Baaghi TV

Tag: منشیات

  • شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس میں تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا،کیس کی انتہائی حساس اور اہم دستاویزات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کر دی گئیں۔

    دستاویزات کے مطابق انمول پنکی کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے منتقل کرنے والوں میں حکمران اتحاد کے ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ اور پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے نام سامنے آ گئے ہیں، گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 6 مختلف اکاؤنٹس کا استعما ل کرتے ہوئے تقریباً 3 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا جب کہ تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 18 مہینوں کے دوران 6 مختلف بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 94 لاکھ 67 ہزار روپے منتقل کیے گئے، اس رقم کی منتقلی میں 21 خواتین اور 117 مرد شامل ہیں، جن میں ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ سمیت اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے ناموں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    بیسل امیکا نامی خاتون کے ایک اکاؤنٹ میں 85 لاکھ 62 ہزار روپے منتقل ہوئے، صداقت اللہ نامی شخص کے اکاؤنٹ میں 16 لاکھ 50 ہزار روپے ڈالے گئے، ہانی فرقان کے اکاؤنٹ میں 77 لاکھ 50 ہزار اور محمد سمیر کے اکاؤنٹ میں 63 لاکھ 75 ہزار روپے منتقل کیے گئے اسی طرح ظفرعلی کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ 80 ہزار منتقل ہوئے، اسکائے اوورسیز نامی اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل ہوئےرقم منتقلی ذیشان اور سہیل نامی افراد کے ذریعے کی جاتی تھی۔

    پنجابی گلوکارہ شادی سے انکار پر قتل ، لاش نہر سے برآمد

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کمیٹی کو کیس پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنکی کیس میں لا انفورسمنٹ والوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، پنجاب میں 2018 سے 2024 تک 5 کیسز بنائے گئے، سندھ پولیس نے اب تک 4 کیسسز بنائے ہیں، پنکی کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہو ئی ، ملزمہ کے فون کا بھی فرانزک کرایا گیا ہے، نادرا اورایف آئی اے کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔

  • انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    منشیات کے جرم میں گرفتار انمول عرف پنکی کو مختلف مقدمات میں عدالت نے 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو سخت سیکیورٹی حصار میں سماعت کے لیے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا، جہاں اسے درخشاں اور گزری تھانوں میں درج 8 مقدمات کے سلسلے میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ مقدمات سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں، پنکی شہر کے پوش علاقوں میں بھی آن لائن منشیات فروخت کرتی تھی، منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتھا جس جس کی ویڈیو سامنے آگئی۔

    منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتا رہا،منشیات منگوانے والے ایک کسٹمر نے کچھ ماہ قبل ایک خفیہ ویڈیو بھی بنالی تھی رائیڈرز اس بات سے لاعلم ہوتے تھے کہ پارسل میں منشیات موجود ہے،ویڈیو میں رائیڈر سے کسٹمر کو پارسل وصول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    رائیڈر نے پارسل دینے کے بعد صرف ڈلیوری چارجز وصول کیے پارسل کے اندر ایک پیکٹ سے آئس برآمد ہوتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

  • کم کارڈیشین کے برانڈ  کے  ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    کم کارڈیشین کے برانڈ کے ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    برطانیہ میں ایک پولش ٹرک ڈرائیور کو کم کارڈیشین کے معروف ملبوساتی برانڈ ’اسکِمز‘ کی کپڑوں کی کھیپ میں لاکھوں ڈالر مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    برطانیہ کی ایک عدالت نے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ ٹرک ڈرائیور جیکب یان کونکل کو 84 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنا دی،منشیات کو ٹرک کے خفیہ خانوں میں چھپایا گیا تھا جبکہ اصل تجارتی سامان قانونی تھا-

    چیلمزفورڈ کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ملزم نے کم کارڈیشین کے معروف برانڈ ’اسکِمز‘ کے زیرِ جامہ اور ملبوسات پر مشتمل کھیپ میں منشیات چھپا رکھی تھیں یہ سامان نیدرلینڈز سے برطانیہ منتقل کیا جا رہا تھا۔

    برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق کونکل گزشتہ سال ستمبر میں ایسیکس کے علاقے ہاروچ پورٹ پر اس وقت گرفتار ہوا جب وہ ’ہُک آف ہالینڈ‘ سے فیری کے ذریعے برطانیہ پہنچا بارڈر فورس حکام نے اس کے بھاری مال بردار ٹرک کو ایکس رے مشین سے اسکین کیا، جس کے دوران خفیہ طور پر چھپائی گئی منشیات کا پتا چلا۔

    تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹرک میں موجود 28 پیلیٹس پر مشتمل ’اسکِمز‘ برانڈ کی کھیپ مکمل طور پر قانونی تھی اور نہ ہی برآمد کنندہ یا درآمد کنندہ کا اسمگلنگ سے کوئی تعلق تھا۔ تاہم ٹرک کو خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا تھا اور پچھلے ٹریلر کے دروازوں میں خفیہ خانے بنائے گئے تھے دورانِ سفر کونکل نے ایک مقام پر رک کر تقریباً 90 پیکٹوں پر مشتمل 198 پاؤنڈ کوکین حاصل کی اور انہیں خفیہ خانوں میں چھپا دیا۔

    ابتدائی طور پر ملزم نے منشیات سے لاعلمی ظاہر کی، تاہم بعد میں اس نے جرم قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسے اسمگلنگ کے عوض 4 ہزار 500 یورو ادا کیے جانے تھےنیشنل کرائم ایجنسی کے آپریشنز مینیجر پال آرچرڈ نے کہا کہ منظم جرائم پیشہ گروہ اکثر قانونی تجارتی سامان کی آڑ میں منشیات منتقل کرنے کے لیے بدعنوان ڈرائیوروں کا استعمال کرتے ہیں، کونکل جیسے ڈرائیور کلاس اے منشیات کو مکمل طور پر قانونی کھیپ میں چھپا کر سرحد پار منتقل کرتے ہیں اس کارروائی کے ذریعے بڑی مقدار میں کوکین قبضے میں لے لی گئی، جس سے اسمگلنگ نیٹ ورک کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔‘

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    کراچی کے علاقے قائد آباد سے گرفتار خاتون منشیات سپلائر نرگس کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں.

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر منشیات کا خاندانی نیٹ ورک چلا رہی تھی گرفتار ملزمہ نرگس کا شوہر وکیل خان ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہے، جو ماضی میں بھی منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ ان کا بیٹا طاہر خان بھی اس مبینہ نیٹ ورک میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔

    ذرائع کے مطابق ماں، باپ اور بیٹے پر مشتمل یہ گروہ کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرنے میں ملوث تھا، جبکہ پوش علاقوں کے علاوہ جیلوں تک بھی منشیات پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے ملزمہ کا بیٹا طاہر خان جیل اہلکاروں سے رابطے میں تھا اور انہی روابط کے ذریعے مبینہ طور پر جیل کے اندر منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔

    تفتیشی حکام کے مطابق کوئٹہ سے فضل ولی نامی شخص اس گروہ کو منشیات فراہم کرتا تھا، جسے کراچی لا کر گھر میں چھپایا جاتا اور بعد ازاں مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا،ملزمان نے ضلع ملیر میں مبینہ طور پر تین گھر بھی حاصل کر رکھے تھے، جہاں سے نیٹ ورک کی سرگرمیاں چلائی جاتی تھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس منشیات نیٹ ورک کے مزید کرداروں اور سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا کرلیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کوکین کوئین‘ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کردی ہیں کراچی، راولپنڈی اور قصور سمیت متعدد علاقوں سے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو منشیات اسمگل کر کے اسے پاکستان میں انمول عرف پنکی تک پہنچاتے تھے، ان افریقی باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی ایک اور آڈیو وائرل

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی ایک اور آڈیو وائرل

    کراچی:منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی ایک اور آڈیو منظر عام پر آ گئی-

    منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گرفتاری کا خدشہ پہلے سے تھا، ایک اور آڈیو سامنے آگئی ہے آڈیو میں مبینہ طور پر انمول عرف پنکی اپنے کلائنٹس کو آگاہ کر رہی ہے کہ اگر وہ یہ پیغام سن رہے ہیں تو یا اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔

    آڈیو کے مطابق وہ کہتی ہے کہ اگر اسے کچھ ہوتا ہے تو اسی نمبر سے کوئی رابطے میں آئے گا، اور رابطہ کرنے والا اس کا ایک مرد دوست ہوگا جو اس کام کو ہینڈل کرے گا، آڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو ہر کسی سے ایک نئے نمبر کے ذریعے رابطہ کیا جائے گا۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ پر بغدادی گارڈن اور درخشاں تھانے کی حدود میں مقدمات ہیں،کراچی پولیس میں معاملے کی تحقیقات سے متعلق بھی تبدیلی کی گئی ہے ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی کے مطابق عرفان بلوچ عدالت میں پیشی کے دوران سامنے آنے والے معاملات کی تحقیقات کریں گے، جبکہ پروٹوکول پر عمل نہ کرنے کے معاملے کی بھی انکوائری کی جائے گی ،ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو 3 دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور غفلت و لاپروائی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔

  • کراچی: پولیس نے منشیات نیٹ ورک کی بڑی سرغنہ کی گرفتاری ظاہر کر دی

    کراچی: پولیس نے منشیات نیٹ ورک کی بڑی سرغنہ کی گرفتاری ظاہر کر دی

    کراچی میں گارڈن پولیس کراچی نے شہر بھر میں کوکین اور دیگر مہلک منشیات کی سپلائی میں مبینہ طور پر ملوث ایک سرغنہ انمول عرف پنکی کی شناخت ظاہر کر دی ہے-

    پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمہ کو متعدد اداروں بشمول اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے بھی مطلوب قرار دیا گیا تھا اور وہ مبینہ طور پر مختلف مقدما ت میں مفرور تھی،کارروائی کے دوران ملزمہ سے اسلحہ، راؤنڈز، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکل اور دیگر منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ کراچی میں منشیات کی ایک منظم اور وسیع سپلائی چین چلا رہی تھی جس میں آن لائن آرڈرز اور مخصوص رائیڈرز کے ذریعے ترسیل کا نظام شامل تھا اس نیٹ ورک میں خواتین رائیڈرز کا استعمال بھی کیا جاتا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے بچا جا سکے۔

    ملزمہ کے مبینہ خریداروں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جبکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے مالیت کی منشیات کی فروخت میں ملوث رہی ہے ملزمہ کے خلاف مختلف تھانوں میں درجنوں مقدمات درج ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد تک بھی پہنچا جا سکے۔