Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے میڈیا نمائندوں کے سوالات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔

    بشریٰ بی بی ضمانت منسوخی کیس میں عدالت پیش ہوئی،اس دوران صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات پوچھے گئے، جن میں بشریٰ بی بی کی حالیہ سرگرمیوں، عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے سوالات شامل تھے، لیکن انہوں نے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور چپ چاپ عدالت کے احاطے سے روانہ ہو گئیں۔صحافیوں نے بشریٰ بی بی سے ان کے موقف کے بارے میں سوالات پوچھے، صحافیوں نے سوال کیا کہ ڈی چوک جانے کا کس کا فیصلہ تھا،آپ کا یا علی امین گنڈا پور کا، ایک اور سوال کیا گیا کہ ڈی چوک میں کیا ہوا تھا، ایک اور صحافی نے بشریٰ بی بی سے سوال کیا کہ سنا ہے آپ سیاست میں آنا چاہتی ہیں، تاہم بشریٰ بی بی نے مکمل خاموشی اختیار کی اور صحافیوں کے سوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کی جانب سے اس رویے کو دیکھتے ہوئے کئی افراد نے ان کے جوابدہ نہ ہونے اور عوام کے سوالات سے گریز پر سوالات اٹھا دیے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا اس طرح صحافیوں سے بات نہ کرنے کا مطلب ہے کہ وہ عوامی سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جو لوگ عوام کو جوابدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا اصل چہرہ اب سامنے آ رہا ہے، جہاں نہ شفافیت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کا عمل، ڈی چوک کارکنان کو لانے اور اکسانے کے لئے تو بشریٰ بی بی مسلسل خطابات کرتی رہیں، اسلامی ٹچ دیتی رہیں تا ہم صحافیوں کے سامنے منہ نہ کھول سکیں، ایسے لگتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے چپ کا روزہ رکھ لیا، عوامی حلقوں میں بشریٰ بی بی کی خاموشی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اگر وہ عوام کے سامنے آئیں تو ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

    26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،عظمیٰ بخاری
    بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جوابات نہ دینے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ بشریٰ بی بی آج اچھے بچوں کی طرح خاموش ہیں، 26 نومبر کو جو جھانسی کی رانی بن رہی تھی آج منہ چھپائی کر رہی تھی، بشریٰ بیگم اپنی بہن اور ترجمان کے ذریعے ساری پارٹی کو چارج شیٹ کرنے کے بعد آج خود چپ ہو گئیں، 24 اور 26 نومبر کو جوشیلے خطاب کرنے والی بشریٰ بی بی آج اپنا انقلابی بھاشن پشاور چھوڑ آئیں، 26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،بشریٰ بی بی میڈیا کو بتاتیں ڈی چوک سے بھاگنے کا پلان ان کا تھا یا گنڈاپور کا تھا؟ آج قوم کو بتاتیں ڈی چوک سے دوڑ کیوں لگائی، بے چاری نے پہلا انقلاب لیڈ کیا وہ بھی گلے پڑ گیا، بشریٰ بی بی کی غیر سیاسی سوچ اور غیر سیاسی فیصلوں نے ان کی پارٹی کو تقسیم کیا ہے، پی ٹی آئی کا ’انقلاب فروم ہوم‘ مہینے میں ایک بار انگڑائی لیتا ہے، جیسے ہی ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے انقلاب دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    عمران ‏خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

  • مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا ،خواجہ آصف

    مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا ،خواجہ آصف

    اسلام آباد:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور رابطے پر ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ ‏پی ٹی آئی نے 24 نومبر کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 12 سے لے کر 278 تک بتائی اور کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیے،پی ٹی آئی نے رینجرز اور پولیس کی شہادتوں کا اعتراف یا ذکر تک نہیں کیا، دوغلا پن اور دہرا معیار تحریک انصاف کی شناخت و کلچر ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ‏مذاکرت چند دن پہلے تک صرف اسٹیبلشمنٹ تک حلال تھے اور حکومت سے مذاکرات حرام تھے، یہ بھی زمانے کے انقلاب ہیں، ‏مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا کیونکہ وہ تو دن میں کئی رنگ بدل لیتے ہیں،کوئی زمانہ تھا جب جنرل باجوہ اور فیض ضامن ہوتے تھے یہ تب کی بات ہے جب محبت جوان تھی۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسپیکر ہاؤس میں ملاقات کی جس میں بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا،مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے کی تجویز اسپیکر نے دی، ان کی تجویز کو پی ٹی آئی اور حکومت دونوں نے تسلیم کر لیا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ مذاکرات ہماری نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت ہیں، بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ معنی خیز مذاکرات کی بات کی ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے،میں نے پہلے بھی مفاہمت کی بات کی تھی، ہم چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آئیں، جیل جانے سے بانی پی ٹی آئی کا قد مزید بڑھا ہے، ہم بانی پی ٹی آئی سمیت تمام پارٹی اسیران کی فوری رہائی چاہتے ہیں، حکومتی لڑائی سے پوری قوم کا نقصان ہورہا ہےسیاسی کیسز واپس لینا حکومت کے بائیں ہاتھ کا کام ہوتا ہے، آخر اس معاملے میں دیر کیوں ہو رہی ہے۔

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسپیکر ہاؤس میں ملاقات کی جس میں بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا،مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے کی تجویز اسپیکر نے دی، ان کی تجویز کو پی ٹی آئی اور حکومت دونوں نے تسلیم کر لیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات بغیر کسی پیشگی شرائط کے ہوں گے، مذاکرات کا مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام اور جاری تناو میں کمی لانا ہو گا اور فریقین جلد مذاکراتی کمیٹیوں کے اراکین کے نام مشاورت سے دیں گے، اسپیکر ایاز صادق سے اس سے قبل سلمان اکرم راجا اور اسد قیصرنے بھی ملاقات کی تھی۔

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے سینیٹ میں کہا تھا کہ ہماری کمیٹی ہر کسی سے مذاکرات کے لیے تیار ہےہم نے سنجیدہ اور سینئر لوگوں پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے، ہماری مذاکراتی کمیٹی ہر ایک سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، یہ ملک ہم سب کا ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے جس تھالی میں کھاتا اسی میں چھید کرتا ہے،عظمیٰ بخاری

    بانی پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے جس تھالی میں کھاتا اسی میں چھید کرتا ہے،عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ مرشد مزے میں ہے جبکہ کوچ اور چیلہ کٹہرے میں ہیں۔

    باغی ٹی وی : بانی پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے جس تھالی میں کھاتا اسی میں چھید کرتا ہے، کرپشن کرپشن کا راگ الاپنے والے کا اپنا پورا ٹبر چوری اور ڈاکوں میں ملوث نکلا انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نوازشریف اور مریم نواز کے بغض میں یہاں پہنچے ہیں، مریم نواز پر کوئی کرپشن کا کیس نہیں تھا۔

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہی پھر بھی انکو کوچ اور اسکے چیلے نے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا بشری بی بی قیمتی نکلس چوری کرنے اور 190 ملین پاؤنڈ کے ڈاکے میں ملوث ہے بشری بی بی نے ابھی پنجاب میں کی لوٹ مار کا حساب دینا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پانچ سال نوازشریف اور مریم نواز سے رسیدیں مانگنے والے کے پاس اپنی رسیدیں نہیں بشری بی بی پر توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرنے کی جعلی رسیدوں کا بھی کیس زیرالتواء ہے۔

  • تحریک انتشار گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ،ثبوت کہاں ہیں،عطا تارڑ

    تحریک انتشار گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ،ثبوت کہاں ہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نےبیرسٹر گوہر کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ 9 مئی کو دھول اڑانے والے آج دھول بٹھانے کی باتیں کر رہے ہیں،

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انتشار گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ہے، گولی چلی ہے تو ثبوت سامنے کیوں نہیں لاتے؟ دوڑ کیوں لگائی؟ ،موقع سے بھاگنے والے بہانے بنا رہے ہیں، غلیلوں، بنٹوں، پتھروں، سٹن گنز اور آتشیں اسلحہ سے لیس شرپسندوں نے 26 نومبر کو وفاق پر چڑھائی کی،پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو شہید اور زخمی کیا، اس نقصان کا مداوا کون کرے گا؟شہید جوانوں کا خون کس کے ہاتھوں پر تلاش کریں، تحریک انصاف کے پاس گولی چلنے کا کوئی ایک ثبوت ہے تو سامنے لائے، پرتشدد سیاست اور پرتشدد احتجاج پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے،اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں، الزامات لگا کر ان سے منہ مت پھیریں، سانحہ 9 مئی کے تمام ثبوت موجود ہیں، تحریک انصاف کی پوری قیادت سانحہ 9 مئی میں ملوث ہے،

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

  • حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

    حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

    تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے معاملے میں اس لیے شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہیں،ہ بشریٰ بی بی کا توشہ خانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ بشریٰ بی بی ہمیشہ سے پارٹی کے ساتھ ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیرسٹر گوہر سے جب صحافی نے سوال کیا کہ کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آج سے مذاکرات شروع ہو رہے ہیں تو بیرسٹر گوہر نے اس کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات آج سے شروع نہیں ہو رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ مذاکرات کا آغاز ہو تاکہ سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکے اور کسی معقول نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی طریقے سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اور پی ٹی آئی ہمیشہ سے اس بات کی حامی رہی ہے کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

    قبل ازیں بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ زیادتی کی گئی انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ایسا جاری رہا تو انہیں دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا جمہوریت کا حصہ ہے، پی ٹی آئی کے مظاہرین کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا اور اگر فائرنگ ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہونی چاہیے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس ملک میں پہلے بھی متعدد تحقیقاتی کمیشن بنے مگر کوئی عملی نتائج نہیں نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایوان اپنے ارکان اور ان کے بچوں کا تحفظ نہیں کر سکا، اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیق کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ظلم جب بڑھتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے۔ انہوں نے شام کے ایک قیدی کا ذکر کیا جس نے بتایا کہ وہ 39 سال بعد جیل سے باہر آیا ہے اور شام کے حکمران نے ملک سے فرار ہونے کے دوران 2 ارب ڈالر ساتھ لے گئے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمیں دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے، اس ایوان کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے اپنے خطاب میں 26 نومبر کے واقعے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں پر گولیاں کیوں چلائی گئیں؟ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے اور اس بات کا مظاہرہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور حامیوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جا رہا ہے۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور نے آخر وقت تک بشریٰ بی بی کے ساتھ کھڑے رہنے کے باوجود، ان پر بھی تشدد کیا گیا، انہیں مارا گیا، زخمی کیا گیا اور مقدمات بھی ان کے خلاف درج کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے غریب ارکان پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین بانی پی ٹی آئی کو مجرم کہہ کر صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں کا موڈ خراب کرتے ہیں، حالانکہ حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم کیا ہے اور ان کی املاک کو لوٹا ہے۔

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    چیمپئنز ٹرافی ،بھارتی کرکٹ بورڈ فیوژن فارمولے پر رضا مند،بھارتی میڈیا کا دعویٰ

  • پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں کہ ہر شخص الگ بیان دیتا ہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں کہ ہر شخص الگ بیان دیتا ہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ 26 نومبر کے احتجاج میں علی امین کے گارڈز نے اپنے ورکرز پر فائرنگ کی۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی نے 12 کارکنان کی شہادت کا ذکر کیا لیکن کسی کےورثا سامنے نہیں آئے، سیاسی تقریر میں سیاسی باتیں کریں پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں کہ ہر شخص الگ بیان دیتا ہے، بغیر ثبوت کے اس قسم کی ہوائی باتیں کرنا اجتماعی شعور کی توہین ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بیانات میں تضاد ہے، بشریٰ بی بی نے کہا کہ مجھے چھوڑ کر سارے لوگ بھاگ گئے۔

    وزیردفاع نے الزام عائد کیا کہ جب علی امین بھاگ رہے تھے تو ان کے ورکرز نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا، یہ بھی آن ریکارڈ ہے علی امین کے گارڈز نے اپنے ورکرز پر فائرنگ کی، انہوں نے اب صوبائیت کا کارڈ کھیلنا شروع کردیا، پی ٹی آئی ابھی تک مرنے والوں کی تعداد نہیں بتا سکی، لطیف کھوسہ کچھ کہتے ہیں باقی سارے کچھ کہتے ہیں، اب یہ 12افراد کہہ رہے ہیں لیکن ان کا بھی ڈیٹا کسی کو نہیں دے سکے ہاؤس میں ان کے بھاگنے کی ویڈیوز چلائیں، جب دھرنے کا موقع آیا ، کھڑے رہنے کا موقع آیا تو یہ سارے بھاگ گئے۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ انہوں نے اب سول نافرمانی کی کال دی ہے، دس سال پہلے بھی انہوں نے سول نافرمانی کی کال دی تھی، کنٹینر پر کھڑے ہوکر بانی پی ٹی آئی نے یوٹیلٹی بلز جلائے تھے لیکن کسی نے ان کی کال پر لبیک نہیں کہا اور ان کی کال فیل ہوگئی۔

    انہوں نے کہا کہ میرا چیلنج ہے کوئی پاکستانی یوٹیلٹی بل دینے سے انکار نہیں کرے گا، میں اصرار کرتاہوں کہ سول نافرمانی کی کال پر یہ اسٹینڈ لیں، لوگوں نے انہیں مسترد کردیا تھا آج بھی عوام ان کو مسترد کریں گے، بیرون ملک رہنے والے بھی ان کی بات نہیں مانیں گے، انہیں سول نافرمانی کی تحریک پر کھڑے رہنا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ کتنے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔

  • فیض حمید کیخلاف چارج شیٹ  فوج کا اندرونی معاملہ ہے،بیرسٹر گوہر

    فیض حمید کیخلاف چارج شیٹ فوج کا اندرونی معاملہ ہے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فیض حمید پر فرد جرم عائد ہونے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ فیض حمید پر چارج شیٹ فوج کا اندرونی معاملہ ہے، ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، فوج کے اپنے قواعد اور قوانین ہیں جس کے تحت وہ ٹرائل کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو باضابطہ طور پر چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 12 اگست 2024ء کو پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

    فیض حمید کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات میں ملوث ہونے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، فیض حمید نے سیاسی مفادات کے لیے احتجاج اور انتشار کو ہوا دی، جس میں مختلف سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت شامل ہے خاص طور پر، 9 مئی کے واقعات اور اس سے پہلے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ان کا کردار شامل ہے، جن میں 2022 کے دوران ہونے والے مظاہرے اور نومبر 2022 میں آرمی چیف کی تعیناتی کے دوران ہونے والے احتجاج شامل ہیں۔

  • پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے،عطا تارڑ

    پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ فوجی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔زیک گولڈسمتھ کی ٹویٹ کو بائیکاٹ کرنے کی بات نہیں کریں گے۔

    عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی فوج کے خلاف بیرونی ایجنڈے کا پرچار کر رہے ہیں۔ فلسطین پر ہونے والی اے پی سی میں بھی یہ شریک نہیں ہوئے۔گولڈسمتھ کی فنڈنگ نے انہیں فلسطین کے حق میں بات کرنے سے روکا۔ فوج کے جوان اس ملک کے وقار کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی فوج کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت ملتی ہے،آپ کا ایجنڈا فوج کو کمزور کرنا اور انتشار پھیلانا ہے۔ہم کبھی 9 مئی کو بھولنے نہیں دیں گے۔ فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر کے انتشار پھیلانا ان کی پالیسی ہے۔پی ٹی آئی پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنے والے ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، فوج اگر مضبوط ہے تو ملک مضبوط ہے، فوج مضبوط نہ ہو تو ملک بھی مضبوط نہیں ہوتا،بیرونی ممالک میں ہماری فوج کو مانا جاتا ہے، پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے تاکہ بیرونی قوتیں اس سے فائدہ اٹھا سکے، آپریشن گولڈ سمتھ پوری دنیا جانتی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار پیدا ہو،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے ڈی چوک سے کیوں دوڑ لگائی ؟فائنل کال کا مطلب ہوتا ہے بس اب ہم سب اڑا کر رکھ دیں گے تو سوال یہ ہے ڈی چوک سے کیوں دوڑ لگائی ؟ اس کا جواب نہیں ہے کہ دوڑ کیوں لگائی۔ تحریک انصاف صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کی ٹارگٹڈ مہم چلا رہی ہے،صحافیوں کو ہراساں کرنے کیلئے پی ٹی آئی کی یہ ٹارگٹڈ کمپین ہے پی ایف یو جے نے بھی صحافیوں کی آن لائن ہراسمنٹ کی مذمت کی ہے۔ مذموم مہم کا مقصد صحافیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔پی ٹی آئی تقسیم اور اختلافات کا شکار ہے خیبر پختونخوا حکومت اور ان کے وزراء نے عمران خان کی سول نافرمانی پر عمل درآمد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • ملک میں چور بازاری کے سوا ایف آئی اے کا کام کیا ؟قائمہ کمیٹی اراکین برہم

    ملک میں چور بازاری کے سوا ایف آئی اے کا کام کیا ؟قائمہ کمیٹی اراکین برہم

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اراکین نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے جرائم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس چیئرمین خرم نواز کی سربراہی میں ہوا جس میں لاپتا افراد کا معاملہ زیر بحث آیا جب کہ اس دوران چیئرمین کمیٹی اور ممبران ایف آئی اے حکام پر برہم ہوگئے،چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے کہا کہ ایف آئی اے نے جرائم کا بازار گرم کر رکھا ہے، کیا داخلہ کمیٹی کے پاس اتھارٹی ہےکہ ایف آئی اے سے جرائم کا حساب لے سکے، جا کر ڈی جی ایف آئی اے کو بتا دیں کہ یہ نہیں چلے گا۔

    ممبر داخلہ کمیٹی چوہدری نصیر نے کہا کہ میرے ضلع سے ایک شخص ڈیڑھ سال سے لاپتا ہے، 2 کروڑ روپے مانگے جارہے ہیں اور ڈیمانڈ کرنے والا ایران میں بیٹھا ہے، ایف آئی اے نےکہا ڈی جی سے رابطہ کریں لیکن کیاعام آدمی ڈی جی ایف آئی اے سے رابطہ کرسکتا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ملک میں چور بازاری کے سوا ایف آئی اے کا کام کیا ہے،کمیٹی ممبر حنیف عباسی نےکہا کہ پہلے نبیل گبول پھر میں نے اور آج چوہدری نصیر نے ایف آئی اے کے کنڈکٹ پر سوال اٹھایا ہے، ایف آئی اے والوں کو داخلہ کمیٹی میں بلا کر ہماری توہین نہ ہی کیا کریں،رکن اسمبلی نبیل گبول نے کہا کہ کمیٹی کی کسی بات کی بیوروکریسی کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    چیئرمین خرم نواز نے کہا کہ ایف آئی کے ڈی جی یا ڈائریکٹرکا ذاتی کیس ہو تو ہائیکورٹ سے ضمانت کے باوجود دوسرا کیس بنالیتے ہیں،بعد ازاں کمیٹی نے 14 ماہ سے لاپتا گجرات کے شہری کو ایک ہفتےمیں بازیاب کراکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں زرتاج گل نے سوالات کئے اور کہا کہ کس نے گولی چلانے کا حکم دیا، اموات اور زخمیوں کی مکمل تفصیلات دی جائیں، مطیع اللہ جان کو کیوں گرفتار کیا گیا،زرتاج گل وزیر نے سوال کیا وزیر داخلہ بتائیں کہ کس نے حکم دیا کہ 25 اور 26 نومبر کو شہریوں پر سیدھی فائرنگ کی جائے؟ وزیر داخلہ بتائیں کہ کتنے افراد کی اموات ہوئیں اور کتنے زخمی ہوئے؟وزیر داخلہ بتائیں کہ مطیع اللہ جان کو پمز اسپتال کے باہر سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کیوں گرفتار کیا؟ وزیر داخلہ بتائیں کہ اسلام آباد سے 1100 پشتونوں کو لسانی بنیاد پر کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟وزیر داخلہ بتائیں کہ صحافیوں کو ان کی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے پر دھمکایا کیوں جا رہا ہے؟