کے پی کے ضلع مردان پاکستان تحریک انصاف پشاور ریجن کے صدر عاطف خان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا،
پولیس اس سے پہلے سابق صوبائی وزیر کے مردان اور اسلام آباد رہائشگاہ پر کئی پار چھاپے مار چکی ہے۔ جبکہ انکے فار ماسیوٹیکل فیکٹری کے ملازمین کو گرفتار کرکے فیکٹری کو سیل کردیا گیا۔ دوسری جانب مردان میں سابق ایم پی اے ظاہر شاہ طورو کے گھر پر بھی پولیس نے چھاپا مارا لیکن ظاہر طورو گھر پر موجود نہیں تھے، پولیس کے مطابق گھر پر چھاپے کے وقت لیڈیز پولیس اہلکا ر بھی موجود تھی،ظاہر شاہ طورو اور سابق وزیر عاظف خان پر 9 اور 10 مئی کے پر تشدد واقعات کے مقدمات درج ہے،
پولیس مردان سے اب تک کسی سابق رکن صوبائی اسمبلی کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ہے
Tag: پشاور

کے پی کے سابق وزیر اور ایم پی اے کے گھر پر پولیس کا چھاپہ

پشاور میں قربانی کے دوران 424 افراد زخمی ہوئے
پشاورمیں عید الاضحی کے موقع پر چھری لگنے سے 424 افراد زخمی جبکہ بسیار خوری پر 1800 افراد اسپتال لائے گئے،
پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال حکام کے مطابق 424 افراد قربانی کے دوران مختلف واقعات میں زخمی ہوئے ، اور قربانی کا گوشت اور دوسرے کھانے زیادہ مقدار میں کھانے کی وجہ سے 1800 افراد کو ہسپتال لایا گیا، خیبر ٹیچنگ اسپتال کے حکام کے مطابق عید کی تعطیلات کے دوران تمام تر سہولیات کو بروئے کار لایا گیا،
اسپتال کے حکام نے بتایاکہ عید پر بسیار خوری پر 1800 افراد کو اسپتال لایا گیا جنہیں طبی امداد دی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ عید کی تعطیلات کے دوران تمام تر سہولیات کو بروئے کار لایا گیا اور اسپتال کے تمام وارڈز اور ایمرجنسی میں ڈاکٹرز اور نرسز نے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔
چارسدہ کے عوام کو ناروا لوڈشیڈنگ کا سامنا
چارسدہ عید الضحٰی کے موقع پر بھی ظالمانہ لوڈشیڈنگ جاری، چارسدہ گریڈ سٹیشن سے منسلک مختلف فیڈر پر 8 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ اور ساتھ میں مختلف فیڈر پر وولٹیج نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،حکومتی دعؤوں کے باوجود عید پر بلا تعطل بجلی فراہم نہ کی گئی،8 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے لیکن عید الاضحی کے موقع پر عوام اس ظالمانہ لوڈ شیڈنگ سے تنگ آچکے ہے،چارسدہ مردان صوابی اور دیگر اضلاع کے عوام کا حکومت سے پر زور مطالبہ ہے کہ عید کے دوران انکو بجلی فراہم کی جائے،ورنہ شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا،
دوسری جانب چارسدہ میں تنگی گریڈ سٹیشن سے منسلک فیڈر پر 8 سے 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہونے کے ساتھ ولٹیج نہ ہونے کے برابر ہے، اسکے علاوہ بار بار ٹرپنگ بھی جاری جن کی وجہ گھروں مارکیٹوں اور مساجد میں بجلی کے آلات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے،عوام کا مطالبہ ہے کہ ہمیں پورے ولتیج کے ساتھ بجلی فراہم کی جائے،
پشاور شہر میں سکیورٹی کے بہترین انتظامات
کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے 4000 سے زائد پولیس افسران و اہلکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔شہر کے تمام تفریحی مقامات پر بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ابابیل سکواڈ ، سٹی پیڑولنگ فورس، سپیشل موبائل شہر میں گشت کررہے ہیں۔ جبکہ تمام داخلی و خارجی راستوں پر سپیشل ناکہ بندیوں پر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہےٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے 1000 سے زائد ٹریفک اہلکار بھی تعینات ہیں۔شہریوں سے اپیل ہے کہ دوران ڈیوٹی ناکہ بندیوں پر موجود پولیس کیساتھ تعاون کریں سیر و تفریح کیلئے جانے والے شہری گھروں کو خالی چھوڑنے سے قبل پڑوسیوں اور متعلقہ تھانہ میں اطلاع کریں۔
پشاور پولیس شہر کی سیکورٹی کے لئے ہمہ وقت مصروف عمل ہے، شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی سے متعلق فوری 15 پر اطلاع دیں۔
کے پی کے وزیر اعلی ہاؤس کے کچن میں گیس لیکج
خیبر پختونخوا پشاور وزیر اعلی ہاؤس کے کچن میں گیس لیکج سے آگ بھڑک اٹھی، ریسکیو1122 کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریسکیو1122 کی میڈیکل اور فائر ویکل موقع پر پہنچ گئی، ریسکیو1122کے معلومات کے مطابق آگ کے باعث سعید قریشی نامی شخص جسکی عمر 40 سال ہے آگ بھڑکنے کے باعث جھلس گیا، جسکو ریسکیو1122 زخمی حالت میں برن سینٹر حیات آباد منتقل کردیا،

پشاور عیدالاضحی اور نماز عید اجتماعات کیلئے سکیورٹی پلان تشکیل
پشاور پولیس نے عیدالاضحی اور نماز عید کے بڑے اجتماعات کیلئے سکیورٹی پلان تشکیل دیدیا ہے جس کے تحت 4000 سے زائد پولیس اہلکار و افسران تعینات کیے جائیں گے، پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں پہلے ہی منسوخ کی جاچکی ہیں۔ سی سی پی او پشاور اشفاق انور کے مطابق سکیورٹی پلان کے تحت شہر میں ابابیل سکواڈ، سٹی پٹرولنگ اور پولیس موبائل گشت میں اضافہ کیساتھ ساتھ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔ تمام اہم بازاروں اور شاہراہوں پر اضافی پولیس نفری تعینات کرنے سمیت مویشی منڈیوں اور شہر میں مشتبہ و مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنے کیلئے سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ گنجان آباد بازاروں میں پولیس کی بکتربند گاڑیاں بھی موجود رہیں گی ۔ نماز عید کے بڑے اجتماع سمیت گاؤں و شہر کی تمام حساس مساجد کو بھی فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائیگی۔

ضلع چارسدہ نئے ڈی ایس پی سٹی تعینات
خیبر پختونخوا ضلع چارسدہ میں تعینات ڈی ایس پی سٹی عدنان اعظم خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی عدنان اعظم خان نے سٹی سرکل کے ایس ایچ اوز، محرران، اور بیٹ افسران سمیت انچارج چوکیات کے ساتھ میٹنگ کی۔ میٹنگ کے دوران انہوں نے عیدالاضحی کے موقع پر سیکیورٹی اور علاقہ میں کرائم کے خلاف کاروائی سے آگاہی حاصل کی۔
ڈی ایس پی سٹی عدنان اعظم خان نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے، عیدالاضحی کے موقع پر سیکیورٹی کے مکمل انتظامات یقینی بنائے جائینگے۔ بازار میں پولیس کی گشت بڑھائی جائے جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں مزید سخت کرکے باہر سے آنے والے مشکوک لوگوں پر کھڑی نگرانی رکھیں۔
ڈی ایس پی سٹی نے مزید کہا کہ چارسدہ پولیس نے ہمیشہ ہنگامی حالات میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور انشاءاللہ آئندہ بھی ہر قسم کے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔
پشاور بھر میں صفائی اور آلائشیں ٹھکانے لگانے کیلئے خصوصی پلان تیار
عید الاضحیٰ کے موقع پر پشاور بھر میں صفائی اور آلائشیں ٹھکانے لگانے کیلئے خصوصی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ ترجمان ڈبلیو ایس ایس پی کے مطابق عید صفائی آپریشن میں 3259اہلکار حصہ لینگے، 683 گاڑیوں کے ذریعے قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اٹھائی جائیں گی، 1827سنیٹری ورکرز ، 756 کٹھہ قلی ، 383 ڈرائیوروں سمیت دیگر اہلکار بھی فرائض انجام دینگے، ترجمان نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پرائمری سطح پر آپریشن 324، سیکنڈری آپریشن 30 بڑی اور 329 آؤٹ سورس گاڑیوں کے ذریعے چلایا جائے گا۔ الائشوں کے پوائنٹس کی نشاندہی کیلئے چونے اور سپرے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایس ایس پی ترجمان کا کہنا تھا کہ گلی محلوں سے آلائشیں جمع کرنے کے لئے 25 کلیکشن پوائنٹس اور ٹرانسفر سٹیشن قائم کئے گئے ہیں اور صفائی کے حوالے سے شہریوں میں نہ صرف پمفلٹس تقسیم کئے گئے ہیں بلکہ آلائشیں اٹھانے کے لئے شہریوں میں تھیلے بھی فراہم کئے گئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ شہر بھر میں آپریشن کی مانیٹرنگ کیلئے ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جبکہ ڈمپنگ سائٹ میں دو سو فٹ لمبا اور 90 فٹ چوڑا گڑھا کھودا گیا ہے جہاں شہر بھر سے الائشین تلف کی جائیں گی۔
کے پی کے نگران وزیر اعلی کا سکھ برادری سے تعزیت کا اظہار
نگران وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد اعظم خان سے گزشتہ روز پشاور میں قتل ہونے والے سکھ شہری من موہن سنگھ اور زخمی ترلوک سنگھ کے ورثاء اور دیگر نے ملاقات کی ہے، اس موقع پرنگران صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ نگران وزیراعلی نے من موہن سنگھ کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک ہے، وزیراعلیٰ نے سکھ کمیونٹی اور متاثرہ خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکھ برادری کے لوگ انتہائی پرامن اور محب وطن ہیں،قومی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کا کردار قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مذید کہا کہ نگران صوبائی حکومت اقلیتوں کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، شرپسندوں کا اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا مقصد ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا اور ملک کو عدم استحکام پیدا کرنا ہے لیکن ان عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے،
محمد اعظم خان نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے، اس موقع پر انہوں نے آئی جی پی کو سکھ کمیونٹی کے ساتھ بیٹھ کر ان کے لئے سیکورٹی پلان ترتیب دینے اور سکھ کمیونٹی کے رہائشی اور کاروباری علاقوں میں سی سی ٹی کیمروں کی تنصیب کے خصوصی اقدامات کی ہدایت جاری کئے،اور سکھ برادری کے قتل ہونے والے من موہن سنگھ اور زخمی ترلوک سنگھ کے خاندانوں میں چیک تقسیم کئے، جس پروفد نے صوبائی حکومت کا ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے پر نگران وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا۔
پشاورایل آر ایچ کا طبی اور انتظامی عملہ عید کی چھٹیوں میں بھی ڈیوٹی پر مامور رہے گا
پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کیمطابق ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، گائنی اور پیڈیاٹرک ایمرجنسی سمیت، نرسری، ڈائیلاسز یونٹ مکمل طور پر فعال رہے گا جبکہ بلڈ بینک سمیت فارمیسی، انپیشنٹ ڈیپارٹمنٹ فعال رہے گا اور تمام یونٹس میں ایمرجنسی داخلے بھی ہونگے۔داخل مریضوں کا علاج بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گا جس کے لئے ہر یونٹ کے ہیڈ نے ڈیوٹی روٹا بنا دیا ہے اسی طرح نرسنگ، پیرامیڈیکل، ہاؤس کیپنگ ڈیپارٹمنٹس بھی اپنی خدمات عید کی چھٹیوں میں فراہم کریں گے جبکہ انتظامی افسران بھی چوبیس گھنٹے موجود رہیں گے۔ای سی جی اور ریڈیالوجی سروسز سمیت لیبارٹریز بھی چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرے گی۔ عید قربان کے موقع پر قربانی کرتے وقت ممکنہ طور پر زخمی ہونے والے شہریوں کے لئے ایمرجنسی میں طبی عملہ موجود رہے گا۔









