Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کے غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات منظر عام پر آگئے،

    پیغامات، ریاست کو کمزور کرنے کیلئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ سازش کو بے نقاب کرتے ہیں، پیغامات میں بانی پی ٹی آئی کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پیغامات کے پہلے حصے میں برطانوی صحافی چارلس گلاس اور علیمہ خان کی گفتگو سامنے آئی ہے،

    برطانوی صحافی چارلس گلاس علیمہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ;”کیا میں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو اپنی کچھ کتابیں دستخط کے ساتھ بھیج سکتا ہوں“”برطانیہ کی سخت حفاظتی جیلوں میں دستخط شدہ کتابیں بھیجنے کی اجازت نہیں ہے“، علیمہ خان نے جواب میں چارلس گلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ;”میں نے بانی پی ٹی آئی کو آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے، وہ آپ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں“”میں نے انہیں مطلع کیا ہے کہ آپ (چارلس گلاس) انہیں اپنی دستخط شدہ کتابیں بھیجیں گے“،”انہیں لازماً کتابیں مل جائیں گی“،

    چارلس گلاس کے حوالے سے علیمہ خان اور اعلی ٰ برطانوی اہلکار کی گفتگو بھی سامنے آئی ہے،برطانوی اہلکار نے علیمہ خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ;”میری چارلس سے چند گھنٹے قبل بات ہوئی ہے، میں نے بہت کوشش کی مگر کامیابی نہ مل سکی“علیمہ خان نے برطانوی اہلکار کو جواباً کہا کہ ;”جب چارلس کسی سے ملاقات کر رہا تھا تو پولیس نے چارلس کو واپس ہمارے کمپاؤنڈ میں جانے کا کہا“”وہ (چارلس گلاس) میری بہن کے گھر میں رہائش پذیر ہے“، ”انہوں (پولیس)نے اسے (چارلس گلاس) کو پہلی دستیاب فلائٹ سے جانے کا کہا ہے“،

    علیمہ خان نے برطانوی اہلکار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ;”کیا آپ کے پاس کو لیگل کونسل نہیں جو اس مسئلے سے نمٹ سکے؟“

    علیمہ خان نے ”ٹائم میگزین“ کے جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر چارلی کیمبل کو بھی واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات ارسال کئے،چارلی کیمبل کو بھیجے گئے پیغام میں نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ;”پی ٹی آئی کارکنوں کوہراساں کیا جا رہا ہے، کب تک کارکنان ہراسگی کا سامنا کرتے رہیں گے“جواباً چارلی کیمبل نے علیمہ خان کو کہا کہ;”یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے“

    علیمہ خان کا ایک واٹس ایپ رابطہ وال سٹریٹ جنرل جریدے کے صحافی سعید شاہ کے ساتھ بھی سامنے آیا ہے،صحافی سعید شاہ نے علیمہ خان سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ آئندہ ملاقات میں کچھ سوالات کے جوابات مانگے،پوچھے گئے سوالات میں بانی پی ٹی آئی سے دنیا بالخصوص امریکا کیلئے پیغام مانگا گیا،سعید شاہ نے سوال کیا کہ ”آپ (بانی پی ٹی آئی) کی اقتدار میں واپسی کیسے ممکن ہے؟“”کیا آپ (بانی پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی ہے؟“، علیمہ خان نے اشاراتاً جواب دیتے ہوئے کہا کہ;”کس نے دو بار بانی پی ٹی آئی کو قتل کرنے کی سازش کی“سعید شاہ نے اس کے جواب میں کہا کہ ;”ہاں۔۔ اسی لئے میں ان سے پوچھنا چاہا رہا ہوں مجھے امید ہے کہ اس کی کوئی وجہ سامنے آئے گی“

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علیمہ خان مسلسل غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ رابطوں کے ذریعے ریاست مخالف چھوٹا پروپیگینڈا پھیلا رہی ہے،2024 ء میں پاکستان کیلئے ویزہ درخواست میں چارلس گلاس نے خود کو سیاح ظاہر کرتے ہوئے کسی صحافتی مہم کا حصہ نہ بننے کا بیان حلفی دیا تھا،برطانوی صحافی چارلس گلاس کو اگست2024ء میں ویزہ کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا،

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چارلس گلاس کا پیغام کے ساتھ کتاب کا بھیجنا بانی پی ٹی آئی کی منفی ذہن سازی اور خفیہ پیغام رسانی ہوسکتا ہے،اس حوالے سے علیمہ خان کا استعمال اور کتابوں کو پیغام کا ذریعہ بنانا قابل غور اور تشویشناک ہے،چارلس گلاس کا برطانوی جیلوں کے سخت قوانین کی حمایت اور پاکستان میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرنا بھی تشویشناک ہے، علیمہ خان کا پاکستانی ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر چارلس گلاس کی حمایت ذاتی مفادات کیلئے غیر قانونی عمل ہے، علیمہ خان کی جانب سے چارلی کیمبل کیساتھ نام نہاد انسانی حقوق کا واویلا پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے، صحافی سعید شاہ کا عسکری قیادت کو بغیر شواہد کے سوالات کے ذریعے سیاست سے جوڑنا صحافتی اقدار کے منافی ہے، علیمہ خان کا صحافی سعید شاہ کو اشارتاًبانی پی ٹی آئی پر حملے کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا ملک دشمنی اور گمراہ کن ہے،بانی پی ٹی آئی کا غیر ملکی مداخلت کا بیانیہ اور علیمہ خان کا مسلسل غیر ملکی لابیز سے مداخلت کی درخواستیں کرنا دوغلے پن کی نشانی ہے،

    ڈیرہ غازیخان:ہم 9 مئی والے نہیں، 28 مئی والے ہیں،مریم نواز

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    نیرج چوپڑا کی دلہن کون؟تفصیلات سامنے آ گئیں

  • سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دے دیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) میں دائرہ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا، ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عدالت کو آپ کو بتانا ہو گا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہو گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقہ کی علیحدگی انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک سوموٹو نہیں لے سکی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد صاحب آپ سینئر وکیل ہیں الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی دور کریں گے،وکیل حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے پر ڈپٹی اسپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں،عدالت نے مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

  • پی ٹی آئی کے دور ، پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف

    پی ٹی آئی کے دور ، پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف

    پنجاب کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے پی ٹی آئی کی حکومت پنجاب کے دوران ضلع پاکپتن میں طالب علموں کے سرکاری اسکولوں میں داخلوں کا ریکارڈ مشکوک قرار دے کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی 2021 کی رپورٹ میں ضلع پاکپتن میں سرکاری سکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف سامنے اگیا، عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران ضلع پاکپتن میں سرکاری اسکولوں میں 58 فیصد داخلہ کا ریکارڈ نہ مل سکا۔آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کے ضلع پاکپتن میں سرکاری اسکولوں کے داخلہ کا ریکارڈ کے لئے کئی مراسلے لکھے، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کے بار بار ریکارڈ طلب کرنے کے باوجود ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا۔آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو ضلع پاکپتن میں صرف 42 فیصد داخلوں کا نادرا سے ریکارڈ مل سکا.

    آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے 58 فیصد طالب علموں کے داخلوں کا ریکارڈ نہ ملنے پر معاملہ مشکوک قرار دے دیا۔آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے ضلع پاکپتن میں سرکاری سکولوں میں طالب علموں کی مشکوک داخلہ کی رپورٹ پنجاب اسمبلی کو بھجوادی۔آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے ضلع پاکپتن میں سرکاری اسکولوں کے تمام داخلوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی سفارش کردی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جعلی داخلوں کے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں

    امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    آئی پی ایل اتنی خاص کیوں ہے؟، مارک بچر کی انگلش بورڈ پر کڑی تنقید

    گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کل ہوگا

    صدر ٹرمپ نے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کردی

  • پی ٹی آئی حکومت میں پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف

    پی ٹی آئی حکومت میں پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف

    پاکپتن: پی ٹی آئی کی حکومت پنجاب کے دوران ضلع پاکپتن میں سرکاری اسکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف، پنجاب کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی :رپورٹ کے مطابق آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی 2021 کی رپورٹ میں ضلع پاکپتن میں سرکاری سکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف سامنے آگیا، عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران ضلع پاکپتن میں سرکاری اسکولوں میں 58 فیصد داخلہ کا ریکارڈ نہ مل سکا۔

    آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کے ضلع پاکپتن میں سرکاری اسکولوں کے داخلہ کا ریکارڈ کے لئے کئی مراسلے لکھے، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کے بار بار ریکارڈ طلب کرنے کے باوجود ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو ضلع پاکپتن میں صرف 42 فیصد داخلوں کا نادرا سے ریکارڈ مل سکا، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے 58 فیصد طالب علموں کے داخلوں کا ریکارڈ نہ ملنے پر معاملہ مشکوک قرار دے دیا۔

    ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے ضلع پاکپتن میں سرکاری سکولوں میں طالب علموں کی مشکوک داخلہ کی رپورٹ پنجاب اسمبلی کو بھجوادی،آ ڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے ضلع پاکپتن میں سرکاری اسکولوں کے تمام داخلوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی سفارش کردی،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جعلی داخلوں کے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں-

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کی سڑکوں اور تمام مراکز صحت کی تعمیر و بحالی کا الٹی میٹم

  • القادر ٹرسٹ کیس:عمران خان اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی

    القادر ٹرسٹ کیس:عمران خان اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی

    اسلام آباد:القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے خلاف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو وکلا عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کریں گے، مذکورہ درخواست 21 جنوری کو ہائیکورٹ میں دائر کئے جانے کا امکان ہےوکلا میں بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ شامل ہیں، جن کے وکالت نامے مجرموں سے دستخط کرانے کیلئے اڈیالہ جیل حکام کے حوالے کردئے گئے ہیں جیل حکام وکالت نامے پیر کو وکلا کو واپس کریں گے۔

    وکیل خالد یوسف کا کہنا ہے کہ وکالت نامے جیل حکام نے لے لئے ہیں اور ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا۔

    امریکا میں ٹک ٹاک بند،ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا

    واضح رہے کہ 17 جنوری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جبکہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی جبکہ احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی بھی سرکاری تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا ہے۔

    پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

  • پی ٹی آئی کا  کور کمیٹی کا اجلاس آج رات 10 بجے طلب

    پی ٹی آئی کا کور کمیٹی کا اجلاس آج رات 10 بجے طلب

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے کور کمیٹی کا اجلاس آج رات 10 بجے طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق کور کمیٹی اجلاس میں القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، اجلاس میں مذاکرات کے حوالے سے بھی بات ہوگی، جبکہ پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل بارے بھی بات چیت ہوگی۔

    عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    واضح رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی، 30 دن سے محفوظ فیصلہ سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا،عدالت نے بانی پی ٹی آئی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، عدم ادائیگی کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی اسی طرح ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید 3 ماہ قید ہوگی۔

    عمران خان کو سزا سے پاکستان سےٹرمپ انتظامیہ کا تصادم کا امکان بڑھ گیا، برطانوی اخبار

  • عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    امریکا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کے خلاف جوابی مہم شروع ہوگئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں اور ڈیجیٹل نعروں سے مزین ٹرکوں کی گشت کی مہم کے بعد واشنگٹن میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی احتجاجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف اس مہم کو امریکا میں سیاست کا نیا میدان کہا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حامی سڑکوں پر احتجاجی ٹرکوں کی صورت میں نکلے ہیں، تو دوسری طرف ان کے مخالفین نے بھی اپنی آواز بلند کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن میں ٹرمپ حلف برداری کی تقریب کے قریب آتے ہی پی ٹی آئی کے حامیوں نے حکومت کے خلاف ڈیجیٹل نعروں اور تصاویر کے ساتھ احتجاجی ٹرکوں کے ذریعے اپنے مطالبات کی آواز بلند کی۔

    اسی دوران، پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے کرایہ پر ٹرک حاصل کر کے ان پر مخالفانہ نعرے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر آویزاں کر دیں۔ ان ٹرکوں پر اسامہ بن لادن، طالبان کی حمایت اور عمران خان کے ان بیانات کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں انہوں نے طالبان اور اسامہ بن لادن کی حمایت کی تھی۔پی ٹی آئی کے مخالفین نے واشنگٹن کی سڑکوں پر ان ٹرکوں کے ذریعے ان بیانات کو عوامی سطح پر پیش کیا تاکہ امریکی عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کے حامی ہیں اور ان کے بیانات امریکی مفادات کے خلاف ہیں۔ ان ٹرکوں پر درج نعرے "اسامہ بن لادن کو شہید” اور "طالبان کی افغان جنگ کو جائز” جیسے نعرے شامل ہیں، جو کہ امریکی عوام کی نظر میں انتہائی متنازعہ ہیں۔

    اس طرح، پاکستان کی داخلی سیاست کی جنگ اب واشنگٹن کی سڑکوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کے مخالفین نے سوشل میڈیا اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک نئی نوعیت کی سیاسی کشمکش کا آغاز کیا ہے جو دونوں فریقین کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

  • پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

    پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن نے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے اور وہ مینڈیٹ واپسی کے مطالبے سے دستبردار ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن رانا ثنااللہ نے سینیٹر عرفان صدیقی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آج ملاقات میں اپوزیشن نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اپوزیشن کے تحریری مطالبات کا جواب دینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی، حکومتی کمیٹی پی ٹی آئی کے مطالبات کا جائزہ لے کرجواب دے گی، کمیٹی میں تمام اتحادی اور پیپلزپارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں، حکومتی کمیٹی مطالبات پر جو جواب دے گی وہ حتمی ہوگا۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کے 2 بنیادی مطالبات ہیں جن کا وہ پچھلے 10، 11 ماہ سے ذکر کرتے آرہے ہیں، ایک تو یہ کہ ہمارا مینڈ یٹ واپس کیا جائے جس پر ہم انہیں کہتے ہیں کہ اس کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے، آج اس سے وہ دستبردار ہوگئے ہیں اور آج کی ملاقات میں انہوں نے الیکشن کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اپوزیشن کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ تمام مقدمات سیاسی طور پر بنائے گئے ہیں جس پر ہم نے انہیں کہا تھا کہ آپ ہمیں ایف آئی آر کے نمبرز فراہم کریں کہ کن سیاسی ورکز کے خلاف ایسے مقدما ت بنائے گئے ہیں لیکن انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی۔

    ہر خاتون اور لڑکی کو عزت اور تکریم کی نظر سے دیکھنا، مریم نواز کا جوانوں کو درس

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا ’وفاقی حکومت 2 کمیشن قائم کرے اور ان کمیشن کی سربراہی یا چیف جسٹس آف پاکستان کریں یا پھر سپریم کورٹ کے 3 سینئر ترین ججز میں کسی کو سربراہی دی جائے، یہ کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جائیں، تحریری مطالبات میں 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی بات کی گئی تو یہ معاملہ تو پہلے سے سپریم کورٹ میں ہے اور اس پر پہلے سے ہی جوڈیشل ریویو ہوچکا ہے تو اس میں دوبارہ چیف جسٹس کس چیز کی انکوائری کریں گے۔

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کی حدود میں رینجرز کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت اور ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کا کہا گیا، یہ معاملے پر بھی پہلے ہی جوڈیشل ایکشن ہوچکا ہے، اس پر تو اسی وقت ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لے لیا تھا اپوزیشن نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کمیشن 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے وقت کے حالات کی تحقیقات کرے کہ کن حالات میں گروہوں یا افراد کو اعلیٰ سیکیورٹی مقامات تک رسائی ملی، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام کیسز انسداد دہشت گردی کی عدا لت میں چل رہے ہیں جب کہ کچھ کے ملٹری کورٹس میں فیصلے ہوچکے ہیں۔

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    انہوں نے کہا کہ یہ تمام کیسز تو پہلے ہی عدالتوں میں ہیں تو اب ان کا نئے سرے سے کمیشن بنانے کا تو مینڈیٹ بھی نہیں ہے کہ کیسز عدالتوں میں کسی بھی سطح پر چل رہے ہوں تو اس میں کمیشن کیا کرسکتا ہے پی ٹی آئی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ لوگوں کو کس حالات میں گرفتار کیا گیا، اس پر جتنے بھی کیسز چل رہے ہیں وہاں سب کچھ بتایا گیا ہے کہ کون کہاں سے اور کیسے حراست میں لیا گیا۔

    سلمان خان کے خاندان میں افسوس کا سماں

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں، پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں ان مطالبات کا تو کوئی جواب نہیں بنتا، پی ٹی آئی نے مطالبات کے ساتھ کسی قسم کی تفصیلات اور ڈیٹا فراہم نہیں کیا لہذا اس پر 2017 کے ایکٹ کے تحت جوڈیشل کمیشن کا قیام کا جواز نہیں بنتا۔

  • بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بالآخر تصدیق کر دی ہے کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق اڈیالہ جیل کے کمر ہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کی اور علی امین گنڈا پور کی آرمی چیف سے ملاقات علیحدگی میں ہوئی تھی، اور اس ملاقات کے دوران انہوں نے پی ٹی آئی کے تمام اہم معاملات اور مطالبات آرمی چیف کے سامنے رکھے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس ملاقات میں ملکی استحکام سے متعلق تمام اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی، اور انہیں دوسری طرف سے بھی مثبت جواب موصول ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست مذاکرات ایک خوش آئند قدم ہے اور اس سے صورتحال میں بہتری کی اُمید ہے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے گزشتہ روز آرمی چیف سے ملاقات کی تردید کی تھی، تاہم اب بیرسٹر گوہر نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو آرمی چیف کے سامنے پیش کرنے کا مقصد ملکی مسائل کو حل کرنے کی کوشش تھا۔

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    ہم چاہتے تھےمذاکرات ہوں، جس میں پاکستان کے استحکام پر بات ہو،عمران خان
    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اڈیالہ جیل کے کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے اس ملاقات کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ ابتدائی طور پر جب صحافیوں نے بیرسٹر گوہر اور آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ انہیں اس ملاقات کی تفصیلات کا علم نہیں تھا۔ تاہم بعد میں عمران خان نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بات چیت شروع ہوئی ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے اور پاکستان کے لیے اچھا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات ہوں، جس میں پاکستان کے استحکام پر بات ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی سے بات کرنی چاہیے، اور ان کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم دوسری طرف سے ہمیشہ دروازے بند رہے ہیں۔ اب اگر بات چیت کا آغاز ہو رہا ہے تو یہ پاکستان کے استحکام کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔

  • ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دعوت نامے موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے 20 افراد کو دعوت نامے ملے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ان کے پارٹی کے لوگ اس اہم موقع پر موجود ہوں گے، تاہم جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی دیگر عہدیدار کو دعوت نامہ آیا ہے؟ تو انہوں نے واضح طور پر جواب دیا کہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے مرکزی عہدیدار اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے، لیکن پارٹی کے کچھ اراکین اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    اسی دوران، مذاکرات کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو کمیشن تشکیل دیے جائیں تاکہ ہمارے افراد کی ضمانت کی جائے اور تمام کارروائی قانون کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل پر حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل درآمد کر سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی پھر آگے کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر عمل قانون کے مطابق اور شفاف ہونا چاہیے۔

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا صحافی ثاقب بشیر کو اڈیالہ جیل میں کوریج کی اجازت کا حکم