Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں،صدر ٹرمپ نے یو ایس سٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ہر ماہ 100 سے 200 شہریت منسوخی کے کیسز امریکی وزارتِ انصاف کو بھیجے جائیں۔

    ناقدین کے مطابق یہ اقدام امریکا کی کثیرالثقافتی شناخت اور آئینی اقدار کے لیے ایک سنگین خطرہ ہےادھر امریکی وزارتِ انصاف کے ذرائع نے بتایا کہ 2017 سے اب تک 120 شہریت منسوخی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا میں شہریت حاصل کرنے والے غیرملکیوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہےمحکمۂ شماریات کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ سال 8 لاکھ غیر ملکیوں نے امریکی شہریت حاصل کی، جن کا تعلق میکسیکو، بھارت، فلپائن، ڈومینیکن ریپبلک اور ویتنام جیسے ممالک سے تھاچنانچہ ان تمام ممالک کے باشندوں کی امریکی شہریت کی منسوخی کے امکانات قوی ہیں جس میں سب سے زیادہ خطرہ بھارتیوں کے لیے ہے۔

    امیگریشن ماہرین اور سول رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قانونی سے زیادہ سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا مقصد غیر سفید فام اور غیر یورپی نژاد امریکیوں کو خوف میں مبتلا رکھنا ہے،جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی مزید آگے بڑھی تو امریکا میں بسنے والے لاکھوں شہریوں کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، اور یہ ملک کے جمہوری تشخص پر سیاہ دھبا ثابت ہو گا۔

    واضح رہے کہ 2018 میں شہریت منسوخی کے 90 کیسز سامنے آئے تھے جب کہ 2024 میں 13 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 8 کی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور 2017 سے2021 میں بھی سخت امیگریشن قوانین نافذ کیے تھےانھوں نے “زیرو ٹالرنس” پالیسی کے نام پر تارکین وطن خاندانوں کو جدا کیا اور مسلمانوں کے خلاف سفری پابندیاں عائد کی تھیں، اُس وقت بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی یہ پالیسیاں نسلی تعصب، خوف اور عدم تحفظ کو فروغ دے رہی ہیں۔

  • ٹرمپ نے مودی کو اپنا دوست قرار دے دیا

    ٹرمپ نے مودی کو اپنا دوست قرار دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر بار بار تنقید کے باوجود اچانک انہیں اپنا دوست قرار دے دیا۔

    صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مودی ہمیشہ میرے دوست رہیں گے، بھارت اور امریکا کا ایک خاص رشتہ ہے، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے جذبات اور تعلقات کے مثبت انداز کو سراہتے ہیں،بھارت اور امریکا کے درمیان انتہائی مثبت اور مستقبل کی جانب دیکھنے والی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔

    https://x.com/narendramodi/status/1964180697012228163

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں امریکا اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے کو ملی ہے۔ امریکا نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، جب کہ ٹرمپ نے بھارت پر روس سے سستا تیل خریدنے کا الزام بھی لگایا۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی ڈیل فائنل نہ ہونے پر بھارت کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مودی، پیوٹن اور شی جن پنگ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ایسا لگتا ہے بھارت اور روس چین کے قریب جا رہے ہیں،دوسری جانب، مودی نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کی یہ دورہ سات برس بعد ہوا جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے، ملاقات کا امکان

    ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے، ملاقات کا امکان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے ہیں جہاں ان کے درمیان چند لمحوں میں ملاقات متوقع ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے ے مطابق ٹرمپ اپنے خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعے پہنچے، جبکہ روسی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ پیوٹن بھی الاسکا پہنچ چکے ہیں۔ایلمینڈورف-رچرڈسن بیس پر دونوں صدور نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور تصویریں بنوانے کے لیے کچھ دیر رکے۔ اس دوران صحافیوں نے سوالات کیے، تاہم ٹرمپ اور پیوٹن ایک ہی گاڑی میں سوار ہو کر بیس سے روانہ ہو گئے۔

    اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ایئر فورس ون کے ذریعے الاسکا پہنچیں گے۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اجلاس میں تمام آپشنز زیر غور ہوں گے، حتیٰ کہ اگر ٹرمپ کو محسوس ہوا کہ پیوٹن معاہدے میں سنجیدہ نہیں تو وہ اجلاس سے واک آؤٹ بھی کر سکتے ہیں۔ دوران سفر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ سب اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ جانیں بچانے کے لیے کر رہے ہیں، اور اگر پیوٹن جنگ ختم کرنے پر راضی نہ ہوئے تو روس کو سخت اقتصادی نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ یوکرین کے علاقوں کے تبادلے پر بات ہو سکتی ہے لیکن فیصلہ یوکرین کو ہی کرنا ہوگا، اور جب تک جنگ ختم نہیں ہوگی، کاروباری تعلقات بحال نہیں ہوں گے۔ اجلاس کا آغاز دونوں رہنماؤں کی مترجمین کے ساتھ نجی ملاقات سے ہوگا، جبکہ امریکی وفد میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

    بھارتی یومِ آزادی تقریب ،امیت شاہ سے ترنگا گر گیا، سوشل میڈیا پر مذاق

    کھلاڑیوں کی کارکردگی پر پی سی بی ناخوش، اہم تبدیلیاں متوقع

    ملکی زرمبادلہ ذخائر میں معمولی اضافہ، مجموعی حجم 19.49 ارب ڈالر

    سندھ طاس معاہدہ: بھارت کا عالمی ثالثی عدالت فیصلہ ماننے سے انکار

  • ٹرمپ کی رہائشگاہ کے اوپر فضائی حدود کی خلاف ورزی، امریکی جنگی طیارے حرکت میں آگئے

    ٹرمپ کی رہائشگاہ کے اوپر فضائی حدود کی خلاف ورزی، امریکی جنگی طیارے حرکت میں آگئے

    اتوار کے روز ایک نجی مسافر طیارہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیو جرسی میں واقع رہائشگاہ بیڈمنسٹر کے اوپر پرواز کرتا ہوا پابندی شدہ فضائی حدود (Restricted Airspace) میں داخل ہو گیا،اتوار کے روز صدر ٹرمپ بیڈمنسٹر میں موجود تھے اور شام کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس واپس پہنچے۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) نے بتایا کہ یہ واقعہ دوپہر تقریباً 12:50 بجے پیش آیا۔ طیارے کو روکنے کے لیے امریکی جنگی طیارے فوراً روانہ کیے گئے،پائلٹ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جنگی طیاروں نے روشنی چھوڑنے والے فلیئرز استعمال کیے یہ فلیئرز کچھ لمحوں میں جل کر ختم ہو جاتے ہیں اور زمین پر موجود افراد کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوتے۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ کے مطابق اتوار کے دن ایسا دوسرا واقعہ تھا، اور پورے ویک اینڈ کے دوران پانچ مرتبہ فضائی حدود کی خلاف ورزیاں ہوئیں،ادارے نے تمام عام پائلٹس کو خبردار کیا ہے کہ پرواز سے قبل لازمی طور پر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی جاری کردہ ہدایات کا مطالعہ کریں تاکہ ایسی خلاف ورزیوں سے بچا جا سکے۔ بیڈمنسٹر کے علاقے میں نوٹس نمبر 9839، 9840، 9841 اور 9842 خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے کہاکہ،تمام پائلٹس کے لیے لازمی ہے کہ وہ پابندی شدہ فضائی حدود کی مکمل معلومات حاصل کریں اور ان پر سختی سے عمل کریں۔ یہ اصول ہر علاقے اور ہر قسم کے طیارے پر لاگو ہوتے ہیں۔

  • ٹرمپ  نے  گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا-

    عالمی میڈیاکے مطابق واشنگٹن میں منعقدہ ”اے آئی سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ کو سخت تنبیہ کی کہ وہ بیرونِ ملک، خاص طور پر بھارتیوں کو ملازمتیں دینا بند کریں اور امریکی شہریوں کو روزگار دیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے ”گلوبلسٹ مائنڈسیٹ“ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بڑی بڑی ٹیک کمپنیاں امریکی آزادی کا فائدہ اٹھا کر بھارت میں ورکرز بھرتی کرتی ہیں، چین میں فیکٹریاں لگاتی ہیں اور منافع آئرلینڈ میں چھپاتی ہیں یہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے، صدر ٹرمپ کے تحت ایسی پالیسیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو امریکا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ بھارتی آئی ٹی مافیا کے مفاد کے لیے انہوں نے ٹیک کمپنیوں سے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکا کو اولین ترجیح دیں، یہ ہمارا واحد مطالبہ ہے۔‘

    سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے شخص کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری

    ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت نہ صرف امریکی ساختہ اے آئی ٹولز کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جائے گا بلکہ اُن تمام کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگیں گی جو وفاقی فنڈنگ لے کر سیاسی نظریات پر مبنی ”ووک“ اے آئی بناتی رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے تنوع اور شمولیت کے نام پر امریکی ترقی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ٹرمپ نے اے آئی کے لیے اصطلاح ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مصنوعی ذہانت نہیں، یہ ایک ذہانت کا کمال ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہیں کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا،سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ‘میں نے کافی پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کو آگاہ کیا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں،اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایپل کو امریکا میں کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔

    بھارتی اداروں میں بی جے پی کی بے جا مداخلت، مذہبی خودمختاری پر حملہ

    دریں اثنا 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل سے بھارت میں آئی فونز تیار نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • ٹرمپ کی برکس کو کھلی دھمکی

    ٹرمپ کی برکس کو کھلی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس کو دھمکی دے دی۔

    برکس تنظیم کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کے بعد ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس تنظیم کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ملک برکس کی امریکا مخالف پالیسی کا حصہ بنے گا، اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا جائے گا، اس پالیسی سے کسی کو رعایت نہیں ملے گی، اس معاملے کی طرف توجہ دینے کا شکریہ، آج مختلف ممالک کو ٹیرف سے متعلق خطوط ارسال کردیےجائیں گے۔

    یاد رہے کہ برکس تنظیم نے گزشتہ روز ایک بیان میں خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر بیرونی حملوں کی مذمت کی تھی،اعلامیے میں کہا گیا کہ 13 جون کے بعد ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے ،البتہ بیان میں امریکا یا اسرائیل کا نام لے کر ان کی مذمت نہیں کی گئی،اس کے علاوہ برکس تنظیم نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے تمام دیگر مقامات سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ۔

    برکس ممالک کی ایران پر حملوں کی مذمت، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    مودی سرکار کی اگنی ویر اسکیم نے بھارتی نوجوانوں کو 4 سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ ، انڈیکس نے دو حدیں عبور کر لیں

  • ٹرمپ کی نیویارک سٹی کی مئیرشپ کیلئے مسلمان امیدار ظہران ممدانی کو دھمکی

    ٹرمپ کی نیویارک سٹی کی مئیرشپ کیلئے مسلمان امیدار ظہران ممدانی کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سٹی کی مئیرشپ کیلئے مسلمان امیدار ظہران ممدانی کو دھمکی دی ہے۔

    فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ظہران ممدانی اگر میئر بنے تو نیویارک کو وفاقی فنڈز نہیں دیے جائیں گےظہران ممدانی کمیونسٹ ہے، اگر وہ جیتے تو نیویارک کے لیے بہت بُرا ہوگا،جبکہ ظہران ممدانی نے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی دھمکی کا ہنس کر جواب دیا کہ وہ کمیونسٹ نہیں اور صدر کی تنقید کے لیے پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوں۔

    واضح رہے کہ اگر نومبر 2025ء میں وہ کامیاب ہوئے تو نیو یارک کے پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی میئر ہوں گے 2021ء سے کوئنز کے 36 ویں ڈسٹرکٹ سے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن ممدانی پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈن اور تیسرے مسلم رکن ہیں 33 سالہ ظہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر بننے کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو حیران کن شکست دی تھی، جس کے بعد وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے لیے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں، ظہران ممدانی یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور ”Democratic Socialists of America“ کے سرگرم رکن ہیں۔

    اداکارہ ہمانشی خرانہ نے ’بگ باس‘ کو آسیب زدہ قراردیا

    ظہران ممدانی کا ماننا ہے کہ نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک چوتھائی آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، اور 5 لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں اور اسی حقیقت کو بدلنے کا عزم انہوں نے اپنے منشور میں ظاہر کیا ہے،ممدانی نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی کھل کر تنقید کی اور فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

    ایرانی عالم نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کیخلاف سخت فتویٰ جاری کر دیا

  • ایران پر فوجی حملہ، ایوان میں ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام

    ایران پر فوجی حملہ، ایوان میں ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام

    امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی حملے پر مواخذہ کرنے کی کوشش روک دی ہے۔

    ٹیکساس سے ڈیموکریٹک رکن کانگریس ال گرین کی جانب سے صدر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے مواخذے کی قرارداد پیش کی گئی تھی، لیکن ایوان نے 79 کے مقابلے میں 344 ووٹوں سے اسے مسترد کر دیا۔

    ال گرین نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ مجھے اس کام سے خوشی نہیں، لیکن میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ کسی ایک شخص کو 30 کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے یہ معاملہ آئین کی ساکھ سے جڑا ہے، اگر آئین کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ٕ

    ال گرین نے واضح کیا کہ وہ امریکی جمہوریت کو آمرانہ طرزِ حکومت کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں، اسی لیے وہ یہ قدم اٹھا رہے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ کانگریس کا کوئی رکن ان کارروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    گرین کی یہ کوشش ایسے وقت پر کی گئی جب صدر ٹرمپ نے بغیر کانگریس کو اعتماد میں لیے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے اس پر کئی ڈیموکریٹس نے ناراضی کا اظہار کیا لیکن اکثریت نے مواخذے کے بجائے دیگر معاملات پر توجہ مرکوز رکھنے کو ترجیح دی ڈیموکریٹ رکن پیٹ ایگیولر نے کہا کہ ہم اس وقت صدر کے مجوزہ ٹیکس اصلاحاتی بل پر کام کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی معاملے پر توجہ دینا ایک "توجہ کی تقسیم” ہوگی۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ کو اس سے قبل بھی دو بار مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک بار 2019 میں یوکرین پر امداد روکنے پر، اور 2021 میں کیپیٹل ہل پر حملے کی ترغیب دینے پر، لیکن دونوں بار سینیٹ نے انہیں بری کر دیا تھا

  • اگر اسرائیل مزید بم گراتا ہے تو یہ سنگین خلاف ورزی ہو گی،ٹرمپ

    اگر اسرائیل مزید بم گراتا ہے تو یہ سنگین خلاف ورزی ہو گی،ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم کر دی ہیں ایران اب ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع نہیں کرسکے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران سے کہتا ہوں رک جائیں ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل سے کہتا ہوں کہ تحمل سے کام لےدیکھ رہا ہوں کہ کیا میں مزید حملے رکوا سکتا ہوں سعودی عرب نے بھی بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بی 2 پائلٹس نے اپنا کام شاندار طریقے سے کیااسرائیل اور ایران دونوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے اچھا نہیں لگا کہ جنگ بندی پر رضامندی کے فوراً بعد اسرائیل نے شدید حملے کیے اس لیے اسرائیل سے خوش نہیں ہوں ایران سے بھی خوش نہیں لیکن اسرائیل سے بہت ناخوش ہوں۔ اسرائیل اب ایران پر مزید بم مت گرائے اور اسرائیل کے مزید حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو گی،اگر اسرائیل مزید بم گراتا ہے تو یہ سنگین خلاف ورزی ہو گی اور اسرائیل فوری اپنے پائلٹس واپس بلائے۔

  • بھارتی سیاستدان اور میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی کردار کشی کرنے لگے

    بھارتی سیاستدان اور میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی کردار کشی کرنے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاک بھارت کشیدگی میں جنگ بندی کے دعوے پرھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے اس بات کو لے کر امریکی صدر کی کردار کشی کی جا ری ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کا 10 مئی کو ایکس پوسٹ کے ذریعے پاک بھارت جنگ بندی کا اعلان کرتے ہی بھارتی میڈیا اینکر ارناب گوسوامی نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ ٹرمپ اپنا بیانیہ بیچ رہا ہے، یہ شخص اسرائیل، حماس اور روس یوکرین کے درمیان جنگ بندی نہیں کروا سکا، ٹرمپ کی ریٹنگ گر رہی ہے تو یہ پوائنٹ اسکورننگ کر رہا ہے۔‘‘

    بھارتی جماعت ’’عام آدمی پارٹی‘‘ نے بھی سوال اٹھایا کہ امریکی صدرکا کیا کام ہے کہ وہ جنگ بندی کرائے راجھستان کے سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ سچن پائلٹ نے ٹرمپ سے یہ سوال بھی کیا کہ وہ دہشتگردی پر خاموش کیوں ہیں؟ بھارتی میڈیا میں ٹرمپ کا یہ بیان بھی چلایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے جنگ بندی نہیں کرائی بلکہ مدد کی ہے،ارناب گوسوامی کا کہنا تھا کہ 28 اپریل کے بعد صدر ٹرمپ کی پوزیشن بدلی اور وہ پاکستان کا سپورٹر بن گیا۔

    بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا کے مطابق ورلڈ لیبرٹی فنانشنل پاکستان کے ساتھ کرپٹو معاہدے میں شریک ہے، ورلڈ لیبرٹی فنانشل اور پاکستان کرپٹو کونسل کے درمیان یہ معاہدہ 26 اپریل یعنی پہلگام واقعے کے 4 روز بعد ہوا۔

    بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کی فیملی کے حوالے سے بھی الزام لگایا کہ کیا یہ کرپٹو معاہدے سے فائدہ نہیں اٹھا رہے؟ بھارتی میڈیا نے بغیر شواہد یہ الزام بھی عائد کیا کہ صدر ٹرمپ کے کرپٹو بزنس کو پاکستانی آرمی جنرل نے سنبھال رکھا ہےکور کمانڈر کے بھتیجے کا صدر ٹرمپ کو منانے یا راضی کرنے میں بڑا کردار ہے –

    جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا مزید بدحواس ہو گیا ہے ارناب گوسوامی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے I LOVE PAKISTAN کہنے پر انہیں پاک فوج کا کارکن کہہ دیا۔ ارناب گوسوامی نے یہاں تک کہا کہ صدر ٹرمپ اور اس کی فیملی کے کرپٹو معاہدے پر تحقیقات کی جائیں۔

    بھارتی سوشل میڈیا پر امریکی صدر کو نوبیل پرائز کے حوالے سے بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ بھارتی سوشل میڈیا پر ان کے کارٹون بنا کر دہشتگرد کا ساتھی ظاہر کیا گیا، بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کو ایک مریض کے طور پر پیش کیا جبکہ بھارتی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایک ناکام سیاست دان ہے اور یہ شخص صدر نہیں ہونا چاہیے بھارتی سیاست دان نے کہا کہ امریکی صدر نے بھارت کو بہت زیادہ ناراض کر دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ خود لینا چاہتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں ہے امریکی صدر کو کچھ بھی پتہ نہیں انہیں زمینی حقائق تک معلوم نہیں اور وہ خود کو گلوبل پیس میکر ثابت کر رہا ہے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا اعتبار کیا جائےاور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

    سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق مودی نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا،بھارتی ایکس اکاؤنٹ پر بھی ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا کہ ایک روز ٹرمپ کہتا ہے اس کا اسرائیل کے ایران حملے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسرے روز امریکا کہتا ہے کہ ان کا ایران کی فضا پر مکمل کنٹرول ہے۔