فرانس نے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمر بن گویر کے فرانسیسی سرزمین میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نویل بارو نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غزہ جانے والے فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر عالمی سطح پر بڑھتے غصے کی عکاسی کرتا ہے،اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویرکو فرانس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی یہ فیصلہ فرانسیسی اور یورپی شہریوں کے ساتھ نامناسب رویے کے باعث کیا گیا تمار بن گویر کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، اسی لیے فوری طور پر ان کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ فرانس اس بحری قافلے کے طریقہ کار کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے سفارتی اور قونصلر خدمات پر دباؤ بڑھتا ہے، تاہم فرانسیسی شہریوں کو دھمکانے یا ان کے ساتھ بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی، خصوصاً اگر ایسا کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے کیا جائے، اتمار بن گویر کے اقدامات اور بیانات کی مذمت خود اسرائیل کے متعدد حکومتی اور سیاسی رہنماؤں نے بھی کی ہے اسرائیلی وزیر ماضی میں بھی فلسطینیوں کے خلا ف نفرت انگیز اور تشدد پر مبنی بیانات دیتے رہے ہیں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اتمار بن گویر پر مشترکہ پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس سے قبل اٹلی بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کر چکا ہے۔
اتمار بن گویر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ایک انتہائی دائیں بازو کے رہنما ہیں، جو غزہ جنگ اور فلسطینیوں سے متعلق اپنے سخت مؤقف کی وجہ سے عالمی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز صمود فوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال حساس ہو گئی تھی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا اس واقعے کے بعد اٹلی، ترکیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، جرمنی، اسپین، بیلجیئم، فرانس، آئرلینڈ، نیدرلینڈ سمیت دیگر ممالک اور یورپی یونین نے اسے انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔
