علاقے کے لوگوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر جنوب کی طرف رفح یا دیگر مخصوص مقامات پر چلے جائیں۔

    غزہ میں فلسطینی شہریوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں وائرل تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زیر حراست درجنوں فلسطینیوں کو شدید سردی میں کپڑے اتار کر کھلے مقامات پر بٹھایا گیا زیر حراست افراد میں بزرگ اور نوجوانوں کے علاوہ بچے بھی شامل ہیں، حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کا تعلق غزہ کے مختلف علاقوں سے ہے،اسرائیلی فوجیوں نے زیرحراست فلسطینیوں کو بغیر کپڑوں کے ہی ٹرکوں میں اسرائیل منتقل کیا۔
    https://x.com/SecKermani/status/1732765834596978924?s=20
    اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں میں مزید 350 سے زائد فلسطینی شہید کر دئیے ہیں ، جبالیہ، خان یونس، المغازی، رفح، بیت لاہیا کے رہائشی علاقوں میں بمباری کی، مسجد کو بھی نشانہ بنایا، فلسطینی میڈیا کے مطابق غزہ میں اب تک 17 ہزار 177 افراد شہید اور 46 ہزار زخمی ہوچکے ہیں،7 ہزار 700 فلسطینی ملبے تلے دبے ہیں، غزہ سٹی میں 52 ہزار مکانات مکمل اور ڈھائی لاکھ سے زائد مکانات جزوی تباہ ہوئے ہیں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 194 مساجد اور تین چرچ تباہ ہوئے ہیں۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی سفاکیت نے ذہنی معذور فلسطینی کو بھی نہ بخشا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک ذہنی معذور فلسطینی کو روک کر اس کی شناخت پوچھی، جس کا وہ جواب نہ دے سکا، ساتھ موجود فلسطینی نے اس کی ذہنی معذوری کا بتایا پھر بھی اسرائیلی فوجیوں نے 34 سالہ طارق پر فائرنگ کر دی، شدید زخمی طارق اسپتال میں زیر علاج ہے7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں 256 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

    فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انروا کا کہنا ہےکہ غزہ میں شدید بمباری اور فوجی آپریشن کے سبب صورتحال مایوس کن ہوچکی ہے، غزہ میں شدید بمباری کے سبب ایسی صورتحال ہے کہ امداد کی فراہمی نہیں ہوپارہی۔

  • ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے اسرائیلی بفر زون منصوبے پر بحث کرنا بھی فلسطینیوں کی بے عزتی ہے-

    باغی ٹی وی: ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیاقطر سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ترکیے میں حماس کے ارکان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    ترک خبر ایجنسی انادولو کے مطابق ترکیہ کے صدر نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ کو اپنی سیاسی زندگی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیل جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے،اسرائیلی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا، یہ ترکیہ کی ترجیح ہے غزہ میں مستقل جنگ بندی ہو اور غزہ کے لوگوں انسانی بنیادوں پر امداد بغیر کسی رکاوٹ اور تعطل کے پہنچے ۔

    ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    صدر اردوان نے نیتن یاہو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ‘ اس نے جنگ کو طوالت اپنے اقتدار اور سیاسی مستقبل کو طوالت دینے کے لیے دی ہے۔ لیکن اپنے ذاتی اقتدار کے لیے اس نے پورے خطے کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہےنیتن یاہو کہتا تھا کہ وہ حماس کو ختم کر دے گا مگر اب اس کو خود اپنے ہاں اندرونی محاذ پر سخت سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کی ناکامی اور اہلیت پر سوال اٹھ رہے ہیں یاہو کوعالمی سطح پر بھی سخت تنقید کا سامنا ہے اس کی جنگی پالیسی کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی شہریوں کو شہید کیا گیا، حتیٰ کہ جنگ بندی کے بعد بھی فلسطینیوں کی جانیں لی گئی ہیں انہوں نے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ‘ اسرائیلی اپوزیش آج یاہو کا استعفیٰ مانگ رہی ہے۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،درخواستیں ابتدائی سماعت کیلئے مقرر

    ترک صدر نےکہا کہ غزہ کے لیے اسرائیلی بفر زون منصوبے پر بحث کرنا بھی فلسطینیوں کی بے عزتی ہےحماس اپنی سر زمین کے تحفظ کے لیے لڑنے والا مزاحمتی گروپ ہے،غزہ کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی ہی کریں گے۔، اسرائیل کو مقبوضہ علاقے واپس کرنا ہوں گے، مغربی ممالک کی اسرائیل کی حمایت خطے کی موجودہ صورت حال کا سبب بنی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی توثیق پارلیمنٹ میں جمع کر کے اپنا کردار ادا کر دیا ہے، اب ترکیے کو ایف 16 طیاروں کی فروخت پر امریکی کانگریس سے بیک وقت اقدامات کی توقع ہے۔

    اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

    واضح رہے یائر لاپیڈ کو رپورٹ کرتے ہوئے ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے ‘اب جنگ کے دوران ہی نیتن یاہو کو گھر جانا چاہیے، کیونکہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ حکومت کام ہی نہیں کر رہی،بلکہ غیر فعال ہو چکی ہے، ان حالات میں یاہو کے اقتدار کا کوئی جواز نہیں ہے۔ہم ایک ایسی حکومت کو مزید بر سر اقتدار نہیں رہنے دینا چاہتے جس کی عوام میں مقبولیت نہ رہی ہو اور لوگوں کو اس پر بھروسہ نہ رہا ہو، یہ صرف اپوزیشن لیڈر نہیں کہہ رہا بلکہ ماہ نومبر میں ہونے والے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ 70 سے 80 فیصد اسرائیلی چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہوتے ہی یاہو کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

    شادی شدہ افراد میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 9 فیصد …

  • اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

    اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

    باغی ٹی وی : امریکی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیل 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،تاہم زمینی جنگ ختم ہونے کے بعد حماس کے خلاف سرجیکل کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    باغی ٹی وی: امریکی ٹی وی سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل کی جنوبی غزہ میں کارروائیاں شمالی غزہ جتنی شدید نہیں ہوں گی، دوسری جانب اسرائیلی حکام مارچ میں ہونے والی پارلیمانی انتخابات سے کئی ہفتے پہلے غزہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کا کنٹرول کسی بین الاقوامی فورس کو نہیں دیں گے غزہ میں جنگ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جو مشکل ہوسکتی ہے۔

    اسرائیل کی شمالی غزہ میں 2 اسکولوں پر بمباری،50 فلسطینی شہید

    اسرائیلی حکومتی ترجمان کے مطابق اسرائیل غزہ میں اپنی جنگ کے نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جہاں وہ جنگ کو عسکری لحاظ سے مشکل تصور کررہا ہے تاہم اسرائیل حماس کو ختم کرنے کے اس مقصد میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے حوالے سے بھی کوشش کررہا ہے، اسرائیل نے غزہ پٹی پر حماس کے زیر انتظام علاقوں میں آپریشن شروع کردیا ہے جہاں شمالی علاقوں سے تقریباً 10 لاکھ پناہ گزینوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

    شمالی غزہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی غزہ پر بھی بمباری

    اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگ کے بعد غزہ کی سکیورٹی سنبھالنے کا اعلان کردیا ہے کہا کہ حماس کے ساتھ جنگ ​​ختم ہونے کے بعد اسرائیلی فوج ہی غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول جاری رکھے گی نیتن یاہو نے کسی غیر ملکی فورس کو یہ ذمہ داری سونپنے کے امکان کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ جنگ کے بعد غزہ کاکنٹرول کسی بین الاقوامی فورس کو نہیں دیں گے، تنازع ختم ہونے کے بعد اسے ‘فوج کے بغیر ملک’ بنانا چاہیے۔

    اسرائیل کی تیار کردہ ٹیک مصنوعات پر بڑا سائبر حملہ

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں انسانیت سوز اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 7 ہزار سے زائد بچوں سمیت فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 16 ہزار سے زائد جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 43 ہزار 600 سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کی  قیادت کی فلسطینی رہنما ڈاکٹر ناجی ظہیر السرمی سے ملاقات

    مرکزی مسلم لیگ کی قیادت کی فلسطینی رہنما ڈاکٹر ناجی ظہیر السرمی سے ملاقات

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی ضلعی صدر چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ کی قیادت میں فلسطینی رہنما ڈاکٹر ناجی ظہیر السرمی سے اسلام آباد مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات ہوئی ہے،

    اس موقع پر مسلم میڈیکل مشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ناصر ہمدانی، یاسر عرفات بٹ، شوکت علی سلفی ودیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مرکزی مسلم لیگ کے وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مرکزی مسلم لیگ فلسطین کی آزادی تک مظلوم فلسطینیوں کی مدد جاری رکھے گی۔ قبلہ اول مسجد اقصی اورفلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے پاکستانی حکومت سمیت تمام مسلم حکمران قراردادوں کی بجائے عملاً کردار پیش کریں۔

    فلسطینی رہنما ڈاکٹر ناجی ظہیر السرمی نے اس موقع پر کہا کہ ہم پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے بے حد مشکور ہیں کہ ان کے توسط سے پاکستان کے مرد و خواتین اور نوجوان نے جو اس مجرمانہ صہیونی جنگ کے خلاف اہل غزہ کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کا پیغام دے رہے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے صدر چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ،یاسر عرفات بٹ ،شوکت سلفی ودیگر نے ڈاکٹر ناجی ظہیر السرمی سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ فلسطین میں ہونے والے ظلم و ستم اور بالخصوص عورتوں اور بچوں پر ہونے والی وحشیانہ بمباری کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے القدس و یکجہتی فلسطین مارچ میں ہماری مائیں بیٹیاں اعلان کررہی ہیں کہ ہمارے بچے بیت المقدس کی آزادی پر قربان ہے۔ پاکستان کی عوام فلسطین کے ساتھ ہے۔ پاکستان میں موجود ہر فرد فلسطین کا درد محسوس کرتا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا لاہور ڈویژن کے تمام حلقوں سے امیدوار لانے کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی فلسطینی رہنما خالد مشعل سے قطر میں ملاقات

    ملک کی ترقی میں مزدوروں اور محنت کشوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے

    بہن بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے برابر کاشریک کریں 

    قرضے لیکر معیشت میں کبھی بھی استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا،

     ہم ملکی سیاست کا ٹرینڈ تبدیل کرنے جارہے ہیں۔

  • شمالی غزہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی غزہ پر بھی بمباری

    شمالی غزہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی غزہ پر بھی بمباری

    قاہرہ: عارضی جنگ بندی کے خاتمے اور غزہ پر دوبارہ اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد 871 دوہری شہریت کے حامل شہری رفح کراسنگ کے رستے مصر پہنچ گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: مصری حکام نے بتایا کہ ہفتے اور اتوار کے روز مصر پہنچنے والے دوہری شہریت کے حامل شہریوں میں 17 امریکی اور 130 ترک شہریت کے حامل افراد شامل ہیں مصر پہنچنے والے دوہری شہریت کے حامل افراد میں مصر، جنوبی افریقا، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا اور ڈنمارک کے شہری بھی شامل ہیں،ہفتہ اور اتوار کے روز رفح کراسنگ کے ذریعے 13 فلسطینی زخمی بھی مصر پہنچے ہیں۔

    فلسطینی ہلال احمر کے مطابق رفح کراسنگ سے اتوار کو امدادی سامان کے 100 ٹرک بھی غزہ میں داخل ہوئے، 21 اکتوبر سے 30 نومبر تک امدادی سامان لے کر 2 ہزار 538 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔

    دوسری جانب شمالی غزہ میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کی جان لینے کے بعد اسرائیل نے زمینی کارروائی پورے غزہ تک بڑھادی، اسرائیلی آرمی چیف نے جنوبی غزہ میں شدت سے حملوں کی تصدیق کی اور اسرائیل نے ان حملوں میں فضائیہ کی مدد لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
    https://x.com/AJA_Palestine/status/1731489045723623758?s=20
    فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے مغربی کنارے سمیت جینن، سلواد، جفنا، جلازوم، قلقلیا اور ہبرون میں چھاپے مارے اور متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا، اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں لڑائی کے دوران اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے سے اردن کا شہری جاں بحق ہوگیا جس کی تصدیق اردن کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

    اردن کی وزارت خارجہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے میں اردن کا ایک شہری جاں بحق اور اس کا بھائی شدید زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹرز نے اس کے کومہ میں ہونے کی تصدیق کی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کی علی الصبح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں شدید بمباری اور شیلنگ کی ہے جس میں فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

    خیال رہے کہ عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر شروع کیے گئے جارحانہ حملوں میں اب تک 700 سے زائد فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں،،کمال عدوان اسپتال کے دروازے پر بمباری سے 4 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ اسپتال کے گھیراؤ کی کوشش کی گئی۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اسرائیل کی غزہ اور دیگر قابض علاقوں پر بدترین بمباری جاری ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے ہزاروں بچوں کا بچپن چھین لیا ہے، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے کہیں بچے والدین تو کہیں والدین بچوں سے بچھڑ گئے ہیں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بعد ملبے سے ریسکیو کیے گئے زخمی بھائی بہن کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں زخمی بہن بار بار اپنے زخمی بھائی سے اپنے خاندان کی خیریت کے بارے میں پوچھ رہی ہے لیکن بھائی کے پاس زخمی بہن کے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے یو این او سی ایچ اے کے مطابق جنوبی غزہ میں بڑے پیمانے پر انفیکشنز کا پھیلاؤ ہورہا ہے جس میں ایک سے دوسرے کو لگنے والے انفیکشنز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ڈائیریا اور جِلد کے انفیکشنز کے بھی متعدد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اسرائیلی ایجنسی شن بیت نے قطر، ترکیہ اور لبنان میں بھی حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہےاس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے حماس کی شاتی بٹالین کے کمانڈر حیثم خواجری کو فضائی حملے میں قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہےمزاحمت کاروں سے جھڑپیں تاحال جاری ہیں، رفاح سٹی میں گھروں پر بمباری ہورہی ہے جس میں شہادتوں کا خدشہ ہے، جب کہ اب بھی کئی افراد ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔

  • امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    واشنگٹن: بائیڈن کو دوبارہ صدارت کی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے امریکا کے مسلمان رہنماؤں نے بائیڈن کو روکو "AbandonBiden” مہم شروع کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : غزہ کے معصوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بم باری کرنے والے اسرائیل کی حمایت امریکی صدر بائیڈن کو مہنگی پڑگئی ہے،کئی اہم امریکی ریاستوں کے مسلم رہنماؤں نے ہفتے کو عہد کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ پر بائیڈن کے مؤقف کی وجہ سے ان کی انتخابی مہم کی مخالفت کریں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے مسلمان امریکیوں نے بائیڈن سے 31 اکتوبر تک جنگ بندی کا مطالبہ کیا بعد ازاں بائیڈن مخالف مہم مشی گن، ایری زونا، وسکونسن، پنسلوانیا اور فلوریڈا تک پھیل گئی ہے،بڑی مسلم اور عرب امریکی آبادی کی مخالفت آئندہ انتخابات میں بائیڈن کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

    بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

    امریکی مسلمان رہنماؤں نےا س عزم کا اظہار کیا ہےکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں ساتھ دینے والے بائیڈن کو دوبارہ صدر بننے سے روکنےکی ہر ممکن کوشش کریں گےمہم کی قیادت کرنے والے امریکی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی رکوانے اور معصوم افراد کو تحفظ فراہم کرنےکے مطالبے کو نہیں مانا اس لیے ہم نے صدر بائیڈن کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکیں۔

    امریکی صدر اور نائب صدر کا انتخاب ”انتخاب کاروں“ (الیکٹورل کالج) کے ایک گروپ کے ذریعے کیا جاتا ہے جنہیں زیادہ تر معاملات میں اس ریاست کی سیاسی جماعتیں منتخب کرتی ہیں، مہم شروع کرنے والی تنظیم منی سوٹا کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ڈائریکٹر حسین جیلانی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس صرف دو آپشن نہیں بلکہ متعدد لوگ ہیں۔

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    امریکی سیاست پر دو جماعتوں کا غلبہ ہے – ڈیموکریٹس اور ریپبلکن – لیکن آزاد امیدوار بھی صدر کے لیے انتخاب لڑ سکتے ہیں، ہارورڈ کے سابق پروفیسر اور ممتاز سیاہ فام فلسفی کارنیل ویسٹ، جو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں، انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کی ہےگرین پارٹی کے پلیٹ فارم پر دوڑ میں شامل جل سٹین نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ 2016 اور 2012 میں بھی امیدوار تھیں۔

    امریکی مسلمانوں کا کہنا ہےکہ وہ ٹرمپ کو متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہے نہ وہ ان سے مسلمانوں کے لیےکسی بہتری کی امید رکھتے ہیں، ہم متبادل امیدوار چاہتے ہیں، وہ بائیڈن کو ووٹ دینے سے انکار کو امریکی پالیسی کی تشکیل کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم ٹرمپ کی حمایت نہیں کر رہے، مسلم کمیونٹی فیصلہ کرے گی کہ دوسرے امیدواروں کا انٹرویو کیسے کیا جائےدوسری جانب حماس نے بھی امریکی مسلمانوں سے اپیل کی ہےکہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے بائیڈن کو سپورٹ نہ کریں۔

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران …

    ایک حالیہ سروے میں عرب امریکیوں میں بائیڈن کی حمایت میں نمایاں کمی کا انکشاف ہوا ہے، جو کہ 2020 میں کافی اکثریت سے گر کر صرف 17 فیصد رہ گئی ہےعرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اس تبدیلی کا مشی گن جیسی ریاستوں میں اہم اثر ہو سکتا ہے، جہاں بائیڈن نے 2.8 فیصد پوائنٹس سے فتح حاصل کی، اور عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 5 فیصد ووٹ عرب امریکی ہیں عام لوگوں کے درمیان، رائے عامہ کے جائزوں میں زیادہ تر امریکیوں نے محاصرہ زدہ علاقے میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی حمایت کی ہے۔

    واضح رہےکہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر بھی ہو چکے ہیں تاہم امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ امریکا نے اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کی ہے اور قرار دیا ہے کہ دفاع اسرائیل کا حق ہے۔

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

  • غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ کے جبالیہ کیمپ پر تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اسرائیل نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے، لبنان کی جانب سے اسرائیلی فوج پر اینٹی ٹینک میزائل سے حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے، دوسری جانب اسرئیلی فضائیہ نے الجبالیہ پناہ گزین کیپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔

    فوٹو الجزیرہ
    الجزیرہ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں متعدد شہادتوں کی اطلاعات ہیں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک مکمل رہائشی بلاک منہدم ہوا ہے جس کے اندر بہت سے لوگ موجود تھے، تباہی ناقابل بیان ہے۔

    فوٹو الجزیرہ

    فلسطینی صحافیوں اور ٹی وی کریو کی جانب سے شیئر کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ جبالیہ کیمپ کے رہائشی اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے ملبے کے نیچے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکال رہے ہیں لوگوں کو کئی لاشیں ملی ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے،کچھ شدید زخمیوں کو اسٹریچر حتیٰ کہ گدوں پر بھی لے جایا جا رہا ہے، جبالیہ کیمپ کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ’ہم ملبے کے نیچے سے آوازیں سن سکتے ہیں‘۔

    فوٹو الجزیرہ

    واضح رہے کہ جبالیہ غزہ کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہے۔ غزہ کے شمال میں واقع یہ گنجان آباد کیمپ 1.4 مربع کلومیٹر (0.5 مربع میل) کے رقبے پر محیط ہے اقوام متحدہ کے مطابق کیمپ میں تقریباً 116,000 رجسٹرڈ مہاجرین موجود ہیں اسے دو دنوں میں دو بار اسرائیلی فضائی حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    فوٹو الجزیرہ
    خیال رہے کہ غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں،غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں اور ان کا دائرہ محفوظ قرار دیے جانے والے جنوبی حصوں میں بھی پھیلا دیا گیا ہے 58 روز سے جاری ان کارروائیوں کے دوران اب تک 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں اسرائیلی جارحیت سے ہزاروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ خطے کے قدیم ثقافتی مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہےیہ خطہ قدیم زمانے سے مصر، یونان، روم، بازنطینی اور مسلم ریاستوں کے زیرتحت تجارت اور ثقافت کا مرکز رہا ہے۔

    Heritage for Peace نامی ادارے کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے 100 سے زائد ثقافتی مراکز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہوچکے ہیں ان میں فلسطین کی تاریخی مسجد عمری بھی شامل ہے جبکہ دنیا کا تیسرا قدیم ترین چرچ آف Saint Porphyrius، 2 ہزار سال قدیم رومی قبرستان، رفح میوزیم اور دیگر قدیم ثقافتی مقامات اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے نوادرات، تاریخی مقامات، میوزیمز اور لائبریریوں کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

    Heritage for Peace کے صدر Isber Sabrine نے کہا کہ اگر غزہ کی ثقافت کا خاتمہ ہوگیا تو یہ غزہ کے رہائشیوں کی شناخت کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا ہمارا ادارہ غزہ کے ثقافتی مراکز کی حالت کے بارے میں سروے اور مانیٹرنگ جاری رکھے گا غزہ کے عوام کو اپنی تاریخ بیان کرنے والی ثقافت کو بچانے کا حق حاصل ہے، جو اس سرزمین کے لیے بہت اہم ہے۔

    1954 کے ہیگ معاہدے کے تحت فلسطینیوں اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ان مقامات کو محفوظ رکھنے پر اتفاق کیا تھا مگر ماضی میں بھی اسرائیلی حملوں میں ان مقامات کو نقصان پہنچا تھا مگر اب جو تباہی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے ثقافتی تاریخ کے نقصان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کریں۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اسرائیلی کی غزہ اور دیگر قابض علاقوں پر بدترین بمباری جاری ہے،حماس کا کہنا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا ہے، فلسطینی تنظیم کی جانب سے اسرائیلی فورسز اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں

    اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گنجان آباد جنوبی حصوں پر حملے کیے جا رہے ہیں جہاں شمالی غزہ سے جبری انخلا کے بعد فلسطینیوں کی اکثریت پناہ لیے ہوئے ہیں، صیہونی فورسز کی جانب سے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےاس کے علاوہ اسرائیلی فورسز کی خان یونس کے علاقے میں بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور تازہ ترین کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے ایک گھر میں چھاپہ مار کر 7 فلسطینیوں کو شہید کر دیا-

    خان یونس میں قطری تعاون سے تعمیر "حمد سٹی ” کی تباہی کے ہولناک مناظر دیکھنے میں آئے اور ترک ٹی وی کی صحافی ربا خالد لائیو کوریج کے دوران اپنا گھر تباہ ہوتے دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں ادھر اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے شیخ عکرمہ کے گھر پر بھی چھاپا مارا، شیخ عکرمہ صابری مقبوضہ بیت المقدس میں سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ اور فلسطینی علما اور مبلغین کی انجمن کے بانی و صدر بھی ہیں۔

    غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل کا عرب میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 700 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ 52 روز سے بجلی سے محروم ہے، جنوبی غزہ کے عمارتوں اور کیمبس میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 7 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نےغزہ کے اسپتال کے دورے کے بعد اظہارِ خیال میں کہا کہ جنوبی غزہ میں النصر اسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں، گنجائش سے تین گنا زائد مریض موجود ہیں، مریضوں کا علاج زمین پر کیا جارہا ہے۔