Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں،اسحاق ڈار

    پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹراسحاق ڈار پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں-

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وزارتِ خارجہ میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں علاقائی صورتحال اور حالیہ سفارتی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف سفارتی امور پر بریفنگ دی گئی اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جاری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں تاکہ قومی مفادات کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • وزیر خزانہ کی امریکی وزیر تجارت سے ملاقات

    وزیر خزانہ کی امریکی وزیر تجارت سے ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں 2026 کے موقع پر امریکہ کے وزیر تجارت اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ملاقات ہوئی،اس ملاقات میں تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ اور نجی شعبے کی شمولیت کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

    گفتگو میں کان کنی، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو بھی زیرِ بحث لایا گیا جبکہ باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون کے لیے نئے مواقع بروئے کار لانے پر بھی زور دیا گیا۔

  • ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور،  امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

    سی این این کی خبر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ممکنہ دوسرے اجلاس میں شریک ہوں گے یہ دونوں شخصیات جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہی تھیں-

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری اپنے 3 قریبی مشیروں کو سونپی ہے اور وہ اب بھی ان پر اعتماد رکھتے ہیں، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حالیہ دنوں میں ایرانی حکام اور ثالثوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے،امریکی حکام ممکنہ دوسرے اجلاس کی تفصیلات پر غور کر رہے ہیں، تاہم منگل کی شام تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ملاقات واقعی ہوگی یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم سی این این کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیر غور ہیں، تاہم فی الحال کسی بھی ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

  • اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفون پر بات کی۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر کے مطابق بات چیت کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطے کو سراہا اور حالیہ اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

    یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے امریکا-ایران براہ راست مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، دونوں رہنماؤں نے تنازع کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا،دونوں فریقین نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا مثبت جائزہ لیا اور تمام باہمی امور پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • آئندہ چند روز کے دوران بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    آئندہ چند روز کے دوران بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران بارشوں، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ 16 اپریل سے ملک میں داخل ہوگا، جس کے زیرِ اثر 16 سے 19 اپریل تک مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےخیبر پختونخوا میں اس دوران بارشوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں برفباری بھی متوقع ہے جب کہ 17 اور 18 اپریل کے دوران بلوچستان میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب میں 16 سے 18 اپریل کے دوران موسلا دھار بارش، آندھی اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جب کہ سندھ میں گرد آلود ہوائیں چلنے کی توقع ہے اس کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 16 سے 19 اپریل کے دوران ہلکی بارش، تیز ہواؤں اور بلند پہاڑو ں پر برفباری کا امکان ہے، چند مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، تیز بارشوں کے باعث کمزور ڈھانچوں اور فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا بھی خطرہ ہے۔

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • پنجاب میں پاکستان کی پہلی بلا معاوضہ سرکاری  ’میت منتقلی سروس ‘ کا آغاز

    پنجاب میں پاکستان کی پہلی بلا معاوضہ سرکاری ’میت منتقلی سروس ‘ کا آغاز

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بلا معاوضہ سرکاری ’میت منتقلی سروس ‘ کا آغازکردیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نےلاہور، راولپنڈی اور ملتان کےلیےگاڑیوں کی چابیاں ڈرائیوروں کےحوالےکیں،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی میت منتقلی سروس کے ریسکیو اہلکاروں سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ریسکیو اہلکاروں سے بات چیت کی اور خدمات کو سراہااس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ کسی بھی پیارےکے بچھڑنےکے دکھ کی گھڑی میں ہم ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے مریض کی وفات پرپرائیویٹ ٹرانسپورٹرزکا منہ مانگاکرایہ وصول کرناافسوسناک ہے میت منتقلی پرکوئی خود بھی پیسہ دےتو ریسکیو اہلکار ہرگز نہ لیں،میت منتقلی سروس اہلکاروں کو رضائے الٰہی کے لئے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت کام کرنا چاہیے۔

    رواں سال جون تک میت منتقلی سروس کا دائرہ کار بتدریج پنجاب کی ہر تحصیل تک شروع کیا جائے گا، ہرتحصیل میں ’’Deceased Care Service‘‘ میت منتقلی کے لیے مخصوصی ایمبولینس مہیا کی جائے گی۔

    صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ منتقلی سروس کا آغاز، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا قابل تحسین اقدام ہے۔ میت منتقلی سروس کے ذریعے عوام کو دکھ کی گھڑی میں شریک ہونا کا احساس دلانا چاہتے ہیں لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں فی الحال شہر کی حد تک میت منتقلی سروس شروع کی جا رہی ہے۔ دوسرے شہروں میں میت منتقلی سروس کے لیے دوسرے فیز میں پرائیویٹ ایمبولینسز مہیا کریں گے۔

    ڈی جی ریسکیو سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے میت منتقلی سروس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری اسپتال سے گھر تک میت منتقلی سروس کے حصول کے لیے 1122 پر کال کی جائے۔ سرکاری اسپتال میں 24/7 تربیت یافتہ یونیفارم میں ملبوس ڈرائیور، میت منتقلی سروس کے لیے موجود ہوں گے ہر سرکاری اسپتال میں میت منتقلی سروس کے لیے خصوصی ڈیسک بنایا جائے گا میت کو اسپتال کے سرد خانے میں بھی میت منتقلی سروس کے ذریعے منتقل کیا جا سکے گا، میت منتقلی سروس کی اسمارٹ ریسکیو مینجمنٹ سروس اور ڈسپیچ سسٹم کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔

  • ہارورڈ میں پاکستان کا بڑا ایونٹ،ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی

    ہارورڈ میں پاکستان کا بڑا ایونٹ،ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی

    امریکا کی معروف درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس 2026 منعقد کی گئی-

    ہارورڈ یونیورسٹی نے 12 اپریل 2026 کو پاکستان کانفرنس-2026 کے عنوان سے ایک بڑے سمپوزیم کی میزبانی کی، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، حنا ربانی کھر، معید یوسف، اسماء شیرازی، حسن شہریار یاسین، اور دیگر کئی شخصیات نے شرکت کی ممتاز غیر ملکی مندوبین میں مائیکل کوگل مین، کرس وان ہولن اور ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز شامل تھےپینل مباحثوں میں معیشت، خارجہ پالیسی، ڈیجیٹل تبدیلی، ثقافت، اختراع، غیر ملکی پاکستانیوں کی تخلیقی شراکت، ہنر، تعلیم، صحت، میڈیا اور بہت سے دیگر موضوعات شامل تھے۔

    700 سے زائد شرکاء، 50 مقررین، اور 17 پینلز کے ساتھ، یہ کانفرنس پاکستان کی رفتار میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہےایران میں امریکہ/اسرائیل جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی ملی پاکستان کی مستقل مزاجی پر مبنی خارجہ پالیسی کو سراہا گیا پینلز نے ہندوستان کی بالادستی کی خارجہ پالیسی کو جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں حقیقی رکاوٹ کے طور پر شناخت کیا۔

    ڈاکٹر معید یوسف نے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کے درمیان علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، بھارت کی بالادستی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی امن کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔

    سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور علاقائی امن کے لیے اس کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ-ایران جنگ بندی کی کوششوں اور بات چیت میں سہولت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، پاکستان کی متوازن، عملی اور مستقبل کی طرف نظر آنے والی خارجہ پالیسی کا خاکہ پیش کیا۔

    رضا بکر نے پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے کے سیشن کو ماڈریٹ کیا جس میں مقررین پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، ماہر اقتصادیات عاطف میاں اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر درون آسموگلو شامل تھے۔ پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کیا گیا پینل نے اتفاق کیا کہ مسلسل اصلاحات نے اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی تھی۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے معاشی نقطہ نظر، اصلاحات کی رفتار اور مستقبل میں ترقی کے امکانات کا خاکہ پیش کیا، پاکستان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے حالیہ سفارتی فوائد سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کی لچک اور ترقی کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا۔

    امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے پاکستان کی صلاحیت کی تعریف کی اور علاقائی کشیدگی میں ثالثی کے کردار کو سراہا عاطف میاں نے پاکستان کے اقتصادی نقطہ نظر پر سیشن کے دوران ساختی اصلاحات اور پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیا امجد ثاقب نے انٹرپرائز اور کمیونٹی سے چلنے والی ترقی پر بات چیت کے دوران جامع ترقی اور سماجی اختراع پر زور دیا۔

    پاکستان کانفرنس کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت اور کلیدی ملک قرار دے دیا، کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کی بدولت دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں انسانی صلاحیتیں اور نوجوان نسل سب سے بڑی طاقت ہیں۔

    سفیر نے محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے پاکستان کو عالمی محور بننے کی پیشگوئی کی تھی جو آج حقیقت کا روپ دھارتی نظر آ رہی ہے،پاکستان کی مثبت سفارتی کوششوں کے باعث اسے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ملا، جو عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل رہا ہے اور اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی، تاہم قوم اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

    رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگاانہوں نے امریکی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

  • اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے-

    ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھی ہے جو باہمی اعتماد اور نیک نیتی کے فروغ سے مزید مضبوط ہو سکتا ہےایرانی سفیر نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ برادر ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کے انعقاد میں مثبت کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کاوشوں سے مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہو ئے، جہاں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں،ایرانی اعلیٰ سطح مذاکراتی وفد نے وقار، خود اعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ مذاکرات کیے، تاکہ ایرا نی عوام کے قومی مفادات اور جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جو تمام فریقین کے مفاد ات کے لیے پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔

  • امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث اعتماد کا فقدان برقرار ہے-

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم 2 سابقہ جنگوں کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد موجود نہیں،ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، جبکہ اب امریکا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

    قالیباف کے مطابق ایران سفارتکاری کو اپنی طاقت کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے، جو عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعما ل ہوتی ہے، ایران اپنی قومی دفاعی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کسی بھی لمحے اپنی کوششیں ترک نہیں کرے گاانہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر اپنے برادر اور دوست ملک پاکستان کا شکر گزار ہے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشا ت کا اظہار کرتا ہے۔

    ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایران 9 کروڑ عوام پر مشتمل ایک مضبوط قوم ہے، جس نے سپریم لیڈر کی رہنمائی میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیاعوام کی حمایت نے وفد کو حوصلہ دیا اور طویل 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں شریک ٹیم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں انہوں نے ایران کی سلامتی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔