Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • اب یا تو امن ہوگا یا پھر سانحہ،ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    اب یا تو امن ہوگا یا پھر سانحہ،ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد قوم سے خطاب میں ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اسے اب امن قائم کرنا ہوگا، ورنہ آئندہ حملے ایران کے لیے سانحہ ہوں گے۔

    واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات، بشمول فورڈو، نطنز اور اصفہان پرحملے کیے ہیں، دنیا نے سالوں تک ان ناموں کو سنا، جب ایران نے اس تباہ کن منصوبے کو تیار کیا تھا، آج رات میں یہ اطلاع دے سکتا ہوں کہ یہ حملے بے حد کامیاب رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب یا تو امن ہوگا یا ایران کے لیے وہ تباہی آئے گی جس کا ہم نے گزشتہ آٹھ دنوں میں مشاہدہ کیا یاد رکھیں کئی دیگر اہداف باقی ہیں آج رات کا حملہ ان سب میں سب سے مشکل اور شاید سب سے مہلک تھا لیکن اگر امن جلدی نہ آیا تو ہم ان دیگر اہداف کو تیز رفتا ری، مہارت اور درستگی کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔

    ٹرمپ نے ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی نے ہزاروں افراد کی جان لی، میں نے طے کیا تھا کہ اس کا سلسلہ یہاں نہیں رکے گا، اور یہ جاری نہیں رہنے دیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں نے اس تباہ کن خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا،ٹرمپ کا خطاب تقریباً چار منٹ تک جاری رہا، جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ مزید کشیدگی کے امکانات اور امریکہ کے عزم کا اظہار کیا۔

  • تضحیک آمیز تبصرے، ٹرمپ  کا بھارت کے ساتھ  اعلان جنگ

    تضحیک آمیز تبصرے، ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ اعلان جنگ

    امریکہ کا دورہ کرنے والے بھارتی رہنما کے تضحیک آمیز تبصروں کے بعد ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کر دیا-

    پاکستان سے شکست کے بعد مودی سرکار نے ہزیمت چھپانے کیلئےفواج کی جانب سے اپنے دفاع میں بھرپور جواب پر بھارت امریکا کے در پر پہنچ گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے سیزفائر ہوا توبھارت نے یوٹرن لے لیا، ارناب گوسوامی جیسے مودی حمایتیوں نے امریکی صدر پر تنقید شروع کردی۔

    بھارتی میڈیا نے خفت مٹانے کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دہشتگردوں کا سرپرست بھی کہنا شروع کر دیا،بھارتی میڈیا نے ٹرمپ کیخلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا آئی کیو لیول بھارت کے7 ویں جماعت کے بچے سے بھی کم ہے،جہاں ٹرمپ جیسے صدرہوں گے وہاں نائن الیون جیسا واقعہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔

    مودی سرکارنے جب پاکستانی مسلح افواج سے منہ کی کھائی تو امریکا سے مدد کی بھیک مانگی، جب سیز فائر طے پا گیا تو مودی سرکار نے یوٹرن لیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید شروع کردی۔

    سیالکوٹ: عیدالاضحی پر مثالی صفائی کے انتظامات، ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس

    آپریشن بنیان مرصوص میں جوابی حملے میں بھارت کے رافیل طیارے تباہ ہوئے، پاکستانی مسلح افواج کے حملوں سے شمالی بھارت کے70 فیصد علاقے کی بجلی بند ہو گئی پاکستانی فضائیہ نے بھارت کا مہنگا ترین ایس 400 دفاعی نظام تباہ کیا، بھارت کے سیزفائر کیلئے رابطے کے حوالے سے سی این این کے رپورٹر نک رابرٹسن نے بھی تصدیق کی۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کی خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی امریکی صدر کے ایکس اکاؤنٹ سے سیز فائر کی خبر نے بھارتی میڈیا ، سیاست دانوں اور عوام کو سیخ پا کردیا تھا۔

    بھارتی سیاست دان کا کہنا ہے کہ سیز فائرکی خبر اب امریکی دھرتی سے جاری کی جائے گی، امریکا کے دباؤ کے باعث بھارت سیزفائر کر رہا ہے۔ 78 برس سے ہمارا موقف رہا ہے کہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی آج ٹرمپ ٹوئٹ کرتا ہے اور سیزفائر ہوجاتا ہے، سیزفائر کیلئے کوئی نہ کوئی کردار ادا کرتا ہے مگرامریکا کی نے تجارتی دھمکیاں دیکر ایسا کرنا افسوسناک ہے۔

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

    بھارتی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا کے اینکرز بھی امریکی صدر ٹرمپ پر برس پڑے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارتی میڈیا کے اینکرز نے بغیر نظریے کے رہنما قرار دیدیا بھارتی ٹی وی اینکر نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کشمیر پر بات کرا دے گا توہم بتا دیں ہم اپنا معاملہ دیکھنا جانتے ہیں۔


    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اس دعوے کے ساتھ گردش کر رہا ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور کے بعد امریکہ جاکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور ان وفود میں سے ایک کی قیادت کر رہے ہیں جو آپریشن سندور اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی کے سلسلے میں آگاہ کرنے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ اس وفد نے اپنے دورے کا آغاز امریکہ سے کیا ہے اس کے بعد یہ وفد امریکی براعظم کے دیگر ممالک گیانا، پاناما، برازیل اور کولمبیا کا بھی دورہ کرے گا۔

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

    وائرل ہونے والی ویڈیو تقریباً 1 منٹ 16 سیکنڈ لمبی ہے جس میں ششی تھرور نے سابق امریکی صدور بل کلنٹن، براک اوباما اور بش کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں میں کچھ خاصیت تھی جو اس آدمی میں کم نظر آتی ہے۔

    امریکہ کے نیویارک میں منعقد ہونے والے جے پور لٹریچر فیسٹیول 2024 کی ہے جس میں انڈیا ٹوڈے گروپ کے ارون پوری نے کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ ششی تھرور سے بات کی تھی اس دوران ارون پوری نے ان سے چند ماہ بعد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات 2024 اور بھارت پر اس کے اثرات سے متعلق سوالات بھی کئے تھے وہ اس وقت کی ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ششی تھرور کی رائے بھی جاننا چاہتے تھے۔

    ارون پوری نے ششی تھرور سے ڈونلڈ ٹرمپ کے سلسلے میں سوال پوچھتے ہوئے کہا تھا کہ “ٹرمپ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ ان کے لئے بہت زیادہ سفارتی ہوئے بغیر اپنے انداز میں ایک لفظ کہہ سکتے ہیں؟” اس پر ششی تھرور نے کہا تھا کہ میں “غیر مہذب” کہنے ہی والا تھا، لیکن سوچا کہ یہ قدرے بدتمیزی ہوگی۔ دیکھئے خاص طور پر جب میں بھارتی پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر متعارف ہوا تو ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم کسی دوسرے ممالک کے لیڈروں پر ان کی سرزمین پر تبصرہ کریں، لیکن یہ کہنے کے بعد یہ بھی سچ ہے کہ لوگوں کی اپنی سیاسی ترجیحات ہیں اور میری کوئی سیاسی ترجیحات نہیں ہیں کیونکہ میں یہاں ٹیکس ادا نہیں کرتا ہوں۔

    پاکستان یو این امن مشنز کیلئے فوجی تعاون کرنے والا سرکردہ ملک ہے، اسحاق ڈار

    ششی تھرور نے کہا کہ مجھے پرواہ نہیں کہ وہ کم ہیں یا زیادہ، میں یہاں امیگریشن نہیں ڈھونڈھ رہا ہوں یہاں تک کہ جب مجھے یہ کرنے کا حق تھا تب بھی میں نے ایسا نہیں کیا اس لئے امیگریشن کے بارے میں ان کا موقف مجھے پریشان نہیں کرتا یہ اور مسائل ہیں، اس ہال میں موجود ہر شخص کو پالیسی معاملات پر اپنی اپنی ترجیحات رکھنے کا حق ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ “لیکن ذاتی طور پر مجھے ان کا رویہ اتنا بہتر یا خوشگوار نہیں لگتا، جتنا کہ کسی امریکی سیاسی شخصیت دیکھنے کی توقع ہوتی ہے مجھے امریکہ میں قیام کے دوران چار یا پانچ امریکی صدور سے ملنے کی خوش نصیبی ملی ہے۔ میں نے بش، کلنٹن دونوں کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی اور اوباما کے ساتھ بہت مختصر گفتگو کی یہ تمام لوگ ایک خاص زمرے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک خاصیت رکھتے تھے یہ سیاست نہیں ہے، کیونکہ اس فہرست میں دو ریپبلکن اور دو ڈیموکریٹس تھے لیکن ان کا ایک خاص سیاسی وزن، سفارتی وقار اور فکری سطح تھی، جو مجھے اس شریف آدمی میں بہت کم نظر آتی ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے-

    تضحیک آمیز تبصروں کے بعد ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کر دیا،ٹرمپ نے ہندوستانی طلباء کے تمام ویزا بلاک کرنے کا حکم دیا ہے ہندوستان سے مینوفیکچرنگ کو ہٹانا اور ہندوستانی سے تعلق ر کھنے والے سی ای او کو امریکی کمپنیوں سے ہٹانا یہ تو ابھی شروعات ہے۔

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

  • امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    نیویارک: امریکا سمیت مختلف ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرین نے واشنگٹن، نیویارک، ہیوسٹن، فلوریڈا، کولوراڈو اور لاس اینجلس سمیت دیگر مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالیں "Hands Off!” کے عنوان سے ہونے والے اس احتجاج نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جس میں عوام نے حکومتی اقدامات کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

    عالمی میڈیا کے مطابق صرف نیویارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جبکہ واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال پر 20,000 سے زائد مظاہرین نے شرکت کی، ملک کی تمام 50 ریاستوں کے علاوہ کینیڈا اور میکسیکو میں بھی تقریباً 1,200 احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

    سی آئی ڈی کے مرکزی کردار اے سی پی پردیومن اب اس دنیا میں نہیں رہے

    مظاہرین نے امیگریشن پالیسیوں، تجارتی محصولات، تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں اور ایلون مسک کی سربراہی میں محکمہ حکومتی کارکردگی کی جانب سے وفاقی ملازمتوں میں کی گئی 200,000 سے زائد کٹوتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    یورپ میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے برلن، فرینکفرٹ، پیرس، اور لندن میں مقیم امریکی شہریوں نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی، برلن میں ٹیسلا کے شوروم کے باہر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "ایلون، چپ رہو، کسی نے تمہیں ووٹ نہیں دیا” جیسے نعرے درج تھے۔

    پی ایس ایل 10: کمنٹری پینل کا اعلان ہوگیا،کمنٹری مکمل اردو میں ہو گی

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ امریکا میں جمہوریت کی بحالی، عوامی مفادات کی حفاظت اور "طاقتور افراد کے ذریعے پالیسی سازی” کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوئے ہیں ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری طور پر ان عوام دشمن پالیسیوں کو واپس لے اور حقیقی نمائندہ نظام کو بحال کرے۔

  • وائس آف امریکہ کے ملازمین کا ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ

    وائس آف امریکہ کے ملازمین کا ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ

    وائس آف امریکہ کے صحافیوں اور ان کی یونینز نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا-

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا، اس کے قائم مقام ڈائریکٹر وکٹر مورالز اور خصوصی مشیر کاری لیک کو گذشتہ ہفتے کے روز 1,300 سے زائد ملازمین کے ہمراہ رخصت پر بھیج دیا گیا اور کئی نیوز سروسز کے لیے فنڈز میں کٹوتی کر دی گئی، نیویار ک کی وفاقی عدالت میں دائر کردہ شکایت کے مطابق ان کارروائیوں سے پہلی ترمیم اور ان قوانین کی خلاف ورزی ہوئی جن کے ذر یعے کانگریس نے وائس آف امریکہ کو اختیار اور فنڈ فراہم کیا۔

    مقدمے میں کہا کہ امریکی امداد سے چلنے وا لی خبر رساں ایجنسیوں کی بندش سے کارکنان کے آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس کی پہلی آئینی ترمیم میں اجاز ت دی گئی ہے۔

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    یہ کٹوتیاں ایک بڑے اقدام کا حصہ ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی ایلون مسک نے وفاقی حکومت کو مختصر کرنے کے لیے کیا ہےاس بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان چیزوں پر ضائع کیا جاتا ہے جو امریکی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتیں، یہ مقدمہ یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کی بندش کے فیصلے کے خلاف عدالتی حکم کا تقاضہ کرتا ہے جو وی او اے اور ریڈ یو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی اور ریڈیو فری ایشیا جیسے دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس کو فنڈ فراہم کرتا ہے۔

    مقدمے کے مطابق اس تیز رفتار بندش سے تمام دنیا میں آمرانہ طرزِ حکومت کی حوصلہ افزائی ہو گی، دنیا کے کئی حصوں میں معروضی خبروں کا ایک اہم ذریعہ ختم ہو گیا ہے اور صرف سنسر شدہ سرکاری تعاون شدہ نیوز میڈیا اس خلا کو پر کرنے کے لیے رہ گیا ہے۔

    ریاست اور حکومتی شخصیات کی فیک ویڈیوز بنانے میں ملوث ملزم گرفتار

    شکایت کے مطابق وائس آف امریکہ کا آغاز جنگِ عظیم دوئم کے عروج پر نازی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہوا تھا جس کے بعد سے یہ ایک بین الاقوامی میڈیا براڈکاسٹر بن گیا جو آن لائن، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر 40 سے زیادہ زبانوں میں کام کرتے ہوئے امریکی خبروں کے بیا نیے کو ان ممالک میں پھیلا رہا ہے جہاں آزاد پریس نہیں ہے، بندش سے پہلے وائس آف امریکہ، ریڈیو فری یورپ اور ریڈیو فری ایشیا کے ہر ہفتے 425 ملین سے زیادہ سامعین تھے۔

    شہزادہ ولیم کی استونیا میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ ٹینک میں سواری

  • امریکی سپریم کورٹ  کا ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دینے والے جج کے مواخذے سے انکار

    امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دینے والے جج کے مواخذے سے انکار

    واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی ڈسٹرکٹ کورٹ کے چیف جج جیمز ای بوسبرگ (James E. Boasberg) کے مواخذے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسی جج کے عدالتی فیصلوں پر اختلاف کی بنیاد پر اس کا مواخذہ نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے لیے قانونی نظام میں ایپلیٹ (appellate) جائزہ کا طریقہ موجود ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جج بوسبرگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں "انتہائی دائیں بازو کا پاگل شخص” اور "ٹیڑھے دماغ کا جج” قرار دیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ہمیشہ ایسے ججوں کے سامنے پیش ہونا پڑا جو ان کے خلاف متعصب تھے اور بوسبرگ کا ہر صورت مواخذہ ہونا چاہیے۔

    میرپورخاص: ڈائریکٹر اطلاعات کا نیشنل پریس کلب دورہ،نومنتخب عہدیداروں کومبارکباد

    واشنگٹن ڈی سی کے جج بوسبرگ نے حکم دیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے گینگ ممبرز کو اس وقت تک ملک بدر نہ کرے جب تک قانونی کارروائی مکمل نہ ہوجائے تاہم، وائٹ ہاؤس نے اگلے ہی دن 137 افراد کو ڈیپورٹ کرنے کا اعلان کردیا۔

    یہ معاملہ امریکی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر چکا ہے، جہاں ٹرمپ عدلیہ پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ نے ججز کے خلاف انتقامی کارروائی کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔

    تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول پر پہنچ گیا،بجلی گھر کے 8 پیداواری یونٹ بند

  • ٹرمپ انتظامیہ کے حماس کے ساتھ خفیہ مذاکرات،اسرائیل میں شدید تشویش

    ٹرمپ انتظامیہ کے حماس کے ساتھ خفیہ مذاکرات،اسرائیل میں شدید تشویش

    امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور حماس کے درمیان خفیہ مذاکرات پر اسرائیل کی شدید تشویش سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی نیوز ویب سائٹ ”ایگزیوس“ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیا مین نیتن یاہو کے قریبی ساتھی اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے درمیان ایک سخت گفتگو ہوئی، جس میں اسرائیل نے ان مذاکرات پر شدید اعتراض کیا۔

    ٹرمپ کے مشیروں نے فروری کے اوائل میں اسرائیلی حکام سے حماس سے براہ راست رابطے کے امکان پر بات کی تھی، جس پر اسرائیل نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تھا، خاص طور پر بغیر کسی شرط کے تاہم، اسرائیل کو بعد میں معلوم ہوا کہ امریکہ ان مذاکرات کو آگے بڑھا رہا ہے۔

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

    امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایڈم بوہلر نے دوحہ میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیۃ سے ملاقات کی ان مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر اور چار دیگر امریکیوں کی باقیات کی واپسی تھا تاہم، امریکہ کی جانب سے عندیہ دیا گیا کہ اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو ٹرمپ اسرائیل پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس میں طویل مدتی جنگ بندی، حماس قیادت کے لیے محفوظ راستہ، اور تمام یرغما لیوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔

    اسرائیل نے ان مذاکرات میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی جیسے نکات پر بھی اعتراض کیا، کیونکہ ان امور پر اس کی پیشگی منظوری نہیں لی گئی تھی نیتن یاہو نے ابتدا میں ان مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا، لیکن جب انہیں حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا تو ان کی تشویش میں اضافہ ہوا۔

    خواتین کو آگے لانا پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

    ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے بدھ کو ایک طویل اجلاس میں ان مذاکرات پر بات کی اور فیصلہ کیا کہ حماس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک سخت عوامی بیان جاری کیا جائے بعد ازاں، ٹرمپ نے ایک بیان میں حماس کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے۔

    ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتے خطے کا دورہ کریں گے اور ان کا کہنا ہے کہ ایڈن الیگزینڈر کی رہائی ان کی اولین ترجیح ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس مثبت رویہ اختیار کرتی ہے تو اسے ”سیاسی فوائد“ حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اسرائیل کی جانب سے ”کارروائی“ متوقع ہے۔

    بھارت میں اسرائیلی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

  • ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ایران کا کہنا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے کوئی خط موصول نہیں ہوا

    ایران نے واضح کیا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے حوالے سے کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے اور موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات ممکن نہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایرانی قیادت کو ایک خط لکھا ہے۔رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے خط میں ایرانی قیادت سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہوگا کیونکہ یہ ان کے ملک کے مفاد میں ہوگا۔

    ایران نے امریکی صدر کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی خط کے موصول ہونے کی تردید کی ہے۔الجزیرہ کے مطابق، ایران کے سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر نے بھی کسی خط کی تصدیق نہیں کی۔ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراغچی نے اس حوالے سے کہا کہ جب تک امریکا ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں برقرار رکھے گا، تب تک ایران جوہری معاہدے پر کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور دھمکیاں جاری رکھے گا، ایران کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکا نے ایران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ایرانی تیل کے نیٹ ورک پر عائد سخت پابندیاں بھی شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک عسکری کارروائی اور دوسرا مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ایران کے عوام اچھے لوگ ہیں۔وائٹ ہاؤس نے بھی ٹرمپ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی قیادت کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے خط بھیجا ہے۔ تاہم، ایران کی جانب سے مسلسل اس خط کی وصولی کی تردید کی جا رہی ہے۔

  • ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ نے ان غیر ملکی طلبہ کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت انتظامیہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کرے گی اور اگر ان کی سرگرمیاں حماس کی حمایت میں پائی گئیں تو ان کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے مرکز سمجھی جانے والی کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر کی وفاقی گرانٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی اپنی حدود میں موجود یہودی طلبہ کو ہراساں کیے جانے سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور گرانٹ کی معطلی اسی تناظر میں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گرانٹ منسوخی کے پہلے مرحلے کے طور پر کیا گیا ہے، اور مستقبل میں مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی مختلف جامعات میں اسرائیل-فلسطین تنازعے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے برس کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج نے امریکا بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک تحریک کو جنم دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور حکومتی ادارے اس پر سخت اقدامات کے لیے دباؤ میں تھے۔طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنان نے ان اقدامات کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہودی طلبہ کی حفاظت اور قومی سلامتی کے پیش نظر یہ پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

    متاثرہ طلبہ اور تعلیمی ادارے اس اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے طلبہ کی نگرانی کا یہ عمل شروع ہو گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے اور یہ پالیسی دیگر جامعات اور ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔

  • ٹرمپ نے امریکا میں انگریزی کو سرکاری زبان بنانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے

    ٹرمپ نے امریکا میں انگریزی کو سرکاری زبان بنانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نگریزی کو امریکا کی سرکاری زبان قرار دینے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں-

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق اس فیصلے سے سرکاری اداروں، وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والی تنظیموں اور تارکین وطن پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے یہ اقدام سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں نافذ کیے گئے قوانین کو منسوخ کرتا ہے، جو سرکاری اداروں کو غیر انگریزی بولنے والوں کیلئے زبان کی سہولت فراہم کرنے کا پابند بناتے تھےنئے حکم کے تحت اب سرکاری ادارے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ غیر انگریزی زبانوں میں خدمات فراہم کریں یا نہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد "قومی یکجہتی کو فروغ دینا اور سرکاری معاملات کو آسان بنانا” ہے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے "انگریزی سیکھنا نہ صرف معاشی مواقع کھولتا ہے بلکہ تارکین وطن کو امریکی معاشرے میں گھلنے ملنے میں مدد دیتا ہے۔”

    دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی سپیکٹرم ہے،آرمی چیف

    یہ فیصلہ ٹرمپ کے "امریکا فرسٹ” ایجنڈے کے حامیوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جبکہ تارکین وطن کے حقوق کے حامی، سول رائٹس تنظیمیں اور ڈیموکریٹ رہنما اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

    معروف قدامت پسند تجزیہ کار چارلی کرک نے اسے "قومی اتحاد کیلئے ایک بڑا قدم” قرار دیا، جبکہ امیگرنٹ رائٹس گروپ "یونائیٹڈ وی ڈریم” کی ڈائریکٹر انابیل مینڈوزا نے کہا "یہ فیصلہ تارکین وطن، خاص طور پر سیاہ فام اور ہسپانوی برادریوں کو نشانہ بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔”

    دنیا میں سب سے طویل اور سب سے مختصر دورانیے کا روزہ کہاں ہوگا؟

    پورٹو ریکو میں، جہاں اسپینش بنیادی زبان ہے، اس فیصلے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا امریکہ میں 75 فیصد لوگ گھروں میں صرف انگریز ی بولتے ہیں، لیکن تقریباً 42 ملین افراد ہسپانوی اور لاکھوں لوگ چینی، ویتنامی اور عربی زبانیں بولتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے لاکھوں افراد کیلئے سرکاری خدمات اور قانونی معلومات حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے انگریزی زبان کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کیے ہیں، 2017 میں، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ہسپا نوی ویب سائٹ بند کر دی تھی، جو 2021 میں صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد بحال کی گئی تھی۔

    ٹرمینیٹر، ٹائٹینک اور اوتار فلموں کے خالق نے امریکا چھوڑ دیا

  • ٹرمپ بھی اے آئی کا شکار، ایلون مسک کے پاؤں چومتے ہوئے ویڈیو وائرل

    ٹرمپ بھی اے آئی کا شکار، ایلون مسک کے پاؤں چومتے ہوئے ویڈیو وائرل

    واشنگٹن: ہیکرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی مدد سے بنائی گئی ویڈیو امریکی سرکاری دفتر کے ٹی وی پر چلا دی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اے آئی سے محفوظ نہ رہ سکےڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیسلا اور ایکس کے سی ای او ایلون مسک کے پاؤں چومتے ہوئے جعلی ویڈیو امریکی سرکاری دفتر کے ٹیلی وژن پر چلا دی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ کی جعلی ویڈیو ٹی وی پر ایک سے زائد بار چلنے کے سبب تیزی سے وائرل ہو گئی۔

    رپورٹس کے مطابق یہ حرکت ہیکرز کی جانب سے کی گئی ہے، ٹرمپ کو ایلون مسک کے پاؤں چومتے دکھایا گیا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی جعلی ویڈیو کا عنوان ’Long Live The Real King‘ تھا تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ویڈیو کس نے بنائی جبکہ اس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی دفاتر کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، مذکورہ جعلی ویڈیو ایک ہفتے قبل پہلی بار ایکس پر پوسٹ کی گئی تھی، اس جعلی ویڈیو نے سائبر سیکیورٹی کے خطرات اور سیاست میں مسک کے سمجھے جانے والے اثر و رسوخ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک امریکی صدر ٹرمپ کے اہم اتحادی ہیں اور ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وفاقی ایجنسیوں میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں۔