Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی-

    باغی ٹی وی: جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عوامی مفاد کا تعین کیا عدالت میں بیٹھے 3ججز نے کرنا ہے؟ کیا عوام نیب ترامیم کیخلاف چیخ و پکار کر رہی ہے؟ نیب ترامیم کونسے بنیادی حقوق سے متصادم ہے نشاندہی نہیں کی گئی، عمران خان کے وکیل اسلامی دفعات اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے رہے-

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے نیب ترمیمی بل پر ووٹنگ سے اجتناب کیا، کیا ووٹنگ سے اجتناب کرنے والے کا عدالت میں حق دعویٰ بنتا ہے؟ کیا کوئی رکن اسمبلی پارلیمان کو خالی چھوڑ سکتا ہے؟ کیا پارلیمان میں کرنے والا کام عدالتوں میں لانا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا نہیں ہے؟

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شا ہ نے ریمارکس دیے کہ استعفی منظور نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اسمبلی رکنیت برقرار ہے، رکن اسمبلی حلقے کے عوام کا نمائندہ اور ان کے اعتماد کا امین ہوتا ہے۔کیا عوامی اعتماد کے امین کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست ہے؟ کیا قانون سازی کے وقت بائیکاٹ کرنا پھر عدالت آ جانا پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان چاہتے تو نیب ترامیم کو اسمبلی میں شکست دے سکتے تھے، پی ٹی آئی کے تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں آتے تو اکثریت میں ہوتے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے نقطے پر عمران خان سے جواب لیں گے،کیا صرف بنیاد پر عوامی مفاد کا مقدمہ نہ سنیں کہ درخواست گزار کا کنڈکٹ درست نہیں تھا؟ہر لیڈر اپنےاقدامات کو درست کہنے کیلئے آئین کا سہارا لیتا ہے، پارلیمان کا بائیکاٹ کرنا پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی تھی،ضروری نہیں سیاسی حکمت عملی کا کوئی قانونی جواز بھی ہو،بعض اوقات قانونی حکمت عملی بھی سیاسی لحاظ سے بے وقوفی لگتی ہے پارلیمانی کارروئی کا بائیکاٹ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔برصغیر میں تو بائیکاٹ کی تاریخ لمبی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کتنے ارکان نے نیب ترامیم کی منظوری دی؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ بل منظوری کے وقت مشترکہ اجلاس میں 166 ارکان شریک تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں ارکان کی تعداد 446 ہوتی ہے، یعنی آدھے سے کم لوگوں نے ووٹ دیا۔عدالت صرف بنیادی حقوق اور آئینی حدود پار کرنے کے نکات کا جائزہ لے رہی ہےدرخواست گزار نے نیب ترامیم عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر چیلنج کیں۔ عمران خان کے کنڈکٹ پر سوال تب اٹھتا اگر نیب ترامیم سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ ہوتا۔ بظاہر درخواست گزار کا نیب ترامیم سے کوئی ذاتی مفاد منسلک نہیں لگتا۔

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ضروری نہیں ذاتی مفاد کے لیے ترامیم چیلنج ہوں درخواستگزار کو نیب ترامیم چیلنج کرنے سے سیاسی فائدہ بھی مل سکتا ہے، پی ٹی آئی نے استعفے نا منظور ہونے پر عدالت سے رجوع کیا، استعفے منظور ہونے پر بھی پی ٹی آئی عدالت میں آ گئی۔ عمران خان نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ خالی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شاید عمران خان کو معلوم تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو عدالت آ گئے۔ عمران خان سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہیں۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کسی بھی مقدمے کی بنیاد حقائق پر ہوتی ہے، قیاس آرائیوں پر نہیں۔ عدالت قانون سازی کو برقرار یا کالعدم قرار دینے کے بجائے بغیر کسی فیصلے کے واپس بھی کر سکتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر عدالت نیب قانون کالعدم قرار دے گی تو کل کیا کوئی بھی سپریم کورٹ میں قانون سازی چیلنج کر دے گا؟۔ ایک شخص نے نیب ترامیم چیلنج کیں، ممکن ہے اسی جماعت کے باقی ارکان ترامیم کے حق میں ہوں۔

    سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

  • پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کےاستعفےمنظورکرنےکیخلاف درخواست کا تحریری حکم جاری

    پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کےاستعفےمنظورکرنےکیخلاف درخواست کا تحریری حکم جاری

    لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کے خلاف درخواست کا تحریری حکم جاری کردیا-

    باغی ٹی وی: لاہورہائیکور ٹ کے جسٹس شاہد کریم نے 4 صفحات پر مشتمل عبوری تحریری حکم جاری کیا،تحریری حکمنامے کے مطابق لاہورہائیکور ٹ نے 43 سیٹوں پر ضمنی انتخاب کو روک دیا،43 نشستوں پر الیکشن شیڈول جاری نہیں کیا جائے گا –

    حکمنامے کے مطابق عدالت الیکشن کمیشن کے جاری کردہ 25 جنوری کےنوٹیفکیشن کو معطل کرتی ہے ،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن کا ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنےکا نوٹیفکیشن7 مارچ تک معطل رہےگا اور اسی کے تناظر میں ضمنی الیکشن بھی معطل رہے گا۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن کا سیٹیں خالی قرر دینے کا نوٹیفکیشن 7 مارچ تک معطل رہے گا اور الیکشن کمیشن ان نشستوں پر انتخابات کا اعلان نہیں کرے گا۔

    لاہورہائیکور ٹ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا،لاہورہائیکور ٹ نے تمام فریقین کو تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی،لاہورہائیکور ٹ میں درخواست پر مزید کارروائی 7 مارچ کو ہو گی-

    واضح رہے کہ قبل ازین لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 43 سابق ارکان قومی اسمبلی (ایم این ایز) کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے ضمنی انتخابات روک دیئے تھے-

    خیال رہے کہ یاد رہےکہ چند روز قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔

    اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 123 اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 124 اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔

  • توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت

    باغی ٹی وی: سیشن کورٹ اسلام آبادمیں توشہ خانہ ریفرنس فیصلےکے بعد احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جج راجہ جواد عباس حسن نے کیس کی سماعت کی جس میں عمران خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے ،ن لیگی رہنما اور مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر استثنی ٰکی درخواست دائر کی گئی –

    عدالت نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ نے لکھا ہے 20،25 روز لگیں گے ، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ ہے وہ یہاں اس لیے پیش نہیں ہو رہے –

    مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ عمران خان انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن آج تک پیش نہیں ہوئے،مدعی مقدمہ محسن شاہ نواز رانجھا کی عمران خان کے لیے پمز کا بورڈ بنانے کی استدعا کی ہے-

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کہاجارہا ہے کہ لمبا ترین پلستر ہے لیکن ڈیڑھ سال سے پلیٹلیٹس سے لمبا نہیں ، عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے-

    ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ سول سائیڈ کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے، ہم سول کیسز میں روزانہ بیانات ویڈیو لنک سے لکھتے رہتے ہیں ،ضمانت قبل از گرفتاری کے کیس میں ایسا نہیں ہوتا-

    عمران خان کے وکیل نے طبی بنیادوں پر اپنے مؤکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی کی اس پر عدالت نے کہا کہ عمران خان کی زمان پارک سے ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں وہ پیدل چلتے نظر آئے۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ عمران خان پیش ہوئے تو ٹھیک نہیں تو ضمانت قبل از گرفتاری پر آرڈر دے دیں گے-

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان کیخلاف کیس کی سماعت 29 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں 29 مارچ کو طلب کرلیا-

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا  شرکت کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا شرکت کا فیصلہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا پارلیمنٹ لاجز میں اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی نے پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی نے 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی معطلی کےبعد عدالتی حکم موصول ہونے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ارکان کا کہنا ہےکہ عدالتی حکم ملنے سے قبل پارلیمنٹ آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

    اس سے قبل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکرکے مؤقف کےبعدپی ٹی آئی ممبران نےاپنا فیصلہ تبدیل کیا تھا اورعدالتی فیصلے کی روشنی میں ہی اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عدالت کے تحریری حکمنامے تک پی ٹی آئی ممبران کو اجلاس میں آنے سے روکنے کا کہا ہےاستعفوں کا معاملہ معطل کے بجائے کالعدم ہوتو ہی پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی میں واپس آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے سابق ممبرانِ اسمبلی پارلیمنٹ لاجز واپس جا رہے ہیں جبکہ 9 ممبران اب بھی مشاورت کے لیے سینیٹر شہزاد وسیم کے چیمبر میں موجود ہیں۔

    اس سے پہلے تحریکِ انصاف کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس میں اکٹھے ہوئے تھے یہ ارکان عدالتی تحریری فیصلہ ملنے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر قومی اسمبلی کے ایوان میں آنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پاکستان تحریکِ انصاف کے 43 ارکانِ اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کاحکم معطل کرتے ہوئے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے ریاض فتیانہ سمیت 43 ارکانِ اسمبلی نے اسپیکر راجہ پرویز اشرف اور الیکشن کمیشن کی جانب سے استعفوں کی منظوری کے اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • خیبرپختونخوا ضمنی الیکشن: امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری

    خیبرپختونخوا ضمنی الیکشن: امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری

    پشاور: قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 8 نشستوں پرصوبہ خیبر پختونخوا کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کردی گئی

    باغی ٹی وی :الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 8 نشستوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہونے جارہے ہیں جس کے لیے کاغذات نامزدگی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کردی گئی ہے۔

    فہرست کے مطابق پی ٹی آئی نے مستعفی ارکان ہی کو میدان میں دوبارہ اتارا جبکہ دوسری جماعتیں بھی آزمودہ امیدواروں ہی کو سامنے لائی ہیں ضلع خیبرسے باپ بیٹا اور کوہاٹ سے چچا بھتیجا بھی ضمنی الیکشن میں امیدوار ہیں۔

    فہرست کے مطابق این اے 4 سوات سے 9 امیدوار ، اے این 38 ڈی آئی خان سے 13، این اے 17 ہری پور سے 8، این اے 18 صوابی سے 11، این اے 31 کوہاٹ سے 9، این اے 25 نوشہرہ سے 9، این اے 43 خیبر سے 10 امیدوار سامنے آئے ہیں۔

    صوبے میں قومی اسمبلی کی خالی نشتوں پر ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف سے مستعفی ارکان اسمبلی دوبارہ میدان میں آئے ہیں، جن میں مرادسعید، اسد قیصر، پرویزخٹک، شہریار آفریدی، پیر نورالحق قادری، عمر ایوب اور عمران خٹک شامل ہیں جو ایک بار پھر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    ابتدائی فہرست کے مطابق پرویزخٹک کے بیٹے اسماعیل خٹک نے بھی کاغذات جمع کرائے ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر سے باپ بیٹا شاہ جی گل آفریدی اور بلاول آفریدی بھی امیدوار ہیں جب کہ کوہاٹ سے چچا بھتیجا بابر عباس آفریدی اور بابر عظیم آفریدی بھی امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

  • الیکشن کمیشن آفس میں ہنگامہ آرائی پر مقدمہ درج

    الیکشن کمیشن آفس میں ہنگامہ آرائی پر مقدمہ درج

    زہ ترین
    الیکشن کمیشن آفس میں ہنگامہ آرائی پر مقدمہ درج
    صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں آج الیکشن کمیشن آفس میں ہنگامہ آرائی پر ریٹرننگ افسر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر، ندیم قریشی، جاوید اختر انصاری، ن لیگی امیدوار شیخ طارق رشید اور حاجی احسان الدین قریشی سمیت 250 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ملتان میں ضمنی انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر الیکشن کمیشن آفس میں پی ٹی آئی اور ن لیگی کارکنان کے درمیان تصادم ہوا، اس دوران دونوں جانب سے کارکنان نے پتھراؤ کیا۔ پولیس کے مطابق ملتان الیکشن کمیشن آفس میں ہنگامی آرائی پر تھانہ کوتوالی میں ریٹرننگ آفیسر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں دہشتگردی سمیت 8 دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کو گرفتار کرلیا گیا
    جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں
    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات
    برطانیہ میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ
    تحریک انصاف کے صوبائی صدر پرویز خٹک کا الیکشن کمیشن کو خط
    وفاقی وزارت خزانہ نے الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دے دیا.
    عمران خان ایک ماہ جیل میں رہ کر دیکھ لیں پھر فیصلہ کریں جیل بھرنی ہے یا نہیں. رانا ثناء

    پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عامر ڈوگر، ندیم قریشی، جاوید اختر انصاری، ن لیگی امیدوار شیخ طارق رشید اور حاجی احسان الدین قریشی سمیت 250 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ہی اس ہنگامہ آرائی کے ذمہ دار ہیں لہذا ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل مین لائی جائے گی.

  • عدالت نے  پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا

    عدالت نے پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کاحکم معطل کردیا۔ جسٹس شاہد کریم نے 43 سابق ایم این ایز کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے-

    عمران خان کی متوقع گرفتاری، پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس زمان پارک پہنچ گئی

    جسٹس شاہد کریم نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ بتائیں کن قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا؟،بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ اسپیکر نے استعفے منظور کرنے سے قبل آئین کے تحت انکوائری نہیں کی ارکان اسمبلی استعفے منظور کرانے کے لیے اسپیکر کے پاس پیش نہیں ہوئے، ارکان کو سنے بغیر اسپیکر استعفے منظور نہیں کر سکتے۔

    عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 43 ایم این اے کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات

    واضح رہے کہ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ ممبران اسمبلی نے استعفیٰ منظور ہونے سے قبل ہی واپس لے لئے تھے ،ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنا خلاف قانون اور بدنیتی پر مبنی ہے،درخواست میں سپیکر کا 22 جنوری اور الیکشن کمیشن کا 25 جنوری کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا تھا-

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 43 ارکانِ قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا پی ٹی آئی کے ان 43 ارکان کے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے منظور کر کے سمری الیکشن کمیشن کو بھجوائی تھی الیکشن کمیشن نے اس سمری پر کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 43 ارکانِ قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کیا تھا تحریک انصاف نے 43 ایم این اے کے استعفے منظور کرنے کا اقدام چیلنج کیا تھا-

  • ایک تاریخ بتادیں کہ عمران خان کب عدالت آئیں گے؟ ،سیشن کورٹ اسلام آباد

    ایک تاریخ بتادیں کہ عمران خان کب عدالت آئیں گے؟ ،سیشن کورٹ اسلام آباد

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی عمران خان کےخلاف فوجداری مقدمے کی سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی،جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا مچلکے جمع کروا دیئے ؟ وکیل گوہر علی خان نے جواب میں کہا کہ عمران خان کے ضمانتی گزشتہ روز مچلکے جمع کروا دیئے-

    اگر ایشیا کپ کیلئے بھارت پاکستان نہیں آتا تو بھاڑ میں جائے،ہمیں ہماری کرکٹ مل رہی…

    جج نے کہا کہ ایسے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر ہوتی رہی تو فردجرم کیسے عائد ہوگی؟ وکیل علی بخاری نے اعتراض کیا کہ ہمیں مصدقہ کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں،واٹس ایپ اسکرین شارٹس لگا کر کاپیاں فراہم نہیں کی جاتیں-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی وکلاء کو مصدقہ کاپیاں فراہم کی ہیں،عدالت کے سامنے پی ٹی آئی وکلاء کو مصدقہ کاپیاں فراہم کی ہیں-

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ تمام ثبوتوں کی تصدیق شدہ کاپیاں عدالت اور پی ٹی آئی کو فراہم کریں،جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم آج ہی کمپلینٹ اور ثبوتوں کی مصدقہ کاپیاں فراہم کردیں گے-

    کے الیکٹرک اور چینی کمپنی کے درمیان 1000 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کا معاہدہ

    وکیل الیکشن کمیشن نے اعتراض کیا کہ عمران خان ابھی تک عدالت کیوں نہیں آئے؟ جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ 15فروری کو عدالت میں عمران خان کی پیشی ہے، اس کے بعد کی تاریخ دےدیں،جس پر جج نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے 15 فروری کو جج رخشندہ شاہین کی عدالت میں آنا ہے؟ –

    جج ظفر اقبال نے استفسار کیا کہ مجھے ایک تاریخ بتادیں کہ عمران خان کب عدالت آئیں گے؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کی صحت نے اجازت دی تو آئیں گے، ڈاکٹرز کی ہدایت پر عمل کر رہےہیں-

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے کمپلینٹ اور شواہد کی تصدیق شدہ کاپیاں عمران خان کے وکلاء کو فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئےعمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا-

    پاکستان کے معروف نیزہ باز ملک عطا محمد خان کا یوم وفات

  • جیل بھرو تحریک کے لیے پہلے اپنی گرفتاری دینا ضروری ہے،حافظ حمداللہ کا عمران خان کے بیان پر ردعمل

    جیل بھرو تحریک کے لیے پہلے اپنی گرفتاری دینا ضروری ہے،حافظ حمداللہ کا عمران خان کے بیان پر ردعمل

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک کے لیے پہلے اپنی گرفتاری دینا ضروری ہے ۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں ، ایک ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ہے، معیشت کی ایسی حالت ہے کہ پہیہ جام ہڑتال سے حالات مزید خراب ہوں گےکارکنوں کو کہتا ہوں کہ جیل بھرو تحریک کی تیاری کریں، میرے سگنل کا انتظار کریں، جیل بھرو تحریک کی کال دوں گا۔

    جیل بھرو تحریک کی بات کرنے والا زمان پارک میں چھپ کر بیٹھا ہے،مریم

    انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو ڈرانے دھمکانے کا مقصد میدان سے ہٹانا ہے تاکہ لندن سے بھاگا بھاگا ایک شخص آئے اور الیکشن جیت سکے، ان کے اوپراس وقت 60 سے زائد مقدمات ہیں، منصوبہ یہ تھا کہ عمران خان کو جیل میں ڈالا جائے، بولنے والوں کے منہ بند کیے جائیں،ان کا پلان ہے کہ تحریک انصاف کو ڈرادھمکا کر کمزور کیا جائے، وہ لوگ جو ہمارے مخالف تھے انھیں دونوں صوبوں میں اوپر لایا گیا۔

    عمران خان کی جانب سے جیل بھرو تحریک کے اعلان پر پی ڈی ایم رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے-

    پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ خان صاحب کو اپنی گرفتاری نظر آنے لگی تو جیل بھرو کا ڈراما شروع کردیا۔

    خان صاحب جیل جانے کا شوق،ضمانتیں کیوں کراتے ہیں؟ فیصل کریم کنڈی

    اس سے قبل عمران خان کی جیل بھرو تحریک کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ جیل بھرو تحریک میں سب سے پہلے قیادت گرفتاری دیتی ہے، عمران خان کیسز میں جواب دیں جیل خود بھر جائے گی، جو لوگ دو دن کی جیل میں رو پڑیں وہ جیل بھرو تحریک نہیں چلا سکتے،جیل بھرنے کی بات کرنے والا بزدل شخص چار ماہ سے ٹانگ پر پلستر چڑھا کر عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنا کر بیٹھا ہے۔

    عمران خان کے جیل بھرو تحریک سے متعلق بیان پر مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ خان صاحب کو کسی نے جیل بھرو تحریک کا مطلب غلط بتایا ہےایسی تحریک چلنے پر تمام زیر سماعت اور زیر التوا مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لی جاتی ہیں،عطااللہ تارڑ نے سوال کیا کہ کیا خان صاحب فارن فنڈنگ کیس، سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس میں ضمانت کی درخواستیں واپس لیں گے؟ کیا دیگر رہنما بھی جیل جائیں گے؟-

    عمران خان بھول گئے کہ اللہ نے مکافات عمل بھی دنیا میں رکھا ہے،مریم

  • عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی. رپورٹ

    عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی. رپورٹ

    پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہو گیا، ن لیگ کے مقابلے میں پی ٹی آئی دور میں زیادہ کرپشن ہوئی. رپورٹ

    نئی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان (Pakistan ) میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پاکستان کرپٹ ممالک کی فہرست میں 41 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (Transparency International ) کی جانب سے آج مورخہ 31 جنوری بروز منگل کرپشن ( Corruption ) پرسیپشن انڈیکس 2022 کی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 95 فیصد ممالک کرپشن میں کمی لانے میں ناکام ہوئے ہیں اور 2 تہائی ممالک میں بدعنوانی سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلا دیش کے سی پی آئی اسکور میں حالانکہ کوئی فرق نہیں آیا تاہم یہ ممالک کالے قوانین کے ذریعے آزادی اظہار رائےاور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے ٹرانسپرنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، 10سال میں پہلی بار کرپشن پرسپشن انڈیکس کم ہوکر27 ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کرپشن اسکور 10سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی۔ عمران خان کے دور میں کرپشن بڑھتی رہی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    رپورٹ میں درجہ بندی کے حوالے سے پاکستان کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 180ممالک کی فہرست میں پاکستان کی رینکنگ 140 ویں نمبر پر برقرار ہے۔ جب کہ سال 2012 میں پی پی دور میں پاکستان کا اسکور 100میں سے 27تھا۔ سال 2018 میں پاکستان کا کرپشن اسکور 33 ، اور سال 2019 میں پاکستان کا کرپشن اسکور 32 تھا۔ اسی طرح سال 2020 میں پاکستان کا کرپشن اسکور 31 رہا، 2021میں پاکستان کا کرپشن اسکور 28 پر پہنچ گیا تھا۔ 2022، میں پی ٹی آئی او پی ڈی ایم دور میں کرپشن اسکور مزید گر کر 27تک آگیا۔