Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • شیر افضل مروت،سلمان اکرم راجہ کی لفظی جنگ،بیرسٹر گوہر بھی بول پڑے

    شیر افضل مروت،سلمان اکرم راجہ کی لفظی جنگ،بیرسٹر گوہر بھی بول پڑے

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کو بانی تحریک انصاف عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کو بانی تحریک انصاف عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ کی تعیناتی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مرضی سے ہوئی ہے اور کس کو تعینات کرنا یا کس کو ہٹانا یہ مکمل طور پر بانی پی ٹی آئی کا اختیار ہے، اور ایسی تعیناتیاں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت کی جانب سے سلمان اکرم راجہ پر پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام پر ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کا آئین بانی پی ٹی آئی ہیں اور یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ وہ اس حوالے سے کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومتی کمیٹی کے ساتھ تیسری میٹنگ کرے گی اور اس میٹنگ میں پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے سامنے اپنے نکات لکھ کر رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات پارٹی کے موقف کو واضح کرنے کے لیے اہم ہیں اور پی ٹی آئی اپنے اصولوں پر قائم رہے گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سلمان اکرم راجہ اور شیر افضل مروت کے درمیان پارٹی امور پر شدید اختلافات دیکھنے کو ملے تھے۔ سلمان اکرم راجہ نے شیر افضل مروت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیر افضل مروت روز ایک ایسا بیان دیتے ہیں جس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور انہیں پارٹی پالیسی کا بالکل ادراک نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ شیر افضل مروت جب میڈیا میں آتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ایسا کہہ دیتے ہیں جو پارٹی کے مفاد میں نہیں ہوتا۔

    سلمان اکرم راجہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ پارٹی آئین کے مطابق سیکرٹری جنرل بن ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پارٹی آئین کو پامال کریں گے تو پھر پاکستان کے آئین کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟ شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ ایک سال قبل پارٹی میں شامل ہوئے تھے اور اب وہ پارٹی امور کی سمجھ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ سلمان اکرم راجہ کی پارٹی کے معاملات پر سمجھ بوجھ نہ ہونے کے باعث وہ اسلام آباد میں رہتے ہوئے صرف 15 دن لاہور میں گزارنے کے بعد ٹی وی چینلز پر آ کر بیانات دیتے ہیں۔

    حمزہ یوسف نے ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا

    ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، وزیراعظم

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

  • عمران خان کو رانا ثنا اللہ  کی  پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    عمران خان کو رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اور ڈاکٹر عظمیٰ جب اندر گئے تو پہلے ہمیں گیٹ سے اندر جانے سے روکا گیا

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عظمٰی نے جب عمران خان سے کہا کہ علیمہ خان کو آپ سے ملنے نہیں دیا جا رہا تو عمران خان نے عدالت کی کاروائی روک دی۔،مجھ پر آج بین لگا تھا اور عمران خان سے نہیں ملنے دیا جا رہا تھا،سلمان اکرم راجہ کو عمران خان نے نامزد کیا ہے اور اپنے ہی لوگ اُس کے پیچھے لگ گئے ہیں، سلمان اکرم راجہ وہی کرے گا جو عمران خان کہے گا، عمران خان بتا کر بھیجتے ہیں کہ میرے ٹویٹر اکائونٹ پر کیا کرنا ہے،عمران خان کہتے کہتے تھک گئے کہ میں عدالت کے ذریعے اپنے کیسز کا سامنا کر کے باہر نکلوں گا، وہ ڈیل کے تحت نہیں، سرخرو ہو کر جیل سے نکلیں گے، رانا ثنا اللہ کو بتائیں عمران خان سونا نہیں ہیرا ہے، عمران خان کو رانا ثناءاللہ خان کی کی گئی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ۔ہمیں کہا گیا آپ لوگ اکیلے ہیں،عمران خان کا پیغام قوم کو دینا بند کر دیں۔ ہمیں دو مہینے پہلے پیغام دیا گیا تھا کہ آپکی اے آئی ویڈیوز نکال دیں گے۔ ہم نے کہا ہمارے ساتھ پورا پاکستان کے سب بہن بھائی اور پورا سوشل میڈیا کھڑا ہے۔ جب تک عمران خان رہا نہیں ہو جاتے ہم عمران خان کا پیغام ضرور پہنچاتے رہیں گے، عمران خان اڈیالہ میں بیٹھ کر اپنی جماعت چلا رہے ہیں اور تمام فیصلے خود کررہے ہیں،

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

  • ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف   اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) احتساب کمیٹی کے رکن قاضی محمد انور نے بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی مداخلت انصاف لائرز فورم میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی سازش کا حصہ ہیں۔

    قاضی محمد انور نے پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کسی سازش میں ملوث ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے علی زمان ایڈووکیٹ کو عہدے سے ہٹایا، جو کہ بے بنیاد ہے۔قاضی محمد انور نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی پر من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے 55 سال وکالت کی، اور اس دوران کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی جھوٹ بولا۔”

    پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کی صفوں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غلطی کو بے نقاب کیا جائے، اور اس سلسلے میں مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف کل اپیلیں دائر کی گئیں ہیں، جن میں ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ان شاء اللہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف ہو،سزائیں معطل کی جائیں،

    کرپشن میں ملوث وزراء سے تحقیقات جاری ہیں، قاضی انور
    اسی دوران، قاضی محمد انور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کرپشن میں ملوث وزراء سے باری باری پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ، سید قاسم علی اور مشیر صحت احتشام علی سے بھی چند وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔ اسی طرح، ظاہر شاہ طورو کو بھی طلب کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایک مہینہ انکو دیا ہے کہ 31 جنوری تک جو لکھ کر دیا اسکا جواب دیں ،اسکے بعد فیصلہ ہو گا،احتشام خان کے پاس ابھی صحت کا محکمہ آیا، ڈیڑھ صفحے پر ان کو سوالات دیئے اور جوابات مانگے، چند دنوں میں ظاہر شاہ طورو سمیت ایک اور وزیر کو بلانے لگے ہیں، وزیروں کو ہم بلاتے رہتے ہیں، ہمیں جو معلومات ملتی ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں، قاضی محمد انور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پارٹی کے اندر ہونے والی ان تحقیقات کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور پی ٹی آئی کے اراکین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لئے نوٹفکیشن کیا ، فیصلہ سازی جو قاضی انور کرے گا اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا.

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے نئے سال کا آغاز

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

  • زلفی بخاری کا  محمد بن زاید کے پاکستان کے دورے پر خیرمقدم

    زلفی بخاری کا محمد بن زاید کے پاکستان کے دورے پر خیرمقدم

    پی ٹی آئی رہنما، سابق مشیر برائے سمندر پار پاکستانی، زلفی بخاری نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر اور ابو ظہبی کے حکمران محمد بن زاید آل نہیان کے پاکستان کے حالیہ دورے پر خوش آمدید کہتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔

    زلفی بخاری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ "ہم نے ہمیشہ امارات کے ولی عہد اور یو اے ای کے صدر، عزت مآب محمد بن زاید آل نہیان کو پاکستان میں خوش آمدید کہا ہے۔ آپ کی پاکستان کے لیے محبت، بھائی چارے کی جڑت اور فراخ دلی نے ہمیشہ ہماری طاقت کو بڑھایا ہے۔ آپ کی قیادت میں یو اے ای اور پاکستان کے تعلقات میں نہ صرف گہرائی آئی ہے بلکہ ایک نئی توانائی کا بھی اضافہ ہوا ہے۔”

    زلفی بخاری نے مزید کہا کہ "یو اے ای میں تقریباً 1.7 ملین پاکستانی رہتے ہیں اور یہ پاکستانی عوام کی محنت اور قربانیوں کی ایک مثال ہے۔ آپ کی جانب سے پاکستان کے عوام کے لیے فراہم کی جانے والی مسلسل مدد، خاص طور پر رحیم یار خان میں انفراسٹرکچر کی ترقی، اقتصادی نمو، اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے کی جانے والی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ ان اقدامات نے اس پسماندہ علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔”انہوں نے کہا کہ "ہم آپ کی جانب سے پاکستان کے ترقی کے لیے جاری حمایت اور عزم کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ آپ کی قیادت اور حمایت سے پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک کی ترقی کے لیے نئے دروازے کھلیں گے۔”

    زلفی بخاری نے اپنے اختتامیہ میں کہا کہ "ہزاروں پاکستانیوں کی جانب سے محمد بن زاید آل نہیان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے دورے کو پاکستان کے لیے ایک نیا سنگ میل قرار دیتے ہیں۔ ہم آپ کی کامیابیوں کی دعا گو ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پاکستان اور یو اے ای کا دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہو گا۔”

    یہ بیان یو اے ای کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کے دورہ پاکستان کے اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

    https://x.com/sayedzbukhari/status/1876229536334963021

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

  • شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت اور مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے تنازعے کے بعد بالآخر صلح ہوگئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے اختلافات کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    شیرافضل مروت نے اس موقع پر کہا کہ "ہم سیاسی ورکر ہیں، اور ہمارے درمیان جو واقعہ پیش آیا تھا، اس کے بعد ہم نے آذربائیجان میں بھی اکٹھے ہوئے۔ اس واقعہ سے ہمارے دلوں میں کوئی میل نہیں ہے، ہم ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ چھوٹے بھائی ہیں اور ہمارے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی یا بغض نہیں ہے۔”افنان اللہ خان نے بھی شیرافضل مروت کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، "میں شیرافضل مروت کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، وہ میرے بھائی ہیں اور ہمیں سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔”

    یاد رہے کہ ستمبر 2023 میں ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو کے دوران شیر افضل مروت اور سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان ایک تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں شیر افضل مروت نے افنان اللہ خان کو تھپڑ مارا تھا، جس کے بعد افنان اللہ خان نے بھی جوابی حملہ کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، تاہم اب دونوں نے اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

    اس صلح کو پی ٹی آئی میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور پارٹی قیادت نے دونوں رہنماؤں کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صلح سیاسی ماحول میں بہتری کی علامت ہو سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب پارٹی میں اندرونی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

  • عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جہاں ممبران کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔ تاہم، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بشریٰ بی بی کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں رد کر دیں ہیں اور کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غلط خبریں پھیلائی ہیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ "ہمارے کسی بھی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بانی کمیٹی ہی مذاکرات میں شامل ہے اور وہی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔ "ہم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی آگاہ کیا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔” بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ اُنہیں امید تھی کہ آج ملاقات ہوگی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کل تک یہ ملاقات ممکن ہو جائے گی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کے دو اہم مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دو اہم مطالبات ہیں: ایک تو اسیران کی رہائی اور دوسرا جوڈیشل کمیشن کا قیام۔ انہوں نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے ان مطالبات کے لیے ایک وقت کی حد بھی دی ہے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے بانیٔ پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے القادر کیس میں کسی بھی ذاتی فائدے کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں گواہوں نے عدالت میں بھی کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی لین دین نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں امید ہے کہ القادر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں بری ہوں گے۔”اس کے ساتھ ہی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات پر فوری طور پر عمل کرے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھے۔

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن کی بحالی کے لیے کیے جانے والے معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا ایک اہم رہنما ہے، جو علاقے میں امن کے قیام کی کوششوں کے خلاف سرگرم رہا۔ حاجی کریم کی اس متنازعہ حرکت سے علاقے میں ایک بار پھر بدامنی کا سامنا ہے، جس سے نہ صرف پاڑا چنار بلکہ پورے خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاسی اور سماجی ماحول پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    حاجی کریم کے ٹی ٹی پی سے گہرے روابط

    ذرائع کے مطابق، حاجی کریم کا ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے گہرا تعلق ہے، جو پاکستانی حکومت کے خلاف سرگرم ہے اور مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتا رہا ہے۔ حاجی کریم کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت اور ان کے ساتھ روابط کی خبریں ایک بڑی تشویش کا باعث بنی ہیں۔ یہ تعلقات علاقے میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی ایک اہم وجہ سمجھے جا رہے ہیں۔

    ٹی ٹی پی پی ٹی آئی کی اعلانیہ حامی

    حاجی کریم کی حمایت میں، ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور پی ٹی آئی کو اپنی اعلانیہ حامی جماعت قرار دیا ہے۔ اس سیاسی حمایت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور ملکی سیاست میں پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنا اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کے موقف اور ٹی ٹی پی کے تعلقات پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان میں آپریشنز اور افغانستان میں کارروائیوں کی مخالف

    پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشنز کیے ہیں، مگر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت اور ان کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کرنے کا موقف اپنایا ہے۔ یہ متضاد پالیسی ملک کے داخلی اور خارجی معاملات میں گہری پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کا پارا چنار میں جاری فساد سے بلکل لاتعلق رہنا

    پی ٹی آئی کی قیادت نے پاڑا چنار میں جاری فساد پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، حالانکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ پارٹی کی اس لاتعلقی نے لوگوں میں سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اس فساد سے واقعتاً لاتعلق ہے، یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور سازش چھپی ہوئی ہے؟

    یہ پارا چنار بدامنی کہیں پی ٹی آئی کا ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مشترکہ منصوبہ تو نہیں؟

    حالات کی یہ پیچیدگی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کہیں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان کسی مشترکہ منصوبے پر عمل ہو رہا ہے، جس کا مقصد پارا چنار اور دیگر علاقوں میں بدامنی پھیلانا ہو؟پی ٹی آئی کے اتحادی مجلس وحدت المسلمین (MWM) نے بھی حالیہ دنوں میں کراچی اور دیگر علاقوں میں شیعہ سنی فسادات کو بڑھانے کی کوشش کی تھی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ فسادات ایک گہری سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ان سوالات کا جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے گا، لیکن اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ پاڑا چنار میں جاری بدامنی اور فسادات میں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کی مشترکہ سازش کا عنصر کہاں تک حقیقت رکھتا ہے۔

  • حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا  پیشرفت  نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیشرفت نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اگر حکومت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ہوتا توملکی معیشت ریکورنہیں کرتی-

    باغی ٹی وی: گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیش رفت نہیں ہوئی، پی ٹی آئی کو ایک ہفتےکاوقت دیاگیا ہے اور امکان ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہوجائے مذاکرات کاعمل اب تک نشستاً،گفتاً،برخاستاً تک محدود ہے،پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے حکومت پر قطعی کوئی دباؤ نہیں ہے،سیاسی تناؤ کو کم کرنے کیلئے راستہ تلاش کرنے کیلئے مذاکرات کررہے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ہوتا توملکی معیشت ریکورنہیں کرتی، ملکی معیشت کی ریکوری تناؤکی فضا کے خاتمےکا ثبوت ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری ہورہی ہے، معاشی انڈیکیٹرزحوصلہ افزاہیں اور اسٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 18 ہزارکی ریکارڈ سطح عبورکرگئی ہے۔

    کراچی:2024 میں ہزاروں اسٹریٹ کرمنلز عدالت سے باعزت بری کئے جانے کا انکشاف

    جوبائیڈن کا اسرائیل کو 8 بلین ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کا معاہدہ

    وفاقی کابینہ میں آئندہ ہفتے توسیع کا فیصلہ

  • شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی  کیسز میں وکلا  فیسوں کا آڈٹ کروانےکا مطالبہ

    شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی کیسز میں وکلا فیسوں کا آڈٹ کروانےکا مطالبہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے تحریک انصاف کے کیسز میں وکلا کو دی گئی فیسوں کا آڈٹ کروانےکا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ چند وکلا نے پیسے لیے، دی گئی فیسوں کا آڈٹ ضرور ہونا چاہیے، ٹکٹ کا مجھے علم نہیں شاید پنجاب کی طرف ایسا ہوگا تین چار وکلا نے فیس لی ہے، وکلاء کو زیادہ فیس دی گئی،کیسز ایسی نوعیت کے نہیں تھےکہ اتنی فیسیں دی جاتیں،کیسز بے بنیاد تھے اس میں اتنی صلاحیتیں بھی درکار نہ تھیں، ایسا کام تھا نہیں کہ چوٹی کے وکیل لا تے اور منہ مانگی قیمت دی جاتی، میں نے 74 کیسز میں بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی کی لیکن کوئی پیسے نہیں لیے۔

    ورلڈ بینک سے پاکستان کو 40 ارب ڈالرز قرض ملنے کا امکان

    قبل ازیں وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا تھا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ایک دن جیل میں رہنے پر حکومت کے لاکھوں روپے کا خرچ آتا ہے،عمران خان کی مرضی سے وکلا کیسز لڑتے ہیں-

    بھارت کے نامور ایٹمی سائنسدان چل بسے

    انہوں نے کہا کہ وکلا کے کیسز لڑنے کی فیسیں ہوتی ہیں مگر کروڑوں روپے کی ان فیسوں کو میں جسٹیفائی نہیں کرتا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے ڈونیشنز آتے ہیں یا پارٹی کے لوگ ڈونیشن دیتے ہیں وکلا کی فیس کی مد میں گزشتہ ایک ماہ میں 7 کروڑ روپے علی امین خان نے ادا کیے ہیں پیسے آنے کا مطلب یہ نہیں کہ پیسوں پر ترس نہ کیا جائے، وکلا کی فیسوں کا حساب کتاب ہونا چاہیے۔

    ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد