Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی ورکر ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق سوال پر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں

    پی ٹی آئی ورکر ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق سوال پر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں

    پی ٹی آئی ورکر ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق سوال پر پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں ظل شاہ کی موت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ظل شاہ کو اسپتال لانے والی گاڑی کے مالک کا 2 دن پہلے سے پتہ تھا-

    عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    میزبان نے کہا کہ میڈٰیا کو کیوں نہیں بتایا؟ جس پر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں اور کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں صرف سوشل میڈٰیا دیکھتی ہوں میرے پاس اور بھی کرنے کیلئے بہت سے کام ہیں،جھوٹ پر جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے-

    پنجاب کی سابق صوبائی وزیر صحت اور تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد ظل شاہ کی موت کے بارے میں جانتے ہوئے بھی خاموش رہیں انہوں نے ظل شاہ کی موت کا علم ہونے کے باوجود اسکو چھپائے رکھا اور وجہ نہ بتائی بلکہ تحریک انصاف کی پروپیگنڈہ ٹیم کا حصہ بنی رہیں جو پولیس پر الزامات لگاتی رہی۔ عوامی حلقوں نے یاسمین راشد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری جانب پنجاب کے نگران صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ یاسمین راشد کو اس کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے

    یاد رہے کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور آئی جی پنجاب عثمان انور نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ظلِ شاہ کی موت گاڑی کی ٹکر سے ہوئی، جس گاڑی میں اس کی لاش اسپتال لائی گئی اس کا مالک پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کا رکن راجا شکیل ہے، اسی نے یاسمین راشد کو معلومات دی کہ گاڑی سے بندہ ہٹ ہوا، یاسمین راشد نے راجا شکیل کو کہا آپ میرے ساتھ کل زمان پارک چلیں، ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، وہاں یہ سازش رچائی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، یاسمین راشدزمان پارک کےاندرگئیں اورباہر آکر راجاشکیل کوکہاکہ بے فکر ہوجائیں۔

    بعد ازاں نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں ویڈیو لنک سے خطاب میں عمران خان نے عمران خان نے ظل شاہ کی کار حادثے میں ہلاکت کے بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ ظل شاہ کو پولیس نے دوران حراست تشدد کرکے شہید کیا۔

    صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ظل شاہ کوشہید کیاگیا میں اس کی ویڈیوزسوشل میڈیا پردیکھتا رہا،26 سال کی سیاست میں مشکل سے مشکل وقت آیا 25 مئی کو بھی ہمارے کارکنوں پر بڑا ظلم ہوا 11سال کے بچے کو پکڑ کر لے گئے خواتین پر تشدد کیا گیا، 25 مئی کو ہمارے دو کارکن شہید کیے گئے تب بھی یہ درندے پولیس والے تھے-

    انہوں نے کہا کہ ظل شاہ کی شہادت سے صرف مجھے نہیں قوم کو تکلیف ہوئی، 25 مئی کو انھوں نے ظل شاہ کا بازو توڑ دیا تھا وہ اپنی دنیا میں رہنے والا شخص تھا، پولیس اسے وین میں ڈال کر لے گئی، ڈیڑھے گھنٹے اس کے ساتھ کیا کیا؟ بعدازاں اس کی لاش سڑک سے ملی ذہن نہیں مانتا کہ یہ کس طرح کے درندے تھے، ظل شاہ کی تصویریں دیکھیں اس کے ساتھ ظلم کرکے لاش سڑک پر پھیینکی گئی ظل شاہ کے جسم پر 60 جگہ تشدد کے نشانات ہیں،ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا جس کے ذہن میں ہمارے خلاف زہر تھا،پہلے یہ ظل شاہ کا قتل مجھ پر ڈال رہے تھے آج یہ پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ ظل شاہ کے ساتھ حادثہ ہواہے-

    ایم پی اے سردار یار محمد رند کے فرزند کے قافلے پر حملہ،دو محافظ جاں بحق ایک زخمی

  • عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان کیا تاہم ڈپٹی کمشنر لاہور نے تحریک انصاف کو کل انتخابی ریلی نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے-

    باغی ٹی وی: اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ میچ کی وجہ سے کل ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے،اگر ریلی نکالی تو دفعہ 144 نافذ کردیں گے-

    دریں اثنا نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں ویڈیو لنک سے خطاب میں عمران خان نے عمران خان نے ظل شاہ کی کار حادثے میں ہلاکت کے بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ ظل شاہ کو پولیس نے دوران حراست تشدد کرکے شہید کیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ظل شاہ کوشہید کیاگیا میں اس کی ویڈیوزسوشل میڈیا پردیکھتا رہا،26 سال کی سیاست میں مشکل سے مشکل وقت آیا 25 مئی کو بھی ہمارے کارکنوں پر بڑا ظلم ہوا 11سال کے بچے کو پکڑ کر لے گئے خواتین پر تشدد کیا گیا، 25 مئی کو ہمارے دو کارکن شہید کیے گئے تب بھی یہ درندے پولیس والے تھے-

    انہوں نے کہا کہ ظل شاہ کی شہادت سے صرف مجھے نہیں قوم کو تکلیف ہوئی، 25 مئی کو انھوں نے ظل شاہ کا بازو توڑ دیا تھا وہ اپنی دنیا میں رہنے والا شخص تھا، پولیس اسے وین میں ڈال کر لے گئی، ڈیڑھے گھنٹے اس کے ساتھ کیا کیا؟ بعدازاں اس کی لاش سڑک سے ملی ذہن نہیں مانتا کہ یہ کس طرح کے درندے تھے، ظل شاہ کی تصویریں دیکھیں اس کے ساتھ ظلم کرکے لاش سڑک پر پھیینکی گئی ظل شاہ کے جسم پر 60 جگہ تشدد کے نشانات ہیں-

    عمران خان نے کہا کہ ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا جس کے ذہن میں ہمارے خلاف زہر تھا،پہلے یہ ظل شاہ کا قتل مجھ پر ڈال رہے تھے آج یہ پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ ظل شاہ کے ساتھ حادثہ ہواہے، 25 مئی میں جو سی سی پی او ملوث تھا اس کو خاص بلاکر لگایا گیا، پولیس والے نے پیغام دیا کہ ہم نے تشدد نہیں کیا نامعلوم افراد نے کیا آئی جی پنجاب کو دوبارہ ظلم کرنے کے لیے خاص بلایا گیا جن میں دو ایس پی بھی شامل ہیں جن کی شکلیں ہم یاد رکھیں گے۔


    سی سائیکو پیتھ نے شہباز گل پر تشدد کرایا شہباز گل ابھی تک پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا، شہباز گل کو خواجہ آصف کے بیان پر اٹھایا گیا تھا، شہباز گل سے کہوں گا خواجہ آصف کے خلاف پرچہ درج کرائے۔


    عمران خان نے اعلان کیا کہ پارٹی کو کہنا چاہتا ہوں سب تیار ہوں کل دو بجے الیکشن ریلی کی قیادت کروں گا، کل لاہور کے لوگوں نکلنا ہے یہ بتانے کیلئے کہ ہم بھیڑ بکریاں نہیں، کل لاہور کے لوگ نکلیں گے کل ان کو بتائیں گے کہ قوم کہاں کھڑی ہے۔


    انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی کوشش ہے مجھے قتل کرکے یا کوئی دھماکے کرکے الیکشن کینسل کرائیں، مجھے پتا ہے کہ الیکشن روکنے کے لیے انھوں نے کچھ کرنا ہے، قوم ساری ہمارے ساتھ کھڑی ہے اس لیے یہ ڈرے ہوئے ہیں، جن کا کام قوم کو بچانا ہے وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں خون کے آخری قطرے تک ان کا مقابلہ کروں گا،قوم اپنے لیے میرے ساتھ کھڑی ہو۔یہ لوگ ملک کے حالات جہاں لے آئے ہیں وہاں آپُکے بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے قوم کھڑی ہو-

  • حالات جیسے بھی ہوں سابق حکومت کے معاہدوں کی پاسداری کی جائے گی،اسحاق ڈار

    حالات جیسے بھی ہوں سابق حکومت کے معاہدوں کی پاسداری کی جائے گی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں سابق حکومت کے معاہدوں کی پاسداری کی جائے گی،تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ میثاق معیشت کریں۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ معاشی بحران اتحادی حکومت کو ورثے میں ملا ہے لیکن حکومت معاشی بحالی کے لیے کوشاں ہے جلد معاشی مسائل پر قابو پالیں گے۔

    حقوق پورے کہ ادھورے؟

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا، اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں گمراہ کن ہیں، پاکستانی معیشت سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جاتا ہے میں تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ میثاق معیشت کریں، اس میثاق معیشت میں کوئی بھی تبدیلی نہ کرے، سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میثاق معیشت کو خوش آمدید کہتا ہوں، ہم جن عہدوں پر ہیں امین ہیں،اللہ اور عوام کو جوابدہ ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 2018 سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے پروگرام سے انحراف کیا، ترقیاتی اداروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا، پی ٹی آئی کی غلط پالیسیوں کے باعث بیرونی سرمایہ کاری کا فقدان پیدا ہوا اور بجٹ خسارے میں بھی اضافہ ہوا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ کچھ دنوں میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے کی امید ہے، حالات جیسے بھی ہوں سابق حکومت کے معاہدوں کی پاسداری کی جائے گی اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیرہوئی ہے مگر یہ اب ہونے والا ہے.

    لاہور: سول جج فاروق احمد نوکری سے برطرف

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کرنےکے اقدامات کیے ہیں، ملک کی معاشی مشکلات کو ختم کرنےکے لیے سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کے لیے 16 ارب ڈالر درکار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پچھلے دور میں پاکستان 24ویں بڑی معیشت بن گیا تھا، پاکستان ایشیا کی بہترین مارکیٹ تھی جو گزشتہ حکومت کی غلط پالیسی سےتنزلی کا شکار ہوئی، گزشتہ چار سالوں میں فی کس آمدنی میں صرف تیس ڈالر کا اضافہ ہوا، ہمارے دور میں فی کس آمدنی میں 373 ڈالر کا اضافہ ہوا۔

    گمراہ عناصر بلوچستان کےعوام اورمسلح افواج کےعزم کومتزلزل نہیں کرسکتے،آرمی چیف

  • عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن  معطل

    عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن معطل کر دیا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس شمس محمود مرزا نے سماعت کی-

    تحریک انصاف کے رہنما عامر کیانی اورعمران اسماعیل کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

    دوران سماعت جسٹس شمس محمود مرزا نے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ پر اس طرح پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔یہ توآزادی اظہار رائے کیخلاف ہے۔

    پیمرا کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ معاملہ یہاں نہیں سنا جا سکتا ہے، فل بینچ نے سماعت کرنا ہے۔میری عدالت سے درخواست ہے کہ یہ دائرہ اختیار نہیں ہے۔

    متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ آئندہ چیئرمین پیمرا سے کہیے گا کہ آپ سے مشاورت کر لیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ پیمرا نے عمران خان کی اور تقاریر نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔بیانات اور تقاریر پر پابندی لگانا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر

    بعد ازاں دوبارہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس شمس محمود مرزا نے پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست کو مزید سماعت کے لیے فل بینچ کو بھجوا دیا۔عمران خان نے پیمرا کی جانب سے پابندی کے نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔عدالت نے وفاقی حکومت سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کاروائی 13مارچ تک ملتوی کردی۔

    پیمرا نے 5 مارچ کو عمران خان کی جانب سے ریاستی اداروں پر الزامات کے حوالے سے ان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

  • الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گے،راناثنا اللہ

    الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گے،راناثنا اللہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گے-

    باغی ٹی وی: رانا ثنااللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم توہین عدالت کا رسک نہیں لے رہے، عمران خان نے عدالتوں میں پیش ہونے سے انکار کیا تو لازمی ہے اسے گرفتار کرکے پیش کیا جائے گا، یہ عدالت میں پیش ہو، بری ہوتا ہے تو ہوجائے، سزا ملے تو سامنا کرے۔

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گےاپنے وسائل الیکشن کمیشن کےسامنے رکھیں گے 30 اپریل کو الیکشن ہوتا ہے تو حصہ لیں گے، آئین میں صرف 90 دن میں الیکشن کا درج نہیں، آئین میں درج ہے کہ تمام الیکشن ایک ساتھ ہونا چاہیے اور تمام صوبوں میں نگران حکومت ہونا چاہیے۔

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ الیکشن میں عدلیہ نے اپنے لوگ دینے سے انکار کردیا ہے اور انتخابی عملے میں محکمہ تعلیم کا عملہ 85 فیصد ہوتا ہے، وہ مردم شماری میں مصروف ہے جب کہ آرمی نے بتایا کہ دہشت گردی صورتحال کے پیش نظر آرمی کے پاس فورسز کی کمی ہے۔

    ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

  • خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کی  عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کی عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق کیس میں عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی-

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے خاتون جج کو دھمکانے کے کیس عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی چیئرمین پی ٹی آ ئی عمران خان نے آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی-درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ اسلام آباد سفر کر سکیں، چیئرمین پی ٹی آ ئی عمران خان کی جان کو خطرہ سنجیدہ نوعیت کا ہے درخواست میں استدعا کی گئی کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر آج حاضری سے استثنیٰ دیا جائے-عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کو سیکیورٹی تھریٹس اور لاہور میں دفعہ 144 نافذ ہے، پنجاب حکومت نے پرامن ریلی پر شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسائیں،عمران خان کی رہائش گاہ سے نقل حرکت کرنا مشکل ہے-

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

    عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت13 مارچ ملتوی کردی

  • لاہور میں ہنگامہ آرائی اور  پرتشدد واقعات،عمران خان پر مقدمہ درج

    لاہور میں ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات،عمران خان پر مقدمہ درج

    لاہور میں گزشتہ روز کی ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : عمران خان پر مقدمہ ڈی ایس پی رائیونڈ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ایف آئی آر کے متن کے مطابق مسلح افراد سمیت تین، چار سو افراد پر مشتمل جتھے نے ہنگامہ آرائی کی، جتھے میں شریک افراد قومی سلامتی کے اداروں کو دھمکیاں دے رہے تھے-

    ایف آئی آر کے مطابق پی ٹی آئی کارکن عمران خان، حسان نیازی، فرخ حبیب، فواد چوہدری، حماد اظہر، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کےکہنے پر اداروں کودھمکیاں دیتے رہے پی ٹی آئی کےمشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور ڈنڈے برسائے جس میں 13 پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے، پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ کی وجہ سے ان کے اپنے 6 کارکن بھی زخمی ہوئے۔

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    واضح رہےکہ گزشتہ روز تحریک انصاف نے آئین اور عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالنےکا اعلان کیا تھا اور عمران خان نے بھی اس ریلی میں شرکت کرنی تھی تاہم محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں جلسہ ، جلوس ، ریلی پر پابندی عائد کردی جس کے تحت احتجاج ، دھرنے اور مظاہروں پر بھی پابندی عائد ہوگئی ہے، یہ پابندی سات روز تک جاری رہے گی۔

    زمان پارک لاہور میں پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن آمنے سامنے آگئے تھے صوبائی حکومت کی جانب سے دفعہ 144 نافذکی گئی تھی جس کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کے37 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

    اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …

    پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے پولیس نے پکڑ دھکڑ، شیلنگ اور آبی توپ کا استعمال بھی کیا،پولیس اور کارکنوں کی مڈ بھیڑ میں کئی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا ۔ پولیس نے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہےکہ لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے حملوں میں 2 ڈی ایس پیز سمیت 11 اہلکار زخمی ہوئے ہیں جب کہ پی ٹی آئی نے مبینہ پولیس تشدد سے اپنے ایک کارکن کی ہلاکت کا بھی الزام لگایا ہے۔

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

  • عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کل جمعرات کو اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کے خلاف کل 3 عدالتوں میں کیس سماعت کیلئے مقرر ہیں، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی قانونی ٹیم اور سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد کل اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    زمان پارک ، راستے بند، پولیس کی بھاری نفری، عمران خان کی گرفتاری متوقع

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ان کی ٹیم کی جانب سے سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جس کے بعد سینئر قیادت نے رائے دی کہ سکیورٹی خطرات ہیں کل اسلام آباد نہ جایا جائے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کل اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔

    عمران خان کی لیگل ٹیم سیکیورٹی خدشات پر استثنیٰ کی درخواستیں دائر کرے گی۔

    پنجاب پولیس کے تشدد سے ایک کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، پی ٹی …

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف کچہری میں خاتون جج کو دھمکانے کا کیس مقرر ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اقدام قتل، انسداد دہشت گردی عدالت میں تھانہ سنگجانی کا کیس مقرر ہےاسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کےخلاف کیس کی سماعت 3 بجے ہوگی۔

  • پنجاب پولیس کے تشدد سے ایک کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی کا دعویٰ

    پنجاب پولیس کے تشدد سے ایک کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے لاہور میں ریلی کو روکنے کے دوران پولیس تشدد سے ایک کارکن کے جاں بحق ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کے جاں بحق کارکن کی شناخت علی بلال کے نام سے ہوئی ہے اس حوالے سے سروسز اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علی بلال کے سر اور ناک پر چوٹ لگی ہوئی ہے، علی بلال کی موت کی وجہ کا تعین ڈاکٹرکریں گے۔

    مبینہ بیٹی ظاہر نہ کرنےکا کیس:عمران خان کی متفرق درخواست سماعت غیر معینہ مدت تک …


    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کارکن کسی صورت مشتعل نہ ہوں، یہ لوگ ملک میں خون چاہتے ہیں، ہم کسی صورت خون خرابہ نہیں چاہتے، رات کو پورا سکیورٹی پلان کلیئر ہوا تھا، پولیس نےشہریوں کی گاڑیوں کو توڑا۔


    شبلی فراز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آئین کو پامال کیا جا رہا ہے، ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ عمران خان پر حملے کی تیاری ہو رہی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان عوام سے رابطے میں نہ ہوں۔

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    پی ٹی آئی کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کے تشدد اور شیلنگ سے متعدد کارکنان زخمی ہوئے جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ایک کارکن بلال اسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق بلال کے سر پر پولیس نے ڈنڈے مارے تھے۔


    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مقتول کارکن کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ دیر قبل بلال زمان پارک کے باہر موجود تھا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کارکن کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نہتے ، جانثار اور پرجوش کارکن علی بلال کو پنجاب پولیس نےشہید کردیا، انتخابی ریلی میں شرکت کیلئےآنے والےنہتے کارکنان کیساتھ ایسا وحشیانہ سلوک نہایت شرمناک ہے۔

    انہوں نےکہا کہ پاکستان اس وقت خون کے پیاسےمجرموں کےچنگل میں ہے، ہم کارکن کے قتل کا مقدمہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی اور میں درج کرائیں گے۔ بلال کو پولیس حراست میں قتل کیا گیا۔

    اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر تشدد کرنے والے تین اہلکارمعطل

    دریں اثنا وزیر اعلی پنجاب سید محسن نقوی نے ہنگامہ آرائی میں مبینہ طور پر شہری کے جاں بحق ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا اور مکمل غیرجانبدارانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    نگران وزیراعلی پنجاب نے واقعے کی مکمل غیر جانبدرانہ اور حقائق وشواہد پر مبنی انکوائری کرنے کا حکم دیا کہا کہ جو بھی ملوث پایا جائے قانون کے تحت انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں،سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکشاف ہوا کہ جاں بحق شخص کو ایک پرائیویٹ گاڑی سروسز ہسپتال چھوڑ کر گئی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے اس گاڑی اور اس کے سواروں کی تلاش جاری ہے تاکہ سچائی سامنے آئےپوسٹ مارٹم، سیف سٹی رپورٹ کے بعد درست حقائق کا تعین ممکن ہوگا-

    ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے دکھائی جانے والی وڈیوز آج کی نہیں بلکہ پرانی اور جیل بھرو تحریک کی ہیں، دانستہ جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے کہ یہ شخص پولیس حراست میں تھا-

    دوسری جانب دوسری جانب پنجاب پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہر میں پی ٹی آئی اے کے پر تشدد ہنگاموں کے دوران لا اینڈ آرڈر کنٹرول کرتے ہوئے پولیس کی کئی جوان شدید زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے حملوں میں 2 ڈی ایس پیز سمیت 11 اہلکار زخمی ہوئے زخمیوں میں ڈی ایس پی سبزہ زار اور ڈی ایس پی ٹاؤن شپ سمیت ایس ایچ او ہنجروال شامل ہیں۔

    دیگر زخمیوں میں کانسٹیبل عرفان، ندیم، بلال اور وقار بھی شامل ہیں، زخمی اہلکاروں میں کانسٹیبل عبدالستار،علی عصمت، سکندر اور علی حمزہ بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے آئین اور عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

    زمان پارک ، راستے بند، پولیس کی بھاری نفری، عمران خان کی گرفتاری متوقع

    پنجاب حکومت کیجانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی ریلی روکنے کےلیے مال روڈ پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔ کینال روڈ سے زمان پارک کی طرف جانے والے تمام راستے بند کیے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرکے جلسہ ، جلوس ، ریلی پر پابندی عائد کر دی۔ لاہور میں ٹریفک اور سکیورٹی کی خراب صورتحال کے پیش نظر پابندی لگائی گئی، جس کا نفاذ آج سے شروع ہو گا جو آئندہ 7 روز تک جاری رہے گی۔

    پولیس نے زمان پارک جانے والے راستے بند کردیے اور مال روڈ سے کینال کی جانب بھی راستے کو بند کردیا گیا پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر متعدد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا اور کارکنوں کی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے۔

    پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں تصادم بھی ہوا۔ پولیس نے شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کر کے پی ٹی آئی کارکنوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیابعد ازاں پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کےمنشتر ہونے پر زمان پارک جانے والی سڑک کھول دی جبکہ مال روڈ اور جیل روڈ پر لگے کینٹینر ہٹا دیے اور کینال روڈ پر انڈر پاس سے ٹریفک کی روانی بھی بحال کردی۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

  • ہماری حکومت گرانے میں  تاجروں کا ہاتھ تھا،پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

    ہماری حکومت گرانے میں تاجروں کا ہاتھ تھا،پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ختم کے سینئیر رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت گرانے میں تاجروں کا ہاتھ ہے-

    باغی ٹی وی:پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم عمران خان ملک کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی-

    گزشتہ سال 9 اپریل کی شب رات گیارہ اور بارہ بجے کے درمیان پہلے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے استعفیٰ دیا، اجلاس کی صدارت ایاز صادق نے سنبھالی اور پھر تحریک پر پر ووٹنگ کروائی گئی۔ رات بجنے کے کچھ دیر بعد عمران خان وزیراعظم نہ رہے جب سے پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی تب سے عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے مختلف متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں-

    حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان نے متعدد بار امریکا پر الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے میں امریکا کا ہاتھ ہے امریکا نے پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر ایک سازش کے تحت ان کی حکومت گرائی گئی جس پر امریکا کی جانب سے بھی متعدد بار عمران خان کے اس بیان کی تردید کی گئی-

    بعد ازاں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر الزام کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں جنرل قمر باجوہ کا ہاتھ ہے جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے ن لیگ کے ساتھ مل کر ان کی حکومت گرائی عمران خان نے کہا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے رجیم چینج کا خود اعتراف کیا ہے، ان کے خلاف فوج کے اندر انکوائری ہونی چاہیے۔

    وائس آف امریکا (وی او اے) اردو کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا تھا کہ ’اس وقت مسلم لیگ(ن)، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سب ایک طرف کھڑے ہیں اور ہماری حکومت بھی ان سب نے مل کر گرائی تھی‘۔

    عمران خان نے کہا تھا کہ ’جنرل باجوہ نے ایک صحافی کو بیان بھی دیا ہے کہ ہم نے حکومت ان وجوہات پر گرائی تھی تو وہ رجیم چینج کا مان گئے ہیں، انہوں نے مل کر حکومت گرائی تھی اور اس کے بعد سب اکٹھے رہے‘۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے 36 ضمنی انتخابات میں سے 29 جیتے ہیں اور ان سب کو ہرایا، لگ رہا ہے اب جو انتخابات ہوں گے یہ سب مل کر ہمارے خلاف کھڑے ہوں گے جنرل باجوہ ٹی وی پر آکر تسلیم کرچکے ہیں کہ فوج بطورادارہ سیاست میں ملوث رہی ہےسابق وزیراعظم کی حیثت سے آپ سمجھتے ہیں ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے-

    اس سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے اوپر بالکل بلکہ فوج کے اندر بیٹھ کر ان کے اوپر انکوائری ہونی چاہیے کہ ان کے اپنے بیان جو انہوں نے دیے ہیں اور بڑے فخر اور بڑے تکبر سے کہ میں نے فیصلہ کیا ملک کے یہ حالات تھے جیسا کہ وہ معیشت کے ماہر ہوں اس پر اندر سوچنا چاہیے، اس سے عوام اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھ گئے، جو ساری قوم سمجھتی تھی کہ جنرل باجوہ کی وجہ سے حکومت گری تھی تو اب انہوں نےخود تسلیم کرلیا اوراس چیز سے پردہ ہی ہٹا دیالوگوں کو شک تھا بلکہ شک بھی نہیں اور لوگوں کو واضح ہوگیا تھا کہ آرمی چیف نے حکومت نے گرائی ہے-

    آج آرمی چیف اور وزیر خزانہ سے بزنس کمیونٹی کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے بیانات میں ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے اپنی حکومت کی ناکامی کا سارا ملبہ تاجروں پر ڈال دیا ہے-

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے آرمی چیف اور وزیر خزانہ اسحاق چوہدری سے بزنس کمیونٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت گرانے میں یہی تاجر شامل تھے-

    فواد چہودری نے تاجروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوف صرف اپنا مفاد سامنے رکھتے ہیں یہ لوگ جنرل باجوہ کو بھی کہتے تھے کہ لُٹ گئے مر گئے کہتے تھے برباد ہوگئے یہ کر دیں وہ کر دیں-

    واضح رہے کہ ملک کے ہ بڑے تاجروںِ صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی، اس تفصیلی ملاقات میں شامل تاجر رہنما نے بتایا کہ ملاقات میں ملک کی معاشی و سیاسی صورتحال بارے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے البتہ موضوع کا محور ملک کی معاشی صورتحال رہی اور ملکی معیشت میں بہتری بارے اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

    ملاقات میں معاشی بے چینی، بداعتمادی اور سیاسی عداستحکام سمیت تمام متعلقہ ایشوز پر کھل کر بات چیت ہوئی ہے جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے تاجر برادری کو آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام ٹریک پر لانے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے تعاون اور مستقل کے متوقع معاشی منظر نامے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

    سیاسی و عسکری قیادت نے صنعت کار و سرمایہ کار برادری کو یقین دہانی کروائی کہ معاشی حالات مشکل ضرور ہیں مگر بہتری کی طرف گامزن ہیں اور توقع ہے کہ مشکل حالات سے جلد نکل آئیں گے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یقین دہانی کروائی کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ بھی جلد ہوجائے گا، جس کے بعد حکومت جون میں آئی ایم ایف کا یہ پروگرام مکمل کر کے آئندہ کی معاشی حکمت عملی کے حوالے سے اپنے آپشنز دیکھے گی۔

    عسکری قیادت نے دوٹوک پغام دیا ہے کہ فوج کسی صورت سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی، سیاست دان اپنے معاملات خود حل کریں عمران خان اور دوسری سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر سیاسی معاملات حل کرنا ہوں گے۔