Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • جیل بھرو تحریک،شاہ محمود قریشی دیگر رہنماؤں اور دو سو کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دیں گے، پنجاب حکومت نے بھی حکمتِ عملی طے کر لی

    جیل بھرو تحریک،شاہ محمود قریشی دیگر رہنماؤں اور دو سو کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دیں گے، پنجاب حکومت نے بھی حکمتِ عملی طے کر لی

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک آج لاہور سے شروع ہوگی-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق جیل بھرو تحریک آج لاہور سے شروع ہوگی، جہاں شاہ محمود قریشی دیگر رہنماؤں اور دو سو کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دیں گے پہلے مرحلے میں عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر ولید اقبال، مراد راس کارکنوں کے ساتھ گرفتاریاں دیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر لاہور پولیس نے گرفتار نہ کیا تو پھر ملتان سے گرفتاری دوں گا۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے بھی جیل بھرو تحریک کے تحت گرفتاریاں دینے کا شیڈول تیار کرلیا۔ جس کے تحت پہلے مرحلے میں چار سابق ارکان صوبائی اسمبلی، ایک ایم این اے اور 100 کارکنان گرفتاریاں دیں گے۔

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی جیل بھرو تحریک کے پہلے روز ہی گرفتاری دیں گے۔

    لاہور میں حماد اظہر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ جیل بھرو تحریک کا آغاز بائیس فروری سے ہوجائے گا، جس کے بعد سیکڑوں کارکن گرفتاریاں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی بھی رضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کریں گے پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت بھی جیل بھرو تحریک کے لیے مکمل تیار ہے۔

    حماد اظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے ہم تیار ہیں، ہمارے امیدواروں نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ اپنا نگراں سیٹ اپ ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کے کسی بھی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عوام کیا حال کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کی جیل بھرو تحریک کے حوالے سے پنجاب حکومت نے بھی حکمتِ عملی طے کر لی-

    ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق لاہور کی جیلوں میں مزید قیدیوں کی گنجائش نہیں ، اس لیے گرفتار شدگان کو میانوالی اور ڈیرہ غازی خان کی جیلوں میں منتقل کرنا پڑے گا۔

    ذرائع پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے،گرفتاری دینے والوں کے کرمنل ریکارڈ کے علاوہ ٹیکس اور بینک ریکارڈ کی بھی جانچ کی جائے گی اگر کوئی بدعنوانی یا کرمنل کیسز میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ کی زیرِصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جیل بھرو تحریک میں خواتین اور غریب کارکنوں کی گرفتاری سے گریز کیا جائے ۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ دنیا کی پہلی جیل بھرو تحریک ہے جس کا آغاز لیڈر اپنی حفاظتی ضمانت سے کررہا ہے ۔

  • عدالت نے دہشتگردی کے مقدمے میں اسد عمر سمیت 9 ملزمان کو کل طلب کرلیا

    عدالت نے دہشتگردی کے مقدمے میں اسد عمر سمیت 9 ملزمان کو کل طلب کرلیا

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے دہشتگردی کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اور علی نواز اعوان سمیت 9 ملزمان کو کل طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کےخلاف احتجاج پردرج دہشتگردی کے مقدمے میں 9 ملزمان کو کل طلب کیا ہے جس میں اسد عمر اور علی نواز اعوان بھی شامل ہیں۔

    عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں شریک ملزمان کو کل عدالت طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے صبح 9 بجے حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا۔ قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اس کیس میں عبوری ضمانت خارج ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ فیصلے کے خلاف احتجاج پر درج مقدمے میں عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے دو اعتراضات عائد کردیئے۔

    عمران خان کی جانب سے دہشت گردی کی دفعات نکالنے کی درخواست پر اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے بائیومیٹرک نہیں کرائی جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر التوا مقدمے کی دستاویزات منسلک نہیں کی گئی۔

    عمران خان اور علی اعوان کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری اور علی بخاری کی وساطت سے دائر درخواست میں عمران خان کی پٹیشن کے حتمی فیصلے تک ایف آئی آر کا آپریشن فوری معطل کرنے کی استدعا کی گئی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی ایما پر عمران خان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ پر امن احتجاج بنیادی حق ہے اور دہشت گردی کا مقدمہ سیاسی انتقام ہے۔

    درخواست گزاروں نے متعلقہ پولیس افسران کو وقتا فوقتاً آگاہ کیا، کیس میں دہشت گردی کی دفعات نہیں بنتی موجودہ سیاسی صورتحال میں درخواست گزاروں کے خلاف جھوٹا دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا عدالت مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات حذف کرنے کا حکم دے۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او اور پراسیکیوٹر اے ٹی سی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اس کیس میں عبوری ضمانت خارج ہوچکی ہے جس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے آج ہی اسٹے آرڈر لینے کےلیے کاوشیں تیز کردی ہیں عمران خان نے دہشتگردی کے مقدمے کی کارروائی کے لیے ایک درخواست دائر کی ہے جسے آج ہی سننے کی استدعا کی ہے۔

  • سیاسی بحران نےمعاشی بحران کو جنم دیا ہےاگلے 3 ماہ بعد اس سے بھی زیادہ حالات خراب ہوں گے،اسد عمر

    سیاسی بحران نےمعاشی بحران کو جنم دیا ہےاگلے 3 ماہ بعد اس سے بھی زیادہ حالات خراب ہوں گے،اسد عمر

    پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزرا اسد عمر اور شبلی فراز کا کہنا ہے کہ عمران خان کوئی عام پاکستانی نہیں ہیں، عمران خان وہ واحد لیڈر ہیں جن پر منصوبے کےتحت قاتلانہ حملہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اسد عمر نے سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے کا خدشہ ہے، سکیورٹی کے انتظامات کی ذمہ داری حکومت کی بنتی ہے، جس ہڈی میں گولی لگی عمران خان کی وہ ہڈی ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی،اگر ذرا سا بھی جھٹکا لگتا ہے تومزید 2 سے 3 ماہ ان کو چلنے میں دشواری ہوگی۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے باہر اکتوبر میں پرامن مظاہرہ کیا گیا، احتجاج پر 21 اکتوبر کو دہشت گردی کے پرچے کاٹ دیئے گئے،دہشت گردی کا پرچہ ایک ایسے واقعے پر کاٹاگیا جس میں وہ خود موجود نہیں تھےعمران خان نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہےانہیں کسی عدالت میں جانے پر اعتراض نہیں تھا، نومبر میں عمران خان پر حملہ کروایا گیا، عمران خان کا انا کا مسئلہ نہیں ہے، ڈاکٹرز کی ہدایات کی وجہ سے عدالتوں میں نہیں جا رہے۔

    انہوں نے کہا عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے لئے ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہےاگر الیکشن 9 روز میں نہیں کرائے تو ان کو آئین توڑنا پڑے گا، عدلیہ مجھ پر عمران خان پر توہین عدالت کا کیس چلا چکی ہے، امید ہے سب کے ساتھ برابری والا رویہ رکھا جائے گا، یہ سارے ملک میں سنسنی پھیلا رہے ہیں، ہم انتظار کر رہے ہیں، رانا ثنا اللہ ،خواجہ آصف پر غداری کا پرچہ کب کٹوائیں گے۔

    اسد عمر نے کہا کہ مہنگائی سے عوام پس چکے ہیں، گیس کی قیمتیں 46 فیصد بڑھانے کا اعلان ہوا ہے، روزمرہ کی ضرورت پوری کرنا ناممکن ہوتا جارہا ہے، یہاں سیاسی انتشار پیدا کیا گیا، سیاسی بحران نےمعاشی بحران کو جنم دیا ہےاگلے 3 ماہ بعد اس سے بھی زیادہ حالات خراب ہوں گے، پوراحکومتی نظام عمران خان کی گرفتاری میں لگا ہوا ہے، گھر بیٹھے ہوئے ٹویٹ کرنے والے بچوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، جب تک سیاست ٹھیک نہیں کرو گے معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔

    رہنما پی ٹی آئی اور سابق وفاقی وزیر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عمران خان کے عدالت پیش نہ ہونے کی دو وجوہات تھیں، ٹانگ کا زخم اور سکیورٹی خدشات، وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا، عمران خان قاتلانہ حملے سے پہلے 25 پیشیاں بھگت چکے ہیں-

    رہنما پی ٹی آئی شبلی فراز نے کہا کہ جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دی تھی،خاص جگہ پہنچنے کے لیے عمران خان کی گاڑی کواجازت نہیں دی گئی ،عمران خان عدالت جانے کے لیے تیار ہیں،لاہو رہائیکورٹ سے استدعا ہے درخواست منظور کی جائے ،عمران خان پر حملے کا خدشہ ہے ،ہمارا آج یہی سوال ہے اگر عمران خان کو کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا۔

  • پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان  کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    لاہور:عدالت پی ٹی آئی پنجاب کے ایم این ایز کو ڈی نوٹی فائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

    باغی ٹی وی : تحریکِ انصاف کے مزید 70ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس شاہد کریم نے فواد چوہدری ، شاہ محمود قریشی پرویز خٹک ،اسد عمر سمیت 70 ارکان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں اسپیکر قومی اسمبلی ،الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے-

    دوران سماعت عدالت پی ٹی آئی کے پنجاب کے ایم این ایز کو ڈی نوٹی فائی کرنے سے متعلق الیکشن کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسپیکر نے استعفے منظور کرنے سے پہلے ارکان کا مؤقف نہیں لیا۔ الیکشن کمیشن نے استعفے منظور ہونے کے بعد ممبران کو ڈی نوٹیفائی کردیا۔ عدالت پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے اور الیکشن کمیشن کو متعلقہ حلقوں میں ضمنی انتخابات کا انعقاد روکنے کا حکم دے۔

    کوئٹۃ سے گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے ارکان قومی اسمبلی کی حد تک ضمنی الیکشن بھی روکنے کا حکم دے دیا۔

    بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ میں عدالت نے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی حد تک معاملہ 7مارچ کو سنا جائے گا۔

  • ڈاکٹر یاسمین راشد نےغلام محمود ڈوگر سے ہونے والی گفتگو کو حق بجانب قرار دیا

    ڈاکٹر یاسمین راشد نےغلام محمود ڈوگر سے ہونے والی گفتگو کو حق بجانب قرار دیا

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے لیکڈ فون ٹیپ میں غلام محمود ڈوگر سے ہونے والی گفتگو کو حق بجانب قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد نے کہا کہ سابق سی سی پی او لاہور کی تقرری تحریک انصاف کا براہ راست مسئلہ ہے کیونکہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی جے آئی ٹی کی تحقیقات ان ہی کے پاس ہیں۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا آڈیو ٹیپ کرنیوالوں کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ بتایا جائے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ان سے پوچھنے میں کیا غلطی ہے؟ فون ٹیپ کرنے والے شرم و حیا کریں، ان لوگوں نے ملک میں پرائیویسی تک نہیں چھوڑی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ انہیں پتا ہے کہ سہولت کار فون ٹیپنگ میں کیوں لگے ہوئے ہیں؟

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے آڈیو ٹیپ کرنے والوں کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا تھا-

    ڈاکٹر یاسمین کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ہم پر دباو ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں،کسی کی ریکارڈنگ کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایک شہری کی حیثیت کی ہر پولیس افسر سےبات کرسکتی ہوں،عمران خان پاکستان کےسب سے مقبول ترین لیڈر ہیں،ان پرحملےمیں شہبازشریف اور راناثنااللہ ملوث ہیں ان لوگوں نے پاکستان کے حالات ایسے کردیئے ہیں کہ دنیا کے سامنے شرمندہ ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی رہنما یاسمین راشد اور سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے جس میں سنا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد غلام محمود ڈوگر سے فون پر کہہ رہی ہیں کہ کوئی اچھی خبر سنا دیں، آرڈر ہوگئے ہیں؟ اس پر غلام محمود ڈوگرکا کہنا تھا کہ ابھی تک آرڈر نہیں ملے ۔

    آڈیو اصلی ہے تو جوڈیشیل کمیشن میں انکوائری کروائی جائے، رانا مشہود

    مبینہ آڈیو میں یاسمین راشد نے کہا کہ ان کا ارادہ کیا ہے، ویسے ہی پوچھ رہی ہوں، جس پر غلام محمود ڈوگرکا کہنا تھا کہ نہیں نہیں وہ تو سپریم کورٹ سے آرڈر ہونے ہیں، جیسے ہی ہوں گے، مل جائیں گے، وہاں ہمارے بندے بیٹھے ہوئے ہیں، وہ ڈاک جاتی ہے ناں ساتھ، تو جج صاحبان سائن کرتے ہیں اس پر، جس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورٹ ٹائم میں تو نہیں کرتے وہ تو کورٹ ٹائم کے بعد کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے مزید کہا کہ اچھا ٹھیک ،خان صاحب اس حوالے سے بہت فکرمند ہیں،میں نے خان صاحب کو کہا کہ میری اطلاع کے مطابق ابھی تک انہیں نہیں ملےغلام محمد ڈوگر نے کہا کہ جی ابھی تک نہیں ہوئی،رات کو ڈاک دستخط ہوکر آجاتی ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد بولیں کہ آج ہماری رات خاموشی سے گزر جائے گی،میں ویسے ہی پوچھ رہی ہوں، غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ اللہ خیر کرے گا۔

    عمران خان کو بھی گرفتاری دینی ہو گی، اعجاز چودھری

  • تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی تکرار ان کے اپنے ہی جن عہدوں پر فائز رہے ہیں بے توقیری کا سبب بن رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کو ملکی سالمیت اور قومی وقار کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ الزام تراشیوں میں مگن موجودہ حکمرانوں اور سابق حکمرانوں کو بھی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیئے۔

    وقت آ پہنچا ہے کہ تمام اپنے گناہوں سے تائب ہر کر تعمیر وطن اور خدمت خلق کے جذبے سے کام کریں۔ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس وطن عزیز کے وقار میں اضافہ قرضوں سے چھٹکارا ۔ ایک مستحکم پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیاست جس حد تک کھوکھلی اور عوام کی نظر میں بے نقاب ہو چکی ہے یا ہو رہی ہے اس کے اثرات ملک و قوم کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر بھی پڑرہے ہیں۔ ملک میں جس طرح ایک جمہوری حکومت میں آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے جو کبھی آمریت کے دور میں ہوتا تھا آج جمہوری دور میں آئین سے کھلواڑ سمجھ سے بالاتر ہے ۔

    نواز شریف اور مریم نواز جو بیانیہ پیش کررہے ہیں وہ ووٹ کو عزت ، انصاف اور عدل کی شفافیت انسانی حقوق کا بیانیہ ہے ۔ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز جو بیانیہ عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں اُن کی اپنی ہی جماعت میں ایسے اشخاص موجود ہیں جو اس بیانیے سے کوسوں دور ہیں جو مفاہمتی راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔

    بھٹو کو نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پورے پاکستان میں مقبولیت ملی تھی انہوں نے ووٹ کو عزت یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس کو تاریخی المیہ ہی کہا جائے کہ بعد میں یعنی آج بھٹو کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر بیوپاری اس جماعت پر بُراجمان ہیں۔ بھٹو کی پیپلزپارٹی کا جو آج حال ہے وہ پاکستان تو کیا صرف صوبہ سندھ تک محدود ہو کررہی گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کے راستوں پر نواز شریف کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر چل نکلی ہے ۔

    مریم نواز اپنے والد کی جماعت کی ساکھ بحال کرنے تو نکلی ہیں مگر آج (ن) لیگ میں بھی بیوپاری بُراجمان ہیں اس لئے آج عمران خان کی جماعت کا پنجاب میں طوطی بولتا ہے اگر عمران خان کی جماعت مقبول ہے تو اس کے ذمہ دار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں نظریات توپہلے ہی دفن ہو چکے ہیں جس کا خمیازہ سیاسی جماعتیں خود بھگت رہی ہیں۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    اسلام آباد : ٕ عمران خان کی رہائش گاہ (بنی گالہ) سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کے سفری اخراجات ان شیلٹر ہومز کے کل اخراجات سے تقریباً 6 گُنا زیادہ ہیں۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے جیو کی رپورٹ کے مطابق پناہ گاہوں (شیلٹر ہومز) کو عمران خان کے ٹریڈ مارک پروجیکٹ کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ غریبوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں تاہم دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی رہائش گاہ (بنی گالہ) سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کے سفری اخراجات ان شیلٹر ہومز کے کل اخراجات سے تقریباً 6 گُنا زیادہ ہیں۔

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    رپورٹ میں دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا کہ دستاویزات پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کی زیر نگرانی ملک بھر میں کل 39 احساس پناہ گاہیں قائم کی گئیں، اس پروگرام کےتحت بےگھرافراد کو بنیادی طورپرصحت کی دیکھ بھال، رہائش کیلئے محفوظ ماحول، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار خوراک وغیرہ سمیت متعدد پہلوؤں کا خیال رکھتے ہوئے قابل احترام انداز سے معیاری خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

    پروگرام کے آغاز سے اب تک 39 احساس پناہ گاہیں فعال ہیں، اب تک، مالی سال 2022 کے مارچ مہینے تک 18 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہےبیت المال (پی بی ایم) نے ڈونرز کے ذریعے خوراک کی فراہمی کیلئے گاڑیاں خریدیں، ’’احساس۔ کوئی بھوکا نہ سوئے‘‘ (ای کے بی این ایس) پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 40 گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں،منشیات برآمد،ملزمان گرفتار

    پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مارچ 2022 تک 161.088 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں، غریبوں کے بھلے کیلئے کیے جانے والے اخراجات کے مقابلے میں دیکھیں تو عمران خان نے اپنی رہائش گاہ سے دفتر تک کے سفر کے ذریعے قومی خزانے سے 984؍ ملین (98 کروڑ 40لاکھ سے زائد) روپے خرچ کیے۔

    یہ تفصیلات پی ڈی ایم کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر استعمال کے اخراجات کے حوالے سے جاری کی تھیں، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی جانب سے گزشتہ سال اپریل میں جاری کی گئی دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے سفری اخراجات 472.36 ملین روپے تھے جبکہ سفر سے زیادہ ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال پر زیادہ اخراجات ہوئے جو 511.995 ملین روپے رہے۔

    ان دستاویزات کے مطابق اگست 2018 سے دسمبر 2018 تک عمران خان کے سفری اخراجات 37 کروڑ 93 لاکھ روپے تھے۔ اسی طرح، خان کے سفر پر 2019 میں 131.94 ملین روپے، 2020 میں 143.55 ملین روپے، 2021 میں 123.8 ملین روپے اور جنوری سے مارچ 2022 کے دوران 35.14 ملین روپے خرچ ہوئے۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو، پاکستان سپر لیگ کا آج سے آغاز

    سفری اخراجات کے علاوہ دیکھیں تو صرف مالی سال 2018-19کے دوران وزیر اعظم ہاؤس اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کا بجلی کا بل 149.19 ملین روپے تھا۔

  • کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی-

    باغی ٹی وی: جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عوامی مفاد کا تعین کیا عدالت میں بیٹھے 3ججز نے کرنا ہے؟ کیا عوام نیب ترامیم کیخلاف چیخ و پکار کر رہی ہے؟ نیب ترامیم کونسے بنیادی حقوق سے متصادم ہے نشاندہی نہیں کی گئی، عمران خان کے وکیل اسلامی دفعات اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے رہے-

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے نیب ترمیمی بل پر ووٹنگ سے اجتناب کیا، کیا ووٹنگ سے اجتناب کرنے والے کا عدالت میں حق دعویٰ بنتا ہے؟ کیا کوئی رکن اسمبلی پارلیمان کو خالی چھوڑ سکتا ہے؟ کیا پارلیمان میں کرنے والا کام عدالتوں میں لانا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا نہیں ہے؟

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شا ہ نے ریمارکس دیے کہ استعفی منظور نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اسمبلی رکنیت برقرار ہے، رکن اسمبلی حلقے کے عوام کا نمائندہ اور ان کے اعتماد کا امین ہوتا ہے۔کیا عوامی اعتماد کے امین کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست ہے؟ کیا قانون سازی کے وقت بائیکاٹ کرنا پھر عدالت آ جانا پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان چاہتے تو نیب ترامیم کو اسمبلی میں شکست دے سکتے تھے، پی ٹی آئی کے تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں آتے تو اکثریت میں ہوتے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے نقطے پر عمران خان سے جواب لیں گے،کیا صرف بنیاد پر عوامی مفاد کا مقدمہ نہ سنیں کہ درخواست گزار کا کنڈکٹ درست نہیں تھا؟ہر لیڈر اپنےاقدامات کو درست کہنے کیلئے آئین کا سہارا لیتا ہے، پارلیمان کا بائیکاٹ کرنا پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی تھی،ضروری نہیں سیاسی حکمت عملی کا کوئی قانونی جواز بھی ہو،بعض اوقات قانونی حکمت عملی بھی سیاسی لحاظ سے بے وقوفی لگتی ہے پارلیمانی کارروئی کا بائیکاٹ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔برصغیر میں تو بائیکاٹ کی تاریخ لمبی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کتنے ارکان نے نیب ترامیم کی منظوری دی؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ بل منظوری کے وقت مشترکہ اجلاس میں 166 ارکان شریک تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں ارکان کی تعداد 446 ہوتی ہے، یعنی آدھے سے کم لوگوں نے ووٹ دیا۔عدالت صرف بنیادی حقوق اور آئینی حدود پار کرنے کے نکات کا جائزہ لے رہی ہےدرخواست گزار نے نیب ترامیم عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر چیلنج کیں۔ عمران خان کے کنڈکٹ پر سوال تب اٹھتا اگر نیب ترامیم سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ ہوتا۔ بظاہر درخواست گزار کا نیب ترامیم سے کوئی ذاتی مفاد منسلک نہیں لگتا۔

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ضروری نہیں ذاتی مفاد کے لیے ترامیم چیلنج ہوں درخواستگزار کو نیب ترامیم چیلنج کرنے سے سیاسی فائدہ بھی مل سکتا ہے، پی ٹی آئی نے استعفے نا منظور ہونے پر عدالت سے رجوع کیا، استعفے منظور ہونے پر بھی پی ٹی آئی عدالت میں آ گئی۔ عمران خان نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ خالی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شاید عمران خان کو معلوم تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو عدالت آ گئے۔ عمران خان سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہیں۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کسی بھی مقدمے کی بنیاد حقائق پر ہوتی ہے، قیاس آرائیوں پر نہیں۔ عدالت قانون سازی کو برقرار یا کالعدم قرار دینے کے بجائے بغیر کسی فیصلے کے واپس بھی کر سکتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر عدالت نیب قانون کالعدم قرار دے گی تو کل کیا کوئی بھی سپریم کورٹ میں قانون سازی چیلنج کر دے گا؟۔ ایک شخص نے نیب ترامیم چیلنج کیں، ممکن ہے اسی جماعت کے باقی ارکان ترامیم کے حق میں ہوں۔

    سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

  • پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کےاستعفےمنظورکرنےکیخلاف درخواست کا تحریری حکم جاری

    پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کےاستعفےمنظورکرنےکیخلاف درخواست کا تحریری حکم جاری

    لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کے خلاف درخواست کا تحریری حکم جاری کردیا-

    باغی ٹی وی: لاہورہائیکور ٹ کے جسٹس شاہد کریم نے 4 صفحات پر مشتمل عبوری تحریری حکم جاری کیا،تحریری حکمنامے کے مطابق لاہورہائیکور ٹ نے 43 سیٹوں پر ضمنی انتخاب کو روک دیا،43 نشستوں پر الیکشن شیڈول جاری نہیں کیا جائے گا –

    حکمنامے کے مطابق عدالت الیکشن کمیشن کے جاری کردہ 25 جنوری کےنوٹیفکیشن کو معطل کرتی ہے ،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن کا ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنےکا نوٹیفکیشن7 مارچ تک معطل رہےگا اور اسی کے تناظر میں ضمنی الیکشن بھی معطل رہے گا۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن کا سیٹیں خالی قرر دینے کا نوٹیفکیشن 7 مارچ تک معطل رہے گا اور الیکشن کمیشن ان نشستوں پر انتخابات کا اعلان نہیں کرے گا۔

    لاہورہائیکور ٹ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا،لاہورہائیکور ٹ نے تمام فریقین کو تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی،لاہورہائیکور ٹ میں درخواست پر مزید کارروائی 7 مارچ کو ہو گی-

    واضح رہے کہ قبل ازین لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 43 سابق ارکان قومی اسمبلی (ایم این ایز) کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے ضمنی انتخابات روک دیئے تھے-

    خیال رہے کہ یاد رہےکہ چند روز قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔

    اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 123 اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 124 اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔

  • توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت

    باغی ٹی وی: سیشن کورٹ اسلام آبادمیں توشہ خانہ ریفرنس فیصلےکے بعد احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جج راجہ جواد عباس حسن نے کیس کی سماعت کی جس میں عمران خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے ،ن لیگی رہنما اور مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر استثنی ٰکی درخواست دائر کی گئی –

    عدالت نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ نے لکھا ہے 20،25 روز لگیں گے ، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ ہے وہ یہاں اس لیے پیش نہیں ہو رہے –

    مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ عمران خان انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن آج تک پیش نہیں ہوئے،مدعی مقدمہ محسن شاہ نواز رانجھا کی عمران خان کے لیے پمز کا بورڈ بنانے کی استدعا کی ہے-

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کہاجارہا ہے کہ لمبا ترین پلستر ہے لیکن ڈیڑھ سال سے پلیٹلیٹس سے لمبا نہیں ، عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے-

    ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ سول سائیڈ کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے، ہم سول کیسز میں روزانہ بیانات ویڈیو لنک سے لکھتے رہتے ہیں ،ضمانت قبل از گرفتاری کے کیس میں ایسا نہیں ہوتا-

    عمران خان کے وکیل نے طبی بنیادوں پر اپنے مؤکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی کی اس پر عدالت نے کہا کہ عمران خان کی زمان پارک سے ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں وہ پیدل چلتے نظر آئے۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ عمران خان پیش ہوئے تو ٹھیک نہیں تو ضمانت قبل از گرفتاری پر آرڈر دے دیں گے-

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان کیخلاف کیس کی سماعت 29 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں 29 مارچ کو طلب کرلیا-