Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی احتجاج، اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

    پی ٹی آئی احتجاج، اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

    تحریک انصاف کا احتجاج، اڈیالہ جیل جانے والے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

    اڈیالہ جیل کے گردو نواح کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سیل کو تھانہ ڈکلیئر کرکے پولیس تعینات کر دی گئی ہے، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے سیل سرکل 4 کو تھانہ نیو ٹاؤن قرار دے دیا گیا ہے، سرکل 4 کو تھانہ قرار دینے کے احکامات سی پی او راولپنڈی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں

    دوسری جانب جڑواں شہروں ے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے،اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والا مرکزی راستہ فیض آباد انٹرچینج بھی بند کر دیا گیا ہے،سکستھ روڈ سے فیض آباد تک بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ فیض آباد لاری اڈے پر ہوٹل اور ریسٹورنٹ خالی کرا دیے گئے،سی پی او راولپنڈی کا کہنا ہے کہ امن و امان خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے، سیف سٹی کیمروں سے شہر کی نگرانی کی جا رہی ہے

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

  • بشریٰ وضاحت کریں یا قوم سے معذرت ،تماشا ختم ہونا چاہیے،خواجہ آصف

    بشریٰ وضاحت کریں یا قوم سے معذرت ،تماشا ختم ہونا چاہیے،خواجہ آصف

    خواجہ آصف کا بشریٰ بی بی کے بیان پر ردعمل: پی ٹی آئی رہنما پریشانی میں متضاد بیانات دینے لگے

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حالیہ متنازعہ بیان کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے رویے پر سخت تنقید کی ہے۔ خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کا یہ بیان پی ٹی آئی کے لیے ایک "سیاسی خودکش حملہ” ثابت ہوا ہے، جس کے بعد پارٹی رہنما بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما گزشتہ 24 گھنٹوں میں بیان کی مختلف تشریحات کرتے ہوئے عوام کے سامنے اپنی بے بسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اگر بشریٰ بی بی میں ہمت ہے تو وہ خود اپنے بیان کی وضاحت کریں یا قوم سے معذرت کریں۔ یہ تماشا ختم ہونا چاہیے۔”خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کے متنازعہ الفاظ کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما اپنے موقف کا دفاع کرتے کرتے "رل گئے ہیں”۔ ہر کوئی ایک الگ وضاحت پیش کر رہا ہے، لیکن عوام کے ذہنوں میں سوالات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما بھی بشریٰ بی بی کے بیان اور پی ٹی آئی کی موجودہ صورت حال پر تبصرے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے ہمیشہ دوسروں پر الزامات لگائے ہیں، لیکن اب خود ان کے بیانات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    بشریٰ بی بی کے سعودی عرب کے حوالہ سے بیان سے نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں بلکہ ان کی عوامی حمایت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق، یہ واقعہ پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور پی ٹی آئی کو اپنے بیانیے کو درست کرنے کے لیے بڑے فیصلے لینے پڑیں گے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی مرکزی قیادت کی اکثریت نےخود کو بشری بی بی بیان سے الگ کرنے کافیصلہ کیا ہے،بشری بی بی کے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں تشویش کی لہر دوڑچکی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے بشری بی بی کو کسی بھی معاملے سے پہلے بانی پی ٹی آئی یا پارٹی سے مشاورت کا کہہ دیا گیا، بشری بی بی نے اپنی مشیر مشعال یوسفزئی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو پیغام پہنچانے کی کوشش کی تاہم مشال یوسفزئی کو اڈیالہ میں عمرا ن خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ پارٹی قیادت کی تشویش پر بانی پی ٹی آئی کا بشری بی بی کو سیاست سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا ویڈیو پیغام ایڈیٹ کر کے اپلوڈ ہوا لیکن اتنی بڑی غلطی کیسے نظر انداز ہوئی, ویڈیو ایڈیٹ کرنے کے بعد بھی جاری کردہ بیان کی ٹائمنگ درست نہیں تھی،

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے جو کچھ کہا مکمل تیاری اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہا ہے، اُس کی نظیر پی ٹی آئی کی فتنہ و فساد سے بھری تاریخ میں بھی نہیں ملتی،دوست ملکوں کو ناراض کر کے پاکستان سے دور کرنا بانی پی ٹی آئی کی سیاست کا خاصہ رہا ہے، "خان نہیں تو پاکستان نہیں” کا نعرہ مکہ و مدینہ کی مقدس سرزمین تک آ پہنچا ہے، ننگے پاؤں اور مدینہ کے نام پر لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلا گیا، یہ بھی نہ سوچا گیا کہ عظیم دوست اسلامی ملک پر کتنا گھناؤنا الزام لگایا جا رہا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • امن و امان  خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    امن و امان خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والےکسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے علی الصبح پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا اور قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانفشانی کی تعریف کی،اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس، چیف کمشنر، ڈی آئی جی اور پولیس افسران کی بڑی تعداد بھی پولیس لائنز میں موجود تھی،پولیس لائنز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کل بیلاروس کا وفد اور 25 نومبر کو بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، دورے کے پیش نظر اسلام آباد کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے، پولیس فورس نے ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہے اور امن کو یقینی بنانا ہے، اسلام آباد کے امن و امان کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ہے، اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا،ہمیں آپ اور آپ کی زندگیاں بہت عزیز ہیں، دوران ڈیوٹی تمام حفاظتی سامان پہننا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں، پولیس فورس نے ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہن کر فرائض سرانجام دینے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کسی کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، امن و امان کو قائم رکھنے اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا ہے

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پہلا رابطہ ہوا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی،محسن نقوی نے کہا، کسی جلوس،دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔بیلا روس کا وفد آ رہا ہے،محسن نقوی کے رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ پارٹی مشاورت کے بعد آپ کو حتمی رائے سے آگاہ کروں گا۔باخبر ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے تحریک انصاف کل ڈی چوک میں احتجاج پر بضد ہے،حکومت نےایف نائن، سنگجانی میں احتجاج اور دھرنے کی پیشکش کی ہے،تاہم پی ٹی آئی نے انکار کر دیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کب داخل ہونا؟ پروگرام طے ہو گیا
    پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔ قیادت کے ساتھ علیمہ خان، عظمیٰ خان، اور رانی خان بھی موجود ہوں گی۔

    تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کا اہم اجلاس ہوا، جس کی علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے صدارت کی،اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ہر صورت ہوگا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی، اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 22اور 23 نومبر کی درمیانی رات کو منعقد ہوا، اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق ہماری پُرامن احتجاجی تحریک کا آغاز مورخہ 24 نومبر کو پاکستان بھر کے ہر شہر سے ہو گا،قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرینگے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں کر لئے جاتے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ پاکستان بھر میں بے گناہ قید پارٹی کے لیڈران، کارکنان اور عمران خان کی رہائی ، 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ، 8 فروری کے الیکشن کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی،پولیٹیکل کمیٹی نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اوردہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس بھی لیا اور معاملات کے فوری حل کے زمرے میں حکومتی بے حسی اور بے بسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،پولیٹیکل کمیٹی نے پارٹی کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن احتجاج میں جوق در جوق شرکت کر کے اسے کامیاب بنائیں۔ تاکہ پاکستان میں آئین اور قانون کے مطابق جمہوری دور کا آغاز ہو سکے۔ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی دے۔

    موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات
    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج ،وزارت داخلہ نے موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات پی ٹی اے کو صادر کر دیئے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ہی وزارت داخلہ سے خط موصول ہوگیا تھا،آج موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق ہے،فی الحال صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتوار کو موبائل، انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا احکامات دیئے جائینگے، ذرائع پی ٹی اے

    سابق صدر عارف علوی کی تقریر
    پشاور میں سابق صدر عارف علوی نے پی ٹی آئی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر پاکستانی کے دل میں ایک امید کی طرح دھڑک رہے ہیں، اور ان کی محبت عوام کے دل سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد آئین، قانون، اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے اور وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

    موٹرویز اور ٹرانسپورٹ کی بندش
    ملک کی مختلف موٹرویز بشمول پشاور-اسلام آباد اور لاہور-اسلام آباد کو مرمت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق یہ بندش 23 نومبر کی رات 8 بجے سے نافذ ہوگی۔ لاہور کی رنگ روڈ کو بھی 2 دن کے لیے احتجاج کے پیش نظر صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    عوامی مشکلات
    ٹرانسپورٹ اڈوں اور موٹرویز کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ ایک لاکھ 30 ہزار افراد اسلام آباد آتے جاتے ہیں، اور بندش کے سبب مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہوگا۔ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا، جس سے یومیہ 4 سے 5 کروڑ روپے کا نقصان متوقع ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک بند کر کے ہمارا احتجاج پہلے ہی کامیاب بنادیا ہے، وفاق اور پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں موٹروے اور شاہراہیں بند کردیں، پنجاب بھر میں دفعہ 144کا نفاذ، ہوٹلوں اور لاری اڈوں کی بندش ثبوت ہے کہ حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ہم ابھی 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریوں کےمراحل میں ہیں، حکومت نے ملک بند کرکے ہمارااحتجاج خود ہی کامیاب بنادیا۔ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، حکومت ملک بند کرکے عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ہیں، جیل میں قید ایک شخص نے احتجاج سے قبل ہی حکمرانوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    24 نومبر کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں میٹرو سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کے پیش نظر 23 نومبر کو میٹروبس سروس آئی جے پی تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند رہے گی تاہم راولپنڈی میں میٹروبس سروس بحال رہے گی،راولپنڈی صدر اسٹیشن تا فیض آباد تک میٹروبس سروس چلے گی البتہ 24 نومبر کو جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند رہے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، لاہور،اسلام آباد،اہم شاہراہیں بند،کاروبار بند،شہریوں کو مشکلات
    پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، موٹرویز سمیت کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئیں،راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاہور اور فیصل آباد سے وفاقی دارالحکومت کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں،اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے،فیض آباد سمیت 6 مقامات کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، فیض آباد، آئی جے پی روڈ، روات ٹی چوک، کیرج فیکٹری، مندرہ اور ٹیکسلا روڈ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کچہری چوک کو یکطرفہ ٹریفک کے طور پر چلایا جائے گا،

    لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ ، بابو صابو انٹر چینج ، سگیاں پل ، شاہدرہ چوک بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ رنگ روڈ کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے،فیصل آباد شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں، موٹروے ایم 5، سکھر سے رحیم یار خان تک بند کر دی گئی ہے،اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے رینجرز اور ایف سی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنےکی ہدایت کر دی ہے،اسلام آباد کے تمام تھانوں میں گرفتار افراد کو رکھنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ قیدی وینزبھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں،پنجاب بھر میں آج سے 25 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    صدر، اے ٹی ڈبلیو اے بلو ایریا راجہ حسن اختر کا کہنا ہے کہ تمام بزنس کمیونٹی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بلو ایریا میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حکم کے مطابق، تمام دکانیں، دفاتر، ریسٹورینٹس اور کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔دفعہ 144 نافذ ہے،صرف میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔تمام کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ اپنے کاروبار بند رکھیں اور گھروں میں آرام کریں۔

    پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے اپوزیشن اتحاد سے کوئی رابطہ یا مشاورت نہیں کی،پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما نے اپوزیشن کی کسی بھی جماعت سے کوئی بات چیت نہیں کی،اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اسلام آباد سے واپس کوئٹہ روانہ ہو گئے،بی این پی سربراہ اختر مینگل دبئی میں ہیں، ان سے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، علامہ ناصر عباس بیرون ملک دورے کی وجہ سے احتجاج کا حصہ نہیں ہوں گے

    اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان احتجاج کے لیے پرعزم ،تیاریاں مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا ،ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری مکمل تیاری ہے ہر صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے،میں اپنے حلقے میانوالی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچوں گا، ٹک ٹاکر حکومت نے ہمیشہ ہمارے پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ہے، پانی پی ٹی ائی کی فائنل کال ہے کل پورا پاکستان اسلام آباد جائے گا ، میانوالی کی عوام تیار ہے ہمارے کچھ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں کچھ کل قافلوں کی صورت میں جائیں گے،حکومت جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کر دے ہم رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام اباد پہنچیں گے،بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،

    عارف علوی کی کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل،بولے،تشدد ہمیشہ پولیس کرتی
    پی ٹی آئی رہنما ،سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے اعلان اور تیاری کے حوالہ سے میری درخواست پوری قوم سے یہ ہے کہ پر امن رہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے جلسے جلوسوں میں پر امن رہی ہے۔ تشدد ہمیشہ پولیس نے کیا۔ دنیا کی پچھلی صدی کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ پر امن عوام پر جب پولس آنسو گیس یا لاٹھی سے حملہ کرتی ہے تو پھر عوام ایسے ظالمانہ مار پیٹ کے بعد سنگ و خشت کا سہارا لیتے ہیں۔ تشدد کے بہانے “پرچم دروغ” کا استعمال ہم نے 9مئی کے دن دیکھا جس کے زہریلے انڈے اور بچے آج بھی نمودار ہو رہے ہیں۔پر امن رہیئے اور اللہ پر بھروسہ کریئے۔ وہی خدا ہے جو اس ملک کے محکوم و مظلوم عوام کو آزادی سے ہمکنار کرے گا۔ انشاللہ

  • سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے،خاص طور پر جب ہم درجنوں شہادتوں کو ایک دن میں سہہ رہے ہیں،اتنی شہادتیں کہ ایک دن میں تدفین بھی نہیں ہو سکتی،ایسے وقت میں احتجاج،دھرنوں کی سیاست ظلم ہے، دوسروں کی اولاد،بچوں کے شاندار مستقبل کی بات کریں لیکن اپنے بچوں کو احتجاج میں نہ لائیں، بشریٰ بی بی نے کل ایک تقریر کر دی اس نے بانی پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے،حالت یہ ہو گئی کہ سلمان احمد جو عمران خان کے پرانے دوست ہیں، ان کو ایک ٹویٹ کرنی پڑی،عارف علوی نے بھی ایک ٹویٹ کی،یہ کوئی چھوٹا بیان نہیں ہے، دو لوگ بانی پی ٹی آئی کی گفتگو عام کر رہے ہیں ایک گنڈا پور دوسری علیمہ، یہ بیان کسی اور سے آتا تو اسکی ویلیو مختلف ہوتی کیا پی ٹی آئی نے اپنے لئے دروازے بند کر دیئے ہیں کیا ڈونلڈ ٹرمپ سے جو امیدیں لگائی ہیں وہ ختم ہو چکی ہیں ، اب یہ والی بات کر کے کیا ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو ری پبلکن پارٹی سے دور کر لیا جس پر یہ لاکھوں ڈالر لابنگ کے لئے لگا چکے، ہمارے ملک میں دہشت گردی کا ناگ سر پھلائے بیٹھا اور ہم یہاں پر کل تک امریکا کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے، پھر باجوہ، پھر لندن پلان اور اب سعودی ولی عہد کو،

    مریم اور نواز شریف نے کھانا کھایاتو پی ٹی آئی نے بٹ کڑاہی والوں پر مقدمہ کروا دیا تھا، عظمیٰ کاردار
    کھراسچ پروگرام میں بات کرتے ہوئےمسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ مجھے پی ٹی آئی کے ساتھ بہت ہمدردی ہے، پی ٹی آئی کی کورکمیٹی یا پارلیمانی پارٹی انکو سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا، یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی کہ جانشین بانی کا مرشد ہے اور خان نے جو پیغام دینا تھا وہ کسی تنظیمی عہدیدار کو نہیں دی گئی بشریٰ کو دی گئی، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پارٹی رہنماؤں پر شک ہے کہ رہنما کمپرومائزڈ ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کتنی اعلیٰ گورننس ہے کہ سڑکیں بند کر دیں، انٹرنیٹ بند کردیں، ہوسٹلز بند کر دیں، گورننس کا اور طریقہ نہیں آتا جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج پر ہم یقین رکھتے ہیں، مریم نواز اور نواز شریف جب تنظیمی پروگرام کے لئے نکلے تھے تو بٹ کڑاہی پر ان لوگوں نے مقدمہ درج کروا دیا کہ نواز شریف کو کڑھائی کیوں کھلائی، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پورا ملک بند کر کے وزیراعلیٰ پنجاب لندن چلی جاتی ہیں، وزیر ماحولیات ان کے ساتھ، چیف سیکرٹری ان کے ساتھ،یوٹیوب کو پیسے آفر ہو رہے ہیں کہ سموگ بارے ہمارے حق میں پروگرام کریں، عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ڈپلومیٹک کمیونٹی رہتی ہے،دفعہ 144 نافذ ہے، قانون اور آئین اجازت نہیں دیتا کہ وہ وہاں آئیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کون سا قانون، آپ نے دفعہ 144 لگائی، چار بندوں کو نہ جانے دیں، ہوٹلوں سے لوگوں کو کیوں نکال رہے ہیں، جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ میں کل رہ کر آئی ہوں، کچھ بند نہیں ہوا،مبشر لقمان نے ہوٹلز بند ہونے کا نوٹفکیشن دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھیں ،جس پر عظمیٰ کاردار نے کہا کہ کچھ بند نہیں، مبشر لقمان نے کہا کہ موٹروے بند ہو گئی، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ کچھ بند نہیں، میں کل آئی ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انکو کل منع کر دیا ہے،اگر آپ چاہتے ہیں یہ وفاق پر حملہ کریں تو کیا ہو سکتا ہے،ریاست کا حق ہے کہ وہ حملہ آوروں کو روکے، مبشر لقمان نے کہا کہ احتجاج ان کا آئینی حق ہے، غیر آئینی کام نہیں کرتے ہم مفروضے کے طور پر ان کا حق نہیں چھین سکتے، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں، نومئی کو بھول گئے،گنڈا پور کا بیان بھول گئے،پولیس والوں کے کپڑے پھاڑے گئے، آپ کے سامنے ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اینکر ہوں، میرے پاس بہت کچھ ہے، سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی ہوتا ہی ناں،

    توڑ پھوڑ،احتجاج، تقریریں حل نہیں، مذاکرات سے آگے بڑھا جا سکتا، رضا ہارون
    پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ہارون کا کہنا تھا کہ مذاکرات آگے بڑھنے کا راستہ ہے،پی ٹی آئی کے تین مطالبات ہیں، ایک بھی مطالبہ توڑ پھور کرنے، تقریروں سے حل نہیں ہو گا، یہ مذاکرات سے حل ہو گا جب بات نہیں کریں گے تو کیسے مسئلے حل ہوں گے،24 نومبر ایک کال کی مار ہے،ابھی مذاکرات کی بات چیت شروع ہوئی تھی اس وقت خوشیاں نہیں دیکھی تھیں چہرے پر،

    پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عمران خان کی بات کی ہے، میری چار ماہ سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، بشریٰ کا کل جو بیان آیا ،اس کا پارلیمانی پارٹی کو نہیں پتہ، جہاں ہمیں خان کا حکم مل رہا ہوتا ہے سر آنکھوں پر، جہاں پر ذاتی رائے مل رہی ہووہ ہم نہیں مانیں گے،ایک ایمبسڈر نے مجھے کہا تھا کہ عمران خان کو ہٹانا ہے مجھے جھٹکا لگا، میں نے اسد قیصر کو یہ ساری بات بتائی، کل جو پینڈورا باکس انہوں نے کھولا ، میں صبح سے دیکھ رہی ہوں کہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ بشریٰ نے کسی کا نام نہیں لیا، بحرحال یہ اچھی بات نہیں ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل کو جب کیس ہو گا تو چینل کو پیمرا کو جواب دہ ہونا پڑے گا اور مجھے بھی، جتنا مرضی میں مان لوں کہ یہ پی ٹی آئی کا بیان نہیں انفرادی بیان ہے، ڈھول توگلے میں پڑ گیا، شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ میں بغیرتصدیق یا تردید کےاپنی رائے دے رہی تھی،

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • نومئی کے چھ مقدمے، میاں محمود الرشید کی درخواست ضمانت خارج

    نومئی کے چھ مقدمے، میاں محمود الرشید کی درخواست ضمانت خارج

    لاہور، عسکری ٹاؤر حملہ سمیت 9 مئی کے6مقدمات کے کیس کی سماعت ہوئی
    سابق صوبائی وزیر محمود الرشید کی 6 مقدمات میں درخواست ضمانت خارج کر دی گئی، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے فیصلہ سنایا ،عدالت نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، دوران سماعت سرکاری وکیل نے محمود الرشید کی تمام ضمانتیں خارج کرنے کی استدعا کی تھی، سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا تھا کہ ملزم9مئی کی منصوبہ بندی ملوث اور جلاؤ گھیراؤ کے وقت موقع پر موجود تھا،

    دوسری جانب لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید پر فرد جرم عائد کر دی،عدالت نے 2 دسمبر کو ملزموں کیخلاف گواہوں کو شہادت کیلیے طلب کر لیا،تھانہ شادمان کو جلانے اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں گاڑیاں جلانے سمیت تین مقدمات سمیت تین مقدمات میں ملزموں کی تعداد مکمل نہ ہونے کی وجہ سے فرد جرم عائد نہیں ہو سکی ۔عدالت نےسماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی ۔عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ان تین مقدمات میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    مسلم لیگ ن کے رہنما،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو سیاسی مفادات کے لیے نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان پر رد عمل دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اقدام مایوس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے،سیاسی قوتیں اپنے مقاصد کیلیے خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ کرنے سے باز رہیں،پاکستان اور سعودی عرب برادر ملک ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں،  ہمیں سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کے سفر پر فخر ہے، پاکستان بھی سعودیہ سے قریبی تعلقات پر فخر کرتا ہے، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے بشریٰ بی بی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے ان سے گھڑی لے کر بیچ سکتے ہیں، کروڑوں کا منافع بنا سکتے ہیں، اب سٹوری فلوٹ کردی گئی کہ باجوہ نے کسی سے بات کی اس نے کسی اور سے بات کی، یہ سیاسی فائدے کیلئے کس حد تک جا سکتے ہیں، اب شریعت کارڈ کا بھی استعمال ہوگا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی نے جس ملک پر الزام لگایا وہیں اپنی بیٹی کی شادی کی، اسی ملک نے انہیں تحائف دیے جنہیں بشریٰ بی بی نے بلیک مارکیٹ میں بیچ دیا۔

    دوسری جانب مشیراطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی خود وضاحت کریں گی کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے یا پارٹی کا مؤقف ہے،بشریٰ بی بی کے پاس پارٹی کا کوئی تنظیمی عہدہ اور کوئی تنظیمی ذمے داری نہیں،پارٹی کا مؤقف تو پارٹی کا چیئرمین یا سیکریٹری جنرل ہی بیان کرے گا، بشریٰ بی بی کا اپنا نکتۂ نظریہ ہے، اس کے ساتھ پارٹی کا تعلق جوڑنا بے بنیاد ہے،عمران خان کو سعودی عرب نے سزا دلوائی یا حکومت سے ہٹایا اس پر پارٹی نے آج تک بیان نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں کہ یہ آپ کس شخص کو لے آئے۔

    بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا ردعمل

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

  • 18 ماہ میں پی ٹی آئی کے دھرنوں پر سرکارکے  اربوں روپے خرچ ہونے کا انکشاف

    18 ماہ میں پی ٹی آئی کے دھرنوں پر سرکارکے اربوں روپے خرچ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد: 18 ماہ میں تحریک انصاف کے دھرنوں اوراحتجاج سے نمٹنے پرسرکارکے 2ارب 70کروڑ روپے خرچ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پچھلے چھ ماہ کے دھرنوں اوراحتجاج پرخرچ لگ بھگ ایک ارب20 کروڑآیا،ایک ارب 50 کروڑ روپے کی مالیت کی سرکاری و غیرسرکاری املاک کونقصان پہنچا تحریک انصاف نے پنجاب، خیبرپختونخواہ اوراسلام آباد میں چھوٹے بڑے 120 احتجاج کیے،4سیکورٹی اہلکارشہید،220 سے زائد اہلکارزخمی ہوئے۔

    80 کروڑروپے کرایے پر لیے گئے 3000 کنٹینرزکے مالکان کو ادا کئے گئے،راولپنڈی، اٹک، لاہوراور اسلام آباد احتجاجوں کا مرکز رہے، 30 ہزارسے زائد سیکورٹی اہلکارتعنیات رہے،وفاقی دارالحکومت، لاہور اور راولپنڈی میں 28 کروڑکی قیمت کے سیف سٹی کے370کیمروں کونقصان پہنچا،220 چھوٹی،بڑی پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

  • قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،عطا تارڑ

    قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کسی احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی، قانون پر مکمل طور پر عمل کریں گے اور کروائیں گے۔

    باغی ٹی وی: عطا تارڑ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، سرکاری افسران کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے، ملوث ہونے پر افسران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی،اسلام آباد میں کسی احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی، قانون پر مکمل طور پر عمل کریں گے اور کروائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے چینی صدر کے دورے کے موقع پر احتجاج کیا گیا، ایس سی او کے موقع پر بھی احتجاج کی کوشش کی گئی، اب بیلاروسی صدر کے دورے کے موقع پر احتجاج کیا جارہا ہے،یہ ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جب کوئی آتا ہے تو یہ احتجاج شروع کردیتے ہیں، کیا احتجاج ملکی معیشت بہتر ہونے کے خلاف ہورہا ہے، کیا یہ احتجاج مہنگائی کم ہونے کے خلاف ہے؟ یہ صرف اپنے لیڈر کیلئے این آر او مانگ رہے ہیں،تحریک انتشار کے احتجاج کا مقصد ملک میں فساد پھیلانا ہے، پی ٹی آئی احتجاج کیلئے سرکاری وسائل استعمال کرتی ہے۔

  • 24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ججز اور وکلا سے 24 نومبر کے احتجاج میں شرکت کی اپیل کر تے ہوئے کہا کہ عمران خان ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد کررہے ہیں، تو کیا ججز اور وکلا کا فرض نہیں بنتا کہ وہ احتجاج میں شریک ہوں۔

    باغی ٹی وی: بشریٰ بی بی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمران خان کا پیغام ہے 24 نومبر کے احتجاج میں تمام شعبے ہائے زندگی کے افراد شریک ہوں، کیونکہ جب ہر شخص اس کا حصہ بنے گا تو تحریک کامیاب ہوگی عمران خان قانون کی بالادستی کی جدوجہد میں جیل میں ہیں، انہوں نے فائنل کال کی کامیابی کے لیے بہت سے لائحہ عمل بھیجے ہیں جو وقت آنے پر سامنے لائیں گے۔

    بشری بی بی کا کہنا تھا کہ جو لوگ مذاکرات کے نام پر احتجاج ملتوی ہونے کی باتیں کررہے ہیں، یہ سب پروپیگنڈا ہے، 24 نومبر کو احتجاج ہر صورت ہوگا، 24 نومبر کے احتجاج کی تاریخ صرف اسی صورت میں تبدیل ہوسکتی ہے کہ عمران خان کو جیل سے رہائی کیا جائے اور وہ خود عوام کا آئندہ کا لائحہ عمل دیں ملک کا بچہ بچہ گواہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے التجا ہے کہ احتجاج کرنے والے بھی آپ کے بھائی ہیں، ان پر ظلم نہ کریں۔

    بشریٰ بی بی نے کہا کہ عمران خان کا بھی دل کرتا ہے کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزاریں اور گھر پر رہیں، لیکن وہ قوم کی خاطر جیل کی کال کوٹھڑی میں بند ہیں عدالتوں میں پٹیشنز دائر کی جارہی ہیں کہ پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکا جائے، اس ظلم کو بند کرنا ہوگا، یزید مت بنیں، وہ بھی ایک مسلمان تھا لیکن انا میں آکر اس نے ظلم کیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ہے کہ وہ جیل سے باہر آکر کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیں گے، وہ بالکل کلیئر ہیں کہ طاقت آکر کسی سے بدلہ لینا اللہ کی ناراضی کو مول لینے کے مترادف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جو بھی آکر یہ پیغام دے رہا ہے کہ عمران خان باہر آکر بدلہ لے گا، اور غصے میں وہ غلط بیانی کررہا ہے پورے پاکستان کے سیاسی نظام میں عمران خان ایسے ہیں جیسے کیچڑ میں کنول کا پھول ہو ہمارے ملک کے حکمران کرسیوں کی جنگ لڑرہے ہیں، جبکہ عمران خان ملک میں حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے کہا کہ ہم پر الزام ہے کہ آپ کے لوگ الجہاد الجہاد کے نعرے لگا رہے ہیں، تو ہم نے کسی کارکن کو یہ ہدایت نہیں دی، یہ سب لوگوں کے دلوں سے نکل رہا ہے،عمران خان بحیثیت وزیراعظم جب ننگے پاؤں مدینہ منورہ میں گئے تو واپس آنے کے بعد جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئی تھیں جنرل باجوہ کو کہا گیا تھا کہ ہم شریعت کا نظام ختم کرنا چاہتے ہیں آپ ایسے شخص کو لے آئے ہو جو شریعت کی بات کرتا ہے،میں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام آپ تک پہنچا دیا ہے، اب آپ پر منحصر ہے کہ حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہے یا نہیں۔