Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے، پارٹی نے اپنی حالیہ ڈی چوک احتجاج کے دوران مسنگ پرسنز کی فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں کئی ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جن کا پی ٹی آئی کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور بعض افراد کے نام کے ساتھ والد کا نام تک نہیں لکھا گیا، جو ایک حیران کن بات ہے۔

    خاص طور پر، پی ٹی آئی نے مسنگ پرسنز کی فہرست میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا ہے جس کا نہ تو پی ٹی آئی سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی وہ احتجاج میں شامل ہوا تھا۔ یہ شخص خالد مزاری ہیں، جو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی ویڈیو پیغام کے ذریعے اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    خالد مزاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: "میں راجن پور سے مخاطب ہوں، اور سوشل میڈیا پر پہلی بار آپ سے بات کر رہا ہوں۔ 139 مسنگ پرسنز کی پی ٹی آئی کی فہرست میں میرا نام موجود ہے۔ اللہ معاف کرے، میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی میں احتجاج میں شامل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا تھا۔ ان کا جھوٹ اور پروپیگنڈہ دیکھیں، لوگ یہی سمجھیں گے کہ اتنے لوگ مسنگ پرسن ہیں۔ اب 59 پرسنز پر میرا نام ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوں۔”مزاری نے مزید کہا کہ ان کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈہ کرنے والے افراد کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور دعا کی کہ وہ عمران خان کا جنازہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔

    اس واقعہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مسنگ پرسنز کے بارے میں کیے جانے والے جھوٹے دعوؤں کو مزید اجاگر کیا ہے، اور ایک بار پھر پارٹی کے پروپیگنڈہ کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ خالد مزاری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور وہ ایکس پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خالد مزاری کا تعلق ن لیگ سے ہے، باخبر ذرائع کے مطابق خالد مزاری کے دوستوں نے باہمی مشورے سے اس کا نام پی ٹی آئی والوں کو بھیجا اور پی ٹی آئی کی ٹیم نے بغیر کسی تصدیق کے خالد مزاری کا نام مسنگ پرسن کی لسٹ میں ڈال دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مسنگ پرسن کے نام پر پروپیگنڈہ کر رہی ہے.

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

  • ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ڈی چوک احتجاج ،یوٹیوبر،وی لاگرز،صحافیوں کیخلاف ریاست مخالف جھوٹا بیانہ بنانےکےمقدمات درج کر لئے گئے

    ایف آئی اےسائبرکرائم ونگ کی جانب سے ہرمیت سنگھ،احمد نورانی، عبدالقادر،حسنین رفیق، سلمان درانی، عمران کھٹانہ،مریم شفقت ملک اور رضوان احمد خان و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،یہ مقدمات ‘پیکا ایکٹ’ کی شق 9، 10، 11 اور 24 کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد میں درج کیے گئے ہیں۔ ہرمیت سنگھ پر درج مقدمے کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے

    درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ @HarmeetSinghPk کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹے اور تخریبی مواد کو فروغ دیا، جس سے ملک میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔مقدمہ 6 دسمبر 2024 کو ایف آئی اےسائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد میں درج کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، ہرمیت سنگھ نے اپنی ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا۔ یہ مواد عوام کو تشویش، خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا تاکہ عوام کو ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف اکسا کر ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرایا جا سکے۔ ہرمیت سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 9، 10، 11 اور 24 کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 505 کے تحت بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے عوام میں دہشت اور خوف پھیلانے کی کوشش کی اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کی سازش کی۔

    ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محمد وسیم خان نے رپورٹ درج کرنے کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں ہرمیت سنگھ کے ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پھیلائے گئے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگھ نے 24 سے 27 نومبر 2024 کے دوران کئی مرتبہ اپنے ٹویٹس کے ذریعے عوام کو بدامنی اور تشویش میں مبتلا کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنگھ کے خلاف اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو ایف آئی آر کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

    پاکستان کے حکومتی اور سیکیورٹی اداروں نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے خلاف سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس قسم کے تخریبی مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں اور اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    fia

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    ایف آئی اے سائبر کرائم راولپنڈی نے ریاستی اداروں، بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ پھیلانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ملزم کی شناخت الیاس اعوان کے نام سے ہوئی ہے، جسے راولپنڈی میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق، ملزم ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹی معلومات اور ڈس انفارمیشن سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ملوث تھا۔ اس کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر اہم شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں، جن کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے نے مزید کہا ہے کہ ملزم سے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایف آئی اے سائبر ونگ لاہور اور پنجاب نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والے 30 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملزمان احتجاج اور لاشوں کے حوالے سے جھوٹے دعوے پھیلا رہے تھے۔ ایف آئی اے نے لاہور اور پنجاب بھر میں اس حوالے سے 71 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جبکہ ملک بھر میں سائبر ونگ نے مجموعی طور پر 154 مقدمات کا اندراج کیا ہے۔ایف آئی اے سائبر ونگ کی ٹاسک فورس نے بتایا کہ اس وقت 249 انکوائریاں زیر تفتیش ہیں، جن کے بارے میں مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں 52 ایف آئی آرز، کراچی میں 16، سکھر میں 4 اور حیدرآباد میں 7 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔

    یہ کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ ایف آئی اے سائبر ونگ ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی معلومات اور پراپیگنڈے کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہا ہے، تاکہ عوام کو غلط معلومات سے بچایا جا سکے اور ریاستی اداروں کی عزت و توقیر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

  • 24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی نےوزیر اعظم سمیت و دیگر کے خلاف کاروائی کے لئے عدالت سے رجوع کر لیا

    بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرمنل کمپلینٹ دائر کر دی،بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر درخواست میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، خواجہ آصف ، عطا تارڑ کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں آئی جی ، ایس ایس پی ، ڈی آئی جی و دیگر کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے،سردار لطیف کھوسہ نے بیرسٹر گوہر کے ذریعے کمپلینٹ دائر کی،جس میں کہا گیا کہ کرمنل کمپلینٹ منظور کر کے فریقین کو طلب کیا جائے ،38 زخمیوں کی فہرست بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے،درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

  • مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور اس ضمن میں عمران خان نے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے تا ہم حکومت کی جانب سے ابھی تک پی ٹی آئی سے مذاکرات بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، مذاکرات کے حوالہ سے پی ٹی آئی قیادت میں بھی اختلافات دیکھنے کو ملے ہیں

    مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مذاکرات کا طریقہ غلط ہے اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں کہ مذاکرات کریں،میں نے عمران خان سے بات کی انہوں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات چیت کا ،اس طریقہ کار سے عمران خان بہت غصے میں ہیں،ہم پر الزام تھا کہ بات چیت کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں ہم نے صرف مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،ہم نے مذاکرات بھی شرائط کے ساتھ رکھے ہیں،میری خواہش ہے کہ اگر مزاکرات ہوتے ہیں تو اس کا آغاز پارلیمنٹ سے ہو ،پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اندر بات چیت کا آغاز کیا جائے،ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ مزاکرات ان سے ہونے چاہیے جو بااختیار ہو ،حکومت کو شاید ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا اس لیے وہ مزاکرات شروع نہیں کر رہے ۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے، ابھی تو صرف سلام دعا ہوئی ہے، 15 دسمبر سے پہلے پہلے بات ہو جائے تو ملک کے لیے اچھا ہے، 15 دسمبر کو بانی نے ترسیلات زر سے متعلق کال دی ہوئی ہے، حالات جوں کے توں رہے تو کال پر عمل درآمد ہو گا۔

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و تحریکِ انصاف کے رہنما احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ بااختیار لوگوں سے مذاکرات چاہتے ہیں، بااختیار حکومت نہیں اسٹیبلشمنٹ ہے، جب اسٹیبلشمنٹ کی مرضی ہو گی تب مذاکرات ہوں گے، 26 نومبر کو جو ہوا اس کے ذمے دار شہباز شریف ہیں ،24 سے 26 نومبر تک جو کچھ ہوا اس کی ذمے دار پنجاب حکومت ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی حکومت کی نیت پر منحصر ہے، کیا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو، آئین کی سپرمیسی ہو، عوام کی بات سنی جائے، عوام کو حقوق ملیں ،اختیار حکومت کے پاس ہے، ہم تو اپوزیشن میں ہیں احتجاج کر رہے ہیں، ہم پر دہشت گردی کے پرچے کاٹے جا رہے ہیں.

  • پی ٹی آئی نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں،شیری رحمان

    پی ٹی آئی نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں،شیری رحمان

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے روز بیانیہ بدلتے ہیں، سول نافرمانی کی بات کرتے ہیں اور مذاکرات کی بھی، پی ٹی آئی کو معافی مانگنا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ میں دوران خطاب شیری رحمان نے کہا نو مئی کو آپ نے جو کیا وہ کسی پارٹی نے نہیں کیا، بات چیت یکطرفہ طور پر نہیں ہوسکتی، جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے پی ٹی آئی والے روز بیانیہ بدلتے ہیں، سول نافرمانی کی بات کرتے ہیں اور مذاکرا ت کی بھی، پی ٹی آئی کو معافی مانگنا پڑے گی، کسی کو یاد ہے کہ پی ٹی آئی دور میں مخالفین کیخلاف کیسز بنائے گئے؟ ہم جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے، ہم نے ایسی آزادی نہیں مانگی جو پی ٹی آئی والے مانگتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سیل میں جوکچھ موجود ہے، ہم اسے نہیں ہٹانا چاہتے، اگر ہم آپ کے ساتھ ناانصافی کریں گے تو ہمارے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی، آپ نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں، مذاکرات کے لیے یکطرفہ شرائط نہیں ہوسکتیں، ملک کا استحکام اس وقت نازک مرحلے پر ہے، پی ٹی آئی کو اپنے کیے پر معافی مانگنا پڑے گی، معافی آپ مانگیں، ہم سے کس منہ سے معافی منگوا رہے ہیں؟

    شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں لانگ مارچ کیا لیکن ایک گملا نہیں ٹوٹا، آپ کا لیڈر کہتا ہے میں ہوں تو سب کچھ ہےآپ آئی ایم ایف کو خط لکھتے ہیں تاکہ ملک کی معیشت تباہ ہو، آپ کے پاس آنسو گیس کے شیل کہاں سے آئے تھے؟ تحریک انصاف نے ریاست پر حملہ کیا، اب آپ لوگوں کےِ’’فیض یاب‘’ ہونے کا وقت گزرچکا۔

    انہوں نےکہا کہ بنیادی حقوق کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا نام نہ لیا جائے، ہم نے ہمیشہ سیاسی تحمل سے کام لیا ہے،آپ ایک ایک طرف سول نافرمانی کی کال دیں، اور دوسری طرف مذاکرات، یہ نہیں ہوسکتا کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر احتجاج ہو، سنگجانی کی اجازت دی تو وہاں احتجاج کر لیتے، آپ نے دارالخلافہ میں تماشا کیا، پُرتشدد احتجاج کی کسی طور اجازت نہیں ہونی چاہیےآپ نے ریاست پر حملہ کیا، جس کے شواہد موجود ہیں، جمہور کے لیے لڑائی زہر کے پیالے پی کرکی جاتی ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ ہم ہیرو اور آپ زیرو ہیں، آپ نے 9 مئی کو جو کچھ کیا وہ آج تک کسی سیاسی پارٹی نے نہیں کیا کسی طور پر پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہم نے ایسی آزادی نہیں مانگی جو پی ٹی آئی والے مانگتے ہیں، آزادی ذمہ داری سے آتی ہے، ہم جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے خود کو بچانے سے پہلے ملک بچانےکی بات ہونا چاہیے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ صدر زرداری گرفتار ہوئے توانہوں نے ڈنڈے نہیں برسائے ، ہم آپ کے ساتھ ناانصافی کریں گے تو ہم بھی بھگتیں گے، میں نے کئی بار کہا کہ اتنا ظلم کرو جتنا برداشت کرسکوپیپلزپارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، ہم نے ڈنڈے کھائے ہیں ، چلائے نہیں، آپ نے فریال تالپور اور مریم نواز کو کیسے اٹھایا تھا؟

  • عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف  بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ماضی کی کچھ انتہائی سنسنی خیز باتوں کو منظر عام پر لایا ہے

    جاوید بدر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی سرگرمیاں 2013 سے ہی ملک دشمن تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا فوری طور پر فوجی ٹرائل شروع ہونا چاہیے۔جاوید بدر نے انکشاف کیا کہ 2013 میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مدد حاصل کی تھی۔ عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بیان دینے سے روک دیا تھا، جبکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور میٹنگز پر بم دھماکے اور فائرنگ ہو رہی تھی۔جاوید بدر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ "ٹی ٹی پی کے ساتھ میری بات ہوگئی ہے، وہ ہمیں مکمل سپورٹ کریں گے اور صوبے میں کسی اور پارٹی کو کمپین نہیں کرنے دیں گے۔” ان کے مطابق، عمران خان نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان دینے سے روک دیا تھا۔

    جاوید بدر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کی خواہش میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اور انہوں نے اپنے مفادات کے لیے دہشت گرد تنظیموں سے ہاتھ ملایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹی ٹی پی اس وقت ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر رہی تھی، اور عمران خان نے ان سے حمایت حاصل کی۔”عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے اور یہ تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ جاوید بدر کے مطابق، پی ٹی آئی کے ہر احتجاج میں دہشت گرد عناصر شامل ہوتے ہیں، اور عمران خان نے "تبدیلی” کے نام پر ملک کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ڈرون حملوں کو سیاسی بیانیہ بنا کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔

    پنجاب کو معاشی طورپر مستحکم اور ایک عوامی فلاحی صوبہ بنانا چاہتی ہوں،مریم نواز

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    نبیل گبول نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت میں آج سے مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے اور فریقین میں ایک بریک تھرو کی صورتحال بن سکتی ہے۔حکومت کی شرط یہ ہے کہ مذاکرات پی ٹی آئی کے وکیلوں سے کیے جائیں گے، پشاور والوں سے نہیں، تاہم پشاور کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں۔ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقین کی طرف سے مذاکرات کے لیے راستے کھلے ہیں لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت سے ابھی تک کوئی مزاکرات شروع نہیں ہوئے ،مزاکرات جب بھی ہوں گے، اوپن ہوں گے ،سب کے سامنے ہوں گے،مزاکرات کیسے ہوں گے اس کی تفصیلا ت میں جائیں ،مزاکرات خفیہ نہیں کریں گے لوگوں کے سامنے ہوگا ،ابھی مزاکرات کے حوالے سے قوائدو ضوابط طے ہورہے ہیں،

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ابھی مزاکرات شروع نہیں ہوئے تاہم.ہم سب کے ساتھ مزاکرات کرنے کو تیار ہیں ،بانی پی ٹی ْآئی نے کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کے نام بھی بتادئیے ہیں، ہم کمیٹی کے ارکان اب مزاکرات کے لئے دستیاب ہیں ،اسپیکر سے مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،اسپیکر سے میں اور عامر ڈوگر نے گزشتہ روز انکی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی تھی ،گزشتہ رات اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے بھی اسپیکر سے تعزیت کرنے گئے تھے

    اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔عرفان صدیقی
    ن لیگی رہنما عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔ پی ٹی آئی ہر جگہ سے بے بس اور لاچارہوگئی تو مذاکرات کیلئے تیارہوگئی۔ سول نافرمانی کی تلوار ہماری گردنوں میں لٹکا کر مذکرات کی طرف نہ آئیں ۔مذاکرات میں شرائط ہوتی ہیں، جیلوں میں ایک لاکھ قیدی کسی نہ کسی جرم میں پڑے، حکومت کیسے قیدی چھوڑ دے، یا تو وہ کہہ دیں کہ ہمارے سارے راستے بند ہو چکے ، عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے ہم مجبور بے بس لاچار ہوچکے ہیں ہم سے بات کرو، پھر بات ہو جائے گی، سول نافرمانی کی تلوار لٹکی ہو گی تو بات نہیں ہو گی، ڈاکوؤں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں تو بات ہو جائے گی

    پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کہتی ہیں کہ ہم ملک کی خاطر مذاکرات کرتے ہیں, ہمیں لوگوں نے وٹ دیا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ظلم بھی ہم پر ہوں اور جھوٹے کیسز میں بھی ہم کورٹس کے چکر لگاتے رہے ، مذاکرات کا کل پہلا دن تھا،عمران خان نے سیاسی کمیٹی بنائی ہے جس کومذاکرات کا مکمل اختیار ہے، مذاکرات میں جو پیشرفت ہو گی شئیر کی جائے گی

    سینیٹر عون عباس کہتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتی تو پھر سول نافرمانی کی تحریک اور ڈی چوک پر دوبارہ احتجاج کی ذمہ دار حکومت وقت ہوگی،

    ایم کیو ایم کی مذاکرات کے لئے کردار کی پیشکش
    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے لئے خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کر دی، ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دنیا میں مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلتا ہے،ہمارے سیاسی بحران سے معاشی بحران جڑا ہو ا ہے، لوگ مہنگائی بے روزگاری کی چکی میں پسے ہوئے ہیں ، مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہئے،فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے ایم کیو ایم کے اراکین اور سیاسی رہنما کردار ادا کرکے نوابزادہ نصراللہ کی یاد تازہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ فریقین مانیں،

    گزشتہ روز بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی تھی، جس میں پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کی تردید کر دی تھی۔

    گزشتہ روز پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایک کمیٹی اس لیے بنائی ہے تاکہ پارٹی کی غلطیوں کو درست کیا جا سکے اور اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانا چاہیے تاکہ اس معاملے کا صحیح سے جائزہ لیا جا سکے۔

    عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ جب مذاکرات ہوں گے تو یہ اوپر کی سطح پر ہوں گے اور ان مذاکرات میں عطا تارڑ کو شریک نہیں کیا جائے گا۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں مذاکرات کے لیے اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی اور حکومت کو اس کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی باتیں تیزی سے گردش کر رہی ہیں، اور دونوں طرف سے اس پر مختلف ردعمل آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، اس وقت تک مذاکرات کی صورت میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی اس معاملے پر کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔

    آئیے ہاتھ بڑھائیے

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

  • افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک منقسم پارٹی بن چکی ہے اور اس کے اندر کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کسی کا قبلہ ایک طرف ہے تو کسی کا قبلہ دوسری طرف ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنما ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہدایات لے رہے ہیں۔ "کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ پارلیمان میں آئیں اور یہاں آ کر سیاست کریں۔”شرمیلا فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما ملک دشمن بن جائیں گے اور مسلح افواج کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ "اگر آپ اپنی مسلح افواج کے خلاف ہوں گے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، کیونکہ ملکی دفاع اور افواج کا وقار ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔”

    شرمیلا فاروقی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاست کو پارلیمنٹ کے اندر کریں اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ پی ٹی آئی میں بے چینی اور انتشار کا ماحول ہے اور پارٹی کے داخلی اختلافات اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    امریکہ میں پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

  • نومئی مقدمہ،تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ، شاہ محمود قریشی ،دیگر پر فردجرم عائد

    نومئی مقدمہ،تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ، شاہ محمود قریشی ،دیگر پر فردجرم عائد

    اے ٹی سی لاہور تھانہ شاد مان جلاؤ گھیراؤ سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے شاہ محمود قریشی ،یاسمین راشد ،میاں محمود الرشید اوردیگر پرفردجرم عائد کردی ،اے ٹی سی لاہور نے گواہان کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا، جج مناظر علی گل کی زیر نگرانی کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی گئی، دوران سماعت عدالت نے فرد جرم پڑھ کر ملزمان کو سنائی، سماعت گواہوں کو طلب کرتے ہوئے 19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے

    اس کے علاوہ، عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کیس اور دیگر مقدمات کی کارروائی کو 23 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔ ان مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

    قبل ازیں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید پر فرد جرم عائد کر رکھی ہے،

    رنگ گورا نہ ہونے پر شہری عدالت جا پہنچا،کریم کمپنی کو جرمانہ

    شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا

    شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا