Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

    پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن نے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے اور وہ مینڈیٹ واپسی کے مطالبے سے دستبردار ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن رانا ثنااللہ نے سینیٹر عرفان صدیقی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آج ملاقات میں اپوزیشن نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اپوزیشن کے تحریری مطالبات کا جواب دینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی، حکومتی کمیٹی پی ٹی آئی کے مطالبات کا جائزہ لے کرجواب دے گی، کمیٹی میں تمام اتحادی اور پیپلزپارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں، حکومتی کمیٹی مطالبات پر جو جواب دے گی وہ حتمی ہوگا۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کے 2 بنیادی مطالبات ہیں جن کا وہ پچھلے 10، 11 ماہ سے ذکر کرتے آرہے ہیں، ایک تو یہ کہ ہمارا مینڈ یٹ واپس کیا جائے جس پر ہم انہیں کہتے ہیں کہ اس کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے، آج اس سے وہ دستبردار ہوگئے ہیں اور آج کی ملاقات میں انہوں نے الیکشن کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اپوزیشن کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ تمام مقدمات سیاسی طور پر بنائے گئے ہیں جس پر ہم نے انہیں کہا تھا کہ آپ ہمیں ایف آئی آر کے نمبرز فراہم کریں کہ کن سیاسی ورکز کے خلاف ایسے مقدما ت بنائے گئے ہیں لیکن انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی۔

    ہر خاتون اور لڑکی کو عزت اور تکریم کی نظر سے دیکھنا، مریم نواز کا جوانوں کو درس

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا ’وفاقی حکومت 2 کمیشن قائم کرے اور ان کمیشن کی سربراہی یا چیف جسٹس آف پاکستان کریں یا پھر سپریم کورٹ کے 3 سینئر ترین ججز میں کسی کو سربراہی دی جائے، یہ کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جائیں، تحریری مطالبات میں 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی بات کی گئی تو یہ معاملہ تو پہلے سے سپریم کورٹ میں ہے اور اس پر پہلے سے ہی جوڈیشل ریویو ہوچکا ہے تو اس میں دوبارہ چیف جسٹس کس چیز کی انکوائری کریں گے۔

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کی حدود میں رینجرز کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت اور ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کا کہا گیا، یہ معاملے پر بھی پہلے ہی جوڈیشل ایکشن ہوچکا ہے، اس پر تو اسی وقت ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لے لیا تھا اپوزیشن نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کمیشن 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے وقت کے حالات کی تحقیقات کرے کہ کن حالات میں گروہوں یا افراد کو اعلیٰ سیکیورٹی مقامات تک رسائی ملی، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام کیسز انسداد دہشت گردی کی عدا لت میں چل رہے ہیں جب کہ کچھ کے ملٹری کورٹس میں فیصلے ہوچکے ہیں۔

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    انہوں نے کہا کہ یہ تمام کیسز تو پہلے ہی عدالتوں میں ہیں تو اب ان کا نئے سرے سے کمیشن بنانے کا تو مینڈیٹ بھی نہیں ہے کہ کیسز عدالتوں میں کسی بھی سطح پر چل رہے ہوں تو اس میں کمیشن کیا کرسکتا ہے پی ٹی آئی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ لوگوں کو کس حالات میں گرفتار کیا گیا، اس پر جتنے بھی کیسز چل رہے ہیں وہاں سب کچھ بتایا گیا ہے کہ کون کہاں سے اور کیسے حراست میں لیا گیا۔

    سلمان خان کے خاندان میں افسوس کا سماں

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں، پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں ان مطالبات کا تو کوئی جواب نہیں بنتا، پی ٹی آئی نے مطالبات کے ساتھ کسی قسم کی تفصیلات اور ڈیٹا فراہم نہیں کیا لہذا اس پر 2017 کے ایکٹ کے تحت جوڈیشل کمیشن کا قیام کا جواز نہیں بنتا۔

  • بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بالآخر تصدیق کر دی ہے کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق اڈیالہ جیل کے کمر ہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کی اور علی امین گنڈا پور کی آرمی چیف سے ملاقات علیحدگی میں ہوئی تھی، اور اس ملاقات کے دوران انہوں نے پی ٹی آئی کے تمام اہم معاملات اور مطالبات آرمی چیف کے سامنے رکھے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس ملاقات میں ملکی استحکام سے متعلق تمام اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی، اور انہیں دوسری طرف سے بھی مثبت جواب موصول ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست مذاکرات ایک خوش آئند قدم ہے اور اس سے صورتحال میں بہتری کی اُمید ہے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے گزشتہ روز آرمی چیف سے ملاقات کی تردید کی تھی، تاہم اب بیرسٹر گوہر نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو آرمی چیف کے سامنے پیش کرنے کا مقصد ملکی مسائل کو حل کرنے کی کوشش تھا۔

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    ہم چاہتے تھےمذاکرات ہوں، جس میں پاکستان کے استحکام پر بات ہو،عمران خان
    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اڈیالہ جیل کے کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے اس ملاقات کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ ابتدائی طور پر جب صحافیوں نے بیرسٹر گوہر اور آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ انہیں اس ملاقات کی تفصیلات کا علم نہیں تھا۔ تاہم بعد میں عمران خان نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بات چیت شروع ہوئی ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے اور پاکستان کے لیے اچھا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات ہوں، جس میں پاکستان کے استحکام پر بات ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی سے بات کرنی چاہیے، اور ان کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم دوسری طرف سے ہمیشہ دروازے بند رہے ہیں۔ اب اگر بات چیت کا آغاز ہو رہا ہے تو یہ پاکستان کے استحکام کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔

  • ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دعوت نامے موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے 20 افراد کو دعوت نامے ملے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ان کے پارٹی کے لوگ اس اہم موقع پر موجود ہوں گے، تاہم جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی دیگر عہدیدار کو دعوت نامہ آیا ہے؟ تو انہوں نے واضح طور پر جواب دیا کہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے مرکزی عہدیدار اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے، لیکن پارٹی کے کچھ اراکین اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    اسی دوران، مذاکرات کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو کمیشن تشکیل دیے جائیں تاکہ ہمارے افراد کی ضمانت کی جائے اور تمام کارروائی قانون کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل پر حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل درآمد کر سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی پھر آگے کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر عمل قانون کے مطابق اور شفاف ہونا چاہیے۔

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا صحافی ثاقب بشیر کو اڈیالہ جیل میں کوریج کی اجازت کا حکم

  • مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات  کمیٹی میں پیش

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین شریک ہیں،اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات دیدے گی، مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں اُمید پر دنیا قائم ہے،میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، خلوص نیت سے کروں یا نہیں،

    پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پیش کردیئے، اسپیکر چیمبر میں مطالبات پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے دستخط کروائے گئے،حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔

    مذاکرات، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے نکات سامنے آ گئے
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے، پی ٹی آئی کے مطالبات کے مسودے پر 6 اراکین کمیٹی کےدستخط ہیں، مسودے پر عمرایوب ، علی امین گنڈاپور ، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ 7 روز میں کی جائے،کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے، کیا 9 مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا؟ کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے، دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن شہداء اور زخمیوں کی تعداد پر اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے، کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے، کمیشن ایف آئی آرز کے اندراج میں درپیش مشکلات کی تحقیقات کرے، کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، دونوں کمیشن کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

    تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، عرفان صدیقی
    حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی تحریک انصاف کی کمیٹی کے تحریری مطالبات کا جواب تحریری صورت میں دیگی،پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی،تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہان کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا،تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، 31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے، 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

    پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے ہمارے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا،ہمارے تحریری مطالبات تیار ہیں، پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، اسیران کی رہائی، 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن ہمارے مطالبے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی رہائی بھی ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے تمام اراکین کی رہائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے، ایگزیکٹو آرڈر سے یہ معاملات حل ہو نہیں سکتے، امپائر صحیح ہونا چاہیے، حکومت کمیشن بنائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، ہمارے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مذاکرات کیخلاف گفتگو کی انہیں اسی لہجے میں جواب بھی مل گیا، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے وزیر اعلی کیساتھ سیکیورٹی میٹنگ میں ملاقات ہوئی، ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی،جو مطالبات ہیں تحریری آج دے دیں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جب کسی لیول پر بیٹھتے ہیں تو سوچ کر بیٹھتے ہیں، کسی راستے کیلئے ہی بیٹھتے ہیں،جب مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تو مقصد بات چیت ہی ہے، اگر ہمیں مذاکرات پر شک و شبہ ہوتا تو یہاں نا آتے، بیک ڈور کی ضرورت نہیں کیونکہ سب اوپن ہو رہا ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا،پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہے،اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کیے،پاکستان تحریک انصاف نے 3 صفحات پر مشتمل دو مطالبات پیش کیے ،9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کا قیام، بانی تحریک انصاف اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

  • شبلی فراز  اور عمر ایوب کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

    شبلی فراز اور عمر ایوب کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

    اسلام آباد: سینیٹر شبلی فراز نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو جبکہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو خط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو خط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا،موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت ملازمت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔

    خط میں درخواست کی گئی کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کےلیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل جلد از جلد کی جائے۔

    امریکا کے گہرے اور پراسرار پہاڑ جہاں آدم خور بونوں کا بسیرا ہے

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو خط لکھ کر اس ضمن میں پارلیمانی کمیٹیکی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اپنے خط میں لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 215 ایک کے تحت موجودہ چیئرمین الیکشن کمیشن آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی مدت ملازمت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔

    دریائے سندھ روزانہ کروڑوں روپے کا سونا اگل رہا ہے،رپورٹ

    انہوں نے لکھا کہ ’آئین کے آرٹیکل 213 (2 اے) اور (2 بی) کی تکمیل کی غرض سے آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ چیئرمین الیکشن کمیشن کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں تاکہ چیئرمین الیکشن کمیشن کی بروقت آئینی تقرری ممکن بنائی جاسکے موجود ہ چیئرمین الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ کی مدت ملازمت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے، وہ اپنے عہدے کی بدنامی کا باعث ہیں۔

    بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

  • بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

    بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

    پشاور: خیبرپختونخوا میں بے نظیر نشوونما پروگرام میں 79 کروڑ سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : سرکاری دستاویز ات میں بے نظیر نشوونما پروگرام پروجیکٹ پر کام کرنے والے عملے کی تنخواہوں میں بے ضابطگی کی نشاندہی ہوئی ہے کارکنوں اور عملے کو تنخواہوں میں کٹوتیوں کی ادائیگی کی رسیدیں فراہم نہیں کی گئیں مگر اس کے باوجود محکمے نے ان ادائیگیوں کی پوری قیمت ورلڈ فوڈ پروگرام اور بے نظیر نشوونما پروگرام دونوں سے وصول کیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ بے ضابطگیاں تقریباً 79 کروڑ 99 لاکھ روپے بنتی ہیں، ورلڈ فوڈ پروگرام سے کے پی حکومت کو منتقل ہونے والے 66 کروڑ 40 لاکھ روپے بے نظیر نشوونما پروگرام فنڈز کا 30 فیصد ہے جبکہ پروگرام میں کام کرنے والے 11 گھوسٹ ملازمین کی موجودگی کا بھی انکشاف بھی ہوا ہے۔

    شادی سے چند دن قبل باپ نے بیٹی کو پولیس کے سامنے گولی مار دی

    ورلڈ فوڈ پروگرام نے صوبے میں پروگرام کو روکتے ہوئے آڈٹ کی درخواست کردی جبکہ بہتر احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پروگرام کا انتظام کے پی حکومت سے لے کر این جی اوز کے حوالے کرنے کا بھی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نےاس حوالے سے ک کہا کہ خیبرپختونخوا میں بینظیر نشونما پروگرام میں بڑے پیمانے پر مالی غبن اور گھوسٹ ملازمین کا انکشاف ہوا ہے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس پروگرام پر خیبرپختونخواہ میں کام روک دیا ہے،ورلڈ فوڈ پروگرام نے مالی بے ضابطگیوں، گھوسٹ ملازمین کے معاملے پر صوبائی حکومت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

    صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سرکاری دستاویزات میں صرف تنخواہوں میں 799 ملین کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ظالموں نے ماں اور بچے کی صحت پر خرچ ہونے والے فنڈز کو بھی نہیں بخشا کرپشن کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کرنے والے علی امین گنڈاپور کی ناک کے نیچے سے 799 ملین غائب ہوگئے اس سے قبل بھی مساجد کے آئمہ کرام کے نام پر 70 کروڑ کے فنڈز غائب کیے گئے تھے۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ تمام پیسے سوشل میڈیا پر پاکستان اور اداروں کے خلاف مہم چلانے والے برگیڈ سیل کو دیئے جاتے ہیں، خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ ہر ہفتے وفاق کو فنڈز کی فراہمی کے لئے خط لکھتے ہیں،وفاق کے دیئے گئے فنڈز پشتونوں کی بجائے فوج مخالف پروپیگنڈے کرنے والوں کو بانٹے جارہے ہیں۔

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

  • نومئی کیس، یاسمین راشد،اعجاز چوہدری سمیت 31 ملزمان پر فرد جرم عائد

    نومئی کیس، یاسمین راشد،اعجاز چوہدری سمیت 31 ملزمان پر فرد جرم عائد

    لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 9 مئی کو مسلم لیگ ن کے دفتر کو جلانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔عدالت نے 31 ملزمان پر فرد جرم عائد کی.

    ملزمان نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کیا اور ان کے وکلا نے اپنے موکلوں کے دفاع میں دلائل دیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پراسیکیوشن سے گواہان کو اگلی تاریخ پر طلب کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے کیس کی سماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی ہے اور اس موقع پر تمام ملزمان کو آئندہ تاریخ پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔

    یہ مقدمہ 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے، جب مسلم لیگ ن کے مرکزی دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی، واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنما گرفتار ہیں اور جیل میں ہیں،قبل ازیں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد ،اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر پر فرد جرم عائد کردی تھی

    مریم نواز کو چاہیے کہ وہ اپنے والد یا چچا کو کہیں کہ مذاکرات بند کروا دیں،اعجاز چوہدری
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ مریم نواز چاہتی ہیں کہ مذاکرات ناکام ہوں،مریم نواز کو چاہیے کہ وہ اپنے والد یا چچا کو کہیں کہ مذاکرات بند کروا دیں،ہم تو جیلوں میں پڑے ہیں، مزید کچھ عرصہ گزار لیں گے، مذاکرات پاکستان کے مفاد میں ہیں، ان کو جاری رہنا چاہیے،اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ نے پروڈکشن آرڈر جاری کیے، مگر جیل حکام نے جانے نہیں دیا، یہ یوسف رضا گیلانی کی توہین ہے۔

    ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے شراب کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

  • مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو گا، جس میں پارٹی اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سامنے رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو، تو مسائل کا حل ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا، جن میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔ اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی کی جائے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے اور انہیں ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں جلد تکمیل کی امید ہے اور امکان ہے کہ اس کا نتیجہ خوشخبری کی صورت میں نکلے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی کے بانی اور رہنما کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ہیں، وہ سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں سزا یافتہ افراد کو فوری طور پر رہائی ملنی چاہیے تاکہ جمہوریت کا استحکام قائم رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی طرف سے جلد مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک میں سیاسی صورتحال میں بہتری آئے۔

    دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کل ہم اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کر دیں گے،پھر حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں،ہمارے کمیشن کے قیام کے مطالبے پر حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں چاہتی،تا کہ تحقیق ہو کہ سچ کیا ہے، مذاکرات کا مستقبل ان باتوں پر منحصر ہے، ہم اپنے کسی اصولی مؤقف سے نہیں ہٹیں گے، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا،ہم اس پر پیچھےنہیں ہٹیں گے.

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

  • یہ چوری کرکے القادر یونیورسٹی کے پیچھے چھپ رہے ہیں ، احسن اقبال

    یہ چوری کرکے القادر یونیورسٹی کے پیچھے چھپ رہے ہیں ، احسن اقبال

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ چوری کرکے القادر یونیورسٹی کے پیچھے چھپ رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدرات سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے انتخابی نشان کسی نے نہیں چھینا، ان کو الیکشن کمیشن نے بارہا یاددہانی کرائی کہ آپ اپنے پارٹی انتخابات کرائیں ورنہ آپ کا نشان چھن سکتا ہے پی ٹی آئی نے تین سال سے پارٹی الیکشن نہیں کرائے، اور اپنے انتخابی نشان کو چھینے جانے کے لیے اپنی سازش خود تیار کی۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ الیکشن میں التوا ہوا، 18-2017 میں فیصلہ ہوا تھا کہ نئی مردم شماری کی جائے گی، انہوں نے 2019 میں نہیں کی، 2020 اور 2022 تک نہیں کی، اس لیے جب ہم حکومت میں آئے تو ہمیں ڈیجیٹل رائے شماری کرنی پڑی، اس مردم شماری کی وجہ سے انتخابی عمل متاثر ہوا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ انہوں (پی ٹی آئی) نے کہا کہ معیشت درست نہیں ہوئی، میں قائد حزب اختلاف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے خیال میں معیشت کی درستگی یہ ہے کہ آپ معیشت کو دیوالیہ کرکے اور آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کر جائیں جو ملک کی مالی خودمختاری داؤ پر لگا دے تو پھر یہ معیشت کی درستگی آپ ہی کو مبارک ہے اگر معیشت کی درستگی یہ ہے کہ آپ سی پیک کا منصوبہ تباہ کر چلے جائیں تو یہ معیشت کی درستگی آپ ہی کو مبارک ہو۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے تنقید کی کہ انہوں (پی ٹی آئی) نے کہا کہ پی آئی کا ایک گاہک آیا، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کس منہ سے پی آئی کا نام لیتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے پاکستان کی شہری ہوا بازی کی صنعت کو پی آئی کو کئی سو ارب کا نقصان پہنچایا۔

    احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ یہ پاکستان کے وہ مجرم ہیں، کہ جن کی وجہ سے پی آئی اے کی یورپ، امریکا اور لندن کی پروازوں پر پابندی لگی، یہ وہ نالائق اور نااہل ہیں، جنہوں نے پاکستان کی قومی ایئر لائن کا بیڑہ غرق کیا ان کے خلاف تحقیقات ہوں گی اور پی آئی اے اور شہری ہوائی بازی کو تباہ کرنے کے الزام میں ان کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ ملک میں ایف ڈی آئی نہیں آرہی، تو شبلی فراز سن لیں، چین سے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں آچکی ہے، اور سی 5 کی صورت میں پاکستان کا 1200 میگا واٹ کا سب سے بڑے نیوکلیئر پاور اسٹیشن پر کام شروع ہو چکا ہے۔

    رہنما مسلم لیگ (ن) احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس ہم پر جھوٹا بنایا گیا، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں، دنیا کا وہ کونسا ملک ہے، جو وزیراعظم کو سستا تحفہ دیتا ہے اور وزیر اعظم کے سیکیورٹی گارڈ، ایم ایس کو مہنگا تحفہ دیتا ہے ان کا لیڈر (عمران خان) ساری دنیا سے کہتا تھا کہ رسیدیں دکھاؤ، جب اپنی تحفوں کی رسیدیں دکھانے کی باری آئی، تو ساری رسیدیں بوگس نکلیں، ان بوگس رسیدوں کا جواب دے دیں تو آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا، دوسروں سے رسیدیں مانگتے تھے، آپ کی اپنی رسیدیں جعلی نکلیں۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ القادر ٹرسٹ کیس پر بات کرتے ہیں، مسئلہ القادر ٹرسٹ کا نہیں، مسئلہ 190 ملین پاؤنڈ (64 ارب روپے) کا ہے، جو پاکستان کے خزانے میں آنا چاہیے تھا، وہ عمران خان کے دوست کے جرمانے کے اکاؤنٹ میں چلا گیا، یہ بتایا جائے کہ وہ 64 ارب روپے پاکستان کے خزانے سے کس نے لوٹا؟

    انہوں نے کہا کہ کوئی شخص ڈاکا ڈالے، چوری کرے اور کہے کہ میں نے چوری میں سے 50 روپے سے مسجد بنا دی ہے، اور اب میرے خلاف چوری کا مقدمہ ختم کیا جائے کیونکہ میں نے مسجد بنا دی ہے، چوری کے پیسے سے مسجد بنانے والا بھی چور ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ یہ سیرت النبی ﷺ کے پیچھے اپنی چوری چھپا کر مسلمانوں کی توہین کررہے ہیں، ہمارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی یونیورسٹی کسی چوری کے پیسوں کی محتاج نہیں ہے، پاکستان کے لوگ آقا سے محبت کرنے والے ہیں، اور وہ حلال کے پیسوں سے ایسی 10 یونیورسٹیاں بنا سکتے ہیں۔

  • فیصلہ فیصلہ کا راگ الاپنے والوں کا پورا ٹبر عدالت سے غائب رہا،عظمیٰ بخاری

    فیصلہ فیصلہ کا راگ الاپنے والوں کا پورا ٹبر عدالت سے غائب رہا،عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے فیصلہ فیصلہ کا راگ الاپنے والوں کا پورا ٹبر عدالت سے غائب رہا۔

    باغی ٹی وی: بیرسٹر سیف کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئےعظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ جج 2 گھنٹے انتظار کرتے رہے، موصوف اپنے سیل سے کمرہ عدالت نہ پہنچ سکے کرپشن وہ ہوتی ہے جو دولت ملک سے باہرجائے منی لانڈرنگ کا جو پیسہ ملک میں آئے وہ حلال کرپشن ہوتی ہےمنی لانڈرنگ کےبدلے 458 کنال زمین، 28 کروڑ نقد اور 5 قیراط ہیرے کی انگوٹھی لینا کر پشن نہیں، اگر یہ سب فائدے نہیں ہیں تو کیا لنگر خانے اور مسافر خانے فائدے ہوتے ہیں؟-

    لاہور ہائی کورٹ کا خلیل الرحمان قمر کیس کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کا حکم

    انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ سیاسی مخالفین پر چور ڈاکو کے الزامات لگانے والے آج خود احتساب سے بھاگ رہے ہیں، چور کی داڑھی میں تنکا ہے اس لیے چور عدالت کے آگے آگے بھاگ رہے ہیں، شوکت خانم ٹرسٹ اور القادر ٹرسٹ کی آڑ میں مالی فوائد کے کاروبار چل رہے ہیں سرٹیفائیڈ جھوٹا، کرپٹ اور بد دیانت شخص قوم کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا، چوروں کا ٹبر احتساب سے زیادہ دیر نہیں بھاگ سکتا۔

    پاکستان نے سکھ اور ہندو یاتریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کر دی