Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اڈیالہ جیل کے باہر سے واپس روانہ ہو گئے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عمران خان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل پہنچے تھےتاہم علی امین گنڈا پور کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا.گنڈا پور کے پروٹوکول افسر کو آگاہ کیا گیا کہ جیل جانے کی اجازت نہیں،جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل سے عمران خان کو ملے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ہے، ان کا جو بھی فیصلہ ہو گا اس پر من و عن عمل کریں گے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا وفاق میں ہماری حکومت نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں مسائل کا سامنا ہے، وفاق سے خیبر پختونخوا کے پیسے لینے میں مشکلات ہیں لیکن ہم لیکر رہیں گے۔

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    جیسن گلیسپی نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کی وجوہات بتا دیں

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،  مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید9 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیریں مزاری، راشد حفیظ، طاہر صادق سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے،بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل کی عدالت میں پیش کیا گیا مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھی عدالت پیش کیا،اب تک 98 ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔ عمران خان پر 5 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی ،غیر حاضر ملزموں کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 98 ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی۔جی ایچ کیو حملہ کیس میں کل ملزمان کی تعداد 119 ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی کی جانب سے 265 ڈی کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کی 265 ڈی کی درخواست آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دی جس کی وجہ سے ان پر آج فردِ جرم عائد نہ ہو سکی،سی آر پی سی 265 ڈی کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کا کہا جاتا ہے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • پی ٹی آئی دور میں غیر قانونی طور پر 2 ارب سے زائد کی گاڑیاں خریدے جانے کا انکشاف

    پی ٹی آئی دور میں غیر قانونی طور پر 2 ارب سے زائد کی گاڑیاں خریدے جانے کا انکشاف

    لاہور: پنجاب میں سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے پی ٹی آئی دور میں غیر قانونی طور پر 2 ارب 12 کروڑ 30 لاکھ روپے کی گاڑیاں خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ 310 گاڑیاں سرکاری منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر خریدی گئیں گاڑیوں کی خریداری کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بھی منظوری نہیں لی گئی جبکہ گاڑیوں کی خریداری کے لیے پیپرا رولز نظر انداز کر کے پیشگی رقم ادا کی گئی، خریدی گئی گاڑیوں میں 68 متسوبشی فوسو ٹرک، ہینو کے 114 بڑے ٹرک، ہینو کے 80 چھوٹے ٹرک اور 48 رکشہ شامل ہیں گاڑیوں کی غیر قانونی خریداری کی تحقیقات کے لیے متعلقہ افسران کو طلب کیا جائے گا۔

  • ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار 40 سے زائد ملزمان عدالت سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

    ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار 40 سے زائد ملزمان عدالت سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ڈی چوک میں پی ٹی آئی احتجاج کے دوران گرفتار40 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، تاہم اسلام آباد پولیس نے تمام ملزمان کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف ڈی چوک احتجاج کیس میں شناخت پریڈ پر بھیجے گئے ملزمان کو عدالتی اوقات ختم ہونے کے باوجود انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے پولیس کو احکامات جاری کیے کہ آدھے گھنٹے کے اندر ملزمان کو کمرہ عدالت پہنچایا جائے ورنہ آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا جائے گا، ملزمان کو عدالت پیش کر نے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت میں جیل بھیجے گئے 100 سے زائد مظاہرین کو شناخت پریڈ کیلئے جج ابو الحسنات ذوالقرنین کے سامنے پیش کیا گیا تھا،وکیل انصر کیانی نے ڈسچارج ہونے والے ملزمان کی دوبارہ گرفتاری پرعدالت کو آگاہ کر دیا، ملزمان کو دوبارہ پکڑنے پر ان کے اہل خانہ نے بھی شدید احتجاج کیا اور پولیس سے ہاتھا پائی کی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران گرفتار کارکنان کی پیشیوں کا سلسلہ جاری ہے، عدالت میں پیشی کے موقع پر بھاری پولیس نفری تعینات کردی گئی، جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس نے صحافیوں کو پیچھے دھکیل دیا، ایس ایچ او اشفاق وڑائچ نے صحافیوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیچھے نہ ہٹے تو گرفتارکروا دونگا۔

    دریں اثنا سماعت کے موقع پرعدالت نے تھانہ کھنہ کے 54، آئی نائن کے 16 اور تھانہ کوہسار کے 11 ملزمان کو ان کے مقدمات سے رہا کر دیا،انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ کوہسار کے 48 ملزمان کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

  • پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا،ہم اپنے اثاثے کو جھوٹے اور فریبیوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونےدیں گے۔

    باغی ٹی وی: رانا ثنا اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کے لیے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا اور پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا ہمارے جوانوں میں بہت ٹیلنٹ موجود ہےکھیلوں کے میدان آباد کرنے کے بجائے نوجوانوں کو حکومت کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور نوجوانوں کو پرتشدد کارروائیوں کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی گئی پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا تاہم نوجوان نسل ملک دشمن عناصر کے عزائم سے آگاہ ہوچکی ہے۔

    انہوں نےکہا کہ حکومت کھیلوں کےفروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کو سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ما ضی میں کھیل کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی پرفارمنس اکیڈمی میں آپ کو تمام سہولیات ملیں گی آپ یہاں ٹریننگ کریں اور دنیا میں پورے ملک کا نام روشن کریں۔

    وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو ختم کیا تھا لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو دوبارہ شروع کیا جائے گاکھلاڑیوں کے لیے مختلف محکموں میں کوٹہ مختص کریں گے اور نقد انعامات بڑھا کر 5 سے 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہےمحکموں کے درمیان دوبارہ کھیلوں کے مقابلے شروع کیے جائیں گے اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد پروگرامز جاری کیے ہیں۔

  • سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ 14 دسمبر سے شروع کرنے والی سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کر دیں۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور ان مذاکرات سے مسائل کا حل نکالنا ملک کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر بات چیت سے مسائل کا حل نکلتا ہے تو یہ سب سے بہترین حل ہوگا، لیکن اگر مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑے گی۔

    اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی تنقید
    ذرائع کے مطابق، محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے محض احتجاج کرنا یا کسی تحریک کا آغاز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں کوئی خاص منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر احتجاج کرنا زیادہ موثر اور دانشمندانہ عمل ہو گا، کیونکہ اس طرح عوام میں زیادہ بیداری پھیلائی جا سکتی ہے۔محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے نرم رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے فیصلوں میں ابہام اور اختلافات نے پی ٹی آئی کے موقف کو کمزور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات اور حکمت عملی کی کمی سے پارٹی کے حامیوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بانی کی رہائی کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی، جس کی وجہ سے ان کی حمایت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت سے صرف وقتی فائدہ ہوگا، لیکن اگر حکومت اپنی پوزیشن پر قائم رہتی ہے تو پھر تحریک کا آغاز ضروری ہو گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اگر مذاکرات میں کامیابی نہیں ملتی تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ایک ناگزیر عمل بن جائے گا، اور اس تحریک کے ذریعے عوامی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

    محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر چار ماہ کے اندر انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے کہ حکومت کب اپنی مدت مکمل کرے گی اور نئے انتخابات کا انعقاد کب ہوگا۔ اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنے کی صورت میں ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور اس کے نتیجے میں عوام کو فائدہ ہوگا۔

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،ڈی چوک احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی کی وزیراعظم شہباز شریف و دیگر کے خلاف کرمنل کمپلینٹ سیشن جج اعظم خان نے 23 دسمبر کو کیس ابتدائی بحث کے لیے مقرر کر دیا.

    عدالت نے آئندہ سماعت پر شکایت کنندہ کو حاضر ہونے کا حکم دے دیا،بیرسٹر گوہر نے موجودہ حکومت کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہے ،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہبازشریف و دیگر کے خلاف پرائیوٹ کمپلینٹ دائر کی ہے ،پرائیوٹ کمپلینٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطاتارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف کو فریق بنایاگیاہے،آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی سیکیورٹی اور نامعلوم افراد کو بھی فریق بنایاگیاہے،بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 12 ہلاک ہونے والے کارکنان کی لسٹ فراہم کی،گولیوں سے زخمی ہونے والے 38 کارکنان کی لسٹ بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے،139 کا پتہ کارکنان کے بھی نام درخواست میں درج کیے گئے ہیں.

    درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

  • پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے، پارٹی نے اپنی حالیہ ڈی چوک احتجاج کے دوران مسنگ پرسنز کی فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں کئی ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جن کا پی ٹی آئی کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور بعض افراد کے نام کے ساتھ والد کا نام تک نہیں لکھا گیا، جو ایک حیران کن بات ہے۔

    خاص طور پر، پی ٹی آئی نے مسنگ پرسنز کی فہرست میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا ہے جس کا نہ تو پی ٹی آئی سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی وہ احتجاج میں شامل ہوا تھا۔ یہ شخص خالد مزاری ہیں، جو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی ویڈیو پیغام کے ذریعے اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    خالد مزاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: "میں راجن پور سے مخاطب ہوں، اور سوشل میڈیا پر پہلی بار آپ سے بات کر رہا ہوں۔ 139 مسنگ پرسنز کی پی ٹی آئی کی فہرست میں میرا نام موجود ہے۔ اللہ معاف کرے، میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی میں احتجاج میں شامل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا تھا۔ ان کا جھوٹ اور پروپیگنڈہ دیکھیں، لوگ یہی سمجھیں گے کہ اتنے لوگ مسنگ پرسن ہیں۔ اب 59 پرسنز پر میرا نام ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوں۔”مزاری نے مزید کہا کہ ان کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈہ کرنے والے افراد کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور دعا کی کہ وہ عمران خان کا جنازہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔

    اس واقعہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مسنگ پرسنز کے بارے میں کیے جانے والے جھوٹے دعوؤں کو مزید اجاگر کیا ہے، اور ایک بار پھر پارٹی کے پروپیگنڈہ کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ خالد مزاری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور وہ ایکس پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خالد مزاری کا تعلق ن لیگ سے ہے، باخبر ذرائع کے مطابق خالد مزاری کے دوستوں نے باہمی مشورے سے اس کا نام پی ٹی آئی والوں کو بھیجا اور پی ٹی آئی کی ٹیم نے بغیر کسی تصدیق کے خالد مزاری کا نام مسنگ پرسن کی لسٹ میں ڈال دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مسنگ پرسن کے نام پر پروپیگنڈہ کر رہی ہے.

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

  • ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ڈی چوک احتجاج ،یوٹیوبر،وی لاگرز،صحافیوں کیخلاف ریاست مخالف جھوٹا بیانہ بنانےکےمقدمات درج کر لئے گئے

    ایف آئی اےسائبرکرائم ونگ کی جانب سے ہرمیت سنگھ،احمد نورانی، عبدالقادر،حسنین رفیق، سلمان درانی، عمران کھٹانہ،مریم شفقت ملک اور رضوان احمد خان و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،یہ مقدمات ‘پیکا ایکٹ’ کی شق 9، 10، 11 اور 24 کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد میں درج کیے گئے ہیں۔ ہرمیت سنگھ پر درج مقدمے کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے

    درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ @HarmeetSinghPk کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹے اور تخریبی مواد کو فروغ دیا، جس سے ملک میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔مقدمہ 6 دسمبر 2024 کو ایف آئی اےسائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد میں درج کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، ہرمیت سنگھ نے اپنی ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا۔ یہ مواد عوام کو تشویش، خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا تاکہ عوام کو ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف اکسا کر ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرایا جا سکے۔ ہرمیت سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 9، 10، 11 اور 24 کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 505 کے تحت بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے عوام میں دہشت اور خوف پھیلانے کی کوشش کی اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کی سازش کی۔

    ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محمد وسیم خان نے رپورٹ درج کرنے کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں ہرمیت سنگھ کے ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پھیلائے گئے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگھ نے 24 سے 27 نومبر 2024 کے دوران کئی مرتبہ اپنے ٹویٹس کے ذریعے عوام کو بدامنی اور تشویش میں مبتلا کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنگھ کے خلاف اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو ایف آئی آر کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

    پاکستان کے حکومتی اور سیکیورٹی اداروں نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے خلاف سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس قسم کے تخریبی مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں اور اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    fia

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    ایف آئی اے سائبر کرائم راولپنڈی نے ریاستی اداروں، بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ پھیلانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ملزم کی شناخت الیاس اعوان کے نام سے ہوئی ہے، جسے راولپنڈی میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق، ملزم ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹی معلومات اور ڈس انفارمیشن سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ملوث تھا۔ اس کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر اہم شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں، جن کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے نے مزید کہا ہے کہ ملزم سے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایف آئی اے سائبر ونگ لاہور اور پنجاب نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والے 30 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملزمان احتجاج اور لاشوں کے حوالے سے جھوٹے دعوے پھیلا رہے تھے۔ ایف آئی اے نے لاہور اور پنجاب بھر میں اس حوالے سے 71 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جبکہ ملک بھر میں سائبر ونگ نے مجموعی طور پر 154 مقدمات کا اندراج کیا ہے۔ایف آئی اے سائبر ونگ کی ٹاسک فورس نے بتایا کہ اس وقت 249 انکوائریاں زیر تفتیش ہیں، جن کے بارے میں مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں 52 ایف آئی آرز، کراچی میں 16، سکھر میں 4 اور حیدرآباد میں 7 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔

    یہ کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ ایف آئی اے سائبر ونگ ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی معلومات اور پراپیگنڈے کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہا ہے، تاکہ عوام کو غلط معلومات سے بچایا جا سکے اور ریاستی اداروں کی عزت و توقیر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش