Baaghi TV

Tag: ناسا

  • ناسانے  یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    ناسانے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ اب تک کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ ہے جس نے کائنات کے اب تک چھپے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظام شمسی کے سیارے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کی سب سے خاص بات یورینس کے گرد نظر آنے والے رنگز ہیں جو عام طور پر نظر نہیں آتے ہمارے نظام شمسی کے 7 ویں سیارے یورینس کی پہلی تصویر وائجر 2 نے 1986 میں کھینچی تھی، جس میں یہ شوخ نیلے رنگ کا سیارہ نظر آتا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے نیئر انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس سیارے کے آنکھوں سے اوجھل عناصر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔

    ناسا کی جانب سے اپریل میں بھی جیمز ویب سے لی گئی یورینس کی تصویر جاری کی گئی تھی مگر نئی تصویر میں زیادہ تفصیلات موجود ہیں ستمبر میں کھینچی گئی اس نئی تصویر میں یورینس کے رنگز جگمگا رہے ہیں جبکہ اس سیارے کے 27 میں سے کچھ چاند (نیلے نقطے یا بلیو ڈاٹس) بھی دیکھے جا سکتے ہیں اس تصویر کی ایک خاص بات اس کے قطب شمالی کو دکھانا ہے تصویر میں سیارے کی آب و ہوا کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے اور قطبی حصے میں طوفان نظر آرہے ہیں۔

    اٹلی میں سیپیوں، مرجان اور سنگ مر مر سے مزین 2300 سال پرانا …

    واضح رہے کہ یہ سیارہ رقبے کے اعتبار سے ہمارے نظام شمسی کا تیسرا جبکہ وزن کے اعتبار سے چوتھا بڑا سیارہ ہے یورینس ایسا منفرد سیارہ ہے جو اپنے مدار کے گرد ترچھے انداز سے گردش کرتا ہے یورینس کا ایک سال زمین کے 84 سال کے برابر ہوتا ہے مگر وہاں کا ایک دن محض 17 گھنٹے کا ہوتا ہےناسا کی جانب سے مستقبل قریب میں ایک مشن یورینس کی جانب بھیجا جائے گا کیونکہ ابھی بھی اس سیارے کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

  • ناسا نے خلا  میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو  زمین پر بھیج دی

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی ویڈیو زمین پر بھیج دی

    امریکی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے ایک بلی کی ویڈیو زمین پر بھیجی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فاصلہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے 80 گنا ہے 15 سیکنڈ کی یہ وڈیو جدید ترین لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین پر بھیجی گئی اس تجربے سے ثابت ہوگیا کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ مشن کے لیے مطلوب مواصلاتی رابطہ ممکن ہے۔
    https://x.com/NASA/status/1736900843813605759?s=20
    ناسا ن ترجما ن نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے زمین سے 19 ملین میل (31 ملین کلومیٹر) دور ایک خلائی جہاز پر ایک بلی کی ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی) ویڈیو زمین پر بھیجنے کے لیے جدید ترین لیزر مواصلاتی نظام کا استعمال کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیٹرز (Taters) نامی ٹیبی نسل کی بلی کی 15 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو بیرونی خلا (Deep Space) سے نشر ہونے والی پہلی ویڈیو ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو بھیجنے جیسے پیچیدہ مشنز کے لیے درکار اعلیٰ ڈیٹا ریٹ مواصلات کو منتقل کرنا ممکن ہے۔

    "برطانوی خبررساں ادارے ” انڈیپنڈنٹ اردو” کے مطابق مریخ اور مشتری کے درمیان قیمتی دھاتوں کے حامل چند شہاب ہائے ثاقب کے بارے میں تحقیق کرنے والے خلائی جہاز ”سائیکی“ سے بھیجا جانے والا اینکوڈیڈ انفرا ریڈ سگنل سان ڈیاگو کائونٹی میں قائم رس گاہ میں موصول ہوا،لانچ سے پہلے اپ لوڈ کیے گئے ویڈیو کلپ میں اس بلی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو ایک صوفے پر لیزر لائٹ کا پیچھا کر رہی ہے اس ویڈیو میں ٹیسٹ گرافکس اوورلے بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں خلائی جہاز سائکی کے مدار میں راستے، لیزر اور اس کے ڈیٹا کے بارے میں تکنیکی معلومات شامل ہیں۔

    جنوبی کیلیفورنیا کی جیٹ پروپلژن لیباریٹری کے ڈیمو پروجیکٹ مینیجر بل کلپسٹین کہتے ہیں کہ اس تجربے کا مقصد بہت بڑے فاصلوں تک ایچ ڈی وڈیوز بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا-

    ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے جیسے پیچیدہ خلائی مشنز کے لیے انتہائی فاصلوں سے رابطہ کرنے کا نظام تیز ترین اور خامیوں سے پاک ہونا چاہیےخلائی جہاز عام طور پر ریڈیو سگنلز استعمال کرتے ہیں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی مدد سے رابطے کی رفتار میں 10 تا 100 گنا اضافہ ممکن ہے،اس ہائی ڈیفینیشن ویڈیو کو 267 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین پر بھیجنے میں 101 سیکنڈ لگے، جو گھریلو براڈ بینڈ کنکشنز کے مقابلے میں تیز ترین ہے۔

    جے پی ایل میں پروجیکٹ کے ریسیور الیکٹرانک لیڈ ریان روگالن نے بتایا کہ درحقیقت پالومار میں ویڈیو موصول ہونے کے بعد اسے انٹرنیٹ پر جے پی ایل کو بھیجا گیا اور یہ کنکشن بیرونی خلا سے آنے والے سگنل کے مقابلے میں سست تھا۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آخر بلی کی ویڈیو ہی کیوں بھیجی گئی؟ جے پی ایل نے بتایا کہ اس کا ایک تاریخی تعلق ہے، جب 1920 کی دہائی میں ٹیلی ویژن میں امریکیوں کی دلچسپی بڑھنے لگی تو فیلکس دی کیٹ کے مجسمے کو آزمائشی تصویر کے طور پر نشر کیا گیا تھا۔

  • 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود کیسیوپیا اے (کیس اے) نامی ستارے کے اندر دھول کے خول کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ کیمرا (این آئی آر کیم) نے کیس اے کے باقیات کو عکس بند کیا ہے،تصویر میں کیس اے کی باقیات میں موجود جامنی رنگ کی شے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل آئیونائزڈ گیس کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    https://x.com/NASAWebb/status/1734020677311639828?s=20
    ناسا کے مطابق ، ماہرین فلکیات اب کیس اے مطالعہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، Webb’s MIRI (Mid-Infrared Instrument) نے اس باب کا آغاز کیا، جس میں سپرنووا کے باقیات کے اندرونی خول کے اندر نئی اور غیر متوقع خصوصیات کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات نئی این آئی آر کیم تصویر میں پوشیدہ ہیں، اور ماہرین فلکیات اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
    nasa
    پرڈو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈینی مِلیوسیولجوک کا ناسا کی پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ کیس اے تقریباً 340 سال قبل دھماکے سے پھٹا جس کے بعد اس کی جگہ شیشے کی باریک کرچیوں جیسی دھاریاں رہ گئی اتنے برس تک کیس اے پر مطالعہ کرنے کے بعد اب معلومات کا حاصل ہونا ناقابلِ یقین ہے یہ معلومات سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ یہ ستارہ پھٹا کیسے۔
    nasa
    پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹیمِ نے پریس ریلیز میں کہا کہ کیس اے کی پہلی تصاویر اپریل میں جاری کی گئی تھیں جن میں ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن تک سائنس دانوں کو پہلے رسائی نہیں تھی تصویر میں موجود سفید رنگ سِنکروٹرون شعاعوں سے پیدا ہونے والی روشنی ہے، جو مقناطیسی فیلڈ لائنز کے گرد انتہائی تیزی سے گھومتے ہوئے سفر کرنے والے چارجڈ ذرات کے سبب خارج ہو رہی ہے۔

  • کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت

    کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت

    نیویارک: ناسا کے سائنسدانوں نے جیمز ویب اور چندرا آبزرویٹری ٹیلی اسکوپس استعمال کرکے اب تک کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :جرنل آسٹرونومی میں شائع تحقیق کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بلیک ہول کو امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اور چندرا آبزرویٹری ٹیلی اسکوپس استعمال کرکے دریافت کیا گیا سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ یہ بلیک ہول بگ بینگ کے 47 کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا، کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔

    اس بلیک ہول کو UHZ1 نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیا یہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے کائنات کی ابتدا میں اتنے بڑے بلیک ہول بننے سے کافی کچھ معلوم ہوتا ہےیہ بلیک ہول گیس کے بہت بڑے بادل کے پھٹنے سے بنا بلیک ہول کے پھیلنے کا دورانیہ بہت مختصر ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بلیک ہول بہت تیز رفتاری سے پھیلا یا شروع سے ہی وہ اتنا بڑا تھا۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

    بابا وانگا کی سال 2024 کے حوالے سے 7 پیشگوئیاں

    اسرائیل نے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی،ہسپانوی اخبار کا دعویٰ

  • جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ستارے کے بننے کے عمل کی تصویر کھینچی ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے اس تصویر کو جاری کیا گیا جس میں ستارے کے سفر کے دوران خارج ہونے والی متعدد گیسوں کو دکھایا گیا ہے گیسوں کا یہ امتزاج اس وقت نظر آتا ہے جب نئے بننے والے ستارے تیز رفتاری سے گیس اور گرد ٹکراتے ہیں،زمین سے ایک ہزار نوری برسوں کے فاصلے پر واقع اس ستارے کو Herbig-Haro 211 کا نام دیا گیا ہے۔
    https://x.com/NASA/status/1702367051719889338?s=20

    پرویز الٰہی ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی اس دریافت سےسائنسدانوں کو اس طرح کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی شاک ویوز کی رفتار اور سمت کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا ناسا کے مطابق Herbig-Haro 211 بتدریج سورج جیسا ستارہ بن جائےگا،جیمز ویب کے انفرا ریڈ کیمرے نے اس ستارے کے درجہ حرارت کو جاننے کا موقع فراہم کیا اور اس طرح محققین شاک ویوز کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

    نامورمیڈیا گروپ کا مالک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی اور منی لانڈرنگ میں ملوث،7 ارب روپے برآمد

    واضح رہے کہ جیمز ویب دنیا کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ ہے اور اس کی مدد سے سائنسدان اب تک اربوں سال پرانی کہکشاؤں کا ڈیٹا اکٹھا کر چکے ہیں جبکہ اس نے ہمارے نظام شمسی کے سیاروں کی حیران کن تصاویر بھی کھینچی ہیں۔

  • ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ایک اہم دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک بڑے سیارے میں ممکنہ سمندر کی موجودگی کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں کے کیمیائی عناصر سے ممکنہ زندگی کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے 120 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ستاروں کے جھرمٹ اسد میں موجود سیارے کو دریافت کیا،اسے K2-18 b کا نام دیا گیا ہے جو کہ زمین کے مقابلے میں لگ بھگ 9 گنا بڑا ہے اس نے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت کاربن برداشت کرنے والے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔


    ناسا کے مطابق اس سیارے میں ممکنہ طور پر ہائیڈروجن فضا میں موجود ہے جبکہ سطح سمندر سے ڈھکی ہوئی ہے سیارے کی فضا میں کیمیائی عناصر کی جانچ پڑتال سے وہاں سمندر کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اس سیارے کے ہائیڈروجن والے ماحول میں سمندر موجود ہوسکتا ہے۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    مگر ناسا کا کہنا تھا کہ اہم ترین دریافت وہاں dimethyl sulfide (ڈی ایم ایس) نامی مالیکیول کی ممکنہ موجودگی ہے یہ مالیکیول زمین پر زندگی سے ہی بنتا ہے زمین کی فضا میں ڈی ایم ایس کا اخراج بحری ماحول سے ہوتا ہے تاہم امریکی خلائی ادارے نے کہا کہ ڈی ایم ایس کی موجودگی کی تصدیق ہونا باقی ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقی کام کیا جائے گا یہ پہلی بار نہیں جب ناسا نے دیگر سیاروں میں پانی کی موجودگی کے آثار دریافت کیے مگر اس نئی دریافت نے سائنسدانوں کو پرجوش کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے عموماً چھوٹے چٹانی سیاروں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے مگر K2-18 b جیسے بڑے سیاروں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہےیہ سیارہ ایک ستارے K2-18 کے گرد چکر لگاتا ہے اور اس سے اتنی دور موجود ہے جو سائنسدانوں کے خیال میں سیال پانی کی موجودگی کے لیے ضروری ہے۔

    گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر فلکیات اور ان نتائج کا اعلان کرنے والے مقالے کے سرکردہ مصنف نکو مدھو سدھن نے وضاحت کی، ہمارے نتائج کسی اور جگہ زندگی کی تلاش میں متنوع رہائش کے قابل ماحول پر غور کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

    میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت، اور امونیا کی کمی، اس مفروضے کی تائید کرتی ہے کہ K2-18 b میں ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول کے نیچے پانی کا سمندر ہو سکتا ہے ان ابتدائی ویب مشاہدات نے ڈائمتھائل سلفائیڈ (DMS) نامی مالیکیول کی ممکنہ شناخت بھی فراہم کی۔ زمین پر، یہ صرف زندگی کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے زمین کے ماحول میں ڈی ایم ایس کا بڑا حصہ سمندری ماحول میں فائٹوپلانکٹن سے خارج ہوتا ہے۔

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر …

    اس سیارے کو سب سے پہلے 2015 میں ناسا کے K2 مشن نے دریافت کیا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی زیادہ بہتر ہے جس سے اس کے تفصیلی تجزیے میں مدد ملی اور سمندر کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

  • ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    واشنگٹن: ناسا نے پہلی بار اپنے پریسیورنس رووَر کی مدد سے مریخ پر آکسیجن پیدا کی جس سے ایک خلاباز تین گھنٹے تک سیارے پر زندہ رہ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق رووَر جس نے فروری 2021 میں مریخ پر لینڈنگ کی تھی، نے اپنی مشین میں نصب آکسیجن پیدا کرنے والی ڈیوائس( MOXIE( Mars Oxygen In-Situ Resource Utilization Experiment، کا استعمال کرتے ہوئے دو سالوں کے دوران وقفے وقفے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تبدیل کرکے آکسیجن پیدا کی مریخ پر پہنچنے کے بعد سے مائیکرو ویو سائز کے آلے نے 4.3 اونس (122 گرام) آکسیجن پیدا کی ہے یہ مقدار کتے کے 10 گھنٹے سانس لینے کے برابر مقدار ہے۔

    اپنی کارکردگی کے عروج کے دوران، MOXIE نے فی گھنٹہ 12 گرام آکسیجن 98 فیصد خالص یا اس سے بہتر پیدا کی، جو کہ اس آلے کے لیے NASA کے اہداف سے دوگنا ہے 7 اگست کو، MOXIE نے اپنی تمام ضروریات پوری کر کے 16ویں اور آخری بار کام کیا۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    ناسا کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کامیابی امید دلاتی ہے کہ انسانی زندگی ایک دن سُرخ سیارے پر برقرار رہ سکتی ہےواشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر میں اسپیس ٹکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ رُکن سائنسدان ٹرڈی کورٹس نے کہا کہ ہمیں MOXIE جیسی کی ٹیکنالوجی پر فخر ہے جو مقامی وسائل کومستقبل کے ریسرچ مشنوں کے لیے مفید مصنوع میں تبدیل کر سکتی ہےاس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ایک ایسے مستقبل کے قریب آ گئے ہیں جس میں خلاباز زمین سے دور رہتے ہوئے سرخ سیارے پر رہ سکتے ہیں۔

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

  • آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے آگاہ کیا ہے کہ 8 ستمبر سے 12 ستمبر کے دوران زمین کے قریب سے چار سیارچے گزریں گے-

    باغی ٹی وی :ناسا کے سیارچوں کی نگرانی کرنے والے ڈیش بورڈ کے مطابق دو سیارچے 8 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزریں گے ان میں کیو سی 5 نامی سیارچے کا سائز 79 فٹ (جہاز کے برابر) جبکہ جی ای نامی سیارچے کا سائز 26 فٹ (بس کے برابر) کے قریب ہےجہاز کے برابر دوسرے سیارچے کیو ایف 6 (جو رواں سال ہی دریافت ہوا) کا سائز تقریباً 68 فِٹ ہے،چوتھا اور آخری سیارچہ آر ٹی 2 جو کہ بس کے برابر ہے-

    کیو سی 5 سیارچہ (جس کا پہلی بار مشاہدہ رواں برس ہی کیا گیا تھا) تقریباً 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سےجبکہ جی ای سیارچہ (جس کو 2020 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا) زمین سے 56 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ کیو ایف 610 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزرے گا یہ سیارچہ زمین سب سے قریب یعنی صرف 25 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ آر ٹی 2 کا گزر زمین کے قریب سے 12 ستمبر کو ہوگا۔ یہ سیارچہ زمین سے 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا ان سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن،چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد

    ان سے قبل 6 ستمبر کو جے اے 5 نامی سیارچہ (جو 2021 میں دریافت کیا گیا تھا) زمین سے 49 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزر چکا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک دم دار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے جسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura نامی دم دار ستارے کو اگست میں ہی دریافت کیا گیا تھا اور اسے 9 اور 10 ستمبر کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگااس دم دار ستارے کو ایک جاپانی ماہر Hideo Nishimura نے 11 اگست کو سب سے پہلے دیکھا تھا۔

    اس دم دار ستارے کا حجم تو ابھی معلوم نہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی دم دار ستارے کو اس وقت دریافت کیا جائے جب وہ زمین کے قریب ہوعموماً اس طرح کے دم دار ستاروں کو کئی ماہ یا سال پہلے ہی دریافت کر لیا جاتا ہےماہرین کے مطابق یہ دم دار ستارہ 437 سال میں محض ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، یعنی اسے آئندہ دیکھنے کے لیے 5 صدیوں کا انتظار کرنا ہوگا۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    Nishimura سورج کے قریب سے 17 ستمبر کو گزرے گا اور اس وقت وہ سورج سے 3 کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہوگا اسی طرح یہ دم دار ستارہ زمین سے ساڑھے 12 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا لوگوں کے لیے اسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا، البتہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ آسمان صاف ہو، ورنہ چھوٹی دوربین سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق 9 اور 10 ستمبر کو سورج طلوع ہونے سے قبل آسمان پر اس دم دار ستارے کو شمال مغربی سمت میں دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura کی دم سبز رنگ کی ہوگی کیونکہ اس میں گرد کے مقابلے میں گیس زیادہ ہے۔

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے، جس سے انہیں زمین پر دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

  • خلائی مشن مکمل؛ سلطان النیادی کی زمین پر کامیاب واپسی

    خلائی مشن مکمل؛ سلطان النیادی کی زمین پر کامیاب واپسی

    متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی اور ان کے عملے کے ساتھی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ ماہ کےکے بعد متحدہ عرب امارات کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8:19 پر کامیابی کے ساتھ زمین پر اتر گئے ہیں جبکہ ناسا نے اعلان کیا کہ اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول پر سوار عملہ 17 گھنٹے کا خلائی سفر کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد فلوریڈا کے جیکسن ویل کے ساحل پر بحر اوقیانوس میں اتر گیا ہے.

    عالمی میڈیا کے مطابق ناسا نے مزید کہا کہ اس کے بعد اسپیس ایکس کے عملے نے کیپسول کے عملے کو بازیافت کیا، جبکہ کیپسول کو پانی سے اٹھا کر ایک ریکوری برتن میں رکھا گیا جس کے بعد خلابازوں کو ایک ایک کر کے کیپسول سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ توقع ہے کہ انہیں فلوریڈا میں ناسا کی سہولت پر لے جایا جائے گا جہاں ان کے خاندان بے صبری سے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں عملے کے ارکان اپنے گھروں کو جانے سے پہلے فلوریڈا میں طبی ٹیسٹ کرائیں گے، خلائی اسٹیشن پر 184 دن گزارنے کے بعد، سلطان النیادی نے اتوار کو متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق دوپہر 3:05 بجے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن چھوڑا اور خلا میں اپنے آخری دن، النیادی نے کیپسول کے ہیچ بند ہونے سے پہلے خلائی اسٹیشن میں موجود اپنے دوستوں کو الوداع کہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    جبکہ اس مشن کے دوران اماراتی خلانورد سلطان النیادی نے خلائی چہل قدمی کرنے والے پہلے عرب بن کے تاریخ رقم کی۔ توقع ہے کہ جب وہ امریکہ میں طبی معائنے کے بعد متحدہ عرب امارات واپس آئیں گے تو انہیں ہیرو کا اعزاز ملے گا اور جمعے کے روز متحدہ عرب امارات میں شاہراہوں پر نصب الیکٹرانک بل بورڈز پر النیادی کی آمد کی الٹی گنتی دکھائی گئی، جس میں لکھا تھا کہ ” سفر بخیر، سلطان”

  • ناسا نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے پر خلائی جہاز روانہ کرے گا

    ناسا نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے پر خلائی جہاز روانہ کرے گا

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اسپیس ایکس نامی کمپنی کے اشتراک سے ایک خلائی جہاز تیار کیا ہے جو ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے کی جانب روانہ کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : سیارہ مشتری اور مریخ کے درمیان مشہور سیارچی پٹی (ایسٹرایڈ بیلٹ) میں 16 سائیکی نامی ایک سیارچہ موجود ہے جو مکمل طور پر فولاد سونے اور جرمن چاندی (نِکل) پر مشتمل ہے۔ اس خلائی جہاز کا نام بھی سائیکی رکھا گیا ہے جو لگ بھگ چار ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اس سیارچے تک پہنچے گا۔

    ماہرین کے مطابق 16 سائیکی پر لگ بھگ 10 ہزار کواڈرئلیئن ڈالر کا دھاتی خزانہ موجود ہے۔ لیکن اس کا مطالعہ کرنے سے خود ہمیں نظامِ شمسی کی پیدائش اور ارتقا کے متعلق بہت کچھ جاننے کا موقع ملے گا اسے کینیڈی خلائی مرکز سے 5 اکتوبر2023 کو طویل خلائی سفر پربھیجا جائے گا۔

    ٹوئٹر صارفین کو ڈی ایم بھیجنے کیلئے بھی فیس ادا کرنا ہو گی

    ماہرین نے اس کے تمام سافٹ ویئر، ہارڈویئر اور دیگرنظاموں کو چیک کیا گیا ہے ۔ تاہم سائیکی اپنی زیادہ تربجلی شمسی پینل سے تیارکرے گا ۔ اس کا وزن 1085 کلوگرام ہے جس میں زینون پروپیلنٹ شامل کیا گیا ہے جو خلائی جہاز کو درست سمیت میں دھکیلنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر سوا دو برس تک یہ 16 سائیکی کے مدار میں رہ کر اس کا ڈیٹا، نقشہ کشی اور دیگر تفصیلات حاصل کرے گا۔ 16 سائیکی کی چوڑائی لگ بھگ 279 کلومیٹر ہے اور یہ ایک ناکام سیارہ ہے جو سیارہ بنتے بنتے رہ گیا ہے۔

    سائیکی ایک بکھرے ہوئے سیارے کا جزوی مرکز ہو سکتا ہے – ایک چھوٹی سی دنیا کسی شہر یا چھوٹے ملک کی جسامت جو کسی سیارے کا پہلا بلڈنگ بلاک ہے۔ اگر ایسا ہے تو، سیارچہ سائیکی زمین جیسے زمینی سیاروں کے اندرونی حصے پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے جو عام طور پر مینٹل اور کرسٹ کی تہوں کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔

    واٹس ایپ کو اینڈرائیڈ اسمارٹ واچز میں متعارف کرا دیا گیا

    زمین پر ماہرین فلکیات نے مرئی اور اورکت طول موجوں کے ساتھ ساتھ ریڈار میں سائیکی کا مطالعہ کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ سائیکی کی شکل کسی حد تک آلو جیسی ہے۔

    سائیکی سورج سے 235 ملین سے 309 ملین میل (378 ملین سے 497 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر مریخ اور مشتری کے درمیان سورج کا چکر لگاتا ہے۔ یہ 2.5 سے 3.3 فلکیاتی یونٹس (AU) ہے، جس میں 1 AU زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ ہے۔ سائیک کو سورج کا ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً پانچ زمینی سال لگتے ہیں، لیکن اسے اپنے محور پر ایک بار گھومنے میں صرف چار گھنٹے لگتے ہیں-

    ساحل پر سمندر سے بہہ کر آنیوالا پراسرار دھاتی سلنڈرمعمہ بن گیا