Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان کو محض قرضوں کی نہیں بلکہ مہارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    پاکستان کو محض قرضوں کی نہیں بلکہ مہارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جلد خطے میں ترقی کے سفر میں چین کے ہم قدم ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے، پاکستان کو محض قرضوں کی نہیں بلکہ مہارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

    پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور اب آسمانوں کو چھو رہی ہے، ہانگژو جیسے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہر کا قیام صدر شی جن پنگ کے وژن کا نتیجہ ہے، جنہوں نے چین کو دنیا کی ایک بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت بنایا، پاکستان بھی اسی رفتار سے ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے اور جلد خطے میں چین کا ہم قدم ہوگا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں سے تقریباً 30 فیصد مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) عملی معاہدوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جن کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے، پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو آئی ٹی ٹریننگ اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون کے اہم شعبوں میں زراعت، آئی ٹی، اکنامک زونز اور معدنیات شامل ہیں، اور ان شعبوں میں تیزی سے پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے پاکستان کو قرضوں کے بجائے مہارت اور براہِ راست سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،پیداوار بڑھانے کے لیے بہتر بیج، جدید مشینری اور عالمی معیار کے طریقے اپنانا ہوں گے، جبکہ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے اکنامک زونز میں ون ونڈو آپر یشن اور سرمایہ کاروں کو ریڈ کارپٹ سہولیات دی جائیں گی، کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جا رہا ہے-

  • پاک و چین  کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے،اسحاق ڈار

    پاک و چین کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جہاں پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، وہیں ان کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

    ہانگژو میں آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت کے موضوع پر منعقدہ ‘پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس’ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری دوستی بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں، وقت کی آزمائشوں اور علاقائی چیلنجز کے سامنے ہمیشہ پورا اتری ہے، مجھے اس بات پر خاصی مسرت ہے کہ ہمارے تاریخی حکومتی سطح کے (جی ٹو جی) تعلقات کو اب ایک متحرک اور پھیلتی ہوئی تجارتی و کاروباری (بی ٹو بی) شراکت داری سے مزید تقویت مل رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تجربات سے سیکھنے پر مبنی چین کا معاشی ماڈل پاکستان کے لیے بہترین سبق فراہم کرتا ہے و زیر اعظم شہباز شریف کی متحرک قیادت میں حکومت معاشی بحالی، صنعتی توسیع اور پائیدار ترقی کے ایک پرعزم ایجنڈے پر گامزن ہے بیرونی چیلنجز کے باوجود گزشتہ 4 سالوں کے دوران معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے اور آج ملکی معیشت کا رخ مضبوطی سے اوپر کی طرف ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ پاکستان میں اصلاحات ہو رہی ہیں اور پاکستان ابھر رہا ہے، وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے روایتی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کرتے ہوئے اب معاشی سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا دیا ہے ، چین کے ساتھ ہمارا بڑھتا ہوا کاروباری (بی ٹو بی) رابطہ اس نئی سمت کی ایک بہترین اور واضح مثال ہے۔

    نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک ہم چین میں 2 اور پاکستان میں 2 بی ٹو بی کانفرنسیں منعقد کر چکے ہیں اور مخصوص شعبوں پر مرکوز یہ اس سلسلے کی پانچویں کانفرنس ہےمجموعی طور پر اب تک 300 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور تقریباً 3 درجن مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کی کل مالیت 13 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

    نائب وزیر اعظم نے شرکا کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی اسلام آباد میں ‘آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹرز’ کا افتتاح کیا ہے۔ بیجنگ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ آئی بی آئی کے چیئرمین کیان کی ملاقات کے بعد محض 8 ماہ سے بھی کم عرصے میں آئی بی آئی نے پاکستان میں اپنا دفتر قائم کر کے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے،آئی بی آئی کے گزشتہ ہفتے دورہ پاکستان کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

    اسحاق ڈار نے پاکستان کے سروس گروپ اور چین کے لانگ مارچ ٹائرز کے درمیان کامیاب مشترکہ منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو 5 سال کے اندر اب پا کستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہونے والی ایک ارب ڈالر کی جائنٹ وینچر کمپنی بننے جا رہی ہے،کہا کہ تمام کامیابیاں وزیر اعظم کی رہنمائی میں پاکستان کے متعد د اداروں کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہیں، میں اس مشن میں حصہ ڈالنے والے ہر فرد اور ادارے کو سراہتا ہوں، میں بالخصوص سفیرِ پاکستان خلیل ہاشمی کی تعریف کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمارے ترجیحی شعبوں میں بی ٹو بی کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے،خوشی ہے کہ اس ہال میں دونوں اطراف سے 500 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں اور جن شعبوں کو اس کانفرنس کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ پاکستان کی معاشی تبدیلی اور صنعتی جدید کاری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صوبہ ژجیانگ کے گورنر لیو جی، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین، صنعت و پیداوار کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، سروس گروپ آف پاکستان کے سی ای او عمر سعید، لانگ مارچ ٹائر کے چیئرمین جن یونگ شینگ، آئی بی آئی گولیان گوفن کے صدر کیان شیاؤجون اور چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (ژجیانگ پروونشل کمیٹی) کے چیئرمین چن جیان ژانگ بھی موجود تھے۔

  • ملک بھر میں فضائی آپریشن متاثر، 83 پروازیں منسوخ

    ملک بھر میں فضائی آپریشن متاثر، 83 پروازیں منسوخ

    پاکستان بھر میں فضائی آپریشن متاثر رہا جس کے باعث اندرون اور بیرون ملک مجموعی طور پر 83 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ صرف 430 پروازیں آپریٹ ہو سکیں۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی، اسلام آباد اور لاہور سمیت بڑے شہروں سے سینکڑوں پروازیں آپریٹ کی گئیں تاہم فلا ئٹ شیڈول میں انتظامی اور آپریشنل وجوہات کے باعث بڑی تعداد میں پروازیں متاثر ہوئیں کراچی سے 20، لاہور سے 15، اسلام آباد سے 19 اور ملتان سے 11 پروازیں منسوخ کی گئیں،اسی طرح کوئٹہ، فیصل آباد، پشاور، سکھر اور گلگت کی متعدد پروازیں بھی منسوخ یا ری شیڈول ہوئیں۔

    جبکہ ملتان سے 23، پشاور سے 16، سیالکوٹ سے 20، فیصل آباد سے 4 اور کوئٹہ سے 10 پروازیں آپریٹ کی گئیں، تاہم مجموعی طور پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری نہ رہ سکا علاوہ ازیں بعض روٹس پر لوڈ میں کمی کے باعث جدہ کی 20 سے زائد پروازیں بھی منسوخ کی گئیں ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی نگرانی جاری ہے اور شیڈول کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ معاہدے کو آج ہی قبول کر سکتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں اہم اعلان کا اشارہ دیا ہے۔

    اپنے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مارکو بیورو نے کہا کہ ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پس پردہ مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے یہ ممکن ہے کہ آج، کل یا پھر اگلے چند روز کے اندر ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان کرنے کے لیے موجود ہو۔

    ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے ایران اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے، جب کہ مختلف معا ملات پر سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ مختصر مدت میں کسی بڑے نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز کی مختلف شقوں پر فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں بعض نکات اور الفاظ پر اختلافات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے امریکی بحری جارحیت جسے امریکا بحری ناکا بندی قرار دیتا ہے کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ثالثی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقاتیں کیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی امن اور جنگ بندی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان اہم ملاقاتوں میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی آرمی چیف کے ہمراہ شریک تھے۔

  • فیلڈ مارشل کی ایران میں اہم  ملاقاتیں، امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت

    فیلڈ مارشل کی ایران میں اہم ملاقاتیں، امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت

    پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا ایک مختصر لیکن انتہائی نتیجہ خیز سرکاری دورہ مکمل کرلیا، اس دوران انہوں نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کیں، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دورہ 8 اپریل 2026 کی امریکا ایران جنگ بندی کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کشیدگی کم کرنے اور تعمیری رابطوں کے فروغ کے لیے جاری ثالثی کوششوں کا حصہ تھا دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں انہوں نےایرانی صدر مسعود پزشکیان،اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سےملاقاتیں کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تمام ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں، جنہوں نے ثالثی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیاگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی قیادت نے خطے کے مسائل کے پرامن حل اور مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران آمد پر ان کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے کیا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین، 2 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین، 2 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر ہیں، اور اب تک 2 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں-

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے آج چین کے شہر ہانگژو میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکریٹری وانگ ہاؤ سے ملاقا ت کی، اس موقع پر وانگ ہاؤ نے وزیراعظم اور ان کے وفد کا ژجیانگ صوبے میں خیرمقدم کیا،وزیراعظم نے ژجیانگ صوبے کی شاندار ترقیاتی منصوبہ بند ی کو سراہتے ہوئے شی جن پنگ کی اُس دور اندیش قیادت کی تعریف کی جو انہوں نے سی پی سی ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکریٹری کی حیثیت سے انجام دی۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے اس تصور صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا،کہاکہ ژجیانگ کی ترقی اس بات کی واضح مثال ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، سبز ترقی اور اعلیٰ معیار کی معاشی نمو کو ایک دوسرے کے معاون انداز میں کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے پاکستان ژجیانگ صوبے کے ساتھ بالخصوص ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، زراعت، قابلِ تجدید توانائی، جدید صنعت کاری اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

    شہباز شریف نے کہاکہ صوبائی سطح پر تعاون پاکستان اور چین کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے، جو صنعتی اشتراک، زرعی جدیدکاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے سی پیک فیز ٹو کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے تعاون پر مبنی 2 اہم دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی، پہلی مفاہمتی یادداشت ژجیانگ صوبے اور پنجاب کے درمیان سسٹر پروونس تعلقات کے قیام سے متعلق تھی، جس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    وزیراعظم نے ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور پاکستانی سفارتخانہ بیجنگ کے درمیان چین پاکستان مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے قیام سے متعلق دستاویز پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی یہ مرکز تعلیمی تعاون، عملی تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دونوں ممالک عوام دوست، ترقی پر مبنی اور عملی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔

  • امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کے عمل میں بتدریج پیشرفت ہو رہی ہے اور معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےخواجہ آصف نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ صورتحال ممکنہ حل کے قریب پہنچ چکی ہے،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا،موجودہ کوششوں کے ذریعے دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں ضرور کامیاب ہوں گی۔

    دوران گفتگو وزیر دفاع نے تسلیم کیاکہ مہنگائی ایک حقیقت ہے اور محدود آمدن رکھنے والے طبقات اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں پاکستان کی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، تاہم جنگی صورتحال کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں معاشی بحالی کا عمل نہ صرف سست پڑا ، بلکہ بعض معاملات میں الٹا اثر بھی دیکھنے میں آیا ہے، اگر خطے میں امن قائم ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے معاشی بہتری کی راہ ہموار ہو جائے گی، حکومت کو اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔

  • ایبولا کے بڑھتے کیسز، پاکستان نے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی

    ایبولا کے بڑھتے کیسز، پاکستان نے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی

    کانگو اور ٰوگنڈا میں ایبولا کیسز بڑھنے پر حکومت پاکستان نے ایبولا سے بچاؤ کیلئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی سخت کردی۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کانگو اور یوگنڈا میں ایبولاکی صورتحال کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہےترجمان وزارت صحت کے مطابق ایبولا وائرس کی وبا کاپھیلاؤ صرف افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا تک محدود ہے کیونکہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ افریقا سے باہر تاحال کسی اور ملک میں ایبولاکاکوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ افریقی ممالک سے محدود سفری روابط کے باعث پاکستان میں خطرہ انتہائی کم ہے، پاکستان یا ہمسائے ممالک میں بھی کبھی ایبولا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزارت صحت اور این آئی ایچ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایبولا سے بچاؤ کیلئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی مزید مؤثر بنا دی گئی ہے۔

    وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت نے احتیاطی نگرانی بڑھانے کی ہدایت دی ہے، تاہم کسی قسم کی سفری پابندیوں کی سفارش نہیں کی گئی،وزیر صحت نے وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظرپیشگی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، عوام کو وباؤں سے بچانے کیلئے موثر اقدامات یقینی بنا رہے ہیں، انٹرنیشنل ریگولیشن کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنا رہے ہیں، این آئی ایچ ایبولا تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہے اور محکمہ صحت حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

  • پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی شدید مذمت

    پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی شدید مذمت

    پاکستان نے بین الاقوامی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے روکے جانے اور اس میں موجود انسانی حقوق کے کار کنوں کی گرفتاری کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے-

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری حدود میں عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں پاکستانی شہری سعد ادھی بھی شامل ہیں۔

    پاکستان نے اس اقدام کو انسانی امدادی مشن کی روک تھام اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروا ئیاں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے جارحانہ بحری اقدامات کے تسلسل کا حصہ ہیں،جو انسانی رسائی کو محدود اور بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام زیر حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے دفتر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے مشنز کے خلاف کسی بھی جابرانہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے دیرینہ اصولی مؤقف پر قائم ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں موجود اپنے سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ بیرون ملک اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زیر حراست افراد کی سلامتی، وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے پاکستان مسلم دنیا کے مسائل، خصوصاً فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششوں کی مسلسل رکاوٹ کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے، اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے مشترکہ دباؤ ڈالے اور جنگی و تنازعاتی علاقوں میں انسانی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

  • ایران مذاکرات کی کوششوں کا فوری جواب دے، تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے،سعودی عرب

    ایران مذاکرات کی کوششوں کا فوری جواب دے، تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے،سعودی عرب

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی صدر کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سفارت کاری کو موقع دینے کے اقدام کو سراہتا ہے تاکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے قابل قبول معاہدہ طے کیا جاسکے، سعودی عرب اس حوالے سے پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ریاض کو امید ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا اور جامع معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

    سعودی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر منگل کو متوقع فوجی حملہ مؤخر کردیا گیا ہے کیونکہ اب سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔