Baaghi TV

Tag: ناسا

  • ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کا تاریخی مشن کامیاب ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : تجرباتی اسپیس شپ کی ٹکر نے سیارچے کا راستہ کامیابی کے ساتھ بدل دیا۔ ناسا کا ڈارٹ کرافٹ 26ستمبر کو سیارچے سے ٹکرایا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سربراہ ناسا بل نیلسن نے کہا ہے کہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ناسا زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہے۔ ڈارٹ مشن کی کامیابی انسانیت کیلئے اہم سنگ میل ہے پہلی بار انسانیت نے کسی آسمانی چیز کی حرکت کو تبدیل کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس تجرے کے تحت خلائی جہاز یا مصنوعی سیارہ ، زمین کی طرف آنے والے کسی سیارچے سے ٹکرا کر اس کا مدار تبدیل کر دے گا یہ تجربہ مستقبل میں کسی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ٹالنے کے لیے کیا گیا ہے-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا تھا ، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا اس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا تھا جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

  • مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    واشنگٹن: ناسا نے جُونو اسپیس کرافٹ سے کھینچی گئی نظامِ شمسی کے پانچویں سیارے مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : یہ تصویر گزشتہ 20 سالوں میں کسی اسپیس کرافٹ کی جانب سے لی گئی یورپا کی سب سے قریبی تصویر ہے۔ اس سےقبل امریکی خلائی ایجنسی کے گیلیلیو نے جنوری 2000 میں یورپا کی سطح سے 351 کلومیٹرکے فاصلے سے تصویر لی تھی۔تصویر میں یورپا کے خط استوا کے قریب کا علاقہ اینون ریجیو دِکھایا گیا ہے۔


    یورپا نظامِ شمسی کا چھٹا بڑا چاند ہے جو دنیا کے چاند کی نسبت تھوڑا چھوٹا ہے جونو کیم نے 29 ستمبر کو یوروپا کی فلائی بائی کے دوران چار تصاویر کھینچیں-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ میلوں موٹے برف کے خول کے نیچے ایک نمکین سمندر موجود ہے جس سے ممکنہ طور پر یورپا کی سطح کے نیچےزندگی کے لیے سازگار موحول کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈیٹا جمع کرنے کے لیے جونو اسپیس کرافٹ کے پاس صرف دو گھنٹے کی مہلت تھی۔ اسپیس کرافٹ چاند کے پاس سے 23.6 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گزرا تھا۔

    سان انتونیو میں ساؤتھ ویسٹ ریسرچ سینٹر کے جونو کے پرنسپل تفتیش کار سکاٹ بولٹن نے کہا کہ 2013 میں ہمارے فلائی بائی آف ارتھ کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، جونو کے سائنسدانوں نے جونو کے ساتھ ملنے والی متعدد تصاویر پر کارروائی کر کےانمول ثابت کیا ہے-

    مشتری اور اب اس کے چاند کی ہر پرواز کے دوران، ان کا کام ایک ایسا تناظر فراہم کرتا ہے جو سائنس اور آرٹ دونوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے وہ ہماری ٹیم کا ایک اہم حصہ ہیں، جو نئی دریافتوں کے لیے ہماری تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے راہنمائی کرتے ہیں۔

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) اسپیس کرافٹ نے 22530 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے 96 لاکھ کلومیٹر دور سیارچے سے ٹکرا کر اپنی پہلی سیاروی دفاع کی آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل کرلی ہے یہ زمین کو سیارچوں سے بچانے کے دفاعی نظام کا پہلا تجربہ تھا-

    باغی ٹی وی: جہاں آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا،گوگل سرچ میں بھی ایک دلچسپ فیچر کے ذریعے اس کا جشن منایا گیا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا


    اس مشن کو ڈارٹ کا نام دیا گیا تھا اور گوگل پر dart، dart probe یا double asteroid redirection test سرچ کرنے پر رزلٹس میں اسپیس کرافٹ بائیں سے دائیں جانب آتا ہے وہاں پہنچ کر وہ غائب ہوجاتا ہے اور سرچ پیج ہلکا سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور یہی ناسا کے اس مشن کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

    نومبر 2021 میں روانہ کیے گئے مشن کا مقصد ٹکرانے کے بعد اس سیارچے کے مدار کے راستے میں معمولی تبدیلی لانا ہے یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ہوگا مگر ناسا کی جانب سے ٹکراؤ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔


    ان میں سے کوئی بھی سیارچہ، جو تقریباً 7 ملین میل دور واقع ہے، زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ٹیسٹ کا اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مستقبل میں، اگر کوئی سیارچہ زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے تو اس کو دور کرنا ممکن ہے۔

    امریکی کوہ پیما دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی سرکرکے واپس آنے کے دوران گہری کھائی میں گرگئیں

    ناسا کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ یہ بتانے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے کہ آیا خلائی جہاز سیارچے کو معنی خیز جھٹکا دینے کے قابل تھا۔

    گوگل اکثر خاص گرافکس یا اینیمیشنز کی نقاب کشائی کرتا ہے، جن میں چوتھے جولائی کو آتش بازی بھی شامل ہے، لیکن ایک اینیمیشن جو تلاش کے نتائج کا زاویہ بدل دیتی ہےGoogle.com پر کمپنی کے Google Doodles میں اکثر تاریخی شخصیات یا سالگرہ کے موقع پر واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

  • ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    واشنگٹن: ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، 26 ستمبر کی شام خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے کیلئے خلا میں بھیجا گیاجو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا کر ٹکرائے گا یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    روم میں نصب ورچوئل ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ نے جنوبی افریقا کی متعدد مشاہدہ گاہوں کے ساتھ ایک مل کر ہدف سیارچے کو تصادم کے وقت دِکھائیں گے۔


    اس سے قبل دو طاقتورترین ٹیلی اسکوپ نے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی تھی۔

    یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    جان ہوپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانے کے لیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے۔

    ڈارٹ کا ہدف ڈائمورفس تقریباً 560 فٹ (170 میٹر) چوڑا ہے اور ہر 11 گھنٹے اور 55 منٹ میں ایک بار اپنےڈائڈِموس کا چکر لگاتا ہے۔ ناسا نے کہا ہے کہ ڈارٹ زمین سے تقریباً 7 ملین میل (9.6 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر ہے اور ہمارے سیارے کو متاثر کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ناسا کے مطابق ڈارٹ کو تقریباً 14,760 میل فی گھنٹہ (23,760 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ڈائمورفس سے ٹکرانا چاہیے۔ یہ ہے ڈارٹ کا آخری دن کیسا ہوگا۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    25 ستمبر کو حتمی مشق کے بعد، اثر سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے، نیوی گیشن ٹیم کو 2 کلومیٹر [1.2 میل] کے اندر ہدف ڈائمورفس کی پوزیشن معلوم ہو جائے گی،” ناسا کے حکام نے ایک بیان میں لکھا وہاں سے، ڈارٹ خود مختار طور پر خود کو خلائی چٹان کے چاند کے ساتھ ٹکرانے کے لیے رہنمائی کرے گا۔

    اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان یہ تصادم پاکستانی وقت کے مطابق 27 ستمبر کو صبح 4 بج کر 14 منٹ پر ٹکرائے گا۔

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے جو ٹیرنٹیولا نامی نیبیولا کی ستاروں کی نرسری میں موجود ہزاروں نو عمر ستارے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اس خلائی نرسری کو آفیشلی 30 ڈوراڈس کا نام دیاگیا ہے اور یہ 1 لاکھ 61 ہزار نوری سال کےفاصلے پر لارج میگا لینک کلاؤڈ کہکشاں میں موجود ہے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں ملکی وے سےقریب موجود تمام کہکشاؤں میں ستارے بنانے والی سب سے بڑی اور روشن کہکشاں ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت


    امریکی خلائی ایجنسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ایک لمحے کے لیے ٹیرنٹیولا نیبیولا میں موجود ہزاروں ستاروں کو دیکھئےجن کو پہلےکبھی نہیں دیکھا گیا۔ نیبولا طویل عرصے سے ستاروں کی تشکیل کا مطالعہ کرنے والے ماہرین فلکیات کے لئے پسندیدہ رہا ہے۔ نوجوان ستاروں کے علاوہ، ٹیلی اسکوپ نے نیبیولا کے ڈھانچے اور ترتیب کے ساتھ اس کے پس منظر میں موجود کہکشائیں بھی تفصیلاً دِکھائی ہیں علاوہ نیبولا کی گیس اور دھول کی تفصیلی ساخت اور ساخت کو بھی ظاہرکیا ہے-


    ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ ٹیرینٹیولا نیبیولا کا نام اس کی غبار آلود دھاریوں کی وجہ سے پڑا۔ یہ ہماری کہکشاں کے قریب سب سے بڑا اور روشن ستارہ ساز خطہ ہے۔ یہ اب تک دریافت ہونے والے گرم ترین اور بڑے ستاروں کا گھر ہے یہ مشہور ترین، سب سے بڑے ستاروں کا گھر ہے۔ ماہرین فلکیات نے ویب کے تین ہائی ریزولوشن انفراریڈ آلات کو ٹیرینٹیولا پر مرکوز کیا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    ناسا کےمطابق یہ نیبیولا ہمیں بتاتی ہے کہ خلائی تاریخ میں ستارہ بننے کا عمل جب عروج پر ہوگا تو کیسا دِکھتا ہوگا انفراریڈ طول موج پر ویب کے ہائی ریزولوشن سپیکٹرا کے بغیر، ستارے کی تشکیل کے عمل کا یہ واقعہ سامنے نہیں آ سکتا تھا۔


    ٹیرینٹیولا نیبیولا میں ماہرینِ فلکیات اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں کہ اس میں اس ہی طرح کے کیمیائی مرکبات ہیں جو کائنات کے بڑے ستارہ ساز خطوں میں دیکھے گئے ہیں جس کو ’کائناتی صبح‘ کاکہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کائنات چند ارب سال پُرانی تھی اور ستارے بننے کا عمل عروج پر تھا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے محکمہ ڈاک نے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی یادگاری کے طور پر نیا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا کے محکمہ ڈاک اور ناسا کی جانب سے جمعرات کے روز یہ یادگاری ٹکٹ دارالحکومت واشنگٹن میں قائم اسمتھ سونینز نیشنل پوسٹل میوزیم میں جاری کیا گیا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    ٹکٹ پر ٹیلی اسکوپ کی تصویر بنائی گئی ہےجبکہ نیچے کی جانب ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سفید حروف میں لکھا گیا ہے۔ یہ ایک ’فارایور‘ اسٹیمپ ہوگا جس کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل میں کبھی بھی ڈاک بھیجی جاسکے گی۔

    امریکا کی پوسٹل سروس کے بورڈ آف گورنرز کے وائس چیئر مین اینٹن ہیجر کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے لاکھوں کلو میٹر دور سورج کے گرد گھوم رہی ہے اب یہ اس نئے فار ایور اسٹیمپ کے اجراء کے بعد امریکا کے ڈاک کے نظام میں بھی سفر کیا کرے گی۔

    جیمز ویب بنیادی طور پر انفراریڈ روشنی کے ذریعے فلکی اجسام کو دیکھنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے 10 ارب ڈالرز کی مالیت سے بنائی گئی یہ ٹیلی اسکوپ خلاء سے کائنات کی حیران کن تصاویر زمین پر بھیج رہی ہے۔ اس کو خلاء میں بھیجنے کا مقصد کائنات کے ابتداء کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    سائنسدانوں کے مطابق ہماری اس کائنات کا آغاز تقریباََ ساڑھے تیرہ ارب سال قبل ایک بہت بڑے دھماکے (بگ بینگ) کے ذریعے ہوا تھا۔ کائنات کے آغاز میں (یعنی ابتدائی چند کروڑ سال میں ) جو کہکشائیں وجود میں آئیں، ان سے نکلنے والی روشنی خلا میں تیرہ ارب سال سے سفر کر ہی ہے۔

    اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے یہ روشنی بہت مدھم ہو چکی ہے اور عام دور بین کے لیے اس کی شناخت ممکن نہیں رہی۔جبکہ جیمز ویب کو خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ اس مدھم اور تھکی ہوئی روشنی کو محسوس کر سکتی ہے۔

    جس طرح ہبل ٹیلی اسکوپ کا نام مشہور ماہر فلکیات ایڈوِن ہبل کے نام پر رکھا گیا تھا جس نے سب سے پہلے کائنات کے پھیلائو کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اسی طرح جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کا نام بھی جیمز ای ویب نامی سائنسدان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نا م پر رکھا گیا گیا ۔

    جیمز ای ویب نے 1961 سے 1968 کے درمیان ناسا کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے چاند پر بھیجے جانے والے اپالومشن سمیت مرکری اور جیمنی جیسے کئی نئے مشن ترتیب دئیے تھے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • ناسا کے خلائی راکٹ کی روانگی دوسری بار بھی ملتوی

    ناسا کے خلائی راکٹ کی روانگی دوسری بار بھی ملتوی

    فلوریڈا:ناسا کے 30 منزلہ جدید مون راکٹ کی خلائی مشن پر روانگی دوسری بار ملتوی کردی گئی، راکٹ کو خلا میں بھیجے کی پہلی کوشش 30 اگست کو ناکام ہوئی تھی۔

     

    غیرملکی میڈیا کے مطابق راکٹ سے کنٹرولرز ہائیڈروجن لیکج کو روکنے میں ناکام رہے، اب ناسا پیر یا منگل کو اس راکٹ کو دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کرے گا۔

     

     

    اس سے قبل پیر کو ناسا نے انسان کو چاند پر بھجوانے کی تیاری کی لیکن آخری مراحل میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے موخر کرنا پڑا تھا۔

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔

     

     

    اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش 30 اگست کو کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

     

    اس سے قبل پہلی روانگی ملتوی ہونے پر ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے بتایا تھا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔

     

     

    بل نیلسن نے بتایا تھا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا، ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

     

     

    پہلی کوشش میں خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔

    اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔

  • بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر جاری کر دی

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر جاری کر دی

    پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کُن سیلاب سے سندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی۔

    باغی ٹی وی : ” سی این این” کے مطابق پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کُن سیلاب سے صوبے سندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل بن گئی ہے۔

    امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی جانب سے سندھ میں بننے والی جھیل کی خلاسے تصویر لی گئی جسے اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا گیا ہے، تصویر میں سندھ میں بننے والی بڑی جھیل نمایاں ہے۔

    کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    نئی سیٹلائٹ تصاویر جو کہ پاکستان کے ریکارڈ سیلاب کی حد کو ظاہر کرتی ہیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ایک بہتے ہوئے دریائے سندھ نے صوبہ سندھ کے ایک حصے کو 100 کلومیٹر چوڑی اندرون ملک جھیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

    28 اگست کو NASA کے MODIS سیٹلائٹ سینسر سے لی گئی نئی تصاویر، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ 4 اگست اور 28 اگست کے درمیان سیلاب کا پانی کتنا پھیلااور کس طرح موسلا دھار بارش اور بہنے والے دریائے سندھ کے جنوب میں صوبہ سندھ کا بیشتر حصہ ڈوب گیا ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر میں گہرا نیلا رنگ سیلابی جھیل کی نشاندہی کر رہا ہے جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے سندھ کا بڑا حصہ ڈوبا نظر آ رہا ہے۔

    تصویر کے بیچ میں، گہرے نیلے رنگ کا ایک بڑا علاقہ دریائے سندھ ہے اور تقریباً 100 کلومیٹر (62 میل) چوڑے علاقے کو سیلاب میں بہا رہا ہے، جو کبھی زرعی کھیت تھے اور اب ایک بڑی اندرونی جھیل میں بدل گئے ہیں-

    سیلاب زدہ علاقے میں میڈیکل کیمپ کیلئے ادویات کی خریداری

    ناسا کی ارتھ آبزرویٹری کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقوں کو بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یکم اگست اور 26 اگست کے درمیان، دریا سے گزرنے والے صوبوں میں سے ایک، سندھ میں 443 ملی میٹر (ڈیڑھ فٹ سے زیادہ) بارش ہوئی – جو اوسط سے 780 فیصد زیادہ ہے۔

    پچھلے سال اسی تاریخ کو اسی سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تصویر سے یہ ایک چونکا دینے والی تبدیلی ہے، جس میں دریا اور اس کے معاون ندیوں کو دکھایا گیا ہے جو کہ چھوٹے، تنگ بینڈز کے مقابلے میں دکھائی دیتے ہیں، جو ملک کے کسی ایک علاقے میں ہونے والے نقصان کی حد کو نمایاں کرتے ہیں۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، 1961 میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اس سال کا مون سون پہلے ہی ملک کا سب سے زیادہ تر ہے، اور سیزن میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔

    سندھ اور بلوچستان دونوں صوبوں میں، بارش اوسط سے 500 فیصد زیادہ رہی ہے، جس نے پورے دیہات اور کھیتی باڑی کو لپیٹ میں لے لیا، عمارتیں منہدم کر دیں اور فصلیں تباہ کر دیں جبکہ آنے والے دنوں میں خطے میں زیادہ تر خشک موسم کی توقع ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کم ہونے میں دن لگیں گے۔

    پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اتوار کو کہا تھا کہ ملک کے کچھ حصےایک چھوٹے سمندر سے مشابہت رکھتے ہیں” اور یہ کہ "جب تک یہ ختم ہو جائے گا، ہمارے پاس پاکستان کا ایک چوتھائی یا ایک تہائی پانی زیر آب آ جائے گا۔

    محکمہ موسمیات کی سندھ میں ستمبر کے مہینے میں معمول سے زائد بارشوں کی پیشگوئی

  • چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    فلوریڈا:امریکی خلائی سائنسدانوں کی چاند پرپہلے خلائی مشن بھیجنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے ، اس حوالے سے امریکی میڈیا نے خلائی ادارے ناسا کے حوالے سے کچھ معلومات دی ہیں ، جن کے مطابق ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ فنی خرابی کی وجہ سے خلائی مشن روانہ نہیں کیا جاسکا۔

    چاند پر خلائی مشن بھیجنے میں ناکامی کے حوالے سے جو تفصیلات آئی ہیں ان کے مطابق غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا ہے کہ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔

     

     

     

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

     

     

     

    اس خلائی مشن میں کسی خلا باز کو راکٹ کے ذریعے نہیں بھیجا جارہا ہے تاہم راکٹ میں کچھ ایسی سنسرز( حساس آلات ) نصب ہیں جو ریڈیشن لیول، حرارت اور دیگر تبدیلیوں کو ریکارڈ کریں گے۔

    آرٹیمز ون کے مشن منیجر مائیک سرافن نے بتایا کہ موجودہ ہفتے میں 2 ستمبر کو جمعہ کے روز خلائی مشن کو روانہ کرنے کی دوبارہ کوشش کی جائے گی۔”یہ مشن بہت سارے لوگوں کی بہت سی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہے۔ اور اب ہم آرٹیمس نسل ہیں،”

     

    آرٹیمیس 1 نامی چھ ہفتے کی آزمائشی پرواز کا مقصد ایس ایل ایس اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے جو راکٹ کے اوپر بیٹھا ہے۔ یہ کیپسول چاند کے گرد چکر لگائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ جہاز مستقبل قریب میں لوگوں کے لیے محفوظ ہے۔

     

    اگراس بار بھی کسی وجہ سے خلائی مشن کو بھیجنا ممکن نہ ہوا تو 5 ستمبر بروز پیر کو خلائی مشن کو بھیجاجائےگا۔

     

    پیرکو خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔

     

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔

  • چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا طاقتور ترین خلائی راکٹ چاند کیلئے 29 اگست کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ سے اڑان بھر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اسپیس لانچ سسٹم نامی میگا راکٹ 98 میٹر لمبا، 26 سو ٹن وزنی ہے اور اس مشن کو آرٹیمس 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ لگ بھگ 5 دہائیوں بعد انسانوں کی چاند پر واپسی کے لیے اہم ترین ٹیسٹ ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار


    یہ راکٹ پاکستانی وقت کے مطابق 29 اگست کی شام 5 بج 33 منٹ پر چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا جس میں اورین اسپیس کرافٹ بھی ہوگا راکٹ کو اسی لانچ پیڈ سے روانہ کیا جائے گا جہاں سے نصف صدی قبل چاند پر بھیجے جانے والے اپولو مشنز بھیجے جاتے تھے۔

    ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ اس راکٹ سے اتنی آگ خارج ہوگی جو فلوریڈا کے ساحل پر لاکھوں افراد دیکھ سکیں گے اور ناسا کو امید ہے کہ مشن کی کامیابی سے چاند پر انسانوں کی واپسی کا راستہ کھل جائے گا۔


    یہ راکٹ 8 منٹ میں زمین کے نچلے مدار میں پہنچ جائے گا آرٹیمس 1 مشن کا دورانیہ 42 دن یعنی 6 ہفتے ہے اور یہ اس دوران چاند کے دور دراز کے حصے کے اوپر رہے گا۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    اورین اسپیس کرافٹ میں کوئی انسان تو سفر نہیں کرے گا مگر کچھ کھلونے ضرور ہوں گے جن سے ناسا کو جدید اسپیس سوٹ اور ریڈی ایشن لیولز کی جانچ پڑتال کا موقع مل سکے گا اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو ناسا کی جانب سے 2025 میں انسانوں کو چاند پر اتارا جائے گا جن میں پہلی بار ایک خاتون بھی شامل ہوگی۔

    ویسے 2025 کے انسانی مشن سے قبل بھی مئی 2024 میں آرٹیمس 2 کو بھیجا جائے گا اور وہ بھی انسانی عملے پر مشتمل ہوگا، مگر وہ چاند پر اتریں گے نہیں۔


    آرٹیمس 2 دسمبر 1972 کے اپولو 17 مشن کے بعد پہلا مشن ہوگا جب انسانوں کو زمین کے مدار سے دور بھیجا جائے گا اپولو 17 آخری مشن تھا جب انسانوں کو چاند پر بھیجا گیا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 12 انسان وہاں جاچکے ہیں-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ اکتوبر کے وسط میں زمین پر لوٹے گا زمین میں داخل ہوتے وقت اس کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی اور 2800 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا مقابلہ کرکے یہ ریاست کیلیفورنیا کے قریب سمندر میں اترے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔