Baaghi TV

Tag: منشیات

  • محسن عباس حیدر کے  شوبز انڈسٹری میں منشیات کے استعمال سے متعلق اہم انکشافات

    محسن عباس حیدر کے شوبز انڈسٹری میں منشیات کے استعمال سے متعلق اہم انکشافات

    پاکستانی اداکار، گلوکار اور رائٹر محسن عباس حیدر نے شوبز انڈسٹری میں منشیات کے استعمال سے متعلق اہم انکشافات کئے ہیں-

    محسن عباس حیدر نے حال ہی میں نجی چینل کے ایک پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نےمطالبہ کیا کہ ایسے فنکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو نشے کی حالت میں شوٹنگ پر آتے ہیں انہوں نے دوران انٹرویو نشہ کر کے کام پرآنے والے اداکاروں اور ہدایت کاروں کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس بری عاد ت کی وجہ سے کام کا نقصان ہوتا ہے اور معاشرے پر برا اثر پڑتا ہے۔

    محسن عباس حیدر نے شو کے دوران بتایا کہ میں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی کہ جو اداکار، اداکارائیں اور ڈائریکٹرز نشے کی حالت میں شوٹنگ سیٹ پر آتے ہیں ان پر مکمل پابندی ہونی چاہیے چونکہ میں ایک وقت میں صرف ایک ہی ڈرامے میں کام کرتا ہوں، اس لیے میری پوسٹ پڑھتے ہی مجھے اس ڈرامے کی پروڈکشن کمپنی کی طرف سے فوراً فون آ گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ محسن بھائی، آپ ابھی ہمارے ہی ڈرامے کی شوٹنگ پر ہیں نا؟ تو آپ نے یہ پیغام کس کے لیے لکھا ہے؟ جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ ہاں، میں آپ ہی کے سیٹ پر ہوں اور یہ بات اسی جگہ کے بارے میں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کمپنی والوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ فلاں خاص اداکار یا اداکارہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ جی ہاں۔ انہوں نے مجھے تسلی دی کہ ٹھیک ہے، ہم اس معاملے کو دیکھیں گے آپ اندازہ لگائیں کہ ڈرامے کی ہیروئن کی آنکھیں میری آنکھوں سے مل ہی نہیں پا رہی تھیں، میں اس سے بات کر رہا تھا اور اس کی آنکھیں کسی دوسری طرف گھوم رہی تھیں ہمیں کسی بھی ایسی چیز کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے جو معاشرے کی بربادی کا سبب بنے۔

    واضح رہے کہ محسن عباس حیدر نے جنوری 2025 میں بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے نشے کی حالت میں کام کرنے والے فنکاروں پر تنقید کی تھی۔ تاہم محسن عباس حیدر نے پروگرام میں کسی اداکار یا اداکارہ کا نام نہیں لیا، اس لیے ان کے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • انمول پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد  غیر معمولی ڈیٹا حاصل کرلیا گیا

    انمول پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد غیر معمولی ڈیٹا حاصل کرلیا گیا

    منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے غیر معمولی اور وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا ریکارڈ تفتیشی ٹیم نے حاصل کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے موبائل فون کی تیار کردہ فرانزک رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی گئی ہے، جس میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا ریکور کیا گیا ہے اس کے علاوہ فون سے 75 ہزار سے زائد پیغامات بھی برآمد کیے گئے ہیں موبائل فون سے آن لائن ٹرانزکشنز، بینک سلپس اور اسکرین شاٹس بھی حاصل ہوئے ہیں جو مالی لین دین سے متعلق شواہد میں شامل ہیں۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 13 ہزار سے زائد افراد کے ساتھ رابطوں کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جن میں ایک نمبر پر عام واٹس ایپ اور دوسرے پر بزنس اکاؤنٹ فعال تھا حاصل ہونے والا ڈیجیٹل مواد مزید تحقیقات اور شواہد کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انمول پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا جب کہ پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا تھا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں ملزمہ انمول عرف پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث تھی، ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین کی تیاری سیکھی اور پھر طلاق کے بعد منشیات کا اپنا کام شروع کیا تھا، ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر رہائش اختیار کرتی تھی۔

    چالان کے مطابق ملزمہ پنکی منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی اوراپنے خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر دیتی تھی، ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تو پنکی رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہک کو بھیج دیتی ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ذیشان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانز یکشن کا انکشاف ہوا،پنکی کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے جب کہ گولڈن سٹف 40 ہزار فی گرام فرو خت کر تی تھی، کراچی اور لاہور میں ملزمہ کے خلاف ستائس مقدمات درج ہیں۔

    تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی ٹریول ہسٹری حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے جب کہ اس سے برامد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی کیمیکل معائنہ کروایا گیا، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروادیا جائے گا۔

  • انمول  پنکی   کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    انمول پنکی کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    پولیس نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع کرادیا۔

    کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جنوبی نے انمول عرف پنکی اور دیگرکےخلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی جہاں تفتیشی افسر نے عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا عبوری چالان کے مطابق کیس میں 3 خواتین سمیت 5 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا اور عبوری چالان میں 16 گواہان کے نام بھی شامل ہیں، مقدمے میں انمول عرف پنکی، ذیشان الرحمٰن، سہیل الرحمٰن، محمد سمیر گرفتار ہیں، مفرور ملزمان میں بیسل امیکا عرف عینا، حمیرا، صابرہ بی بی میں شا مل ہیں۔

    عبوری چالان کے مطابق پولیس نے ملزمہ کو اُسکے گارڈن والے فلیٹ سے 11 مئی کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کیخلاف سال 2018 سے 2026 تک کراچی اور لاہور میں مقدمات درج ہوچکے ہیں، مفرور ہونے کی وجہ سے انمول کے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہوچکے ہیں گرفتاری کے وقت تیار شدہ 1240 گرام کوکین جبکہ پندرہ کیپسول کوکین جسکا وزن 3 سو گرام ہے برآمد ہوئے، ملزمہ سے منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان اور نقدی بھی برآمد ہوئی-

    عبوری چالان کے مطابق ملزمہ 16 سال سےمنشیات کی تیاری میں ملوث ہے، ملزمہ نے سابق شوہر سے کوکین بنانا سیکھا اور ملزمہ نے طلاق کے بعد اپنا کام شروع کیا ملزمہ کراچی کے پوش علاقے میں کوکین فروخت کرتی ہے، ملزمہ تعلیمی ادارے اور پارٹیز میں کارندوں کے ذریعےکوکین فروخت کرتی ہے جب کہ ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کرقیام کرتی تھی ملزمہ کےموبائل فون فارنزک سےکراچی سے تین رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے جب کہ ملزمہ منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی۔

    پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی معلومات حاصل کی جائیں۔

    عارف سیتائی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کیلئے متعلقہ بینکوں اور اداروں کوخطوط لکھے جائیں، انمول عرف پنکی کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کی جائیں۔

    ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ کے ساتھیوں اور رشتہ داروں کی جائیداد کی معلومات بھی حاصل کی جائیں، معلومات کیلئے اسٹیٹ بینک (ایف ایم یو)۔ایف آئی اے، ایف بی آر۔ایکسائز اور اے این ایف سے بھی معلومات لی جائیں۔

  • کراچی : ایک کروڑ روپے مالیت کا بھارتی گٹکا برآمد

    کراچی : ایک کروڑ روپے مالیت کا بھارتی گٹکا برآمد

    کراچی کے علاقے سائٹ انڈسٹریل ایریا میں پولیس نےایک کروڑ روپے مالیت کا مضر صحت بھارتی گٹکا اور چھالیہ برآمد کرلیا۔

    ترجمان ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق سائٹ اے پولیس نے انڈسٹریل ایریا میں واقعے ایک گودام پر چھاپہ مار کر ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کا اسمگل شدہ چھالیہ اور مضرِ صحت انڈین گٹکا برآمد کر لیا سائٹ اے پولیس نے مخبر کی اطلاع پر سائٹ انڈسٹریل ایریا میں واقع ایک گودام پر چھاپہ مار کر 57 بورے اسمگل شدہ چھالیہ اور 219 بورے انڈین گٹکا سفینہ، آداب اور رجنی برامد کر لیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق برآمد شدہ چھالیہ اور گٹکا ڈمپر میں کریش کے نیچے خفیہ طور پر چھپا کر گودام تک پہنچایا گیا تھا، برآمد شدہ سامان کی گنتی، دستاویزی کارروائی اور دیگر قانونی مراحل جاری ہیں، برآمد شدہ مال کے مالکان اور اس غیر قانونی سر گر می میں ملوث عناصر کی شناخت، تصدیق اور مقدمات کے اندراج کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب گڈاپ سٹی پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب کارروائی کرتے ہوئے چھالیہ و گٹکا ماوا سپلائی کرنے کی کوشش ناکام بنا دی اور سپلائی میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ترجمان ملیر پولیس کے مطابق گرفتار ملزم شاہ لم خان آئل ڈرمز میں چھالیہ چھپا کر مختلف علاقوں میں منتقل کرتا تھا، کارروائی میں چھالیہ سے بھرے 4 آئل ڈرم جس میں بنائے گئے خفیہ خانوں سے 90 کلو گرام سے زائد چھالیہ اور مضر صحت گٹکا ماوا برآمد کر کے قبضے میں لے لیا ہے گر فتار ملزم کی 125 موٹرسائیکل جو وہ چھالیہ اور گٹکا ماوار کی ترسیل میں استعمال کرتا تھا اس کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ، گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

  • شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس میں تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا،کیس کی انتہائی حساس اور اہم دستاویزات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کر دی گئیں۔

    دستاویزات کے مطابق انمول پنکی کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے منتقل کرنے والوں میں حکمران اتحاد کے ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ اور پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے نام سامنے آ گئے ہیں، گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 6 مختلف اکاؤنٹس کا استعما ل کرتے ہوئے تقریباً 3 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا جب کہ تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 18 مہینوں کے دوران 6 مختلف بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 94 لاکھ 67 ہزار روپے منتقل کیے گئے، اس رقم کی منتقلی میں 21 خواتین اور 117 مرد شامل ہیں، جن میں ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ سمیت اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے ناموں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    بیسل امیکا نامی خاتون کے ایک اکاؤنٹ میں 85 لاکھ 62 ہزار روپے منتقل ہوئے، صداقت اللہ نامی شخص کے اکاؤنٹ میں 16 لاکھ 50 ہزار روپے ڈالے گئے، ہانی فرقان کے اکاؤنٹ میں 77 لاکھ 50 ہزار اور محمد سمیر کے اکاؤنٹ میں 63 لاکھ 75 ہزار روپے منتقل کیے گئے اسی طرح ظفرعلی کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ 80 ہزار منتقل ہوئے، اسکائے اوورسیز نامی اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل ہوئےرقم منتقلی ذیشان اور سہیل نامی افراد کے ذریعے کی جاتی تھی۔

    پنجابی گلوکارہ شادی سے انکار پر قتل ، لاش نہر سے برآمد

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کمیٹی کو کیس پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنکی کیس میں لا انفورسمنٹ والوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، پنجاب میں 2018 سے 2024 تک 5 کیسز بنائے گئے، سندھ پولیس نے اب تک 4 کیسسز بنائے ہیں، پنکی کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہو ئی ، ملزمہ کے فون کا بھی فرانزک کرایا گیا ہے، نادرا اورایف آئی اے کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔

  • انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    منشیات کے جرم میں گرفتار انمول عرف پنکی کو مختلف مقدمات میں عدالت نے 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو سخت سیکیورٹی حصار میں سماعت کے لیے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا، جہاں اسے درخشاں اور گزری تھانوں میں درج 8 مقدمات کے سلسلے میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ مقدمات سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں، پنکی شہر کے پوش علاقوں میں بھی آن لائن منشیات فروخت کرتی تھی، منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتھا جس جس کی ویڈیو سامنے آگئی۔

    منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتا رہا،منشیات منگوانے والے ایک کسٹمر نے کچھ ماہ قبل ایک خفیہ ویڈیو بھی بنالی تھی رائیڈرز اس بات سے لاعلم ہوتے تھے کہ پارسل میں منشیات موجود ہے،ویڈیو میں رائیڈر سے کسٹمر کو پارسل وصول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    رائیڈر نے پارسل دینے کے بعد صرف ڈلیوری چارجز وصول کیے پارسل کے اندر ایک پیکٹ سے آئس برآمد ہوتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

  • کم کارڈیشین کے برانڈ  کے  ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    کم کارڈیشین کے برانڈ کے ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    برطانیہ میں ایک پولش ٹرک ڈرائیور کو کم کارڈیشین کے معروف ملبوساتی برانڈ ’اسکِمز‘ کی کپڑوں کی کھیپ میں لاکھوں ڈالر مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    برطانیہ کی ایک عدالت نے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ ٹرک ڈرائیور جیکب یان کونکل کو 84 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنا دی،منشیات کو ٹرک کے خفیہ خانوں میں چھپایا گیا تھا جبکہ اصل تجارتی سامان قانونی تھا-

    چیلمزفورڈ کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ملزم نے کم کارڈیشین کے معروف برانڈ ’اسکِمز‘ کے زیرِ جامہ اور ملبوسات پر مشتمل کھیپ میں منشیات چھپا رکھی تھیں یہ سامان نیدرلینڈز سے برطانیہ منتقل کیا جا رہا تھا۔

    برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق کونکل گزشتہ سال ستمبر میں ایسیکس کے علاقے ہاروچ پورٹ پر اس وقت گرفتار ہوا جب وہ ’ہُک آف ہالینڈ‘ سے فیری کے ذریعے برطانیہ پہنچا بارڈر فورس حکام نے اس کے بھاری مال بردار ٹرک کو ایکس رے مشین سے اسکین کیا، جس کے دوران خفیہ طور پر چھپائی گئی منشیات کا پتا چلا۔

    تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹرک میں موجود 28 پیلیٹس پر مشتمل ’اسکِمز‘ برانڈ کی کھیپ مکمل طور پر قانونی تھی اور نہ ہی برآمد کنندہ یا درآمد کنندہ کا اسمگلنگ سے کوئی تعلق تھا۔ تاہم ٹرک کو خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا تھا اور پچھلے ٹریلر کے دروازوں میں خفیہ خانے بنائے گئے تھے دورانِ سفر کونکل نے ایک مقام پر رک کر تقریباً 90 پیکٹوں پر مشتمل 198 پاؤنڈ کوکین حاصل کی اور انہیں خفیہ خانوں میں چھپا دیا۔

    ابتدائی طور پر ملزم نے منشیات سے لاعلمی ظاہر کی، تاہم بعد میں اس نے جرم قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسے اسمگلنگ کے عوض 4 ہزار 500 یورو ادا کیے جانے تھےنیشنل کرائم ایجنسی کے آپریشنز مینیجر پال آرچرڈ نے کہا کہ منظم جرائم پیشہ گروہ اکثر قانونی تجارتی سامان کی آڑ میں منشیات منتقل کرنے کے لیے بدعنوان ڈرائیوروں کا استعمال کرتے ہیں، کونکل جیسے ڈرائیور کلاس اے منشیات کو مکمل طور پر قانونی کھیپ میں چھپا کر سرحد پار منتقل کرتے ہیں اس کارروائی کے ذریعے بڑی مقدار میں کوکین قبضے میں لے لی گئی، جس سے اسمگلنگ نیٹ ورک کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔‘

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    کراچی کے علاقے قائد آباد سے گرفتار خاتون منشیات سپلائر نرگس کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں.

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر منشیات کا خاندانی نیٹ ورک چلا رہی تھی گرفتار ملزمہ نرگس کا شوہر وکیل خان ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہے، جو ماضی میں بھی منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ ان کا بیٹا طاہر خان بھی اس مبینہ نیٹ ورک میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔

    ذرائع کے مطابق ماں، باپ اور بیٹے پر مشتمل یہ گروہ کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرنے میں ملوث تھا، جبکہ پوش علاقوں کے علاوہ جیلوں تک بھی منشیات پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے ملزمہ کا بیٹا طاہر خان جیل اہلکاروں سے رابطے میں تھا اور انہی روابط کے ذریعے مبینہ طور پر جیل کے اندر منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔

    تفتیشی حکام کے مطابق کوئٹہ سے فضل ولی نامی شخص اس گروہ کو منشیات فراہم کرتا تھا، جسے کراچی لا کر گھر میں چھپایا جاتا اور بعد ازاں مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا،ملزمان نے ضلع ملیر میں مبینہ طور پر تین گھر بھی حاصل کر رکھے تھے، جہاں سے نیٹ ورک کی سرگرمیاں چلائی جاتی تھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس منشیات نیٹ ورک کے مزید کرداروں اور سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا کرلیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کوکین کوئین‘ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کردی ہیں کراچی، راولپنڈی اور قصور سمیت متعدد علاقوں سے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو منشیات اسمگل کر کے اسے پاکستان میں انمول عرف پنکی تک پہنچاتے تھے، ان افریقی باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔