Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ میں  سیزفائر کن شرائط اور مراحل کے تحت کی جائے گی ؟

    غزہ میں سیزفائر کن شرائط اور مراحل کے تحت کی جائے گی ؟

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ثالثوں کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی نئی تجاویز حماس کو موصول ہوئی ہے،امریکی اخبار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیزفائر کن شرائط اور مراحل کے تحت کی جائے گی۔

    امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 10 یرغمالی اور 18 ہلاک اسرائیلیوں کی لاشیں 5 مرحلوں میں دی جائیں گی، جبکہ لاشیں اور یرغمالی رہا کرنے پر فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔

    حماس کا کہنا ہے کہ ثالثوں کی جانب سے دی گئی نئی تجاویز کا مطالعہ کر رہے ہیں، ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہو غزہ میں عارضی جنگ بندی سے متعلق نئی تجاویز کا مطالعہ کر رہے ہیں، تاہم ایس ےمعاہدے کی خواہاں ہے جو اسرائیل کی جنگ کا مکمل خاتمہ کرے۔

    بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ اسے ثالثوں کی جانب سے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور وہ ان سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ فاصلے کم کیے جا سکیں اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ کر جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچا جا سکے ہمارا مقصد ایسا معاہدہ ہے جو غزہ کی جنگ کا خاتمہ کرے اور اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا کو یقینی بنائے۔

    یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق کر لیا ہے اور انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کو قبول کرے، قبل اس کے کہ حالات مزید خراب ہوں ٹرمپ اسرائیلی حکومت اور حماس دونوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی پر رضامند ہوں اور حماس غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے ، تاہم اسرائیل بضد ہے کہ وہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک حماس کا مکمل خاتمہ نہ کر دیا جائے ٹرمپ آئندہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

    تاہم حماس کے اعلان، جس میں جنگ کے خاتمے کے مطالبے پر زور دیا گیا، نے اس بات پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا تازہ ترین تجویز واقعی لڑائی میں وقفہ لا سکے گی یا نہیں ، حماس کے بیان کے فوراً بعد نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنگ کے بعد کے غزہ میں حماس موجود نہیں ہو گی۔

    امریکی میڈیا ادارے Axios کے مطابق، اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی سے متعلق مذاکرات جلد پیش رفت نہ کر سکے تو اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کردے گی۔

  • ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،فرانسیسی وزیر خارجہ

    ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،فرانسیسی وزیر خارجہ

    فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے پیشِ نظر فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    فرانسیسی نیوز چینل ’ایل سی آئی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ژاں نوئل بارو نے غزہ میں فلسطینی امداد حاصل کرنے والوں کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک اور انسانی وقار کی توہین قرار دیا۔

    ژاں نوئل بارو نے کہا کہ صرف مئی کے مہینے میں غزہ میں خوراک کے حصول کی کوشش کے دوران کم از کم 500 فلسطینی شہید اور تقریباً 4 ہزار زخمی ہوئے، انہوں نے کہا کہ فرانس اور یورپی یونین دونوں غزہ میں محفوظ اور منصفانہ خوراک کی تقسیم کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔

    وزیر اعظم کا بجلی بلوں میں پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا اعلان

    ژاں نوئل بارو نے کہا کہ ’غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کا کوئی جواز نہیں، انہوں نے کہاکہ ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، اور یہ ایک مشترکہ اقدام کے تحت ہوگا جو تمام فریقوں کو ایسی صورتِ حال پیدا کرنے کی ترغیب دے گا جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔

    مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

  • اسرائیل کا حماس اور حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا حماس اور حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی تنظیم حماس کے بانی رہنما حکم محمد عیسیٰ العیسیٰ اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر عباس الحسن وہبی کو فضائی حملوں میں شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی میں کارروائی کے دوران حکم عیسیٰ کو نشانہ بنایا گیا، جو حماس کے عسکری ونگ کے اہم بانی رہنماؤں میں شامل تھے بیان کے مطابق وہ 7 اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی اور عملی نفاذ میں بھی ملوث رہےاسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حکم عیسیٰ نے حماس کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، وہ تربیتی ہیڈکوارٹر کے سربراہ اور جنرل سیکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں تاہم حماس نے تاحال اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

    ادھر جنوبی لبنان کے علاقے محرونا میں ایک علیحدہ فضائی حملے میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے کمانڈر عباس الحسن وہبی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، فوج کے مطابق وہبی حزب اللہ کی ’رضوان فورس‘ میں انٹیلیجنس چیف تھے اور تنظیم کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں میں شامل تھے۔

    ملک میں مزید موسلادھار بارشوں کا امکان، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری

    دوسری جانب اسرائیل کی دہشت گردی کے نتیجے میں 24 گھنٹے میں مزید 81 فلسطینی شہید اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ غزہ کے ثالث اسرائیل اور حماس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اس ہفتے ایران کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی بنیاد پر فلسطینی علاقے میں بھی جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

    جمعے کو اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ، جو واشنگٹن اور قاہرہ کے ساتھ مل کر غزہ کے ثالثی عمل میں شامل ہے، اب اس جنگ بندی سے پیدا ہونے والی فضا اور موقع کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں اگر ہم نے اس موقع اور اس رفتار کو استعمال نہ کیا، تو یہ ایک اور ضائع ہونے والا موقع ہوگا، جیسا کہ حالیہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے، ہم دوبارہ ایسا نہیں دیکھنا چاہتے‘، الانصاری قطر کے وزیراعظم کے مشیر بھی ہیں۔

    سعودیہ ایئر لائن کے کیبن کریو منیجر کا دوران پرواز انتقال ہو گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو غزہ میں نئی جنگ بندی کے بارے میں امید کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ اگلے ہفتے تک طے پا سکتا ہے ثالث کئی مہینوں سے دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں گزشتہ 20 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو، ماجد الانصاری نے وضاحت کی کہ اس وقت براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم قطر ہر فریق سے الگ الگ سطح پر بھرپور رابطے میں ہے۔

    جنوری میں صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دو ماہ کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم مارچ میں یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دیں ماجد الانصاری نے جنوری کی اس جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے جس کے تحت حماس کے زیر حراست درجنوں قیدیوں کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدی رہا کیے گئے تھے، کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ امریکا کا دباؤ کیا کچھ کر سکتا ہے، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر امریکا کے عمل دخل کے تناظر میں یہ کسی طرح بعید از قیاس نہیں کہ واشنگٹن کی طرف سے دباؤ غزہ میں بھی ایک نئی جنگ بندی کے حصول کا باعث بن سکتا ہے۔

    :بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونوح میں زلزلہ،21 مکانات تباہ

    یاد رہے کہ اسرائیل خود لبنان کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزیاں کر رہا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

  • غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری، 60  فلسطینی شہید

    غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری، 60 فلسطینی شہید

    اسرائیلی افواج کی بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں92 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    اسرائیلی افواج کی جانب سے جمعہ کو مختلف مقامات پر کی گئی فضائی بمباری اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 60 افراد شہید ہوگئے، جن میں 31 افراد وہ تھے جو خوراک اور امدادی سامان کےلیے قطاروں میں کھڑے تھے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل کے مطابق، جنوبی غزہ میں پانچ افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ امدادی سامان کے انتظار میں کھڑے تھے، جبکہ مزید 26 فلسطینیوں کو وسطی علاقے نیٹساریم کاریڈور کے قریب نشانہ بنایا گیا یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد خوراک کی تلاش میں پہنچتے ہیں۔

    موسیقی محبت اور امن کے پیغام کو سرحدوں کے پار پہنچاتی ہے، مریم نواز

    اسرائیلی فوج نے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’’مشکوک افراد‘‘ کے قریب آنے پر پہلے وارننگ فائر کیا گیا، مگر جب وہ نہ رکے تو فضائی حملے کے ذریعے انہیں ہدف بنایا گیا۔

    یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب اسرائیل اور امریکا کی حمایت سے قائم کردہ ’’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت امدادی مراکز کھولے گئے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ اور بڑی بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے اس فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون سے انکار کیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ ادارہ اسرائیلی فوجی مقاصد کے تابع ہے۔

    اسرائیلی فوجی طیاروں نے غزہ میں رہائشی عمارتوں پر بمباری کی دوسری جانب شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ البلد میں شدید فضائی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں مزید 31فلسطینی شہید ہوگئے،اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے غزہ کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ائیر شو کے دورے پر فرانسیسی وزیر اعظم رافیل طیارے میں پھنس گئے

    اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے پیاس اور بھوک کے باعث بچوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے، یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق غزہ میں صرف 40 فیصد صاف پانی فراہم کرنے والے پلانٹس کام کر رہے ہیں، اور غذائی قلت کے باعث چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں شدید کمزوری کے کیسز میں 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے انہوں نے خود ایسی ماؤں اور بچوں کو دیکھا جو خوراک کے حصول کی کوشش میں زخمی ہوئے، ان میں ایک بچہ بھی شامل تھا جو ٹینک شیلنگ کا نشانہ بن کر دم توڑ گیا۔

    محرم الحرام میں پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ

  • غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 44 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 44 فلسطینی شہید

    اسرائیلی حملوں میں غزہ کے مختلف علاقوں میں کم از کم 44 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں.

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کے محکمہ صحت نے بتایا کہ وسطی غزہ کے علاقے نتساریم میں امداد کے منتظر کم از کم 25 فلسطینی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔مزید 19 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے، جن میں وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں ایک رہائشی گھر پر بمباری میں شہید ہونے والے 12 افراد بھی شامل ہیں۔ یوں جمعے کے روز شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد کم از کم 44 ہو گئی۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور امدادی خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے شہریوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    یونیسف کا غزہ میں انسانی ساختہ قحط کا انتباہ

    یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، کیونکہ صرف 40 فیصد پینے کے پانی کی سہولیات ہی فعال ہیں، جو ہنگامی معیار سے بھی بہت کم ہیں۔یونیسف کے مطابق اپریل سے مئی کے دوران غزہ میں 6 ماہ سے 5 سال کی عمر کے بچوں میں غذائی قلت کے علاج کے لیے اسپتال داخلوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ پانچ لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔

    خیال رہے کہ ایک روز قبل بھی اسرائیلی حملوں میں غزہ کے مختلف علاقوں میں کم از کم 81 فلسطینی شہید ہوئے تھے، جن میں وہ 16 افراد بھی شامل تھے جو امدادی مرکز کے باہر خوراک کے انتظار میں موجود تھے اور اسرائیلی افواج نے انہیں ٹینکوں اور کواڈکاپٹر بموں سے نشانہ بنایا تھا۔

    چیئرمین واپڈا سجاد غنی عہدے سے مستعفی ، وجوہات ذاتی قرار

    ہری پور میں سوشل میڈیا انفلوئنسر سے مبینہ اجتماعی زیادتی، مقدمہ درج

    لندن میں ایرانی سفارتخانے کے باہر تصادم، دو زخمی، آٹھ گرفتار

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری، اب تک 49 جھٹکے ریکارڈ

  • پاکستان کا غزہ  میں بڑھتی اسرائیلی جارحیت پر اظہارِ تشویش

    پاکستان کا غزہ میں بڑھتی اسرائیلی جارحیت پر اظہارِ تشویش

    اسلام آباد:پاکستان نے غزہ میں بڑھتی اسرائیلی جارحیت اور بگڑتی ہوئی صورت حال پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔

    ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی زیرصدارت اجلاس میں اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کو فراہم کی جانے والی امداد کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیر خارجہ نے فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ فلسطینی طلبہ کو تعلیمی مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

  • غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری،مزید 42 فلسطینی شہید

    غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری،مزید 42 فلسطینی شہید

    غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری جاری رہی ، فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 42 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ 11 افراد شمالی علاقے جبالیا پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے غزہ کے علاقے خان یونس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوجی دھماکہ خیز مواد اور سرنگوں کا پتہ لگانے کے لیے ایک عمارت میں داخل ہوئے تھے جہاں پہلے سے نصب بارودی مواد پھٹنے سے عمارت اسرائیلی فوجیوں پر آ گری، ادھر امریکی حمایت یافتہ تنظیم نے غزہ پٹی میں تمام امدادی مراکز ایک روز سے زائد بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، فلسطینی حکام کے مطابق تنظیم کے امدادی مرکز پر اب تک اسرائیلی حملوں میں امداد کے منتظر 110 فلسطینی شہید ہوئے۔

    غزہ میں جاری جنگ کے باعث اب تک 54,418 فلسطینی شہید اور 124,190 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں نسل کشی کا مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید اور سفارتی سبکی کے بعدمودی کو جی 7 اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشین ہم منصب کو ٹیلی فون، پاک بھارت کشیدگی پر حمایت کا شکریہ

    بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید اور سفارتی سبکی کے بعدمودی کو جی 7 اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا

  • غزہ: اسرائیلی فوج کی امداد لیتے افراد پر  بمباری ، 40 فلسطینی  شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج کی امداد لیتے افراد پر بمباری ، 40 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے مزید 40 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں جہاں اسرائیلی فوج نے امداد لیتے افراد پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں مزید 40 فلسطینی شہید ہوگئے، باپ اپنے بچوں کے لیے خوراک لینے گیا تھا لیکن اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن گیا چھ بچیوں کے باپ حسام وافی کو اس وقت شہید کیا گیا جب وہ اپنے بھائی اور بھتیجے کے ہمراہ جنوبی شہر رفح میں ایک امدادی مرکز سے آٹا لینے گیا-

    حسام کی والدہ نہلہ وافی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے لیے روٹی لینے گیا تھا، لاش بن کر واپس آیا، نصر اسپتال کے صحن میں حسام کی بیوہ اور ننھی بیٹیوں کو دلاسہ دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، جن کا مستقبل اب یتمی اور بھوک کے سائے میں ہے۔

    بھارت کی جنگجو جارحیت کے باعث دنیا ایک کم محفوظ جگہ بن گئی ہے،پارلیمانی وفد کی بریفنگ

    فلسطینی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ امداد لینے والے نہتے شہریوں پر اسرائیل کی طرف سے ڈرون حملہ کیا گیا، جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ نے امدادی مراکز پر اسرائیلی فائرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا اور امدادی ایجنسیوں نے بھی بھوکے پیا سےفلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی،اس کے علاوہ امداد کی تقسیم کے لیےعالمی ادارہ خوراک نےغزہ تک رسائی مانگ لی۔

    برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کا کہنا ہے کہ غزہ کی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے، امداد کی فوری اور مکمل رسائی یقینی بنائی جائے۔

    وزیراعظم کی دیامیر بھاشا ڈیم کی جلد از جلد تکمیل کی ہدایت

  • غزہ میں نسل کشی پر فرانس اور جرمنی نے بھی اسرائیل کو خبردار کردیا

    غزہ میں نسل کشی پر فرانس اور جرمنی نے بھی اسرائیل کو خبردار کردیا

    غزہ میں اسرائیل کی فلسطینیوں کی نسل کشی پر فرانس اور جرمنی نے بھی خبردار کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چند گھنٹوں اور دنوں میں غزہ میں انسانی امداد بحال نہ کی گئی تو فرانس سخت اقدامات کرے گا-

    فرانس نے واضح کردیا ہے کہ اگر غزہ میں امدادی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی، دوسری جانب جرمنی نے بھی اسرائیل کو انتباہ کردیا ہے کہ ہتھیاروں کی فراہمی کو روک دیا جائے گا-

    پلاٹ خریدنے والے عام آدمی کو ملی بھگت کی سزا ملتی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر 20 منٹ میں ایک بچہ شہید ہو رہا ہےاقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی امور کے مطابق غزہ دنیا میں واحد علاقہ ہے جہاں کی 100 فیصد آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔

    افغان طالبان کا اپنے ناظم الامور کو سفیر کے درجے پر ترقی دینے کا اعلان

  • اسرائیلی فوج کا غزہ کے 77 فیصد حصے پر قبضہ،  مزید 30 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کا غزہ کے 77 فیصد حصے پر قبضہ، مزید 30 فلسطینی شہید

    اسرائیل نے غزہ پٹی کے 77 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا، بمباری سے مزید 30 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    غزہ میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے 77 فیصد علاقے پر قبضہ کر چکی ہے، یہ قبضہ براہ راست زمینی دراندازی کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں، علاقوں، زمینوں اور املاک تک رسائی سے روک کر کیا گیا ہے،جس کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہونے لگی۔

    غزہ کے پناہ گزین اسکول پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 25 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں حلال احمر کے دو کارکن ، ایک صحافی اور 11 سالہ انفلوئنسر سمیت متعدد بچے شہدا میں شامل ہیں،صحافی ابو وردہ کی شہادت کے بعد شہید فلسطینی صحافیوں کی تعداد 220 ہو گئی۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے پناہ گزین کیمپوں اور خیمہ بستی کو نقصان پہنچایا شہدا کی مجموعی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کر گئی غزہ کے حکام نے عالمی برادری سے اسرائیلی جنگی جرائم رکوانے کا فوری مطالبہ کیا ہے۔

    دوسری جانب کونسل آ ف امریکن اسلامک ریلیشنز نے غزہ میں صحافی اور اہلِ خانہ کی شہادت کی مذم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اورعالمی میڈیا اسرائیل کے ہاتھوں قتل پر خاموش ہے۔

    ادھر یمن کے حوثیوں نے ایک بار پھر اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کیا جس پر اسرائیلی فوج نے میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کردیا۔