Baaghi TV

Tag: پمز اسپتال

  • سانحہ پمز :تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    سانحہ پمز :تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پمز اسپتال میں 26 اگست کو پیش آنے والے اندوہناک واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

    ایڈووکیٹ قاسم اقبال جلالی نے ذاتی حیثیت میں دائر درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج یا سیشن جج ویسٹ پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26 اگست کو پمز ہسپتال میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جس کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقا ت ضروری ہیں، درخواست گزار نے عدالت سے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے فرانزک کرانے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی ہے۔

    درخواست میں پمز ہسپتال کے فائر الارم سسٹم کا مکمل آڈٹ کرانے کی ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ ہسپتال میں نصب حفاظتی نظام مؤثر طور پر کام کر رہا تھا یا نہیں اور واقعے کے دوران اس میں کسی قسم کی غفلت یا خرابی موجود تھی، درخواست میں وفاقی حکومت، سیکریٹری د اخلہ، سیکریٹری صحت، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار نے حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حکومتی کمیٹی میں شامل بعض افسران مفادات کے ٹکراؤ کے باعث تحقیقات کا حصہ نہیں بن سکتے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ انصاف کا بنیادی تقاضا اور قانونی اصول ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی معاملے میں تفتیشی اور جج نہیں ہوسکتا، اس لیے واقعے کی تحقیقات ایسے آزاد اور غیر جانب دار فورم سے کرائی جانی چاہئیں جو کسی ممکنہ فریق یا متعلقہ ادارے کے زیر اثر نہ ہو۔

    درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوام کی جانب سے بھی بڑے پیمانے پر حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی نگرانی میں کمیشن کا قیام ضروری ہے۔

    درخواست گزار نے بالخصوص ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں موجودگی کو مفادات کا واضح ٹکراؤ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود ممکنہ طور پر ذمہ داروں میں شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے ان کی موجودگی میں شفاف تحقیقات پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سانحہ پمز کی وجوہات، ذمہ داروں اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور فرانزک تحقیقات سمیت فائر سیفٹی نظام کا مکمل آڈٹ کرایا جائے۔

  • پمز اسپتال کے مالیاتی بجٹ کی تفصیلات جاری

    پمز اسپتال کے مالیاتی بجٹ کی تفصیلات جاری

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں 15 نومولود کی ہلاکت کے بعد اسپتال کے مالیاتی بجٹ کی تفصیلات بھی سامنے آگئی۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ تین سال کے دوران پمز اسپتال کو 22ارب روپے کا بجٹ دیا گیا،گزشتہ سال پمز اسپتال کے لیے وفاقی حکومت نے 6ارب 84کروڑ بجٹ مختص کیا جبکہ پمز اسپتال انتظامیہ نے مختص بجٹ کے برعکس 7ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے۔

    گزشتہ سال پمز اسپتال انتظامیہ نے 66کروڑ اضافی بجٹ وصول کیا اور رواں سال پمز اسپتال کے لیے 7 ارب 63 کروڑ بجٹ مختص کیا گیاوفاقی حکومت نے رپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں پمز اسپتال کو 50کروڑ روپے دیے، رواں سال رپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں 23کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

  • پمز اسپتال سانحہ:  زندہ بچنے والی واحد نومولود کی خالہ نے انتظامیہ کا پول کھول دیا

    پمز اسپتال سانحہ: زندہ بچنے والی واحد نومولود کی خالہ نے انتظامیہ کا پول کھول دیا

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود کی خالہ نے ہوشربا انکشافات کر دیے۔

    نومولود کی خالہ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وہ موقع پر موجود تھیں، جیسے ہی آگ بھڑکی وہ وارڈ کی جانب دوڑیں جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر اپنی جان بچا کر باہر نکل رہی تھی ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اندر جا کر اپنی مدد آپ کے تحت بھانجی کو اٹھایا، اس دوران آگ ان کے بالوں اور کندھے تک پہنچی۔

    انہوں نے بتایا کہ وارڈ میں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی اور عملہ اپنی جان بچانے میں مصروف تھا وہاں ایک مرد ڈاکٹر تھا وہ بھی بھاگ گیا، اس کے علاوہ بھی سب جا چکے تھے، میری بہن کا آپریشن ہوا تھا میں نے اسے اور بچی کو لیا اور میں بھی بھاگی اور دونوں کو فوری طور پر پولی کلینک لے آئی، پمز انتظامیہ ہم سے مسلسل رابطہ کر رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم کسی اور کا بچہ لے آئے ہیں اور کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے بچایا، انہوں نے پمز انتطامیہ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

    واضح رہے کہ اس واقعے میں 15 نومولود جاں بحق ہوئے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے لگی تھی۔

  • پمز اسپتال میں آتشزدگی: امیر جماعت اسلامی کا شدید افسوس کا اظہار

    پمز اسپتال میں آتشزدگی: امیر جماعت اسلامی کا شدید افسوس کا اظہار

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہاہے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں پیش آنے والے نہایت دلخراش واقعے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق ایکس پر اپنے ردعمل میں حافظ نعیم نے کہا کہ جو لوگ وفاقی دارالحکومت میں واقع اسپتال کو نہیں سنبھال سکتے وہ پورا ملک کیا سنبھالیں گے؟15 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے، ان کے والدین پر قیامت گزر گئی ہے، والدین کا یہ سوال بجا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اور عملہ کدھر تھا؟۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ درحقیقت پی ڈی ایم حکومت اور اتحادی جماعتوں کی کارکردگی بدترین ہے، وفاقی حکومت اور اس کے وزراء و ماتحت بیورو کریسی کی نااہلی انتہا کو چھو رہی ہے، صوبائی حکومتوں کا بھی یہی معاملہ ہے،چالیس پچاس سال سے یہی جماعتیں حکومت کررہی ہیں مگر یہ معیشت، قیام امن، تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبوں میں ناکام ہوچکے ہیں، ان کے گڈ گورننس کے نعرے دفن ہوگئے۔

  • سی ڈی اےنے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی

    سی ڈی اےنے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز اسپتال) کے چلڈرن نرسری وارڈ میں جان لیوا آتشزدگی کی تحقیقات سے متعلق سی ڈی اے فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے رپورٹ جاری کر دی-

    سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق نرسری وارڈ میں آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈنگ کے باعث لگی،آتشزدگی کی اطلاع صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے صرف 6 منٹ بعد فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی اور ریسکیو وین جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

    رپورٹ کے مطابق فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے نرسری وارڈ سے 7 بچوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکالا، تاہم آتشزدگی کے نتیجے میں 7 بچے جاں بحق ہوگئے متاثرہ افراد میں 7 بچے، 10 خواتین اور 2 مرد شامل تھے،پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں فائر اور لائف سیفٹی کے انتظامات ناکافی تھے اور متعدد انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائے گئے۔

    report

    ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے لاک ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف رکاوٹوں کا بھی شکار تھے، جس کے باعث ایمرجنسی کی صورت میں جان بچانے کے اقدامات متاثر ہوئے،ہسپتال کے سیکیورٹی عملے کی جانب سے فائر عملے کے ابتدائی ریسپانس میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی، جبکہ آتشزدگی کے مقام پر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے۔

    سی ڈی اے کے مطابق آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں 6 فائر ٹینڈرز، 6 ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وین نے حصہ لیا، آپریشن کے لیے واٹر باؤزر سمیت 44 آپریشنل اہلکار اور 6 افسران تعینات کیے گئے، جی 10، آئی 9، جی 5 اور ایف ایچ کیو کی ٹیمیں بھی آتشزدگی کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروا ئیو ں میں حصہ لیا۔

  • آگ نے اتنی تیزی سے شدت اختیار کی کہ اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہوگیا،مصطفیٰ کمال

    آگ نے اتنی تیزی سے شدت اختیار کی کہ اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہوگیا،مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر برائے قومی صحت سروسز سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز اسپتال) میں آتشزدگی کے باعث متاثرہ والدین کے غم اور دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ افسوسناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے ہیں، محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل اور ہیلتھ سیکریٹری اس وقت پمز اسپتال میں موجود ہیں اور امدادی و انتظامی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آگ صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد لگی،‘کمپریسر پھٹنے کے فوراً بعد اچانک بجلی کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا اور آگ تیزی سے پھیل گئی، واقعے کے وقت انتہائی نگہداشت یونٹ یعنی آئی سی یو میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ موجود تھا، جنہوں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی،تاہم آگ نے اتنی تیزی سے شدت اختیار کی کہ اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے وقت اسپتال میں موجود آگ بجھانے کے تمام آلات مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال تھےتاہم وارڈ میں آکسیجن کی بڑی مقدار موجود ہونے کے باعث آگ نے انتہائی تیزی سے پھیلاؤ اختیار کیا،حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، اسپتال حکام نے تصدیق کردی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے، ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث بھڑکی،اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیا ب ہوئیں جبکہ 15 بچے جان کی بازی ہار گئے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، جبکہ بیشتر بچے شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہوئے،واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لے لیا اور حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات دی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ دران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائےشہباز شریف نے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت کیا انہوں نے کہا کہ اس اندوہ ناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے،والدین کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

  • پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    عمران خان کو فالو اپ طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا جہاں ان کی آنکھ کے علاج کا اہم مرحلہ مکمل کر لیا گیا۔

    پریس ریلیز کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران احمد خان نیازی کو 24 فروری 2026 کو آنکھ کے علاج کے سلسلے میں اینٹی VEGF انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک لگانے کے لیے اسپتال لایا گیا طبی عمل سے قبل ماہرین کے بورڈ نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا، جس میں کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ کی جانب سے ایکو کارڈیوگرافی اور ای سی جی کی گئی، جن کے نتائج نارمل آئے جبکہ کنسلٹنٹ فزیشن نے بھی انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا۔

    دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے،سیف اللہ قصوری

    ڈاکٹرز نے باقاعدہ رضامندی حاصل کرنے کے بعد آپریشن تھیٹر میں مقررہ حفاظتی پروٹوکول اور مانیٹرنگ کے تحت کنسلٹنٹ آپتھلمولوجسٹ کی نگرانی میں مائیکروسکوپی گائیڈنس کے ساتھ اینٹی VEGF انجیکشن کی دوسری خوراک دی، جسے کامیاب قرار دیا گیا ،یہ انجیکشن کنسلٹنٹ ماہر امراضِ چشم، کنسلٹنٹ وٹریو ریٹینل سرجن کی نگرانی میں لگایا گیا، جن کا تعلق پمز اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال سے تھا،طبی عمل کے بعد عمران خان کو مزید نگرانی کے لیے ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی رکھا گیا جبکہ ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے،یہ ایک ڈے کیئر سرجری تھی، یعنی مریض کو اسی روز فارغ کر دیا گیا،انہیں ضروری ہدایات، فالو اَپ شیڈول اور طبی دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔

    افغانستان کوبتادیا ہے دہشتگرد اورپاکستان میں کسی ایک کا انتخاب کرلیں، رانا ثنااللہ

    واضح رہے کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں اور انہیں آنکھوں کے جاری علاج کے سلسلے میں اسپتال لایا گیا تھا۔

  • بنیادی مرکز صحت کمی کی وجہ سےلوگ بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    بنیادی مرکز صحت کمی کی وجہ سےلوگ بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ تمام آبادی کا علاج نہیں کرسکتے جدید دنیا کی طرح ٹیلی میڈیسن پر جانا چاہیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پمز اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بنیادی مرکز صحت نہ ہونے کے باعث لوگ بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ گھر کی دہلیز پر دوا اور ڈاکٹر مہیا کرنا ہے۔ تمام آبادی کا علاج نہیں کرسکتے جدید دنیا کو سامنے رکھ کر ٹیلی میڈیسن پرجانا چاہیے۔ 2.1 ارب کی لاگت سے 7 آپریشن تھیٹر بنائے گئے ہیں۔ جدید آپریشن تھیٹر میں اسٹیٹ آف دا آرٹ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ چیزیں آئیڈیل نہیں لیکن بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پمز کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر دینے کا منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ ہیلتھ کارڈ پر آنے والے دنوں پر کام کریں گے۔

    وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ صحت کا شعبہ اللہ کی مخلوق سے منسلک ہے۔ انسان جب تکلیف میں ہوتا ہے تو اسپتالوں کی طرف آتا ہے۔ غریب سرکاری اسپتالوں میں آتا ہے جبکہ امیر پرائیوٹ اسپتال جا سکتے ہیں۔دوسری جانب پمز کے دورے میں مریضوں نے وزیر صحت کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیئے۔ ایک مریض نے کا کہنا تھا کہ یہاں میڈیسن نہیں مل رہی اور بیڈ میسر نہیں ہیں۔ گزشتہ ماہ ایکسرے کی فلمز ختم تھیں مریضوں کو پرائیویٹ لیبارٹریوں کے چکر لگوائے گئے۔

    فیصل آباد،مسافر وین اور کار کی ٹکر، 26 افراد زخمی

    ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے معلومات لیکر ڈکیتی اور اغوا ، 2 جعلی پولیس اہلکار گرفتار

    کراچی میں کل سے گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان

    غیر ملکیوں کے خلاف ایکشن، جڑواں شہروں سے 60 افغان گرفتار

    مارچ کے مہینے میں تجارتی خسارے میں کمی ریکارڈ کی گئی

  • پی ٹی آئی پروپیگنڈےکو پمز اسپتال نے نقاب کردیا

    پی ٹی آئی پروپیگنڈےکو پمز اسپتال نے نقاب کردیا

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے پروپیگنڈےکے حوالے سے پمز اسپتال کا وضاحتی بیان سامنے آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پمز اسپتال کی انتظامیہ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے پرپیگینڈہ کو بے نقاب کردیا ہے۔پمز اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مظاہرین کی اموات کے بارے میں چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 66 قانون نافذ کرنے والے ادارے جب کہ 36 سویلینز کو ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔اسپتال انتظامیہ نے مزید بتایا کہ زیادہ تر افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا تھے جب کہ بقیہ کچھ افراد کی طبی امداد جاری ہے۔

    فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    ایف آئی اے چھاپہ، مینیجر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    جلا ہوا پی ٹی آئی کا کنٹینر لوگ دیکھنے پہنچ گئے

    قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی