Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • سابق وزیراعظم عمران خان قومی خزانے میں کتنا پیسہ چھوڑ گئے؟پی ٹی آئی کے دعوے پراسٹیٹ بینک کا بیان

    سابق وزیراعظم عمران خان قومی خزانے میں کتنا پیسہ چھوڑ گئے؟پی ٹی آئی کے دعوے پراسٹیٹ بینک کا بیان

    قومی خزانے میں 22 ارب ڈالر کا دعوی جھوٹا سٹیٹ بنک نے تردید کر دی-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نیو نیوز کے مطابق سابق حکومت کا قومی خزانے میں 22 بلین امریکی ڈالر چھوڑ کر جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا ہے حقائق سابق معاون خصوصی شہبز گل کی ٹوئٹس کے بر عکس ہیں قومی خزانے میں یکم اپریل تک صرف 11 اعشاریہ 3 بلین ڈالرز کے مجموعی ذخائر تھے متحدہ عرب امارات نے ایک سال کے لئے2 بلین ڈالرز کا قرضہ دیا اور چین نے بھی اپنے 2 بلین ڈالرز کی ادائیگی کی مدت میں مزید 1 سال کی توسیع کی وہ بھی اس میں شامل ہے-

    نومنتخب وزیراعظم مزار قائد پر حاضری، سکیورٹی انتظامات مزید سخت

    رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار میں بھی 11.3 بلین ڈالرز کی تصدیق کی گئی ہے –

    واضح رہے کہ شہباز گل نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ خان خزانے میں 22 ارب ڈالرز چھوڑ کر گئے ہیں اور نئے وزیراعظم نے آتے ہی خزانہ لوٹنا شروع کر دیا ہے-

    جبکہ دوسری جانب پاکستانی ایجنسی ’اسٹارٹ اپ پاکستان‘ کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جو ملکی خزانے میں 22 بلین امریکی ڈالر چھوڑ کرگئے ہیں۔


    سابق وزیر برائے مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اسٹارٹ اپ پاکستان کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی بہترین کارکردگی کی عمدہ مثال ہے۔

    اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق سماعت: حکومت کو بالکل بھی انتقامی کارروائی نہیں کرنے دیں گے ،چیف…


    دوسری جانب فرخ حبیب کی اس ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق یکم اپریل دو ہزار بائیس کو ملکی خزانہ میں صرف گیارہ ارب ڈالرز کے زر مبادلہ کے ذخائر تھے اور یہ بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ چین سعودی عرب متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس ہیں یعنی حقیقی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر بلکل صفر ہیں-

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بنے۔

    متحدہ عرب امارات حکام کی شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    دوسری جانب بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی َفچ نے پاکستان کی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی گزشتہ روز فچ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سیاسی عدم استحکام کے باعث ملکی معیشت متاثر ہوسکتی ہے، رواں سال جاری کھاتوں کا خسارہ 4 سےبڑھ کر 5 فیصد ہوسکتا ہے کھاتوں کا خسارہ 18.5 ارب ڈالرز ہوسکتا ہے، آئندہ سال پاکستان کو 20 ارب ڈالرز کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہیں، سعودی عرب اور چین کے7 ارب ڈالر قرض کی واپسی مؤخرہوسکتی ہے۔

    فِچ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے، ٹیکس اصلاحات پلان پر عمل درآمد میں مشکلات ہوسکتی ہیں، پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    سیاسی عدم استحکام کے باعث ملکی معیشت متاثر ہوسکتی ہے،بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ…

  • صحافی نصراللہ ملک سے تلخ کلامی :صحافی برادری کی طرف سے مذمت

    صحافی نصراللہ ملک سے تلخ کلامی :صحافی برادری کی طرف سے مذمت

     

    لاہور:صحافی نصراللہ ملک سے تلخ کلامی :صحافی برادری کی طرف سے مذمت،اطلاعات کے مطابق سینیئر صحافی نصراللہ ملک کے ساتھ پی ٹی آئی کے لاہور لبرٹی میں ہونے والے مظاہرے کے دوران کارکنون کی طرف سے بدتمیزی کے خلاف صحافی حلقوں نے آوازاٹھائی ہے

     

    اس حوالے سے لاہور پریس کلب کی باڈی کی طرف سے نصراللہ ملک کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی گئی ، اس سلسلے میں لاہور پریس کلب کے صدر ، سیکرٹری جنرل اور دیگراعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے نصراللہ ملک کے ساتھ غیرمناسب رویے کی مذمت کی گئی ہے

    یاد رہے کہ دو دن قبل پی ٹی ائی کی طرف سے ملک بھر میں احتجاجی پاورشو کے دوران لاہور کے علاقے لبرٹی میں یہ واقعہ پیش آیا جب کارکنان کیطرف سے نصراللہ ملک کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا

     

  • پی ٹی آئی نے کراچی میں جلسے کا اعلان کر دیا

    پی ٹی آئی نے کراچی میں جلسے کا اعلان کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر علی زیدی نے اہم اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر سابق وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے اعلان کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان 17 اپریل کو کراچی کا دورہ کریں گے۔


    پی ٹی آئی کے سینئیر رہنماء علی زیدی نے بتایا کہ چیئرمین تحریک انصاف 17 اپریل کو کراچی پہنچیں گے جبکہ اسی روز پی ٹی آئی کراچی میں مزار قائد سے متصل باغ جناح گراؤنڈ میں جسلہ کرے گی۔

    ا مید ہےپاکستان کی نئی حکومت چین کیساتھ دوستی کو یقینی بنائے گی،چین پاکستان تعلقات اور بھی بہتر ہونگے،چین

    علی زیدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کراچی میں تاریخی جلسے سے خطاب کریں گے جبکہ اس موقع پر پی ٹی آئی کی دیگر قیادت بھی موجود ہو گی-

    سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پی ٹی آئی کا پہلا جلسہ ہوگا۔

    واضح رہے کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں اور وہ شام کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے نیا وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 342 نشستوں پر مشتمل نیشنل اسمبلی میں کم از کم 172 ووٹوں کی ضرورت تھی شہباز شریف کو 174 ارکان نے ووٹ دیا۔

    پی ٹی آئی کا وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ ، اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی

    پی ٹی آئی نے ان کے مقابلے میں اپنے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار کھڑا کیا تھا تاہم قیادت کی ہدایات پر تحریک انصاف کے تمام اراکین ایوان سے اٹھ کر چلے گئے اور کسی نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں کیا۔

    قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لینا ایک ناجائز حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے، اس لئے ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے میں وزیراعظم کے انتخاب کے عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں پارٹی کے فیصلے کے تحت ہم سب اسمبلی سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کررہے ہیں، اس موقع پر پی ٹی آئی ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلےگئے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سازش کے ذریعے پاکستان پر ایک منصوبہ مسلط کیا جارہا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ عمران نے کیا دیا ؟میں کہتا ہوں عمران نے قوم کو خودداری کا سبق اور سر اٹھانے کا درس دیا، صحت کارڈ کے ذریعے غربت اور بیماری سے بچانےکا اہتمام کیا-

    پی ٹی آئی کا بھی لانگ مارچ کا اعلان،کب ہو سکتا ہے،تاریخ بھی سامنے آ گئی

  • امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی

    موجودہ حالات میں آپ کسی یوتھیئے سے پوچھیں کہ بھئی یہ حظ والی کہانی کیا ہے؟

    تو وہ جواب دے گا کہ حظ امریکی گورنمنٹ نے خود لکھا ہے ہمارے وزیر اعظم کو اور دھمکی دی تھی ان کو

    دوبارہ پوچھیں بھائی حظ کے اندر لکھا کیا تھا اور حظ کیا امریکی گورنمنٹ نے پوسٹ کیا تھا وزیراعظم کے نام پر؟

    تو جواب تو جواب ہو گا ہاں تو اور کیا آپ کو نہیں پتہ فلاں فلاں مگر اس سے آگے اگر کچھ بتائیں ہمیں بتائیے گا ضروران بےچارے اندھے سیاسی مقلدین کو جو انکا لیڈر بول دے وہ ان سیاسی مقلدین (یوتھیئے . پٹواری. جیالے وغیرہ ) کے لئے وہ بات معاذاللہ قرآنی حکم اور حدیث کا درجہ رکھتی ہے یہ تحقیق کرنے کے عادی ہی نہیں اور پھر یہ سیاسی جماعتوں کے مقلدین اندھا دھند اپنی نفرت کا رخ افواج پاکستان کی جانب کرتے ہیں-

    اور یہ طریقہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا ہے بشمول پی ٹی آئی کے، اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان انکے لیڈروں کے سامنے پنجاب پولیس کی طرح بن کر رہے یعنی ان کے گھروں کی لونڈی، ان کی ہر ہاں میں ہاں ملائی جائے تو مامے خان 27 فروری کو بھجوانا تھا نا اپنے کسی سورمے لیڈر کو تو خیر یہ تو ہونے والا نہیں کبھی قیامت تک بھی ان شاء اللہ کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو ملکی سلامتی کا حال وہی ہوگا جو ہمارے ملک میں پولیس کی کارکردگی کے باعث لاء اینڈ آرڈر کا ہے اور نتیجتاً ہمارے خون کے پیاسے بھارتی ہندو کل ہی چڑھ دوڑیں گے پاکستان پر-

    خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں یہ حظ کیا تھا اور خان صاحب نے اس کو کیسے سیاسی انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا ہے یہ خظ منٹ آف میٹنگ تھا جو امریکہ کے پاکستانی سفیر کے ساتھ امریکی آفیشل نے باتیں کی تھیں اور ان باتوں کا راوی ہمارا پاکستانی سفیر ہے جو امریکہ میں ہوتا ہے پاکستان کی گورنمنٹ کی طرف سے اور یہ خظ امریکی آفیشل کی جانب سے نہیں لکھا گیا تھا بلکہ یہ سفیر نے مراسلہ لکھا کہ یہ یہ میٹنگ میں باتیں ہوئی ہیں-

    جب روس یوکرائن پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو امریکہ اور اسکے تمام اتحادی یعنی نیٹو وغیرہ غصے میں تھے جبکہ ترکی کو بھی یہ حملہ قبول نہیں تھا کیونکہ وہ بھی نیٹو میں شامل ملک ہے اسی دوران خان صاحب کا دورہ روس ہونا تھا جو کہ پہلے سے طے شدہ تھا مگر پاکستانی سیکورٹی آفیشلز نے انہیں روکا کہ ابھی دورہ نا کریں کیوں کہ روس کی جانب سے یوکرائن پر حملے کی تیاریاں مکمل ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یورپ اور امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں-

    چونکہ ہماری تجارتی و معاشی منڈی ابھی تک یورپ اور امریکہ ہی ہیں ناکہ روس ہے اس لئے دورہ نا کیا جائےمگر ہمارا ہیرو خان نیازی کہاں سنتا ہے عسکری قیادت کو کہتا ہے کہ دورہ طے شدہ ہے اور انکل نیازی نکل پڑا تو اسی روز روس نے یوکرائن پر حملہ بھی کر دیا

    ہمارے یوتھیئے تصاویر شیئر کر کے خوش ہوتے رہے کہ دیکھا کپتان نے کیسے جنگ لگوائی فلاں فلاں او بھئی دو کافر ملکوں کی جنگ ایک تمہارا پرانا دشمن اور حالیہ ایک سے امداد لے کر اپنے ہی بندے اندر کر رہے ہو اور ساتھ قرض بھی لیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم اس کے غلام نہیں او غلام نہیں تو اپنی ہی مذہبی جماعت کی دلالی تاحال کھانے والوں کرو رہا فوری اپنے جہادی ہے ہمت ایسا کرنے کی ؟-

    اگر فوج دفاعی نقطہ نظر سے قوم کا بھلا کرے تو غلط اکڑوں خان گردن میں سریا رکھے تو درست چاہے نئی دشمنی پڑ جائے اسے کیا اس نے تو پارلیمنٹ ہاؤس کی نکر یا پھر برطانیہ میں نکل جانا ہے دہشت گردی کی آگ میں جلنا بیچاری غریب عوام نے ہےخیر اسی مدعہ پر آتا ہوں-

    اسی دورہ روس کی خبر امریکی گورنمنٹ کو بھی تھی تو انہوں پہلے ہی ہمارے سفیر کو بلا کر سخت الفاظ میں کہا کہ اگر آپکا وزیر اعظم روس کا دورہ اس جنگی ماحول کے دوران کرتا ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہوگا اور اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لئے یہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے (یعنی دفاعی، معاشی اور دیگر پابندی وغیرہ وغیرہ جو امریکہ کرتا ہے ہر اپنے حریف کے ساتھ )-

    یہ ایک طویل میٹنگ تھی پاکستانی سفیر کے ساتھ ظاہری بات ہے امریکہ اور روس دونوں ممالک ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کے درمیان کولڈ وار چل رہی ہے اور پاکستان کا اتحادی امریکہ ہے آج بھی دفاعی اور معاشی امور پر نا کہ روس تو ایسے میں ابھی پاکستان کے کوئی ایسے معاملات ہوئے ہی نہیں کہ روس سے دفاعی و معاشی تو پھر ہمیں اس جنگ کا حصہ بننے کا فائدہ
    جبکہ جنگ بھی دو کافر ملکوں کے مابین ہے-

    روس تو آج بھی بھارت کی حمایت کرتا ہے دفاعی کھلے عام اور بھارت دنیا میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور کشمیر پر قابض بھی ہے
    سوچنے کی بات ہے بھئی کہ جب کسی ملک سے ایسے معاملات ہوں جیسے آپ کے امریکہ کے ساتھ ہیں تو ایسی صورت حال میں ہمیشہ ہر ملک اپنے ملک میں موجود سفیر کو طلب کرتا ہے اور سخت بات ہی کرتا ہے کہ جناب اگر آپ کی حکومت نے ایسا کیا تو یہ ہو جائے گا ہم فلاں فلاں کر دیں گے-

    حتی کہ ایسے ہی ہمارے ملک میں بھی بہت بار دوسرے ممالک کے سفیروں کی طلبی کی جاتی رہی ہے اور سیکورٹی امور پر سخت الفاظ کہے جاتے رہے ہیں سفیر اور پھر وہ سفیر ان سب باتوں کو اپنی حکومت کو مراسلات میں لکھ کر سینڈ کر دیا کرتے ہیں یہاں اس خط میں بھی وہی معاملہ ہوا ہے-

    مراسلہ منجانب پاکستانی سفیر وزیراعظم کو منٹس آف میٹنگ لکھ کر سینڈ کر دئیے گئے اور اسی دوران بلکہ اس سارے معاملے سے قبل آپوزیشن نے پی ٹی آئی کے لوگ خریدنے شروع کر دئیے تھے تحریک عدم اعتماد کے لئے اب حظ جب آیا تو اسی وقت خان صاحب نے شور کیوں نہیں مچایا بلکہ جب دیکھا کہ تحریک کامیاب ہونے جا رہی اور کافی یار فروخت ہوچکے ہیں سیاسی منڈی میں تو پھر اچانک خان نے یہ چال چل دی کہ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے-

    خان صیب نے اپنے ہی سفیر کا لکھا مراسلہ اٹھا اٹھا کہنا شروع کر دیا کہ مجھے امریکہ سے ایک دھمکی والا حظ آیا ہے اور اپوزیشن کو انہوں نے میرے پیچھے لگایا ہے وغیرہ بھئی نیازی خان جمہوری رویہ اختیار کرو تم نے بھی تو کئی سال آپوزیشن بن کر اس وقت کی حکومت کو نتھ ڈالی رکھی تھی اور چینی حکومت کے دورے کے وقت بھی تم باز نہیں آئے تھے دھرنا اسلام آباد میں جو کہ پارلیمنٹ کے سامنے کیا تھا تم نے یاد ہے کہ نہیں؟ وہ جلاؤ گھیراؤ،وہ پی ٹی وی پر حملہ تو کیا اس وقت تم نے بھی بھارت سے پیسے لے رکھے تھے پاکستان کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے لئے؟-

    اب جب وزیراعظم نے شور مچانا شروع کر دیا کہ جناب مجھے امریکہ سے دھمکی آئی ہے ثبوت میرے پاس ہے تو اسی وقت پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا دھمکی ہے جو ہمیں بھی نہیں پتہ چلی اور بڑی خاموشی سے امریکہ نے آپ کو دی ہے (ورنہ امریکہ تو جب کسی ملک کو دھمکی دیتا ہے بڑی کھل کر دیتا ہے چاہئے دھمکی پر عمل کرے یا نا کرئے مگر ہوائی فائرنگ ضرور کرتا ہے)-

    تو خان صاحب نے وہ سفارتی مراسلہ دیکھایا اب نیشنل سکیورٹی کونسل نے اسے نارمل ہی لیا اور یہ طے ہوا کہ اس کا جواب مراسلہ ہی میں دیا جائے گا نا کہ احتجاجی طور پر کیوں کہ یہ مراسلہ جو آپ کے پاس ہے یہ ایک ملک کو دوسرے ملک کی دھمکی نہیں ہے لحاظا جوابی کارروائی میں جوابی مراسلہ ہی کی صورت میں دیا گیا تھا-

    اور پھر امریکی گورنمنٹ کی آفیشل نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو کوئی دھمکی نہیں دی اس کہانی میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    تو بھائی یہ ہے ساری رام کہانی خط والی ،میری گزارش ہے قوم یوتھ سے خاص کر مقلدین مذہبی قوم یوتھ سے کہ اس سے أگے کچھ ہے تو لاؤ ورنہ فوج پر الزام نا لگاؤ-
    شکریہ

    غنی محمود قصوری
    کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
    #قصوریات

  • امریکی غلامی نامنظور:امریکی ایجنٹ نامنظور:مختلف شہروں میں ریلیاں:لاکھوں افرادسڑکوں پرنکل آئے

    امریکی غلامی نامنظور:امریکی ایجنٹ نامنظور:مختلف شہروں میں ریلیاں:لاکھوں افرادسڑکوں پرنکل آئے

    اسلام آباد:عمران خان سے یکجہتی کے اظہار کے لئے، اسلام آباد، لاہور، پشاور سمیت پی ٹی آئی کی مختلف شہروں میں ریلیاں، خواتین اور بچوں سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ سابق وزیراعظم نے عوام کا شکریہ ادا کر دیا۔

     

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شہریوں کی بڑی تعداد نے عمران خان کے حق میں ریلی نکالی، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، زیروپوائنٹ سے ریلی ایف نائن پارک پہنچی۔

    لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے لبرٹی چوک میں مظاہرہ کیا، جیل روڈ پر ریلی نکالی گئی، عمران خان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

    پشاور میں پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، احتجاج میں خواتین ایم پی ایز بھی شریک ہوئیں۔

     

    فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکن گھنٹہ گھر چوک جمع ہوئے، ملتان میں چونگی نمبر 9 پر مظاہرہ کیا گیا، عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امریکی حمایت سے رجیم چینج کے خلاف نکلنے پر عوام کا شکریہ، ملک بھر میں پاکستانی سڑکوں پر امڈ آئے، پاکستانی عوام، اوورسیز پاکستانیوں نے حکومت تبدیلی کو مسترد کر دیا۔

    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ عوام نے امریکی حمایت سے حکومت کی تبدیلی کے خلاف جذبات دکھائے، پاکستانی ملک میں ہوں یا اوورسیز سب نے یہ گٹھ جوڑ مسترد کر دیا، مقامی میر جعفروں نے امریکا کی ملی بھگت سے حکومت تبدیل کی، مقامی میر جعفر وہ ٹھگ ہیں جو ضمانتوں پر رہا ہیں۔

  • آرٹیکل 63 اے کی روسےحمزہ شہبازکوووٹ دینےوالے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی نااہل ہوچکے

    آرٹیکل 63 اے کی روسےحمزہ شہبازکوووٹ دینےوالے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی نااہل ہوچکے

    لاہور:آرٹیکل 63 اے کی روسےحمزہ شہبازکوووٹ دینےوالے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی نااہل ہوچکے،اطلاعات کے مطابق آج لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں شہبازشریف کے صاحبزاے حمزہ شہباز نے پی ٹی آئی کے نافرمان ارکان اسمبلی کی مدد سے علامتی طور پراپنے آپ کو وزیراعلیٰ بنوانے کے لیے جو ووٹ لیے ہیں ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بعد پی ٹی آئی کے نافرمان اور پارٹی سے بےوفائی کرنے والے ممبران اب کسی کام کے نہیں رہے اور اب وہ نااہل ہوچکے ہیں جس کے لیے بس اب ایک کاغذی کارروائی رہ گئی ہے

     

    معروف قانون دان ، کالم نگار اور پارلیمانی امور کے ماہر اظہرصدیق نے ایک قانونی نقطہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں علامتی وزیراعلی حمزہ شریف کو منتخب کرنے پر تحریک انصاف کے تمام موجود اراکین پر آئین کے آرٹیکل 63-A کا فی الفور نفاذ ہو گیا اور یہ تمام اراکین پنجاب اسمبلی میں ووٹ ڈالنے سے قبل پارٹی ڈیکلریشن کے بعد نااہل ہو جائیں گے-

    یاد رہے کہ اس سے پہلے مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ حمزہ شہباز شریف 199 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں‘‘۔

     

    انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ’’ پنجاب اسمبلی کا ابھی ہونے والا اجلاس علامتی نہیں بلکہ آیئنی اور قانونی اجلاس ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) اپنی اکثریت ثابت کرنے جا رہی ہے۔

     

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے علامتی اجلاس میں شرکت کے لیے مریم نواز، حمزہ شہباز اور متحدہ اپوزیشن کے اراکین سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی کی شکل میں ہوٹل پہنچیں ، اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنماؤں علیم خان ، جہانگیر ترین اور چھینہ گروپ کے اراکین بھی ریلی میں موجود تھے۔

  • پرویز الہیٰ کوعمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے، مریم نواز

    پرویز الہیٰ کوعمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے، مریم نواز

    پرویز الہیٰ کوعمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے، مریم نواز
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھاکہ حیرانگی کی بات یہ نہیں کہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ملک، آئین، قانون،رولز اور پروسیجرز کا سرِبازار تماشہ لگایا،BULLIES تو ایسے ہی کرتے ہیں،تکلیف دہ بات یہ کہ یہ سب کر کے بھی وہ دندناتا پھر رہا ہے۔ کسی دوسرے سیاسی رہنما نے اگر یہ کیا ہوتا تو اب تک پھانسی پر جھول گیا ہوتا

    ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل تو اب ختم انشاءاللّہ لیکن پرویز الہی صاحب کو اس کے اس کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ عمران کے یہ ہتھکنڈے اب زیادہ دن نہیں چلیں گے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ ایک سیاسی شخص ہاری ہوئی بازی کیوں کھیلے گا؟

    قبل ازیں حکومتی اتحاد ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے مشکلات کا شکار ہو گیا،تحریک انصاف پنجاب میں مزید مشکل میں پھنس گئی،علیم خان، ترین گروپ کے بعد مزاری گروپ بھی سامنے آیا،ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کا بھی گروپ سامنے آگیا،دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے پی ٹی آئی کے ارکان ناراض ہو گئے پی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان کا مزاری گروپ بنانے پر اتفاق ہو گیا،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے پی ٹی آئی امیدوار کو سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے موجودہ صورتحال پر اپنے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کوپی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے دوست محمد مزاری کا اپنے گروپ کے ہمراہ اپوزیشن امیدوار کی حمایت کا قوی امکان ہے

    پی ٹی آئی کی طرف سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آج صبح سیکرٹری اسمبلی کے آفس میں جمع کروا دی گئی ہے،عدم اعتماد کی تحریک پنجاب اسمبلی میں جمع ہونے کے بعد سردار دوست محمد مزاری اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے مجاز نہیں رہے ۔ تحریک عدم اعتماد صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور دیگر ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے۔

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • عمران خان نے پاکستان کے آئین کو آگ لگائی ہے،ہم اس کی بغاوت کا مقابلہ کریں گے،بلاول بھٹو

    عمران خان نے پاکستان کے آئین کو آگ لگائی ہے،ہم اس کی بغاوت کا مقابلہ کریں گے،بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں غیر جمہوری حکومت اقتدار میں نہ آسکے پاکستان میں مضبوط نظام لانے کے لیے ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے، ہم عمران خان کی حکومت سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار انڈپینڈنٹ کے آرٹیکل میں بلاول بھٹو نے لکھا کہ 3 اپریل ہمارے لیے فتح کا دن تھا اورہم اداس بھی تھے، شکست کو تسلیم کرتے ہوئے عمران خان کا آخری مایوس کن عمل ایک اور بغاوت تھی، جس میں آئین کو منسوخ کر دیا گیا جمہوریت کو تہس نہس کر دیا گیا اس بار فرق صرف اتنا تھا کہ اس بغاوت کے معمار ایک سویلین عمران خان تھے-

    وقت آگیا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کے پاس ہوئے منٹس واضح ہوں،شہباز شریف

    چئیرمین پی پی پی نے لکھا کہ میں یہ 4 اپریل کو اس وقت لکھ رہا ہوں، جب سپریم کورٹ آف پاکستان عمران خان کی قانونی حیثیت اور ان کے ساتھیوں کے اقدامات پر فیصلہ دے رہی ہے، 4 اپریل 1979 کو میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاالحق کی فوجی بغاوت کے بعد پھانسی دے دی گئی، اس کے نتیجے میں وزیراعظم کا عدالتی قتل کیا گیا جو پاکستان کے وفاقی، جمہوری آئین کے خالق ہیں۔

    بلاول نے لکھا کہ پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کوئی نمائندگی نہ رکھنے والی اور غیر جمہوری حکومت اقتدار میں نہ آسکے، اس کے لیے ہمیں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، عمران خان اس غیر آئینی طریقہ کار کو بچانا چاہتا ہے جو اس جیسے آمروں کو برقرار رکھتا ہے، اس کوشش میں بھی اسے شکست ہوگی۔

    انہوں نے لکھا کہ عمران خان نے قومی اسمبلی کی اکثریت کھو دی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ اتوار کو کل 342 میں سے 197 ارکان میرے ساتھ اپوزیشن بنچوں پر آئے، انہیں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا جو کہ وزیراعظم کو ہٹانے کا واحد آئینی طریقہ ہے-

    وفاق کی طرح پنجاب میں بھی غیرآئینی اقدامات کی تیاری کی جارہی ہے،لیگی رہنما

    بلاول نے لکھا کہ ووٹ کا سامنا کرنے کے بجائے عمران خان کی پارٹی کے ڈپٹی اسپیکر نے پوری اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اپوزیشن “غیر ملکی ایجنڈے” پر کام کر رہی ہے اور تحریک کو مسترد کر دیا عمران خان نے جلد ہی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دی، ڈپٹی اسپیکر اور خان صاحب کے دونوں اقدامات آئین پاکستان کی براہ راست خلاف ورزی تھے جمہوریت اور آئین پر اس حملے کی سنگینی اس حقیقت سے بڑھ گئی ہے کہ خان نے پارلیمنٹ میں ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ اپنی بغاوت کی قیادت میں، خان اور ان کے حامیوں نے اپوزیشن کو دھمکایا، ڈرایا اور ڈرایا، اور جب یہ تمام کوششیں اپوزیشن کو ووٹ دینے سے روکنے میں ناکام رہیں اس نے وہی کیا جو آمروں نے آخری حربے کے طور پر کیا۔ اس نے آگ لگا دی. اس نے پاکستان کے آئین اور جمہوریت کو آگ لگانے کی کوشش کی عدم اعتماد کے ووٹ میں ایک یقینی اور زبردست شکست کے بعد اس نے پوری پارلیمنٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہم عمران خان کی بغاوت کا مقابلہ کریں گے-

    چئیرمین پیپلز پارٹی نے لکھا کہمیں نے دو سال سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ مانگا ہے۔ اس کے بعد سے اس نے نااہلی، تکبر اور آمریت کی حکومت کی صدارت کی ہے پاکستان میں مہنگائی، غربت، کرپشن ہماری ملکی تاریخ میں اپنے عروج پر ہے۔ سیاسی مخالفین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میڈیا سنسرخاموش ہیں استثنیٰ کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ جمہوریت کے فن تعمیر کو توڑا جا رہا ہے اور ریاستی اداروں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔

    بلاول نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ اتوار کو اپوزیشن بنچوں پر میرے ساتھ آنے والے ارکان کی طرف سے ملنے والے ووٹ پاکستانی آبادی کے کل ووٹوں کا 70 فیصد تھے عمران خان نے ووٹ لینے کے لیے غداری کے الزامات لگا کر انتہائی خطرناک کھیل کھیلا ہے، وہ پاکستانی ووٹنگ کی 70 فیصد آبادی پر غداری کے منصوبے میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہے ہیں،، عمران خان نے نہ صرف جمہوری ووٹ سے بزدلانہ پسپائی اختیار کی ہے، بلکہ بظاہر اگلے انتخابات میں دھاندلی کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے.

    عدالت نے 31 مارچ اور 3 اپریل کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس طلب کرلیے

    انہوں نے لکھا کہ پاکستان کے عام انتخابات سے قبل پارلیمنٹ کے ذریعے خان کو ہٹانے کی ایک وجہ انتخابی اصلاحات کرنا ہے، ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی اجازت دیتا ہو، سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ تاریخ کو اپنے آپ کو دہرانے نہ دے، سپریم کورٹ آف پاکستان آئین اور عوام کی مرضی کو غالب آنے دے.

    چئیرمین پیپلز پارٹی نے لکھا کہ اگر پاکستان کے آئین اور جمہوریت پر اس حملے کی مذمت نہ کی گئی، تو اس سے پاکستان کو دوبارہ آمریت کی تاریک حکمرانی کی طرف لوٹنے کا خطرہ ہے، ہم پاکستانی عوام ایسا نہیں ہونے دیں گے، عمران خان کو نہ صرف شکست ہوگی بلکہ ماضی کے ڈکٹیٹروں کے ساتھ تاریخ کے کوڑے دان میں بھی ڈال دیا جائے گا.

    عمران خان کو پتہ بھی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا،وہ اپنی حکومت ختم ہونے پرجشن منا…

  • کیا پیسے کے بل بوتے پر وفاداریاں تبدیل کروانا آئینی قدم ہے؟،شاہ محمود قریشی

    کیا پیسے کے بل بوتے پر وفاداریاں تبدیل کروانا آئینی قدم ہے؟،شاہ محمود قریشی

    پاکستان تحریک انصاف کےسابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کسی ملک کو ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہاں فیصلے ہمارے آئین، قانون اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونے چاہئیں، آج پاکستانی قوم میں جو اضطراب کی کیفیت ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم نہیں چاہتی کہ ہمارے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت ہو-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کہہ رہی ہے کہ بیرونی مداخلت نامناسب ہے چنانچہ” ڈی مارش”کیا جائے، نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی ہدایت پر ہم نے دفتر خارجہ میں امریکی سفارت کار کو بلا کر "ڈی مارش” کیا اور واشنگٹن میں بھی اپنے سفیر کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    محمود قریشی نے کہا کہ ترکی پاکستان کا دوست برادر ملک ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، ترک وزیر خارجہ نے مجھے فون کر کے کہا کہ وہ پاکستان میں صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں، وہ پاکستان کی بہتری چاہتے ہیں، اسی طرح کے بیانات چین کی جانب سے بھی آئے، آج روس نے بھی واضح بیان دیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا میں بھی کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کمیونیکیشن فیک ہے، اس کمیونیکیشن سے منصوب بیرونی شخصیت سے جب ہندوستان میں میڈیا کی جانب سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ تردید کیوں نہیں کرتے؟ خاموشی کیوں اختیار کرتے ہیں؟

    شاہ محمود کے مطابق ہندوستان، پاکستان میں ایسی حکومت کا خواہاں ہے جو ان کیلئے نرم رویہ رکھتی ہو، انہیں مفادات کا دفاع کرنے اور آزاد خارجہ پالیسی اپنانے والی حکومت کھٹکتی ہے ہماری حکومت نے ہندوستان سے کہا تھا کہ ہم آپ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں مگر کشمیریوں کا سودا ہرگز نہیں کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملک میں ہیجیانی کیفیت سے دوچار ہے، کل آپ نے دیکھا کہ اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، آج میں وزیر اعظم کے ہمراہ لاہور روانہ ہو رہا ہوں، لاہور کے اواری ہوٹل میں ایم پی پیز کو بند کر کے رکھا گیا ہے، اگر وہ آپ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو ان پر اعتماد ہونا چاہیے-

    شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ چار، پانچ ایم پی ایز تفریح کیلئے باہر جانا چاہ رہے تھے لیکن انہیں نہیں جانے دیا گیا، یہ حبس بے جا نہیں تو کیا ہے؟آئین کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بتائیں کہ آئین میں کہاں درج ہے کہ لوگوں کے ضمیر خریدے جائیں، کیا پیسے کے بل بوتے پر وفاداریاں تبدیل کروانا، آئینی قدم ہے؟-

    پاکستان ،آسٹریلیا کے درمیان ٹی 20 سیریز کا واحد میچ آج کھیلا جائے گا

  • نواز شریف کے دفتر پر ایک بار پھر حملے کی کوشش،چار زخمی

    نواز شریف کے دفتر پر ایک بار پھر حملے کی کوشش،چار زخمی

    نواز شریف کے دفتر پر ایک بار پھر حملے کی کوشش،چار زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے لندن میں سابق وزیراعطم نواز شریف کے دفتر پر حملے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ نواز شریف کے دفتر پرپی ٹی آئی کارکنوں کا حملہ قابل مذمت ہے، عمران خان سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا،

    لندن میں نوازشریف کے دفتر پر حملے کیخلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کروا دی گئی،عظمٰی بخاری، حناپرویز، سعدیہ تیمور اور سمیرا کومل نے قرارداد جمع کرائی، قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے نوازشریف کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، حملہ آوروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے،

    لندن میں‌ نواز شریف کے دفتر پر حملہ ہوا ہے’سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں موجود ہیں ، لندن میں انکے دفتر پر حملہ کیا گیا ہے، نواز شریف کے دفتر پر حملہ کرنے والے افراد کی تعداد 15 سے 20 تھی جبکہ حملہ آوروں نے شناخت چھپانے کے لئے ماسک پہن رکھے تھے، ن لیگ کے کارکنان اور حملہ آوروں کے مابین ایک گھنٹے تک ہاتھا پائی ہوتی رہی، اس حملے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں، پولیس نے کاروائی کی اور 4 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں دو حملہ آور اور دو ن لیگی کارکن ہیں

    لندن سے سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئرکرتے ہوئے بتایا کہ تین کاروں پر پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے لگے تھے، ہنگامہ آرائی میں لیگی رہنماء زبیر گل کے بھائی اعجاز بھی لڑائی میں زخمی ہوئے ۔

    قبل ازیں دو روز قبل بھی نواز شریف پر دفتر سے نکلتے ہوئے تحریک انصاف کے ایک کارکن نے ہی حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا

    گزشتہ برس بھی لندن میں نواز شریف پر لندن میں حملے کی کوشش کی گئی تھی،لندن میں نواز شریف پر نقاب پوش حملہ آوروں نے حملے کی کوشش کی ہے، سنٹرل لندن میں حسین نواز کے گھر نقاب پوشوں نے گھسنے اور نواز شریف پر حملے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا ،سابق وزیراعظم نواز شریف دفتر میں ہی موجود تھے ،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، عابد شیر علی بھی دفتر میں موجود تھے، نواز شریف کے سیکورٹی گارڈز نے حملہ آوروں کو روکا

    واضح رہے کہ نواز شریف علاج کے لئے لندن گئے تھے تا ہم لندن میں مقیم ہین اور ابھی تک پاکستان واپس نہیں آئے، پاکستان کی عدالتیں انہیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں، نواز شریف کی شیخوپورہ کی جائیداد بھی نیلام کی جا چکی ہے

    نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کیوں نہیں کی؟ راجہ بشارت نے کیا اہم انکشاف

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    نواز شریف کی صحت بارے ڈاکٹر عدنان نے دی صحافیوں کو بریفنگ ،کیا کہا؟

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    اللہ نے یہ اجازت نہیں دی اچھے برے کی جنگ ہوتوآپ کہیں میں نیوٹرل ہوں،،وزیراعظم