Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آغاز کرنا  چاہیے،شاہ محمود قریشی

    سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آغاز کرنا چاہیے،شاہ محمود قریشی

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آغاز کرنا چاہیے،سول نافرمانی کی تحریک مؤخر کرنے کا مشورہ میں نے دیا تھا۔

    باغی ٹی وی : رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، 9 مئی کو راولپنڈی نہیں بلکہ کراچی میں تھا میں کہتا ہوں اے ٹی اے کی سیکشن 16 کے تحت 9 مئی پر میرا اور پراسیکیوشن کا حلف لیں، 40 سال سے عملی سیاست کر رہا ہوں کسی کے ایک ٹکے کا روادار نہیں، ڈیڑھ سال ہو گیا میری ضمانت کا فیصلہ نہیں ہو رہا ہے، میرٹ پر فیصلہ کر دیں، میں کوئی رعایت نہیں مانگ رہا ہوں –

    ان کا کہنا تھا کہ پیر کو سلمان اکرم راجا مجھے ملنے کوٹ لکھپت جیل آئے تھے لیکن میں راولپنڈی میں تھا جس کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی،پی ٹی آئی میں واحد سیاست دان ہوں جس نے بلدیاتی، صوبائی اور وفاقی سطح پر سیاست کی ہے اور میرا نکتہ نظر ہے کہ پارٹی میں مجھے بھی سنا جائے سیاست میں مشاورت ہوتی ہے اور یہ سنت بھی ہے، بانی پی ٹی آئی کو سول نافرمانی تحریک ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی، حکومتی مطالبے پر ہم نے قدم اٹھا کر مذاکراتی کمیٹی بنا دی ہے اب حکومت بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کا آغاز کرے، ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا،سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل ڈائیلاگ کا آغاز کرنا چاہیے،جب مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو ہمیں بھی حکومت کو وقت دینا چاہیے، سول نافرمانی تحریک ملتوی کرنے کا حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے اورمذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو یہ اچھی بات ہوگی ۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے جہاں روزانہ ہمارے فوجی بچے شہید ہو رہے ہیں، جو لمحہ فکریہ ہے بلوچستان میں جس طرح غیر ملکی ہاتھ شورش کو ہوا دے رہا ہے وہ بھی لمحہ فکریہ ہے، سیاسی استحکام کے بغیر کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا ملک میں اعتماد کافقدان ہے، ان چیلنجز کے پیش نظر سیاسی ڈائیلاگ شروع کیا جائے، میں نے بانی پی ٹی آئی سے گزارش کی تھی کہ حکومت کو وقت دیں تاکہ ان کی سنجیدگی کا اندازہ ہو جائے گا۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں وزیرِاعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور اور شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کر دی گئی

    پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی، شہریار آفریدی، شبلی فراز اور کنول شوذب پر فرد جرم عائد کر دی گئی، ملزمان نےصحت جرم سے انکار کردیا،کیس کی مزید سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل میں عدالت میں پیش ہوئے،کرنل شبیر اعوان،لطاسب ستی، عمر تنویر بٹ، ،تیمور مسعود، سعد علی خان، سکندر زیب، زوہیب آفریدی، فہد مسعود، راجہ ناصر محفوظ پر فرد جرم عائد کر دی گئی،کیس میں اب تک 113 ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ ابھی تک پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکا، اور اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کو حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کو بار بار مشورہ دے چکے ہیں کہ حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے۔ ان کے مطابق، اگر اپوزیشن جماعتوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو حکومت خود ہی مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے گی۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے سول نافرمانی کی تحریک کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کی رائے کے بعد اس تحریک کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک کا سلسلہ جاری ہے اور سول نافرمانی کی تحریک جلد شروع ہو گی۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جو کبھی مفاہمت اور کبھی مزاحمت کرتی ہے، اور اگر مخالفین کی ہٹ دھرمی برقرار رہے تو مزاحمتی سیاست کے سوا کوئی اور آپشن نہیں بچتا۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طرف سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، مگر حکومت کو ان مذاکرات میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی۔ پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، عمر ایوب نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو بے جا طور پر جیلوں میں رکھا گیا ہے، اور پی ٹی آئی کسی سے نہیں ڈرتی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، مگر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو کرے، ورنہ پی ٹی آئی کسی کے پاس نہیں جائے گی۔

    پی ٹی آئی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گی اور حکومت کو ہی پہل کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مفاد میں ہے کہ وہ باضابطہ مذاکرات کی پیشکش کرے، کیونکہ اگر بات چیت سے کوئی حل نکلتا ہے تو یہ ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کیا ہے، اور پی ٹی آئی کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، جس سے کمیٹی کی حدود کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔شبلی فراز نے مزید کہا کہ جب حکومت اپوزیشن کو سنبھال نہ سکے تو ملک کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشی استحکام اسی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی نے پھر سر اٹھا لیا ہے، اور امن و امان کے مسائل کو حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی خبریں زیر گردش ہیں، لیکن ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی سنجیدہ ہے تو انہیں حکومت کو مثبت پیغام دینا چاہیے، اور پی ٹی آئی کی کمیٹی مذاکرات کے لیے حکومت سے رابطہ کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی کہیں گے کہ وہ وزیر اعظم سے بات چیت کریں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے یا ملک میں سیاسی بحران مزید بڑھتا ہے۔

  • پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

    پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

    بلدیہ عظمی کراچی میں پی ٹی آئی کے ہمخیال گروپ کی جانب سے کے ایم سی کی ناقص کارکردگی، ادارے میں افسران کی کرپشن اور میئر کراچی کی شہر کی ترقی میں عدم دلچسپی کے خلاف ہم خیال گروپ کے پارلیمانی لیڈر اسد امان کی قیادت میں کے ایم سی بلڈنگ پر پر امن احتجاج کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق احتجاج میں ہمخیال گروپ کے 28 منتخب یوسی چیئرمینوں نے اپنے حلقے کے عوام کے ہمراہ شرکت کی۔احتجاج کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی لیڈر اسد امان کا کہنا تھا کہ میئر کراچی کو منتخب ہوئے دو سال ہونے کو ہیں کہ لیکن شہر میں اب تک ترقی کے نام پر صرف روڈ پر پیچز لگائے گئے ہیں۔ شہر کی تباہ حالی کے ایم سی کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم نے میئر کراچی کے آگے متعدد بار اپنے مطالبات رکھے لیکن ہمیں ان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔یہ مطالبات ہمارے ذاتی نہیں بلکہ شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج تک کونسل ممبران کو فنڈ کے نام پر ایک اسٹریٹ لائٹ تک مہیا نہیں کی گئی۔ ہماری یونین کونسلز کے عوام کے ساتھ میئر کراچی کا سوتیلا سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ کے ایم سی میں بیٹھے افسران نے ادارے میں کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ راشی افسران کے خلاف متعدد شکایتوں کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی۔اسد امان نے مزید کہا کہ ہم نے سٹی کونسل کے گزشتہ اجلاس کا احتجاجا بائیکاٹ کیا اور آج ہم یہاں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے آئے ہیں۔ ہم میئر کراچی کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ ہمارے مطالبات سنے جائیں ورنہ آج ہم یہاں بلڈنگ کے اندر احتجاج کررہے ہیں اسکے بعد ہم عوام کے ہمراہ سڑکوں پر نکلیں گے۔ اسکے باوجود بھی مسائل حل نہ ہوئے تو ہم اس ایوان سے مستعفی ہو جائیں گے جہاں عوام مسائل کی کوئی سنوائی نہیں۔اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی لیڈر صلاح الدین یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں کی مد میں حاصل ہونے والے کے ایم سی چارجز کا پیسہ کہاں جارہا ہی کے ایم سی کے ریونیو میں مسلسل اضافے کے باوجود ارکان کونسل کو فنڈز جاری نہیں کیے جارہے۔ ملک کو 70 فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر میں ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بلدیاتی نظام نہیں ہے۔ جن کاموں کو میئر کراچی ترقیاتی کام کہتے ہیں وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتے میں میئر کراچی کی طرف سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تو ہم اپنے احتجاج کو مزید وسیع کریں گے۔

    نان فائلرز پرحکومت نے سخت پابندیاں لگا دیں

    یونان کشتی حادثہ، جاں بحق پاکستانیوں کی تعدادبڑھنے کا خدشہ

  • شیر افضل مروت نے  پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے عمر ایوب کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت سے کسی نے کوئی وضاحت نہیں مانگی۔ ان کا اشارہ شیر افضل مروت کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دیا تھا۔ اس بیان میں شیر افضل مروت نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنانے اور مذاکرات کے لیے ٹی او آرز وضع کرنے کی درخواست کی تھی۔ شیر افضل مروت کی اس آفر کو حکومتی وزیروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ تمام اقدامات ملکی مفاد میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دباؤ ڈالنا بند کیا جائے، اور اگر چھاپوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو ایوان میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے بانی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے بھی ایک اہم بیان میں کہا کہ "سول نافرمانی تب شروع ہو گی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک آزاد عدلیہ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی، 9 مئی کے واقعات، اور مینڈیٹ کی چوری سمیت دیگر اہم مسائل مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی قیادت دیرپا فارمولے پر رضامند ہو گی۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ملک میں مسائل سنگین صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں اور مذاکرات اب ناگزیر ہو گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال میں ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، اور اگر مسائل کا حل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نکل آتا ہے تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

  • مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    پاکستان کی سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی، ایاز صادق نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے ان کا دفتر اور گھر دونوں ہر وقت کھلے ہیں۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ "سیاسی ایشوز سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، اور کل ایوان میں ہونے والی بحث بھی خوش آئند تھی۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر بات چیت سے ہی ملک کے سیاسی مسائل کا حل ممکن ہے۔میں کچھ مصروف تھا ،کل بھی ہاؤس نہیں جا سکا، مختصر وقت کے لئے گیا تھا، کل شیر افضل مروت،رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف نے جو بات چیت کی وہ میں نے دیکھی، سپیکر کا دفتر سب کا گھر ہوتا ہے، سپیکر کے دروازے ہر وقت ممبران کے لیے کھلے ہوتے ہیں،اپوزیشن و حکومت دونوں کے لئے چوبیس گھنٹے میرا دفتر ،گھر کھلا ہے اگر مذاکرات کی بات کرنا چاہیں، مل بیٹھ کر تلخی ختم کرنا چاہیں، ملکی مفاد پر مبنی چیزوں کو سامنے رکھ کر بات کرنا چاہیں، بے شمار اور چیزیں ہیں، موسمیاتی تبدیلی، امن و امان، صوبوں کی خود مختاری ان پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے، میرے لئے حکومت و اپوزیشن کے تمام اراکین قابل احترام ہیں.

    اس سے قبل، مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کی تھی۔ ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر اسپیکر آفس کا رستہ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سنجیدہ ہیں تو کم از کم حکومت کو مذاکرات کا پیغام تو بھیجیں۔” رانا ثناء اللہ کا یہ بیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے امکانات کو مزید بڑھاتا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بھی اس موقع پر کہا کہ "سیاسی قائدین کو مل بیٹھنا چاہیے، کیونکہ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک ہو کر نہیں بیٹھیں گی، مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔” ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک میز پر آ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر ایاز صادق نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمت کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    پاکستان کی سیاست میں اس وقت تناؤ کی صورتحال ہے اور ایسے میں مذاکرات کی ضرورت شدت اختیار کر چکی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر اپنی اپنی تجاویز دی جا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی اس پیشکش پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرتی ہیں اور کیا ایاز صادق کی کوششیں اس بات چیت کے لیے زمین ہموار کر سکیں گی۔

  • ایک اور یوٹرن، عمران نےسول نافرمانی تحریک ملتوی کردی

    ایک اور یوٹرن، عمران نےسول نافرمانی تحریک ملتوی کردی

    سینئر رہنما تحریک انصاف، شیر افضل مروت نے کہا کہ فی الحال بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کی تجویز پر سول نافرمانی کوملتوی کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےشیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیان سے تھوڑا نقصان ہوا ہے۔ ن لیگ کوشش کررہی ہے کہ مذاکرات آگے نہ بڑھ پائیں،ہم ڈی چوک آگئے تو اس کے حق دار نہیں تھے کہ گولی چلائی جاتی ،شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کو افسوس ہے تو ادھر بھی افسوس محسوس ہورہا ہے کہ اگر اس وقت مذاکرات ہوجاتے۔ملک ، پی ٹی آئی اور تمام نظام کے لئے اچھا ہوتا۔ ایسا نہیں کہ بانی یا پارٹی سول نافرمانی کی کال سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے قیادت کے مشورے کو اس دفعہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔فی الحال بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کی تجویز پر سول نافرمانی کوملتوی کردیا ہے۔مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہونے چاہئیں تھے۔ جو ہوا قوم کی بدقسمتی تھی۔آپ اس کو ہماری غلطی، ڈھٹائی یا نا سمجھی کہیں ہم ہر حال میں ڈی چوک پہنچنا چاہتے تھے۔باجود اس کے کہ مذاکرات کی پیشکش ہوئی۔ 15 سے20 دنوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی پیشکش ہوئی تھی۔ ہم ڈی چوک آگئے تو اس کے حق دار نہیں تھے کہ گولی چلائی جاتی۔کمیٹی بنانے کے بعد بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ضلع کرم کے لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے۔ ضلع کرم میں اس وقت سیز فائر ہے۔ گرینڈ جرگہ ابھی تک کوہاٹ میں موجود ہے۔گرینڈ جرگے میں ایک نکتے کو چھوڑ کر باقی سب پر اتفاق ہوچکا ہے۔اسلحے کی حکومت کو حوالگی کے نکتے پر اتفاق ہونا ابھی باقی ہے۔

    سندھ پبلک سروس کمیشن نے سی سی ای-2021 کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا

    پی ایس ایل کے لیے مقامی کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کی تجدید

  • سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک کے عام آدمی کا مسئلہ غربت اور مہنگائی ہے، اسے حل کرنا ہمارا فرض ہے،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اس ملک کے مفاد کی خاطر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، نواز شریف کے اس اچھے پیغام کو بھی کمزوری سمجھا گیا، ہماری سیاسی روایت ہے کہ ہم سیاسی مخالفین کی خوشی غمی میں شرکت کرتے ہیں، ہمارے سیاسی قائدین نے ہمیں اخلاق کے دائرہ میں رہ کر تنقید کرنے کی تلقین کی، مگر کنٹینر سے روزانہ گالم گلوچ کی سیاست کی جاتی تھی، نواز شریف نے ملک میں ٹرین مارچ بھی کیا، بڑے جلسے بھی کئے لیکن کبھی کسی کو تو کر کے نہیں بلایا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی خان صاحب کہہ کر پکارتے تھے، نواز شریف نے سیاست میں ہمیشہ دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، یہ اپنے سیاسی مفاد کو تعصب کی نظر سے سوچتے ہیں، ملتان میں قاسم باغ کے جلسے میں بھگدڑ مچنے سے تحریک انصاف کے آٹھ سے دس کارکن ہلاک ہوئے، کیا یہ ان کے گھر تعزیت کے لئے گئے؟ پی ٹی آئی نے اموات کا جھوٹا بیانیہ بنایا، انہوں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اسلام آباد کی پوری سڑک کو خون میں لت پت دکھایا،اگر یہ سچے ہیں تو ان کے اعداد و شمار کیوں مختلف ہیں،اگر ان کا بیانیہ سچ پر مبنی تھا تو پوری پارٹی ایک بات کرتی، مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

  • قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایوان میں تیز شور و غل کے دوران دونوں کے بیانات میں شدت آئی۔

    رانا تنویر نے اسد قیصر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا کردار فاشسٹ جماعت کا ہے اور یہ جماعت ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور وفاقی حکومت پر چڑھائی کی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو غلط اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجاب حکومت چھاپے مار رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہیں۔

    اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ رانا تنویر کے بیانات حقیقت سے عاری ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رانا تنویر اپنی حکومت کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کا جواب دیں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔

    رانا تنویر نے اس موقع پر کہا، "چار سالوں میں آپ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، اور اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آئی۔ پنجاب حکومت اگر چاہے تو 10 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، لیکن آپ پنجاب سے 5 لوگ بھی نہیں نکال سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی، اور ان کی حکومت صرف سیاسی مداخلت اور الزامات کے ذریعے کام کر رہی تھی۔

    اس دوران ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور دیگر ارکان بھی اس بحث میں شامل ہوگئے، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ ایوان کی کارروائی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترمیمی بل 2024سید نوید قمر نے پیش کیا، پاکستان اینیمل کونسل ترمیمی بل مزید غور کے لے قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا ،عالیہ کامران نے کہا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے اسے یہاں منظور کیا جائے، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ جانوروں سے متعلق کونسل کے بل سے اتفاق کرتا ہوں، بل میں کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے کمیٹی میں غور کیاجائے.

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

  • جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے،عطا اللہ تارڑ

    جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے،عطا اللہ تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کرم پر توجہ دیتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی،جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی دورکے وزیرغلام سرور خان نے قومی ائیر لائن کے حوالے سے متنازعہ بات کی تو پوری دنیا میں سوالات اٹھے تھے گذشتہ دور حکومت میں جو جرم ہوا تھا، موجودہ دور میں اس کا ازالہ ہوا ہے، انہیں پی آئی اے پر بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔

    عطااللہ تارڑ نے پی آئی اے کی یورپ کے لئے فلائٹس بحال ہونے پر پوری قوم کو مبارک باد دی اور کہا کہ پی آئی اے کی فلائٹس پر کافی عرصہ پابندی رہی، اللہ کا فضل ہے کہ موجودہ دور میں پی آئی اے کا آپریشن بحال ہوگیا ہے۔

    کرم معاملے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کاش اس وقت وزیر اعلیٰ کے پی کرم کا دورہ کرتے، اور امن و امان پر توجہ دیتے تو آج احتجاج کی نوبت نہ آتی امن و امان کی ذمہ داری صوبائی معاملہ ہے، کرم معاملے پر علی امین گنڈاپور سے رابطہ کرلیں، تاہم امن و امان کیلئے ہم بھی حاضر ہیں، جب کرم میں لاشیں پڑی تھیں تو یہ لوگ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی احتجاج میں کارکنوں کی اموات کی بات کرتے ہیں، بار بار لاشوں کا ذکر کر رہے ہیں، ایک نمبر بتا دیں، انہیں خود نہیں پتہ کہ کتنی لاشیں ہیں؟ جب اصل تعداد ہی معلوم نہیں تو جھوٹ کیوں پھیلایا جا رہا ہوتا ہے؟ ان کے دس رہنما مختلف اعداد و شمار بتا رہے ہیں،انہوں نے اسلام آباد سے راہ فرار اختیار کی، تنقید سے بچنے کے لئے بار بار جھوٹا بیانیہ بنا رہے ہیں۔