Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں،حنیف عباسی

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران امریکا کے مابین امن مذاکرات کے لیے کردار ادا کرکے ثابت کیا کہ امن کے پیامبر ہیں-

    راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ ایران، مصر اور یورپی یونین میں پاکستان کے ترانے پڑھے جا رہے ہیں، 193 ملکوں کو یہ منظر نصیب نہیں ہوا جو پاکستان کو ہوا، ان شاء اللہ اکانومی گروتھ بڑھے گی، گوادر اور کراچی پورٹ اَپ گریڈ ہوں گے کہ یہاں سرگرمیوں کے باعث جگہ نہیں ملے گی، پاکستانی عوام بھی جانتی ہیں کہ ملک بہت اہم کام کر رہا ہے اور لوگ مبارکباد دے رہے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد کے بند ہونے پر بھی عوام نے خوش اسلوبی سے سہا کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔

    وفاقی وزیر حنیف عباسی کا مذاکرات سے متعلق کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکے کیے جس کہ وجہ سے کوئی پاکستان کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ آپ امن کے پیامبر بن گئے، یہ کارنامہ اس سے قبل کسی نے دیکھا اور نہ سنا،پاکستان خطے کا محفوظ ترین ملک ہے اور یقین رکھیں محفو ظ صرف اپنا گھر ہوتا ہے انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں، وہاں 70 فیصد کو ٹوائلٹ میسر نہیں، دہلی کے چند جگہوں پر ترقی و ز ندگی نظر آتی ہے، مودی سے کہتا ہوں 10 مئی کو شسکت کے زخم چاٹے تھے، اب آپ اپنا گھر بچائے۔

    محکمہ ریلوے کی کاکردگی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ریلوے کی بہتری کے لیے بیل آؤٹ پیکج دیا ہے، اب نہ بجلی بند ہوگی اور نہ گیس، ریلو ے مزید ترقی کرے گا، سفاری ٹرین کو اَپ گریڈ کرکے تمام کوچز کو ایئر کنڈیشنڈ کر دیا گیا، مسافروں اور اسٹاف کو مزید سہولیات بھی دے رہے ہیں۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ سفاری ٹرین پہلے بھی چلتی تھی لیکن فرق سوچ کا اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا ہے، سہولت کو سندھ میں بھی شروع کیا ہے راولپنڈی میں سفاری ٹرین کی کسی کوچ میں اے سی نہیں تھا اور عوام کو شدید گرمی میں سفر کرنا پڑتا تھا لیکن ٹرین و کوچز کو اَپ گریڈ کرکے ہر کوچ میں اے سی نصب کر دیا گیا ہے اور سیٹیں بھی کشن کی گئی ہیں راولپنڈی سے گولڑہ، مارگلہ اور اٹک خود کے تاریخی سیاحتی مقام تک ہر اسٹیشن پر ٹرین ر کتی ہے جہاں مسافروں کو ریفریشمنٹ اور تاریخ سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ ہمیں ریلوے مزدور کا احساس ہے، تمام دن شدید گرمی میں محنت کرتا ہے، ٹریک کو مینٹین کرتا ہے، ورکشاپوں میں کام کرتا ہے، ایسے تمام عملے کا ریلوے معترف ہے مانتا ہوں ٹریک کے ایشوز ہیں، سالوں سے لوکو موٹیو بہتر نہیں ہوئی، ان شاء اللہ جولائی تک اَپ ریلوے لوکو موٹیو میں بہتر ی دیکھیں گےستمبر کے پہلے ہفتے میں لاہور تا راولپنڈی ٹریک سے متعلق اسٹون لینگ کرنے جا رہے ہیں لاہور اور راولپنڈی کے ٹریک پر ڈھائی ار ب کی لاگت سے پنجاب حکومت کام کرے گی، مریم نواز کی توجہ چاہیے تھی وہ مل گی ہے وہ کام بہت تیزی سے کرتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ روہڑی جنکشن کے حوالے سے جوائنٹ وینچر کر رہے ہیں، 40 فیصد سندھ حکومت اور 60 فیصد وفاق دے گا۔ کے پی حکومت سے بات چیت نہیں ہوئی لیکن سیکرٹری ریلوے کے ذریعے رابطہ کیا ہے، ہمارا دل بڑا ہے تھر کول ایک سو پانچ کلو میڑ پہلی مرتبہ کرنے جا رہے ہیں یہ بھی حقیقت ہےکہ 300 مسافروں کو لےجانے والا پائلٹ فائیو اسٹار ہوٹل میں رہتا ہےاور ریلوے کے 1100 مسافروں کو لے جانے والے ٹرین ڈرائیور کے لیے کوئی سہولت نہیں لیکن اب ہم دیں گے پاکستان ریلوے کو پہلے سے بہت زیادہ ترقی دیں گے کفایت شعاری کے سلسلے میں تین گاڑیاں استعمال نہیں کیں، تمام افسران کا کٹ اسی دن لگا جب حکومت نے لگایا، پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی جاتی، دعا کریں سیز فائر جاری رہے تو بہتری آئے گی۔

    قبل ازیں، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے سینیئر مسلم لیگی خاتون رہنما و ممبر قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب کے ہمراہ راولپنڈی اسٹیشن سے اٹک خورد کے تاریخی سیاحتی مقام تک چلنے و اَپ گریڈ کی جانے والی سفاری ٹرین کا افتتاح کیا۔

  • گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    پاکستان میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے سعودی عرب گوادر میں جدید آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں سعودی تیل کمپنی آرامکو پاکستانی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

    میڈیا میں شائع سیف الرحمان کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب شراکت داری کے خد وخال طے کیے جا رہے ہیں آرامکو اس میگا پراجیکٹ میں لیڈ کرے گی جبکہ پاکستان کی چار بڑی کمپنیاں، پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد حصہ داری رکھیں گی۔

    مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جو پاکستان کی موجودہ ریفائننگ ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرے گی۔ منصوبے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف گوادر کو علاقائی انرجی حب بنائے گی بلکہ سی پیک کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گی، سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام طویل عرصے سے زیر بحث تھا، اور اب اس پر عملی پیش رفت کا امکان روشن ہو گیا ہے۔

  • پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت  میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات نے بھارت میًں صف ماتم بچھا دی ہے، مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

    خلیجی جنگ کے تناظر میں بھارت کی سفارتی ناکامی پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام نہاد ’وشوا گرو‘ مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا،بھارتی جریدے ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق سینئرکانگریس رہنما جئے رام رامیش نےایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث مرکزی کردار نے خودساختہ وشوا گرو مودی کی انداز سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ مودی کی "نمستے ٹرمپ” اور” پھر ایک بار ٹرمپ سرکار” مہم کے باوجود امریکا نے پاکستان کو یہ کردار کیسے ادا کرنے دیا، کانگریس لیڈر مودی امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارتی معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکے،جئے رام رامیش بھارت برکس پلس کی صدارت کے باوجود خلیجی جنگ کے تناظرمیں کوئی مصالحتی قدم کیوں نہ اٹھاسکا۔

  • امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا دونوں نے مثبت ردعمل دیا، دونوں ممالک کے وفود گزشتہ روز پاکستان پہنچے تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کر سکیں پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے حصول میں مدد فراہم کی بلکہ اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے اور رابطوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے عزم اور مذاکرات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہےکہ عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

    روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے خطے میں پیچیدہ بحران کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہو رہا ہے، بیشتر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں اور اس سے امن کی راہ ہموار ہونے کی امید رکھتے ہیں۔

    تاہم روس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں بیان میں ان عناصر پر تنقید کی گئی جو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ بھی ایران پر ڈال رہے ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق واقعات کی اصل ترتیب کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی گزرگاہ کے طور پر بلا تعطل فعال رہی اس وقت سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک ، لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔

    روس نے زور دیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم سفارتی موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

    روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اپنی دیرینہ تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام ساحلی ممالک، بشمول عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان مکالمہ اور بیرونی شراکت داروں کی تعمیری شمولیت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کا مالی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فراہم کی اس مالی تعاون سے اسلام آباد کو اپنے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے گی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض بھی واپس کرنا ہے-

    سعودی عرب کے وزیر خزانہ محدم بن عبداللہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی،اس اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈرا بھی موجود تھے اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان مالی معاونت سے متعلق بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

    ملاقات میں پاکستان نے سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست کی جس میں موجودہ نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت (Oil Financing Facility) کی مدت میں توسیع شامل ہے جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے،ملاقات کا محور اقتصادی تعاون اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں علاقائی صورتحال رہی۔

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے پاکستان کو کمزور زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیاں کرنے میں مدد ملے گی ایک سینیئر پاکستانی اہلکار کے مطابق پاکستان اپریل کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا کیونکہ ابوظبی نے فوری ادائیگی کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں تاہم بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات اور بیرونی ادائیگیوں کے باعث دباؤ برقرار ہے پاکستان مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون اور آئندہ اہم مالی اجلاسوں کے لیے بھی رابطے میں ہے۔

  • پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا خصوصی دستہ مشرقی صوبے ظہران میں واقع شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، مشرقی صوبے ظہران پہنچنے والے پاکستان ایئرفورس کے دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تعیناتی کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام کی حمایت اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    دونوں مسلح افواج کے درمیان فوجی ہم آہنگی اور تعاون تاریخ سے جڑا ہوا ہے جسے حال ہی میں SMDA کی شکلدی گئی۔ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے مملکت میں تعینات ہیں اور مملکت کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم فولادی اور ناقابل مذاکرات ہے اس فوجی تعیناتی اور اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی بات چیت کے درمیان کوئی تعلق پیدا کرنا غیر دانشمندانہ، غیر ضروری اور میرٹ کے بغیر ہے تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی طاقت اور فوجی موقف کے ذریعے قریبی پڑوس اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود اسلام آباد میں موجود ہیں ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مجوزہ نکات میں مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوج کا انخلا بھی شامل ہے، ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا تھا اور ان حملوں میں امریکی فوج کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کی ایک مضبوط اور طویل تاریخ ہے۔ دونوں برادر ملکوں نے ستمبر 2025 میں باقاعدہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت نے اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری اور دفاعی محاذ کے علاوہ گہرے اقتصادی روابط بھی قائم ہیں پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی تعاون، تربیتی اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا آ رہا ہے جب کہ دوسری جانب سعودی عرب نے مشکل معاشی حالات میں بارہا پاکستان کو مدد فراہم کی ہے۔

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق نہایت اہم اور حساس مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے دلچسپ بیان سوشل میڈیا پر سامنے آیا –

    ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو پوسٹ میں ایران کے صحافیوں پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ایرانی صحافی اسلام آباد میں ایران-امریکا جنگ بندی مذاکرات کے لیے موجود ہیں اور ہمیں ہوٹل کی ویڈیوز ایسے بھیج رہے ہیں جیسے یہ کوئی ٹریول ولاگ ہو،آیا یہ رپورٹنگ ہے یا چھٹیوں کی ویڈیوز؟

    کچھ ہی دیر بعد ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے ایکس پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ایرانی صحافی نے رپورٹنگ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی رپورٹنگ کرتے ہیں، صرف ریلز نہیں بناتے-

    ایرانی قونصلیٹ جنرل ممبئی کے ایکس ہینڈل پر شئیر کی گئی ویڈیو میں اسلام آباد میں قائم جناح کنونشن سینٹر دکھایا گیا تھا جہاں دنیا بھر سے صحافی، تکنیکی عملہ اور دیگر حکام اسلام آباد ٹاک کی کوریج کے لیے موجود ہیں –

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات جاری ہیں، ان امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ آج صبح اسلام آباد پہنچے جبکہ ایرانی وفد رات کو ہی اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔

  • بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت عالمی برادری کی تمام تر توجہ کا مرکز پاکستان ہے-

    اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہاکہ حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا تھا، تاہم اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ اعزاز بخشا کہ وہ اس جنگ کو ختم کروانے کا ذریعہ بنا آج امن کی خاطر امریکی اور ایرانی وفود کا اسلام آباد میں موجود ہونا پاکستان کی سفارتی کامیابی اور عزت کی دلیل ہے۔

    احسن اقبال نے کہاکہ ملک کو یہ عالمی وقار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کی بدولت حاصل ہوا ہے اگر سرحد کے دو سری طرف دیکھا جائے تو وہاں سے اٹھتا ہوا دھواں واضح ہے، اور ہمارے پڑوسی اس کامیابی پر کوئلے کی طرح جل کر راکھ ہو رہے ہیں، بھارت کو چاہیے کہ وہ حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے، کیونکہ پاکستان نے بھارت سمیت پوری دنیا کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا ہے، ان کے بقول، پہلے میدانِ جنگ میں حق کا معرکہ اور اب امن کی کو ششوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔