امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ویڈیوز واشنگٹن ڈی سی کی ایک عمارت پر پروجیکٹ کر دی گئیں۔
مناظر میں ایپسٹین سے منسلک تصاویر اور دستاویزات شامل تھیں، جبکہ پس منظر میں اس کی ای میلز کے اقتباسات پر مبنی آڈیو بھی سنائی گئی سڑک کے دوسری جانب ایک ہجوم جمع ہو گیا جو عمارت کی بیرونی دیوار پر چلنے والی ان پروجیکشنز کو دیکھتا رہا –
مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان روابط کی نشاندہی کرتی تصاویر اور دستاویزات واشنگٹن ہلٹن کی عمارت پر دکھائیں، یہ احتجاج 24 اپریل کو پروجیکٹ کیا گیا جو سالانہ وائٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ڈنر سے عین پہلے کا وقت تھا،یہ ایک اہم تقریب ہے جس میں صحافی، سیاسی رہنما اور وہ شخصیات شریک ہوتی ہیں جو امریکی صدارت کا احاطہ کرتی ہیں۔
اس سال کی تقریب اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اس میں شرکت کرنے والے ہیں، جو بطور صدر ان کی پہلی حاضری ہوگی میڈیا کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات اور فیک نیوز کے خلاف ان کے بیانات کے باعث ان کی شرکت نے واشنگٹن میں حیرت اور دلچسپی پیدا کر دی ہے یہ تقریب وا ئٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد ہوتی ہے، اور روایتاً اس میں موجودہ صدر کی شرکت کو آزادیٔ صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران اس تقریب میں شرکت نہیں کی تھی اور 2025 میں بھی اسے نظر انداز کردیا تھا اس سال انہیں مدعو کرنے کے فیصلے پر کئی نیوز رومز میں تنقید سامنے آئی ہے سینکڑوں صحافیوں نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہےجس میں شرکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدر سے میڈیا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے براہِ راست سوال کریں۔
صدر ٹرمپ اور میڈیا کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، وہ متعدد خبر رساں اداروں کے خلاف مقدمات دائر کر چکے ہیں، اور تنقیدی رپورٹنگ کو فیک نیوز قرار دیتے رہے ہیں صدرٹرمپ صحافیوں کو ذاتی طور پر نشانہ بھی بناتے رہے ہیں، ان کی انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو وائٹ ہاؤس پریس پول سے خارج کرنے جیسے میڈیا کی رسائی محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے۔
