Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک کے عام آدمی کا مسئلہ غربت اور مہنگائی ہے، اسے حل کرنا ہمارا فرض ہے،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اس ملک کے مفاد کی خاطر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، نواز شریف کے اس اچھے پیغام کو بھی کمزوری سمجھا گیا، ہماری سیاسی روایت ہے کہ ہم سیاسی مخالفین کی خوشی غمی میں شرکت کرتے ہیں، ہمارے سیاسی قائدین نے ہمیں اخلاق کے دائرہ میں رہ کر تنقید کرنے کی تلقین کی، مگر کنٹینر سے روزانہ گالم گلوچ کی سیاست کی جاتی تھی، نواز شریف نے ملک میں ٹرین مارچ بھی کیا، بڑے جلسے بھی کئے لیکن کبھی کسی کو تو کر کے نہیں بلایا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی خان صاحب کہہ کر پکارتے تھے، نواز شریف نے سیاست میں ہمیشہ دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، یہ اپنے سیاسی مفاد کو تعصب کی نظر سے سوچتے ہیں، ملتان میں قاسم باغ کے جلسے میں بھگدڑ مچنے سے تحریک انصاف کے آٹھ سے دس کارکن ہلاک ہوئے، کیا یہ ان کے گھر تعزیت کے لئے گئے؟ پی ٹی آئی نے اموات کا جھوٹا بیانیہ بنایا، انہوں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اسلام آباد کی پوری سڑک کو خون میں لت پت دکھایا،اگر یہ سچے ہیں تو ان کے اعداد و شمار کیوں مختلف ہیں،اگر ان کا بیانیہ سچ پر مبنی تھا تو پوری پارٹی ایک بات کرتی، مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

  • قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایوان میں تیز شور و غل کے دوران دونوں کے بیانات میں شدت آئی۔

    رانا تنویر نے اسد قیصر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا کردار فاشسٹ جماعت کا ہے اور یہ جماعت ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور وفاقی حکومت پر چڑھائی کی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو غلط اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجاب حکومت چھاپے مار رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہیں۔

    اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ رانا تنویر کے بیانات حقیقت سے عاری ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رانا تنویر اپنی حکومت کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کا جواب دیں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔

    رانا تنویر نے اس موقع پر کہا، "چار سالوں میں آپ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، اور اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آئی۔ پنجاب حکومت اگر چاہے تو 10 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، لیکن آپ پنجاب سے 5 لوگ بھی نہیں نکال سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی، اور ان کی حکومت صرف سیاسی مداخلت اور الزامات کے ذریعے کام کر رہی تھی۔

    اس دوران ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور دیگر ارکان بھی اس بحث میں شامل ہوگئے، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ ایوان کی کارروائی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترمیمی بل 2024سید نوید قمر نے پیش کیا، پاکستان اینیمل کونسل ترمیمی بل مزید غور کے لے قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا ،عالیہ کامران نے کہا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے اسے یہاں منظور کیا جائے، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ جانوروں سے متعلق کونسل کے بل سے اتفاق کرتا ہوں، بل میں کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے کمیٹی میں غور کیاجائے.

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

  • جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے،عطا اللہ تارڑ

    جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے،عطا اللہ تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کرم پر توجہ دیتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی،جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی دورکے وزیرغلام سرور خان نے قومی ائیر لائن کے حوالے سے متنازعہ بات کی تو پوری دنیا میں سوالات اٹھے تھے گذشتہ دور حکومت میں جو جرم ہوا تھا، موجودہ دور میں اس کا ازالہ ہوا ہے، انہیں پی آئی اے پر بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔

    عطااللہ تارڑ نے پی آئی اے کی یورپ کے لئے فلائٹس بحال ہونے پر پوری قوم کو مبارک باد دی اور کہا کہ پی آئی اے کی فلائٹس پر کافی عرصہ پابندی رہی، اللہ کا فضل ہے کہ موجودہ دور میں پی آئی اے کا آپریشن بحال ہوگیا ہے۔

    کرم معاملے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کاش اس وقت وزیر اعلیٰ کے پی کرم کا دورہ کرتے، اور امن و امان پر توجہ دیتے تو آج احتجاج کی نوبت نہ آتی امن و امان کی ذمہ داری صوبائی معاملہ ہے، کرم معاملے پر علی امین گنڈاپور سے رابطہ کرلیں، تاہم امن و امان کیلئے ہم بھی حاضر ہیں، جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی احتجاج میں کارکنوں کی اموات کی بات کرتے ہیں، بار بار لاشوں کا ذکر کر رہے ہیں، ایک نمبر بتا دیں، انہیں خود نہیں پتہ کہ کتنی لاشیں ہیں؟ جب اصل تعداد ہی معلوم نہیں تو جھوٹ کیوں پھیلایا جا رہا ہوتا ہے؟ ان کے دس رہنما مختلف اعداد و شمار بتا رہے ہیں،انہوں نے اسلام آباد سے راہ فرار اختیار کی، تنقید سے بچنے کے لئے بار بار جھوٹا بیانیہ بنا رہے ہیں۔

  • عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اڈیالہ جیل کے باہر سے واپس روانہ ہو گئے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عمران خان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل پہنچے تھےتاہم علی امین گنڈا پور کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا.گنڈا پور کے پروٹوکول افسر کو آگاہ کیا گیا کہ جیل جانے کی اجازت نہیں،جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل سے عمران خان کو ملے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ہے، ان کا جو بھی فیصلہ ہو گا اس پر من و عن عمل کریں گے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا وفاق میں ہماری حکومت نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں مسائل کا سامنا ہے، وفاق سے خیبر پختونخوا کے پیسے لینے میں مشکلات ہیں لیکن ہم لیکر رہیں گے۔

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    جیسن گلیسپی نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کی وجوہات بتا دیں

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،  مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید9 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیریں مزاری، راشد حفیظ، طاہر صادق سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے،بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل کی عدالت میں پیش کیا گیا مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھی عدالت پیش کیا،اب تک 98 ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔ عمران خان پر 5 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی ،غیر حاضر ملزموں کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 98 ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی۔جی ایچ کیو حملہ کیس میں کل ملزمان کی تعداد 119 ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی کی جانب سے 265 ڈی کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کی 265 ڈی کی درخواست آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دی جس کی وجہ سے ان پر آج فردِ جرم عائد نہ ہو سکی،سی آر پی سی 265 ڈی کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کا کہا جاتا ہے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • پی ٹی آئی دور میں غیر قانونی طور پر 2 ارب سے زائد کی گاڑیاں خریدے جانے کا انکشاف

    پی ٹی آئی دور میں غیر قانونی طور پر 2 ارب سے زائد کی گاڑیاں خریدے جانے کا انکشاف

    لاہور: پنجاب میں سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے پی ٹی آئی دور میں غیر قانونی طور پر 2 ارب 12 کروڑ 30 لاکھ روپے کی گاڑیاں خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ 310 گاڑیاں سرکاری منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر خریدی گئیں گاڑیوں کی خریداری کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بھی منظوری نہیں لی گئی جبکہ گاڑیوں کی خریداری کے لیے پیپرا رولز نظر انداز کر کے پیشگی رقم ادا کی گئی، خریدی گئی گاڑیوں میں 68 متسوبشی فوسو ٹرک، ہینو کے 114 بڑے ٹرک، ہینو کے 80 چھوٹے ٹرک اور 48 رکشہ شامل ہیں گاڑیوں کی غیر قانونی خریداری کی تحقیقات کے لیے متعلقہ افسران کو طلب کیا جائے گا۔

  • ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار 40 سے زائد ملزمان عدالت سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

    ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار 40 سے زائد ملزمان عدالت سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ڈی چوک میں پی ٹی آئی احتجاج کے دوران گرفتار40 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، تاہم اسلام آباد پولیس نے تمام ملزمان کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف ڈی چوک احتجاج کیس میں شناخت پریڈ پر بھیجے گئے ملزمان کو عدالتی اوقات ختم ہونے کے باوجود انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے پولیس کو احکامات جاری کیے کہ آدھے گھنٹے کے اندر ملزمان کو کمرہ عدالت پہنچایا جائے ورنہ آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا جائے گا، ملزمان کو عدالت پیش کر نے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت میں جیل بھیجے گئے 100 سے زائد مظاہرین کو شناخت پریڈ کیلئے جج ابو الحسنات ذوالقرنین کے سامنے پیش کیا گیا تھا،وکیل انصر کیانی نے ڈسچارج ہونے والے ملزمان کی دوبارہ گرفتاری پرعدالت کو آگاہ کر دیا، ملزمان کو دوبارہ پکڑنے پر ان کے اہل خانہ نے بھی شدید احتجاج کیا اور پولیس سے ہاتھا پائی کی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران گرفتار کارکنان کی پیشیوں کا سلسلہ جاری ہے، عدالت میں پیشی کے موقع پر بھاری پولیس نفری تعینات کردی گئی، جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس نے صحافیوں کو پیچھے دھکیل دیا، ایس ایچ او اشفاق وڑائچ نے صحافیوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیچھے نہ ہٹے تو گرفتارکروا دونگا۔

    دریں اثنا سماعت کے موقع پرعدالت نے تھانہ کھنہ کے 54، آئی نائن کے 16 اور تھانہ کوہسار کے 11 ملزمان کو ان کے مقدمات سے رہا کر دیا،انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ کوہسار کے 48 ملزمان کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

  • پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا،ہم اپنے اثاثے کو جھوٹے اور فریبیوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونےدیں گے۔

    باغی ٹی وی: رانا ثنا اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کے لیے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا اور پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا ہمارے جوانوں میں بہت ٹیلنٹ موجود ہےکھیلوں کے میدان آباد کرنے کے بجائے نوجوانوں کو حکومت کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور نوجوانوں کو پرتشدد کارروائیوں کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی گئی پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا تاہم نوجوان نسل ملک دشمن عناصر کے عزائم سے آگاہ ہوچکی ہے۔

    انہوں نےکہا کہ حکومت کھیلوں کےفروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کو سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ما ضی میں کھیل کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی پرفارمنس اکیڈمی میں آپ کو تمام سہولیات ملیں گی آپ یہاں ٹریننگ کریں اور دنیا میں پورے ملک کا نام روشن کریں۔

    وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو ختم کیا تھا لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو دوبارہ شروع کیا جائے گاکھلاڑیوں کے لیے مختلف محکموں میں کوٹہ مختص کریں گے اور نقد انعامات بڑھا کر 5 سے 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہےمحکموں کے درمیان دوبارہ کھیلوں کے مقابلے شروع کیے جائیں گے اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد پروگرامز جاری کیے ہیں۔

  • سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ 14 دسمبر سے شروع کرنے والی سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کر دیں۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور ان مذاکرات سے مسائل کا حل نکالنا ملک کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر بات چیت سے مسائل کا حل نکلتا ہے تو یہ سب سے بہترین حل ہوگا، لیکن اگر مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑے گی۔

    اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی تنقید
    ذرائع کے مطابق، محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے محض احتجاج کرنا یا کسی تحریک کا آغاز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں کوئی خاص منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر احتجاج کرنا زیادہ موثر اور دانشمندانہ عمل ہو گا، کیونکہ اس طرح عوام میں زیادہ بیداری پھیلائی جا سکتی ہے۔محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے نرم رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے فیصلوں میں ابہام اور اختلافات نے پی ٹی آئی کے موقف کو کمزور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات اور حکمت عملی کی کمی سے پارٹی کے حامیوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بانی کی رہائی کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی، جس کی وجہ سے ان کی حمایت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت سے صرف وقتی فائدہ ہوگا، لیکن اگر حکومت اپنی پوزیشن پر قائم رہتی ہے تو پھر تحریک کا آغاز ضروری ہو گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اگر مذاکرات میں کامیابی نہیں ملتی تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ایک ناگزیر عمل بن جائے گا، اور اس تحریک کے ذریعے عوامی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

    محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر چار ماہ کے اندر انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے کہ حکومت کب اپنی مدت مکمل کرے گی اور نئے انتخابات کا انعقاد کب ہوگا۔ اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنے کی صورت میں ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور اس کے نتیجے میں عوام کو فائدہ ہوگا۔

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،ڈی چوک احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی کی وزیراعظم شہباز شریف و دیگر کے خلاف کرمنل کمپلینٹ سیشن جج اعظم خان نے 23 دسمبر کو کیس ابتدائی بحث کے لیے مقرر کر دیا.

    عدالت نے آئندہ سماعت پر شکایت کنندہ کو حاضر ہونے کا حکم دے دیا،بیرسٹر گوہر نے موجودہ حکومت کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہے ،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہبازشریف و دیگر کے خلاف پرائیوٹ کمپلینٹ دائر کی ہے ،پرائیوٹ کمپلینٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطاتارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف کو فریق بنایاگیاہے،آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی سیکیورٹی اور نامعلوم افراد کو بھی فریق بنایاگیاہے،بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 12 ہلاک ہونے والے کارکنان کی لسٹ فراہم کی،گولیوں سے زخمی ہونے والے 38 کارکنان کی لسٹ بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے،139 کا پتہ کارکنان کے بھی نام درخواست میں درج کیے گئے ہیں.

    درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے