Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • مینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب:صحافیوں کی طرف سے مذمت

    مینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب:صحافیوں کی طرف سے مذمت

    لاہور:مینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب:صحافیوں کی طرف سے مذمت ،اطلاعات کے مطابق الیکٹرانک میڈیارپورٹرزایسوسی ایشن(ایمرا)کےصدرمحمدآصف بٹ،ایمراسیکرٹری سلیم شیخ اور ایمرا باڈی نے ایمرا کےکونسل ممبر اور92 نیوزچینل کےرپورٹرخاورمغل اور ایمرا نیوز چینل رپورٹر راشد کو پاکستان تحریک انصاف کےغنڈہ گرد عناصرکی جانب سےمینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب کا نشانہ بنانے پر اظہار مذمت کیا ہے۔

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہےپی ٹی آئی کے غنڈہ عناصر کی جانب سے 92 نیوز چینل سے وابستہ نوجوان صحافی خاور مغل اور ایمرا نیوز چینل کے رپورٹر راشدوٹوکو صحافتی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی کے دوران جلسہ گاہ تشدد اور زدوکوب کا نشانہ بنانا انتہائی شرمناک فعل اور قابل مذمت واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔پی ٹی آئی کو پاکستان کی صف اول اور قومی سطح کی سیاسی جماعت بنانے میں صحافتی برادری کا بھرپور کردار رہا ہےجس کی بدولت یہ جماعت برسراقتدار آئی اور عمران خان وزیراعظم پاکستان بنے۔مگر اپنی نااہلی کی وجہ سے اقتدارسےفارغ ہونے کاغم اور غصہ میں صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرناکسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

    ایمرا باڈی نے نوجوان صحافی خاور مغل اور راشدوٹوپر ہونےوالے تشدد پر مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران، صدر پنجاب شفقت محمود اور صدر لاہور شیخ محمود سمیت تمام انتظامی عہدیداران کو وارننگ ہے کہ اپنے غنڈہ گرد عناصرکومیڈیا رپورٹرز اور سٹاف سمیت کسی سے بھی بدتمیزی کرنے سے باز رکھنے کے ساتھ ساتھ نوجوان صحافی خاور مغل کی ساتھ بدتمیزی کرنے والے افراد کی جانب سے معافی مانگیں اور آئندہ ایسے ناخوشگوارواقعات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کی یقین دہانی کروائیں ورنہ ایمرا باڈی دیگر صحافتی تنظیموں اور صحافی برادری کےہمراہ مل کرآج ہونے والے سیاسی اجتماع کا بائیکاٹ کرے گی۔اور جب تک نوجوان صحافی خاور مغل اوع راشد وٹو سے باضابطہ معذرت نہ کی جائے ہر تقریب کا میڈیا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

  • فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اعتراضات دورکر دیئے گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی انٹراکورٹ اپیل 25 اپریل کو سماعت کیلئے مقرر کر دی چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار نےدرخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت کی ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کا حکم دیا تھا اسد عمر نے سنگل بینچ کے فیصلہ(الیکشن کمیشن 30 روز میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ کرے) کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیس کا 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا تھا فارن فنڈنگ کیس کا ریکارڈ اکبر ایس بابر کو دینے سے روکنے کی پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی گئی اکبر ایس بابر کو ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی سے الگ کرنے کی پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی گئی اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی اکبر ایس بابر کے خلاف درخواست خارج کردی اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا پی ٹی آئی نے 25 جنوری اور 31 جنوری کو دائر درخواستیں مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا تھا ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے

    عدالت پیشی کے موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے کہا ریکارڈ خسارہ ہواہے معیشت بہتر چلانا امپورٹڈ حکومت کا کام نہیں،مفتاح اسماعیل کی ابھی سےکانپیں ٹانگ رہی ہیں ہماری حکومت کو 4 فیصد زیادہ خسارہ ملا تھا، امپورٹڈ حکومت معیشت کو سہارا نہیں دے سکے گی ن لیگ کی پچھلی حکومت میں فارن رزو میں تیزی سے کمی آئی ،8مارچ کو عدم اعتماد کے بعد زخائر میں ایک چوتھائی کمی ہوئی ،اگر آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو آئیں الیکشن میں چلیں سکندر سلطان کی تعیناتی اس لیے کی عمران خان اپنے لوگوں کو تعینات نہیں کرنا چاہتے تھے،غریب آدمی 20،20سال انصاف کے لیے ایڑیاں رگڑتا ہے طاقتور کے لیے رات کو عدالت کھل جاتی ہے، تنقید اور ہمارے سوال کرنے سے اتنی پریشانی نہیں ہونی چاہیے،

    اکبر ایس بابر کو مریم نوازکیا دیتی ہیں؟ فرخ حبیب نے لگایا بڑا الزام

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

    فارن فنڈنگ کیس، اور عمران خان پھنس گئے

    فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی، تہلکہ خیز انکشاف

    فارن فنڈنگ کیس،تحریک انصاف نے پھروقت مانگ لیا

    عمران خان ڈی چوک پر اپنا اعمال نامہ لے کر آئیں،مریم اورنگزیب

    تمام الزامات ثابت، کیوں استعفیٰ نہیں دیتے،اکبر ایس بابر کا وزیراعظم کو چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

  • پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

    پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نو منتخب حکومت نے سابقہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی –

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں 2013 سے 2018 تک کی ن لیگ کی حکومت اور 2018 میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت کا موازنہ کیا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت کا اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے قانون پرنظرِثانی کا فیصلہ

    رپورٹ کے مطابق قومی ترقی کی شرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 6.1 فیصد تھی جبکہ یہ پی ٹی آئی حکومت میں 4 فیصد پر آگئی تھی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں مہنگائی 3.9 فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ 10.8 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی ایس پی آئی میں مہنگائی مسلم لیگ (ن) کے دور میں 0-9 فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ 17.3 فیصد کی ہو شربا سطح پر تھی خوراک کی مہنگائی ن لیگ کے دور میں 2.3 فیصد جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں 10.2 فیصد تھی-


    مالیاتی خسارے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں مالیاتی خسارہ 2 ہزار 260 ارب روپے تھا جبکہ پی ٹی آئی کے آخری سال یعنی 2021-2022 میں یہ 5 ہزار 600 ارب ہوچکا ہے قومی آمدن کے تناسب سے شرح ترقی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 11.1 فیصد تھی جو پی ٹی آئی کا دور ختم ہونے پر آج 9.1 فیصد ہے۔

    پی ٹی آئی کا ملک میں بلا تاخیرعام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے دور میں ملکی قرض اور ادائیگیوں کے بوجھ میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مالی سال 2017-18 میں جب اقتدار چھوڑا تھا توسرکاری شعبے کا قرض 24 ہزار 953 ارب روپے تھا۔ پی ٹی آئی نے مالی سال 2021-22 میں جب اقتدار چھوڑا ہے تو یہ قرض 42 ہزار 745 ارب روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

    پاکستان کا مجموعی قرض اور ادائیگیاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آخری سال 29 ہزار 879 ارب تھیں۔ عمران خان نے یہ مجموعی قرض اور ادائیگیاں 51 ہزار 724 ارب کی بلند ترین تاریخی سطح پر پہنچا دی ہیں۔

    رپورٹ میں تحریک انصاف دور میں غیر ملکی قرض میں تاریخی اضافے کی نشاندہی کی گئی اور کہا گیا کہ سرکاری شعبے کا غیرملکی قرض پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور میں 75.4 ارب ڈالر تھا جو پی ٹی آئی کے دور میں 102.3 ارب ڈالر پر جاپہنچا ہے۔

    عمران خان کل لاہور کے جلسہ میں اہم اعلان کریں گے،شیخ رشید

    کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے پونے چار سال میں جی ڈی پی کی شرح سے قرض اور ادائیگیوں کے مجموعی بوجھ میں 100 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ صورتحال ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے۔

    بے روزگاری کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اقتدار چھوڑا تھا تو پاکستان میں بے روزگاروں کی تعداد 35 لاکھ تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو ملک میں بے روزگاروں کی تعداد 95 لاکھ ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں خط غربت یا انتہائی مفلسی میں زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 5 کروڑ50 لاکھ تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو آج یہ تعداد 7 کروڑ 50 لاکھ ہوچکی ہے۔

    کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کے حوالے سے بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں یہ 19.2 ارب ڈالر تھا جبکہ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20 ارب ڈالرہے۔ یعنی اس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دور میں تجارتی خسارہ 30.9 ارب ڈالر تھا جبکہ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو تجارتی خسارہ 43 ارب ڈالر ہے، مسلم لیگ (ن) نے 2017-2018 میں جب حکومت چھوڑی تھی توپاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر تھے۔ پی ٹی آئی نے حکومت چھوڑی ہے تو غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر10.8 ارب ڈالر ہیں۔

    کابینہ میں اضافہ،طارق فاطمی معاون خصوصی برائے امور خارجہ مقرر

  • فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    پی ٹی آئی نے سنگل بینچ فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیل دائرکردی ،پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن کو 30 روز میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا پی ٹی آئی کے اسد عمر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیس کا 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا تھا فارن فنڈنگ کیس کا ریکارڈ اکبر ایس بابر کو دینے سے روکنے کی پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی گئی اکبر ایس بابر کو ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی سے الگ کرنے کی پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی گئی اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی اکبر ایس بابر کے خلاف درخواست خارج کردی اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا پی ٹی آئی نے 25 جنوری اور 31 جنوری کو دائر درخواستیں مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا تھا ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے

    عدالت پیشی کے موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے کہا ریکارڈ خسارہ ہواہے معیشت بہتر چلانا امپورٹڈ حکومت کا کام نہیں،مفتاح اسماعیل کی ابھی سےکانپیں ٹانگ رہی ہیں ہماری حکومت کو 4 فیصد زیادہ خسارہ ملا تھا، امپورٹڈ حکومت معیشت کو سہارا نہیں دے سکے گی ن لیگ کی پچھلی حکومت میں فارن رزو میں تیزی سے کمی آئی ،8مارچ کو عدم اعتماد کے بعد زخائر میں ایک چوتھائی کمی ہوئی ،اگر آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو آئیں الیکشن میں چلیں سکندر سلطان کی تعیناتی اس لیے کی عمران خان اپنے لوگوں کو تعینات نہیں کرنا چاہتے تھے،غریب آدمی 20،20سال انصاف کے لیے ایڑیاں رگڑتا ہے طاقتور کے لیے رات کو عدالت کھل جاتی ہے، تنقید اور ہمارے سوال کرنے سے اتنی پریشانی نہیں ہونی چاہیے،

    اکبر ایس بابر کو مریم نوازکیا دیتی ہیں؟ فرخ حبیب نے لگایا بڑا الزام

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

    فارن فنڈنگ کیس، اور عمران خان پھنس گئے

    فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی، تہلکہ خیز انکشاف

    فارن فنڈنگ کیس،تحریک انصاف نے پھروقت مانگ لیا

    عمران خان ڈی چوک پر اپنا اعمال نامہ لے کر آئیں،مریم اورنگزیب

    تمام الزامات ثابت، کیوں استعفیٰ نہیں دیتے،اکبر ایس بابر کا وزیراعظم کو چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

  • فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کے وکیل کو الیکشن کمیشن نامکمل ہونے پر اعتراض

    فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کے وکیل کو الیکشن کمیشن نامکمل ہونے پر اعتراض

    اسلام آباد: فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کے وکیل نے الیکشن کمیشن نامکمل ہونے پر اعتراض اٹھادیا۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فارن فنڈنگ ثابت ہوئی تو اس کا اثر جماعت اور چیئرمین دونوں پر ہوگا۔

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جو آبزرویشن دیں وہ بدقسمتی ہے، جن باتوں پر دلائل نہیں دیئے گئے تھے وہ بھی حکمنامہ میں شامل کر دی گئیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے الیکشن کمیشن نامکمل ہونے کا اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اس وقت مکمل نہیں ہے اور دو ارکان تعینات نہیں ہوسکے، الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق کمیشن کے تمام ارکان کا ہونا لازمی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائیکورٹ نے 30 دن میں فیصلے کی ہدایت کی ہے اس کا کیا کریں گے۔

    انور منصور نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے تحت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ کی اجازت ہے، ہر جگہ فارن فنڈنگ کا ذکر ہوتا ہے جبکہ کیس ممنوعہ فنڈنگ کا ہے، ممنوعہ فنڈنگ ملک کے اندر سے بھی ہو سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی

    انور منصور نے کہا کہ یہ کیس مالی سال 2009 سے 2013 کا ہے، اسکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آر غیرملکی فنڈنگ تک محدود تھے اور کمیٹی صرف الزامات کی روشنی میں فارن فنڈنگ کی تحقیقات کر سکتی تھی، پاکستانی قانون کے مطابق دوہری شہریت رکھنے والے سیاسی جماعتوں کو فنڈ دے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

    اکبر ایس بابر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچا دے گا ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوجاتی ہے تو اثرات جماعت اور چیئرمین پر بھی پڑیں گے کیس کے محرکات بہت سنجیدہ ہیں،عمران خان نے وانا میں خود کہا تھا ہم الیکشن کمیشن سے مطمئن ہیں پاکستان کے لیے سب سے اہم مسئلہ فسطائیت کا ماحول ہےفیصلہ بھی ان کی مرضی کا قانون بھی ان کی مرضی کا یہ فسطائیت کی ایک نشانی ہے پاکستان کے دشمن کبھی نہیں چاہتے تھے کہ عمران خان کی حکومت ختم ہو،جمہوری طریقے سے ہٹایا گیا تو انہیں سب تسلیم کرنا چاہیے-

    حلف برداری کی تقریب منعقد نہ ہونے پر نو منتخب وزیراعلیٰ نے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی ،دلائل کے لیے انور منصور خان کو مزید وقت درکار ہے 3روز مزید انور منصور خان دلائل دینگے ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی چیکنگ ایک ساتھ ہوتی لیکن الیکشن کمیشن کا سارا فوکس تحریک انصاف کے کیس پر ہے-

    سابق وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ انٹرا کورٹ میں چیلنج کررہے ہیں ،قانون سب کے لیے ہونا چاہیے ،صرف پی ٹی آئی کیس پر ہی کیوں توجہ دی جا رہی ہے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے کیسز کی سماعت کیوں نہیں ہورہی،بغیر امتیازی سلوک کے تمام جماعتوں کا کیس سننا چاہیے،پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے خلاف اسکروٹنی کمیٹی ایک ساتھ بنیں،تحریک انصاف کی ا سکروٹنی مکمل ہوگئی باقی جماعتوں کا معاملہ رکا ہوا ہے،ن لیگ کے پاس 65 کروڑ روپے کا ریکارڈ موجود نہیں ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا کیس روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی درخواست دیں گے پہلی جماعت ہے جس نے فنڈ ریزنگ کی اور پائی پائی کا حساب رکھا-

  • پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے سپریک کورٹ میں درخواست دائر کر دی-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکرد ی سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے عدالت میں آرٹیکل184 تھری کے تحت درخواست دائرکی-

    درخواست میں ادارہ شماریات، وفاق، الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور سیکرٹری کابینہ کوفریق بنایا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہےکہ نئی مردم شماری ہونے تک نئی حلقہ بندیوں کی کوئی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین اور قانون کے خلاف ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 34 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی انتخابی عمل میں تاخیرسے روکا جائےاور قرار دیا جائے کہ3 مئی 2018 میں کروائی گئی حلقہ بندیاں درست ہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا شیڈول غیرآئینی اور غیر قانونی قراردیا جائے، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل یقینی بنانے کا حکم دیا جائے-

    اگر ججز کے خلاف منفی مہم ختم نہ ہوئی تو بار ایکشن لے گی،پاکستان بارایسوسی ایشنز

  • صحافیوں کے گھروں کا گھیراؤ ، وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    صحافیوں کے گھروں کا گھیراؤ ، وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی آئی کے لوگوں کی طرف سے حامد میر کے گھر کے سامنے مظاہرے کی کوشش، وزیراعظم شہباز شریف نے آئی جی اسلام آباد کو سینئر صحافیوں اور ان کے گھروں کا تحفظ یقینی بنانے کی سخت ہدایت جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے آئی جی اسلام آباد احسن یونس سے رابطہ کیا-


    مریم اورنگزیب نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے اور نشان عبرت بنایا جائے

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آئین نے شہریوں کے بنیادی حقوق اور اظہار رائے کی ضمانت دی ہے، قانون کو ہاتھ میں لینے والوں سے کوئی رو رعایت نہ کی جائے

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے کہا کہ صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور فسطائی آمرانہ رویوں کی شدید مذمت کرتے ہیں

    آئی جی اسلام آباد نے مریم اورنگزیب کو یقین دہانی کرائی کہ ذاتی طور پر تمام صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرائیں گے-


    مریم اورنگزیب نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ سینئر صحافی حامد میر، عاصمہ شیرازی سلیم صافی سمیت صحافی برادری کے گھروں کے باہر غنڈہ گردی کی کوشش کرنے والوں سے انتہائی سختی سے نمٹا جائے گا آئی جی اسلام آباد سمیت قانون نافذ کرنے والے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کسی قسم کی غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    کراچی ترقی مانگتا ہے، آپ کے جھوٹ نہیں،مریم اورنگزیب


    انہوںنے کہا کہ 4 سال تک صحافیوں کا گلا گھونٹنے، پسلیاں توڑنے ،گولیاں مارنے ،پروگرام اور چینل بند کرانے، جیلوں میں ڈالنے کا عمران صاحب کا سیاہ دور ختم ہوچکا ہے اب آپ کی دھونس دھاندلی نہیں چلے گی۔


    سینئیر صحافی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے لوگوں کی طرف سے حامد میر کے گھر کے سامنے مظاہرے کی کوشش قابل مذمت اور اسلام آباد پولیس کا بروقت اقدام قابل ستائش ہے۔ معاملے کو گھروں تک نہ لے جاو کیونکہ سب لوگ اپنے گھروں کی عزت کے بارے میں "کچھ لوگوں” کی طرح بے حس نہیں ہوتے۔

  • ہنگو ضمنی انتخاباب:تحریک انصا ف نے  میدان مار لیا

    ہنگو ضمنی انتخاباب:تحریک انصا ف نے میدان مار لیا

    ہنگو: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 33 ہنگو ضمنی انتخاب کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے میدان مار لیا۔

    باغی ٹی وی :این اے 33 ہنگو ضمنی انتخاب کے 210 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ندیم خیال 21ہزار 583 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ، جے یو آئی (ف) کے امیدوار عبید اللہ 17ہزار 153 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    این اے 33 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا ہنگو میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پی ٹی آئی، جے یو آئی ف اور اے این پی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے حلقے کے 210 پولنگ اسٹیشنز میں 3 لاکھ 14 ہزار 77 ووٹرز رجسٹرڈ تھے-

    یہ نشست تحریک انصاف کے ایم این اے حاجی خیال کے انتقال بعد خالی ہوئی تھی اور پی ٹی آئی نے اس نشست کے لیے حاجی خیال کے بیٹے کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

  • عوام کے مسائل حل کرنا ترجیح ہے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز

    عوام کے مسائل حل کرنا ترجیح ہے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز

    نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل حل کرنا ترجیح ہے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں-

    باغی ٹی وی: پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی، ہفتوں سے قوم ہیجان میں مبتلا تھی، جمہوری اور آئینی روایات کو پامال کیا گیا ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کیا گیا جو ایوان کے تقدس پر حملہ ہے ہائی کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات دیئے، آج آئین وقانون کا مذاق اڑایا گیا۔

    زخمی ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی ہاتھ اٹھا کر بددعا، ویڈیو وائرل

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صاحب آپ نے اپنا فرض جس طرح سے بہادری سے ادا کیا اس پر آپ خراج تحسین کے مستحق ہیں، ڈپٹی اسپیکر صاحب آپ کو زچ کیا گیا سب چیزوں کے باوجود آج جمہوریت کی فتح ہوئی ہے، برا وقت آتا ہے اور چلا جاتا ہے-

    نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عمران خان جلسوں میں پاکستان کے دوست ممالک کو ناراض کر رہے ہیں عمران نیازی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو وعدے آپ نے قوم سے کیے تھے ان وعدوں کا کیا ہوا؟

    انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے پلانٹس بند ہونے سے 7000 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل نہیں کی جارہی ہیلتھ کارڈ پر ڈاکٹر کہتے ہیں جاؤ پہلے دوائی لے کر آؤ لاہور میں دن دیہاڑے ڈاکے اور ریپ ہوتے ہیں، سیف سٹی کے 30 فی صد کیمرے خراب پڑے ہیں، 5 آئی جی اور 6 چیف سیکرٹریز بدل دیئے گئے آپ کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنا سکے تو کوڑا ہی اٹھالیتے ، آج لاہور شہر کی صفائی کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    پنجاب میں بھی تبدیلی آ گئی حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میں نواز شریف کا کارکن ہوں، دن رات عوام کی خدمت میں ایک کروں گا، مہنگائی نے عام آدمی کا بھڑکس نکال دیا ہے،پنجاب میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال کریں گے، صوبے میں ایک نا اہل شخص کو وزیر اعلیٰ لگا کر سازش کی گئی چور،ڈاکوکانعرہ لگانےوالوں سےقوم نےتوشہ خانہ کاحساب مانگا، ہم انتقام نہیں لیں گے،قانون اپنا راستہ لے گا،اچھےپولیس افسران،بیوروکریٹس کاانتخاب کریں گے،2018سےٹوٹا ترقی کاسفروہیں سےشروع کریں گے،حکومت اورعوام کےدرمیان فرق ختم کریں گے-

    نو منتخب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 58 ہزار لوکل باڈیز ممبرز کو انھوں نے یک جنبش قلم ختم کیا، اگر ملک نے آگے چلنا ہے تو بہترین بلدیاتی نظام صوبے میں متعارف کروانا ہوگا مجھے خوشی نہیں ہمارے لاء انفورسمنٹ ایجنسز کو ایوان میں آنا پڑا، پولیس نے آج جو کردار ادا کیا ہے میں ان کو بھی شاباش دیتا ہوں۔

    حمزہ شہباز نے اس موقع پر علیم خان اور جہانگیر ترین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنا ترجیح ہے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں-

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز پنجاب کے 21 ویں وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ ق نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے حمزہ شہباز کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کیا۔

    انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی حمایت میں 197 ووٹ پڑے ہیں جب کہ چودھری پرویزالٰہی کے حق میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔

    ن لیگ کے 161 اراکین اسمبلی، پیپلزپارٹی کے سات 26 منحرف اراکین سمیت راہ حق پارٹی ایک اور دو آزاد امیدواروں نے بھی حمزہ شہبازشریف کو ووٹ ڈالا۔

    ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ آج جمہوریت کی کامیابی ہوئی ہے، تمام تر دباو کے باوجود آج ہم ثابت قدم رہے۔

    پنجاب اسمبلی میں دوبارہ جھگڑا ،پرویز الہیٰ بھی زخمی ہو گئے

  • ای سی پی تعصب میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے،شیریں مزاری

    ای سی پی تعصب میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے،شیریں مزاری

    سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ ای سی پی تعصب میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں شیریں مزاری نے کہا کہ ای سی پی نے ایک بار پھر پی ٹی آئی مخالف تعصب کا مظاہرہ کر دیا ہے-


    رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف پی ٹی آئی کیس کی سماعت پر توجہ مرکوز ہے، الیکشن کمیشن تمام فریقین کے فارن فنڈنگ کیسز کو بیک وقت سنے۔

    شیریں مزاری نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دباؤ کہاں سے آرہا ہے، ای سی پی تعصب میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

    قبل ازیں شیریں مزاری نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا۔


    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ وضاحت کرنا چاہتی ہوں اور ریکارڈ پر لانا چاہتی ہوں کہ عمران خان نے سیاسی ڈیڈ لاک میں مصالحت کے سلسلے میں فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا۔

    عمران خان نے فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم شروع کر دی

    انہوں نے کہا تھا کہ فوج نے اُس وقت کے وزیر دفاع کے ذریعے میٹنگ طلب کی جس میں ان کی جانب سے تین آپشن سامنے رکھے گئے۔

    شیریں مزاری نے سوال کیا تھا کہ عمران خان کئی بار کہہ چکے تھے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے پھر عمران خان استعفے کا آپشن کیوں دیں گے؟ اس بات کی کوئی تُک نہیں بنتی عمران خان نے عدم اعتماد کو صاف مسترد کردیا تھا پھر وہ یہ آپشن سامنے کیوں رکھتے؟ یہ نہایت مضحکہ خیز بات ہے ۔

    خیال رہے کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس بتایا تھا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن نہیں دیا تھا، ڈیڈ لاک کے دوران وزیراعظم آفس سے آرمی چیف سے رابطہ کیا گیا کہ بیچ بچاؤ کی بات کریں، ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت آپس میں بات کرنے پر تیار نہیں تھی جس پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وہاں گئے، مختلف رفقا سے بیٹھ کر تین چیزیں ڈسکس ہوئیں کہ کیا کیا ہوسکتا ہے، ان میں وزیراعظم کا استعفیٰ، تحریک عدم اعتماد واپس لینا اور وزیراعظم کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آپشن تھا۔

    ہفتے کی چھٹی ختم کرنے کے خلاف بینک ملازمین کا ملک بھرمیں احتجاج