Baaghi TV

Tag: ناسا

  • نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کے ماحول میں پہلی بار کاربن ڈائی آکسائیڈ کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 700 نوری سال کے فاصلے پر سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک گیسی سیارے کی اس مشاہدے سے سیارے کی ساخت اور تشکیل کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کی جانے والی اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے خلاء میں موجود یہ مشاہدہ گاہ ممکنہ طور پر زندگی کے متحمل چھوٹے اور چٹیل سیاروں کے باریک ماحول میں موجود گیس کی نشان دہی اور پیمائش کرسکتی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار


    ماہرین کے مطابق WASP-39 bایک گرم گیس کا گولا ہے جو زمین سے 700 نوری سال کے فاصلے پر موجود سورج جیسے ایک ستارے کے گرد گھوم رہا ہے اس سیارے کا وزن مشتری کے ایک چوتھائی وزن (تقریباً زحل کے برابر) کے برابر ہے جبکہ اس کا قطر مشتری سے 1.3 گُنا بڑا ہے۔

    اس سیارے کے یوں پھولے ہوئے ہونے کی وجہ اس کا شدید درجہ حرارت ہے، جو سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریبا 1,600 ڈگری فارن ہائیٹ یا 900 ڈگری سیلسیس تک ہے۔


    ہمارے نظامِ شمسی کے دیگر گیس کے گولوں کے برعکس WASP-39 b اپنے مرکزی ستارے کے بہت قریب گردش کرتا ہے۔ اس سیارے اور اس کے ستارے کے درمیان فاصلہ، سورج اور عطارد کے درمیان فاصلے کا آٹھواں حصہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر چار زمینی دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔


    اس سیارے کی دریافت 2011 میں زمین پر نصب ٹیلی اسکوپ سے ہوئی تھی ناسا کی ہبل اور سپٹزر خلائی دوربینوں سمیت دیگر دوربینوں کے پچھلے مشاہدات نے سیارے کی فضا میں پانی کے بخارات، سوڈیم اور پوٹاشیم کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاہم، اپنی مثال آپ انفراریڈ سینسٹیویٹی کی حامل جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اب اس سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔

    نا سا ماہرین کے مطابق منتقل کرنے والے سیارے جیسے WASP-39 b، جن کے مدار کا اوپر سے بجائے کنارے پر مشاہدہ کرتے ہیں، محققین کو سیاروں کے ماحول کی تحقیقات کے لیے مثالی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

    ٹرانزٹ کے دوران، کچھ ستاروں کی روشنی سیارے سے مکمل طور پر گرہن ہوتی ہے (مجموعی طور پر مدھم ہونے کی وجہ سے) اور کچھ سیارے کے ماحول سے منتقل ہوتی ہے۔

    چونکہ مختلف گیسیں رنگوں کے مختلف امتزاج کو جذب کرتی ہیں، محققین طول موج کے طول موج میں منتقل ہونے والی روشنی کی چمک میں چھوٹے فرق کا تجزیہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ماحول کس چیز سے بنا ہے۔ فلایا ہوا ماحول اور بار بار آمدورفت کے امتزاج کے ساتھ، WASP-39 b ٹرانسمیشن سپیکٹروسکوپی کے لیے ایک مثالی ہدف ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    امریکی خلائی ادارہ ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے نیا طاقتور راکٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے نئے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) نامی نیا میگا راکٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ پر پہنچایا جارہا ہے یہ راکٹ وہاں سے 29 اگست کو چاند کے مشن پر بھیجا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    پہلے مشن میں انسانوں کو نہیں بھیجا جائے گا مگر مستقبل کے مشنز میں انسانوں کو 5 دہائیوں کے بعد چاند پر بھیجا جائے گا۔


    یہ نیا راکٹ لگ بھگ 100 میٹر لمبا ہے جسے 16 اگست کی شب (مقامی وقت کے مطابق) لانچ پیڈ کی جانب بھیجا گیا جس کو منزل پر پہنچنے کے لیے 11 گھنٹے کا وقت لگے گا۔

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    اس راکٹ سے آرٹیمس 1 نامی مشن کو بھیجا جائے گا تاکہ مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے سسٹم کی آزمائش ہوسکے آرٹیمس 1 کے بغیر انسانوں کے اولین مشن میں ناسا کے اورین اسپیس کرافٹ اور یورپین ایجنسی کے سروس موڈیول کو چاند پر بھیجا جائے گا اس مشن میں اون بھرا کھلونا بھی خلاباز کے طور پر سوار ہوگا۔


    ناسا کو توقع ہے کہ اس مشن کی کامیابی کے بعد آرٹیمس 2 مشن کو 2024 تک بھیجا جاسکے گا جس میں خلابازوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا اس کے بعد 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کو بھیجا جائے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔


    واضح رہے کہ قبل ازیں یورپین اسپیس ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ شوان دی شیپ (برطانیہ کا ایک معروف ٹی وی کردار) نئے اسپیس لانچ سسٹم کی پہلی پرواز کا حصہ ہوگی، جس سے آرٹیمس پروگرام کا آغاز ہوگا اسی پروگرام کے تحت آئندہ چند برسوں میں چاند پر انسانوں کی واپسی ہوگی۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

  • ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں (کارٹ وہیل گلیکسی) اور اس کے مرکزی بلیک ہول کی نئی رنگین تصویر کھینچی ہے۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی کائنات کی پہلی رنگین تصاویر جاری کی گئی تھیں اور اب اس نے ایک ایسی نئی رنگین تصویر کھینچی ہے جو زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود پہیے نما کہکشاں کی ہے۔


    رپورٹس کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری کردہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی نئی تصویر سے ستارے کی تشکیل اور کہکشاں کے مرکزی بلیک ہول کے بارے میں نئی ​​تفصیلات سامنے آئیں۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے Near-Infrared Camera (NIRCam) کیمرے کے ذریعے لی گئی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 50 کروڑ نوری سال کے فاصلےپرواقع کہکشاں کی ظاہری شکل ویگن کےپہیے کی طرح ہے جبکہ اس کے قریب ہی 2 چھوٹی کہکشائیں بھی موجود ہیں۔


    کہاجاتا ہے کہ جب کہکشائیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان کی شکل اور ساخت بدل سکتی ہیں،کارٹ وہیل گلیکسی بھی بڑی اور ایک چھوٹی کہکشاں کے ٹکرانے کی وجہ سے وجود میں آئی۔

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کارٹ وہیل گلیکسی اندرونی اور بیرونی 2 رنگین رِنگز(گول شکل) پر مشتمل ہے ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ہبل ٹیلی اسکوپ بھی کارٹ وہیل گلیکسی کی تصویر لے چکی ہے لیکن دھول کی وجہ سے اس نے کہکشاں کے منظر کو دھندلا دیا تھا۔چونکہ جیمز ویب ایک انفراریڈ ٹیلی اسکوپ ہے، جو انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والی روشنی کو دیکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ نئی تصویر حاصل کرنے کیلئے اس کا استعمال کیا گیا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    دوسری جانب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے-

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے اور کینیڈین اسپیس ایجنسی (سی ایس اے) کا 10 ارب ڈالرز کی لاگت کا مشترکہ منصوبہ ہے جیمز ویب کا مقصد کائنات کےابتدائی دنوں (تقریباً ساڑھے 13 ارب سال) پہلے روشن ہونے والے ستارے کی کھوج لگانا ہے-

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو 2021 کے آخر میں خلا میں بھیجا گیا تھاخلائی دوربین جیمز ویب کا منصوبہ 30 سال کے عرصے میں پایہ تکمیل تک پہنچا اور اسے رواں صدی کے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    جیمز ویب کی نمایاں خصوصیات میں اس کا سب اہم حصہ 6.5 میٹر کے حجم کا آلہ انعکاس (Mirror) ہے جو کہ31 سال قبل بھیجی گئی ٹیلی اسکوپ ’ہبل‘ کے آلہ انعکاس سے 3 گنا بڑا ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

  • جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی  نشاندہی

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی کی ہے-

    باغی ٹی وی : جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے۔

    اس عمل کو "سُپر نووا” کہتے ہیں ناسا ماہرین کے مطابق "سُپر نووا” کے نام سے جانا جانے والا یہ عمل وہ موقع ہوتا ہے جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے اس کے سبب دباؤ کم ہوجاتا ہےجس کی وجہ سے اجرامِ فلکی ہمارے سورج کی نسبت پانچ گُنا زیادہ پھیل جاتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہےاس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں ٹن ملبہ اور ذرّات کا اخراج ہوتا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کے مائیک انگیسر کا کہنا تھا کہ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نئے ختم ہوتے ستاروں کو ڈھونڈنے یا ان کی نشاندہی کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر پہلا قدم رکھنے والے امریکی خلاء باز نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرِن کے چاند پر قدموں کے نشان کی زبردست ویڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناسا میں جاری کی گئی ویڈیو میں دونوں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی چاند پر حیران کن طور پر واضح ہے۔


    ناسا نےبدھ کے روز چاند کے عالمی دن پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا آج اپولو کے چاند پر اترنے کی سالگرہ ہے جب انسانوں نے پہلی بار کسی دوسری سطح پر قدم رکھا تھا لُونر ریکونائسینس آربِٹر سے بنائی جانے والی ویڈیو میں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان دِکھائی دیتے ہیں جو ابھی تک وہاں موجود ہیں ۔


    ناسا نے لکھا کہ اپولو 11 سب سے زیادہ جانا جانے والا مشن ہے لیکن اس سے قبل بھیجے جانے والے مشنز نے اس مشن کےلیے راہ ہموار کی جن میں روور اور سرویئر جیسے روبوٹِک مشنز سمیت اپولو 8، 9 اور10 کے عملے کے ساتھ بھیجے جانےوالے مشنز شامل ہیں،جن میں چاند کے مدار میں داخلے ہونے اور اس سے خارج ہونے کی آزمائش کی گئی تھی۔


    یہ آربِٹر2009 سےچاند کامطالعہ کر رہا ہے اور ایجنسی کے دیگر مشنز کی نسبت بہت زیادہ،1.4 پِیٹا بائیٹ حجم کا، ڈیٹا زمین پر بھیج چکا ہے کچھ اندازوں کے مطابق ایک پِیٹا بائیٹ 500 ارب معیاری پرنٹڈ صفحات کے برابر ہوتا ہے۔

  • ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن  روانہ کیلئے تیار

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :"اسپیس ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مشن کی پہلی آزامائشی پرواز 29 اگست کو لانچ ہو گی آر ٹیمس-1 چاند کی تسخیر کےاس نئے خلائی مشن کی پہلی پرواز ہو گی، ناسا چاند پر مکمل تحقیق کے بعد اس پر بسیرا کا خواہش مند ہے۔

    ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے مطابق دیوہیکل خلائی لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کے لیے ممکنہ لانچ کی تاریخوں کی پہلی ونڈو 29 اگست، 2 ستمبر اور 5 ستمبرہے۔

    آرٹیمس-1 چار سے چھے ہفتوں تک جاری رہنے والے مشن میں چاند پر سفر کرنے کوتیارہے۔ یہ خلابازوں کے لیے کسی بھی جہاز سے زیادہ طویل سفرہوگا اوربغیررکے کیا جائے گا۔یہ مشن خلا میں تجربات کے لیے کیوب سیٹس نامی متعدد چھوٹے سیارچے بھی نصب کرے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مقصد قمری خلائی صورت حال میں اورین کی حرارتی ڈھال کی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنا ہے۔

    اس مشن کا دوسرامقصد راکٹ اورعملہ کے کیپسول کی پروازکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے، آرٹیمس-2 عملہ کے ساتھ پہلا تجربہ ہوگا، یہ مشن چاند کے گرد پرواز کرے گا لیکن اس پر اترے گا نہیں جبکہ آرٹیمس-3 مشن میں پہلی خاتون اور پہلا رنگ دار شخص چاند کے جنوبی قطب کو چھوئیں گے۔

    ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری نے عبوری لانچ کی تاریخوں کے بارے میں کہا کہ "یہ ایجنسی کا عہد نہیں ہے۔” NASA لانچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مزید پختہ عزم کا اعلان کرے گا، انہوں نے کہا، جب ایجنسی آرٹیمیس 1 اسٹیک، بشمول SLS اور راکٹ کے اوپر سوار اورین کیپسول کی اپنی معیاری پرواز کی تیاری کا جائزہ مکمل کر لے گی۔

    تاہم، اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں عبوری تاریخیں وہی ہیں جو "ٹیم کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے ایک منصوبہ ہے،” فری نے مزید کہا۔ "لیکن ہمارے پاس بہت سارے کام باقی ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے، اور شاید اس سے سیکھیں گے-

  • خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری

    خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری

    کیلی فورنیا :امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری کر دی ہے۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کا منصوبہ مشترکہ طور پر امریکہ، یورپ اور کینیڈا نے تیار کیا ہے جس میں دس ارب ڈالر کی رقم خرچ کی گئی ہے۔ گذشتہ برس دسمبر میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو خلا میں روانہ کیا گیا جس کے بعد خلا میں کائنات کے نئے اسرار سے پردہ اٹھائے جانے کی امیدیں کی جانے لگی تھیں۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنسی منصوبہ قرار دیا گیا ہے جس کی مدد سے حاصل ہونے والی پہلی رنگین تصویر جاری کی جا چکی ہے۔ اس تصویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کائنات کا اب تک کا سب سے گہرا اور تفصیلی انفراریڈ نظارہ پیش کرتی ہے جس میں کہکشاؤں کی ایسی روشنی دکھائی دیتی ہے جس نے اربوں سال کی مسافت طے کی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن بھی یہ تصویر وائٹ ہاوس میں ایک بریفنگ کے دوران دیکھ چکے ہیں۔ یہ تصویر مذکورہ ٹیلسکوپ سے لی گئیں پانچ تصاویر میں سے ایک ہے جس کی رونمائی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے کی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس موقع پر کہا کہ ’اب ہم وہ ممکنات دیکھ سکتے ہیں جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے، ہم ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں آج تک کسی نے رسائی حاصل نہیں کی۔‘

    یہ ٹیلسکوپ گذشتہ برس پچیس دسمبر کو لانچ کیا کیا گیا اور اسے مشہور ہبل ٹیلی سکوپ کا جانشین قرار دیا گیا ہے۔

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے جرمن اخبار”بلڈ: کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چین کےمون مشن کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بیجنگ چاندپرقبضہ کرکے دنیا پراپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے،

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے دلیل دی کہ چینی خلائی تحقیق ہر ایک کی فکر ہونی چاہیے کیونکہ ایک دن بیجنگ مبینہ طور پر چاند پر اترے گا اور کہے گا کہ "اب یہ ہمارا ہے اور تم دور رہو”۔

    ناسا کے سربراہ اور سابق امریکی سیاست دان نے دعویٰ کیا کہ چینی مون مشن "فوجی” ہوں گے، اور یہ کہ بیجنگ اپنے چاند کے اڈے کو دوسرے ممالک کے مصنوعی سیاروں کو مار گرانے کے لیے استعمال کرے گا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    جہاں نیلسن نے چاند پر متعدد آلات بھیجنے کے بعد خلائی تحقیق میں چین کی مجموعی پیشرفت کی تعریف کی، اس نے فوری طور پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیشرفت کو کم کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیکنالوجی بیجنگ نے مبینہ طور پر دوسرے ممالک سے "چوری” کی ہے۔

    ناسا کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ذہن میں کن ممالک کی ٹیکنالوجی چوری کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی دعوے کی پشت پناہی کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ وہ 2025 تک نہ صرف خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس سلسلے میں روس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 2035 تک وہاں قدم جمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کے بھی اسی طرح کے منصوبے ہیں، جن میں قمری اڈے اور زمین کے سیٹلائٹ کے گرد چکر لگانے والا خلائی اسٹیشن دونوں کا قیام شامل ہے۔ مؤخر الذکر کو ایندھن بھرنے اور خلائی جہاز کو مریخ کی طرف بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ناسا کے کراس ہیئرز میں ایک اور منزل ہے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ظاہری طور پر نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین نے فوجی مقاصد کے لیے قمری سٹیشن کے استعمال کی بات کی ہے، حالانکہ بعض امریکی فوجی منصوبے یہ بتاتے ہیں کہ خلا میں جنگی کوششیں بین الاقوامی معاہدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

  • ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    واشنگٹن: ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی نیئر انفرا ریڈ تصویر کھینچی ہے اس تصویر میں ٹیلی اسکوپ نے معمول سے آٹھ گُنا زیادہ آسمان کے حصے کو عکس بند کیا ہے جس سے ماہرین فلکیات کے لیے نئے دروازے کھولنے کی مدد ملے گی جو جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے لیے ممکنہ اہداف تلاش کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یہ تصویر جو ایک تکنیک کا مظہر ہے، مستقبل میں سائنس دانوں کو دور دراز موجود کہکشاؤں کی تشکیل اور ساخت کو بہتر سمجھنے میں مدد دے گی اور اس کے ساتھ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے لیے نئے اہداف کا تعین کیا جائے گا۔

    یہ تصویر 3D-DASH نامی پروجیکٹ کا نتیجہ ہے اور اسے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے وائیڈ فیلڈ کیمرہ 3 (WFC3) نے ہبل کے ایڈوانسڈ کیمرے برائے سروے کے اضافی آرکائیو ڈیٹا کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ یہ آسمان کے 1.35 مربع ڈگری پر پھیلا ہوا ہے، جو تقریباً چھ مکمل چاندوں کے برابر ہے، اور اس میں ہزاروں کہکشائیں ہیں۔ اس کا مقصد مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر دوربینوں کے ذریعے مزید مطالعہ کے لائق کہکشاؤں کی شناخت کرنا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ہبل ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کھینچی گئی یہ تصویرMikulski Archive for Space Telescopes سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔ یہ تصویر انتہائی بڑی ہے اور اس کا سائز 19 گِیگا بائیٹس ہے۔

    ٹورنٹو یونیورسٹی کے ڈنلپ انسٹی ٹیوٹ برائے فلکیات اور فلکی طبیعیات کے ماہر فلکیات اور نئی کہکشاؤں کے رہنما لامیا مولا نے کہا،کہ میں دیو ہیکل کہکشاؤں کے بارے میں متجسس ہوں، جو کائنات میں سب سے زیادہ وسیع ہیں جو کہ دوسری کہکشاؤں کے انضمام سے بنتی ہیں۔”-یک بیان میں کہا. "ان کے ڈھانچے کیسے بڑھے، اور کس چیز نے ان کی شکل میں تبدیلیاں لائیں؟ موجودہ تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے ان انتہائی نایاب واقعات کا مطالعہ کرنا مشکل تھا، جس نے اس بڑے سروے کے ڈیزائن کو متحرک کیا۔

    عام طور پر، اتنی بڑی تصویر بنانے کے لیے ہبل کو 2,000 گھنٹے کا مشاہدہ کرنا پڑتا تھا، لیکن مولا کی ٹیم نے ڈرفٹ اینڈ شفٹ (DASH) نامی ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا، جو ایک سے زیادہ شاٹس لیتی ہے اور انہیں ایک ساتھ جوڑ دیتی ہے، جس سے انفرادی تصاویر کو آٹھ گنا بڑی جمع کیا جاتا ہے۔ WFC3 کے عام فیلڈ آف ویو (0.04 x 0.04 ڈگری) سے۔ مزید برآں، ہر بار جب یہ زمین کا چکر لگاتا ہے تو ایک تصویر لینے کے بجائے، ہبل DASH تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آٹھ تصاویر لے سکتا ہے مجموعی طور پر 1,256 انفرادی WFC3 شاٹس کے ساتھ، اس نے پورے موزیک کو مکمل کرنے میں صرف 250 گھنٹے کا مشاہدہ کیا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    تصویر میں زیادہ تر کہکشائیں انفراریڈ روشنی کے دھبوں کے طور پر نظر آتی ہیں۔ سب سے زیادہ دور نظر آتے ہیں جیسا کہ وہ تقریباً 10 بلین سال پہلے موجود تھے، اور ان کے اندر موجود شاندار ستاروں کی شکل والے خطوں کی روشنی کو کائنات کی وسعت سے قریب اورکت طول موجوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آپ ان کہکشاؤں کو 3D-Dash امیج ایکسپلورر سے تصویر کے آن لائن انٹرایکٹو ورژن میں مزید تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔

    بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے ہبل ٹیلی اسکوپ کو استعمال کرتے ہوئے آسمان کے کوسموس فیلڈ نامی خطے کی پہلی تصویر لی۔

    کوسموس فیلڈ آسمان کا وہ علاقہ ہے جو زمین سے دیکھے جانے والے سیکسٹنٹ نامی ستاروں کی جھرمٹ سے دو ڈگری کے زاویے پر موجود ہے اس علاقے کا انتخاب ماہرینِ فلکیات نے اس لیے کیا تاکہ دور دراز موجود، کہکشاؤں سے ماورا خلا کو صاف شفاف دیکھا جاسکے کوموس فیلڈ میں لاکھوں کہکشائیں دیکھی جاسکتی ہیں جن میں سے کچھ 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا