Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • مججھے احتجاج ہوتا نظر نہیں آرہا، گنڈاپور عمران خان کو پھنسا رہا ہے، فیصل واوڈا

    مججھے احتجاج ہوتا نظر نہیں آرہا، گنڈاپور عمران خان کو پھنسا رہا ہے، فیصل واوڈا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ عمران خان کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں اور یہ مشکلات ان کے اپنے کمپرومائزڈ لوگوں نے پیدا کی ہیں-

    باغی ٹی وی : فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں اور یہ مشکلات ان کے اپنے کمپرومائزڈ لوگوں نے پیدا کی ہیں، اپنے آپ کو بچانے کیلئے عمران خان اب خود ہی ہیں، عمران خان دو قدم پیچھے لیں، صبر دکھائیں، سیاست کو سیاست کی طرح لے کر چلیں، سیاستدانوں سے انگیج کریں وہ آگے بات کریں گے، آگے کا راستہ بنانے کی بات کریں،24 نومبر کو احتجاج کی کال فائنل نہیں ہے، یہ کال پھر آجائے گی۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ لوگ ڈی چوک نہیں آسکتے، علی امین گنڈاپور عمران خان کو پھنسا رہا ہے اور باقیوں کا کام آسان کر رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی نہ رہائی ہو رہی ہے نہ آگے ہونے جا رہی ہے، اگر آپ کسی پر چڑھائی کرکے بدمعاشی کرکے رہائی مانگ رہے ہیں، پھر تو آپ اپنی مشکلات کو دعوت دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے احتجاج ہوتا نظر نہیں آرہا، پی ٹی آئی کی 30 فیصد قیادت ملک سے باہر ہے، نہ پنجاب میں کوئی ہے اور نہ سندھ اور بلوچستان میں، سب خیبرپختونخوا وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہیں، وہاں موج لگی ہوئی ہے باپ کی جاگیر ہے وہ، وزیراعلیٰ ہاؤس انڈیا کا حصہ تو نہیں ہے، اگر اس میں ملک دشمنی کو کوئی عنصر نظر آگیا تو وہاں بھی ریڈ کردیں گے، ادھر سے بھی بالوں سے پکڑ کر نکال لیں گے ایسا کوئی مشکل کام نہیں ہے، 24 نومبر کی کال اس لئے ہے کیونکہ 25 نومبر کے بعد عمران خان پر فرد جرم عائد ہونی ہیں، پی ٹی آئی کی گھبراہٹ سے نظر آرہا ہے فیض حمید کا ٹرائل اور کورٹ مارشل آخری مراحل میں ہے۔

  • پی ٹی آئی 24 نومبر  احتجاج:اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاجروں کی درخواست پر فیصلہ  جاری

    پی ٹی آئی 24 نومبر احتجاج:اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاجروں کی درخواست پر فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے احتجاج کے خلاف تاجروں کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امن قائم رکھنے کیلئے انتظامیہ قانون کے مطابق تمام اقدامات کرے انتظا میہ کی ذمہ داری ہے کہ قانون کے خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے، یقینی بنایا جائے کہ شہریوں کے کاروبار زندگی میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پبلک آرڈر 2024 دھرنے، احتجاج، ریلی وغیرہ کی اجازت کیلئے مروجہ قانون ہے، اسلام آباد انتظامیہ مروجہ قانون کے خلاف دھرنا، ریلی یا احتجاج کی اجازت نہ دے عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو وزیر داخلہ یا کسی متعلقہ شخص کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا عدالت نے کہا کہ کمیٹی میں چیف کمشنراسلام آباد کو بھی شامل کیا جائے،جبکہ عدالت نے کمیٹی کو پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ رابطہ کرنے کا بھی حکم دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کمیٹی پی ٹی آئی قیادت کو بیلاروس کے صدر کے دورے کی حساسیت سے آگاہ کرے، عدالت کو یقین ہےجب یہ رابطہ ہوگا تو کچھ نا کچھ پیشرفت ہوگی۔

    واضح رہے کہ تاجر رہنماؤں کی جانب سےپی ٹی آئی احتجاج کےخلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت میں فوری سماعت کی گئی،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

  • حکومت نے  گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے،اسد قیصر

    حکومت نے گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے،اسد قیصر

    صوابی: پی ٹی آئی رہنما و سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے علی امین گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : صوابی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطہ ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کی اجازت دی ہے، اب پارٹی اپنا فیصلہ کرے گی کہ وہ کس طرح اور کس حد تک مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کتنی سنجیدہ ہے اور کتنی سنجیدگی سے اس ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہے، 24 نومبر کے احتجاج کیلئے ہم نے حکمت عملی تبدیل کی ہوئی ہے، پہلی دفعہ عوام میں بڑا جوش و خروش ہے، ہمارے صوابی سے اتنے لوگ ہوں گے کہ اگر باقی علاقوں سے لوگ نہ بھی آئیں تو یہ کافی ہیں، پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے کارکنان صوابی سے اسلام آباد جائیں گے، باقی اضلاع کے کارکنان مختلف روٹس سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

    اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا اور ہم سے یہ مینڈیٹ زبردستی چھینا گیا، جعلی مینڈیٹ کی بنیاد پر حکومت بنائی گئی اور اس کے ذریعے قانون سازی ہو رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں استحکام آنا چاہیے، اس وقت لاء اینڈ آرڈر چیلنجز کا سامنا ہے، اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو ملک انارکی کی طرف جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم آئین و قانون پر یقین رکھتے ہیں، ملک میں جب عدلیہ آزاد، قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی اور عوام کو عزت نہیں ملے گی تو ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا، ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، ظلم، جبر اور تشدد کا راج ہے، پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، پارلیمنٹ بے توقیر ہو گئی ہے، آئین سیاسی جماعت اور عوام کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، یا تو آئین سے یہ شق نکال لیں، آپ ہمیں دیوار سے لگائیں گے تو احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کونسا راستہ ہے۔

  • پی ٹی آئی نے احتجاج والے دن انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کا  حل نکال لیا

    پی ٹی آئی نے احتجاج والے دن انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کا حل نکال لیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس جزوی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،لیکن پی ٹی آئی نے اس کا حل بھی نکال لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 22 نومبر سے موبائل انٹرنیٹ سروس پر فائر وال ایکٹو کر دی جائے گی جس سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو جائے گی اور سوشل میڈیا ایپس پر ویڈیوز اور آڈیو ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکیں گی،جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کل رات تک کیا جائےگا،لیکن پی ٹی آئی کے کارکنان نے اس کا حل بھی نکال لیا ہے۔
    https://x.com/QasimKhanSuri/status/1859459852017467455
    سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کی صورت میں دو ایپلیکیشنز ”BRIAR“ اور ”Bridgefy“ بتائی ہیں جن کے ذریعے ممبران آپس میں رابطہ کر سکتے ہیں،ان ایپس میں اکاؤنٹ بنانے کے لیے نہ تو آپ کو اپنا فون نمبر دینا ہے نہ ہی ای میل ایڈریس، بلکہ آپ فرضی نام بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
    suri
    انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایپ بلیوٹوتھ کے ذریعے کمیونیکیٹ کرتی ہے اس کی زیادہ سے زیادہ رینج 100 میٹر یا 300 فٹ ہوتی ہے جتنے زیادہ لوگوں کے پاس یہ ایپ ہو گی اتنی دور تک آپ کی پہنچ ہوگی،فون کی سیٹنگ میں جاکر بلوٹوتھ Bluetooth آن کرنا لازمی ہے
    یہ ایپ صرف اینڈرائڈ کے لیے میسر ہے، آئی فون یوزرز Bridgefy ایپ استعمال کر سکتے ہیں-

    انہوں نے ایپ میں کانٹیکٹس ایڈ کرنے کے لیے کچھ اسکرین شاٹس بھی شئیر کئے-
    sm
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک کارکن شفقت ایاز نے بھی ایپلی کیشن ”Bridgefy“ کا ذکر کیا ،ایاز شفقت نے ”ایکس“ پر لکھا کہ ’یہ ایپلی کیشن ایپل اور پلے اسٹور دونوں پہ موجود ہے اسے ابھی ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے دوستوں کو بھی اطلاع کریں۔‘
    https://x.com/ShafqatAyaz_PTI/status/1859294293527232919

  • محسن نقوی اور  گنڈاپور کا  دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

    محسن نقوی اور گنڈاپور کا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خیبر پختو نخوامیں سیکیورٹی صورت حال پر بات کی، وفاقی زیرداخلہ اور وزیراعلی کے پی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا،وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اجازت کے بغیر کسی کو جلسے جلوس کی اجازت نہیں دے سکتے، چیف جسٹس کا جو بھی حکم ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا،سلام آباد میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کل رات تک کیا جائےگا، ملک میں آئے روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہورہا ہے، آج بھی کرم میں 38 افراد شہید ہوئے ہیں، خیبرپختونخوا ہمارا صوبہ ہے، اس کی ہر ممکن مدد کریں گے، ان کے پچھلےاحتجاج میں افغان باشندے گرفتار ہوئے، سمجھ نہیں آرہا کہ افغان باشندے کیوں احتجاج کررہےہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، مذاکرات دھمکیوں سے نہیں ہوتے، میں بات چیت کے حق میں ہوں، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ دھمکیاں بھی دیں اور بات چیت بھی کریں، یہ ہمارے لوگوں پر ڈنڈے برسائیں اور ہم مذاکرات کریں یہ نہیں ہوسکتا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور آئی جی سے رابطہ رہتا ہے ، ریڈزون ڈی چوک کو محفوظ رکھنا ہماری ترجیح ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بیرسٹرگوہر بانی پی ٹی آئی سے ملے تھے،اگربانی پی ٹی آئی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں،،بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنے کااختیار میرے پاس نہیں،مقدمات کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے ،24نومبر کو بیلاروس کا وفد اسلام آباد آرہا ہے،خاص دنوں میں ہی اسلام آباد میں کیوں احتجاج کیا جاتا ہے؟ہم نے ان کو تحریر میں چیزیں بھیج دی ہیں،اپنے صوبے میں جو مرضی کریں، اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے۔

  • پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پاکستان تحریک انصاف کو 24 نومبر کو ہونے والے احتجاجی مارچ کے لیے ایک بڑا دھچکا لگا ہے،  وفاقی وزارت داخلہ نے سخت اقدامات کرتے ہوئے سرکاری مشینری، سرکاری افرادی قوت، اور عوامی وسائل کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    وزارت داخلہ نے اس حوالے سے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو ایک باضابطہ مراسلہ جاری کیا ہے۔ مراسلے میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے سرکاری وسائل کو احتجاجی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی مشینری، گاڑیاں، اور دیگر وسائل کو لانگ مارچ کے لیے فراہم نہ کریں۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو متحرک رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    تحریک انصاف اپنے احتجاجی مظاہروں کے لیے خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں سے کارکنوں کی بڑی تعداد کو متحرک کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، اس حکومتی اقدام کے بعد مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ماضی کی طرح اب بھی سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر لشکر کشی کا ارادہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو خط لکھا ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اس پابندی کے باوجود اپنے احتجاج کو کامیاب بنا سکے گی؟ یا حکومت کے اقدامات اسے کمزور کر دیں گے؟ آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو احتجاج، 23 نومبر سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس جزوی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اسلام آباد، کے پی اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں معطل کی جا سکتی ہے،پی ٹی اے کی جانب سے 22 نومبر سے موبائل انٹرنیٹ سروس پر فائر وال ایکٹیو کر دی جائے گی، فائر وال ایکٹیو ہونے سے انٹرنیٹ سروس سلو جبکہ سوشل میڈیا ایپز پر ویڈیوز، آڈیوز ڈؤان لوڈ نہیں ہو سکیں گی،احتجاج کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت مخصوص مقامات پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کہتے ہیں کہ 24 نومبر احتجاج کےلئے ہم نے حکمت عملی تبدیل کی ہوئی ہے، پشاور، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ کے کارکن صوابی سے اسلام آباد جائیں گے، باقی اضلاع کے کارکن مختلف روٹس سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے

    علاوہ ازیں تحریکِ انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے خصوصی اسکواڈ تیارکیا ہے، اسکواڈ میں پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے 9 ہزار کارکنان شامل ہوں گے، صوبائی وزیر مینا خان اور معاونِ خصوصی سہیل آفریدی اس اسکواڈ کی قیادت کریں گے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پی ٹی آئی پشاور کے اجلاس میں اسکواڈ کو جہادی قرار دیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسکواڈ سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خصوصی اسکواڈ مرکزی قافلے کے آگے ہو گا اور اس اسکواڈ کو شیلنگ سے بچاؤ کا سامان بھی دے دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے راولپنڈی میں کنٹینرز کا جال بچھا دیا گیا، دفعہ 144نافذ کی گئی ہے، راولپنڈی میں 26 نومبر تک دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے جلسے جلوس،ریلیوں اور 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، تو ہیں پی ٹی آئی جلسے کو روکنے کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد جانے سے روکنے کے لئے راولپنڈی کو 50 مختلف مکامات سے بند کرنے منصوبہ بنا لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ راولپنڈی کو 50 پوائنٹس سے مال بردار کنٹینرز، اور خاردار تاروں سے سیل کر دیا جائے گا کیونکہ ایلیٹ فورس کے کمانڈوز سمیت ضلعی پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علاوہ ازیں وزارت داخلہ پاکستان نے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ 24 نومبر کے احتجاج میں کوئی بھی سرکاری مشینری، لوگ یا پیسہ استعمال نہیں ہو گا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ کل عمران خان کو ریلیف ملا ہے،باقی کیسز میں بھی ملے گا،قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے اور ریلیف مل جائے گا،پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، باقی کیسز میں بھی ریلیف ملے گا،

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے،بیرسٹرسیف

    بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے،بیرسٹرسیف

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتےہیں، مقامی طورپر بھی ان دہشت گردوں کے سہولت کار موجودہیں۔

    باغی ٹی وی: مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نے کہا کہ زیادہ ترکارروائیوں میں دہشت گرد مارے جاتےہیں، خیبر پختونخوا پولیس کومضبوط کیا جارہاہے، پولیس کیلئے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں ،کے پی کے حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے، قومی سلامتی کا معاملہ وفاقی حکومت کا بنتاہے، تاہم وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی ہے، دہشت گردی کا مسئلہ پرانا ہے، دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتےہیں، مقامی طورپر بھی ان دہشت گردوں کے سہولت کار موجودہیں۔

    مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وفاق کی جانب سے ہمیں فنڈز نہیں دیئےجارہے، سرحد کے معاملات بھی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں، ٹیلی کمیونیشن بھی اسی کےحصےمیں آتاہے، موجودہ حکومت کونہ ہٹایا گیا تومسائل حل نہیں ہوں گے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی کیس درست نہیں ہے، 9 مئی کےکیسز میں تاحال عدالتوں میں چالان پیش نہیں ہوئے ہیں، حکمراں صرف الزامات کی سیا ست کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے، احتجاج کے حوالےسے ہماری بھرپور تیاریاں جاری ہیں ۔

  • پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال مناسب نہیں،مولانا فضل الرحمان

    پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال مناسب نہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے مسلسل احتجاج کی کالز کے بعد اب 24 نومبر کے احتجاج کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔

    انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں مؤثر حکمت عملی بنانے والے لوگ نہیں ہیں، پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کا وقت مناسب نہیں اور انہیں دوبارہ اس کے حوالے سے سوچنا ہوگا،پی ٹی آئی کے ساتھ ہماری تلخیاں تھیں جو کم ہورہی ہیں، اب ہم اپوزیشن کے ساتھ بھی اپوزیشن تو نہیں کرسکتے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت جو ڈرافٹ لایا گیا وہ کالا ناگ تھا، جس کے ذریعے آئین و قانون معطل ہوجاتا، تاہم ہم نے بعد میں تمام متنازعہ شقوں کو اس سے نکال دیا، آئینی ترمیم کے وقت مجھ پر ایک ماہ تک بہت پریشر رہا، تاہم ہم نے بات چیت کے ذریعے ہی تمام مسائل کا حل نکالا۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مدارس کے حوالے سے جو بل دونوں ایوانوں سے پاس ہوا اس پر ابھی تک صدر مملکت نے دستخط نہیں کیے، اس حوالے سے میں نے وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے بھی بات کی ہے، پاکستان میں دہشتگردی سمیت دیگر معاملا ت پر افغانستان سے بامعنی بات چیت کرنے کی ضرورت ہے، میں نے جب افغانستان کا دورہ کیا تو تمام چیزوں پر اتفاق ہوا تھا لیکن بعد میں پھر معلوم نہیں کہ کس کی نظر لگ گئی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا جب افغانستان میں اترا تو ہم نے اسے اڈے فراہم کیے، اس وقت پرویز مشرف واشنگٹن کی نظروں میں مقبول ہونے کے لیے کسی کی بات نہیں سنتے تھےامریکا جب افغانستان سے نکلا تو دنیا کو ایک تاثر ملا کہ مسلح لوگوں کی جیت ہوئی اور امریکا ہار گیاعام انتخابات میں ہمارے ساتھ بدترین دھاندلی کی گئی، اور ہماری سیٹوں کو گزشتہ دور سے بھی کم کیا گیا لیکن حکومت کو آئینی ترمیم کے وقت پھر ہمارے پاس آنا پڑا کیوں کہ ان کے پاس اکثریت نہیں تھی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی ہے، جس کی کامیابی کے لیے بشریٰ بی بی بھی متحرک ہیں اور انہوں نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ پارٹی عہدیداروں کو بھی اہم ہدایات دی ہیں، اُدھر حکومت نے بھی تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کیلئے اسلام آباد میں ابھی سے اقدامات شروع کردیئے ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت میں دو ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ایف سی اور رینجرز کو بھی طلب کرلیا گیاہے۔

  • زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست

    زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست کی ہے۔

    با غی ٹی وی :ذرائع کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور گزشتہ روز مذاکرات کا پروپوزل لے کر اڈیالہ جیل پہنچے،بانی پی ٹی آئی نے پروپوزل میں شامل کچھ چیزوں پر اعتراض اٹھایا بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے پروپوزل پر مزید بات چیت کیلئے وقت مانگا ہے جبکہ مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماؤں کو گرین سگنل دے دیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات میں پیشرفت سے آگاہ کیا گیا بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا مذاکرات کے عمل کو ابتدائی مرحلے میں حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیامذاکرات میں مزید پیشرفت کے بعد 24 نومبر کے احتجاج سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

    جبکہ بانی پی ٹی آئی نے آج ہونے والی ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو بات چیت میں پہل کرنےکا حکم دیا، بیرسٹرگوہر اور علی امین گنڈاپور نے 24 نومبر کی کال واپس لینےکی درخواست کی، بیرسٹرگوہرکا مؤقف تھا کہ احتجاج سے ملکی معیشت کو نقصان ہوگا، حکومت سے بات کرنی چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نےکہا کہ جتنا کریک ڈاؤن ہو رہا ہے زیادہ ورکرز کو جمع نہیں کرسکیں گےکریک ڈاؤن اور وسیع تر ملکی مفاد میں کال واپس لینی چاہیے،سردیوں کے باعث ورکرز کو دھرنے پر بٹھانےمیں مشکلات آسکتی ہیں، بیرسٹرگوہر نے عاطف خان اور علی امین کی لڑائی کی تفصیلات سے بھی عمران خان کو آگاہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کے لیے علی امین گنڈاپور کو ٹاسک دیا گیا ہے جب کہ حکومتی شخصیات سے روابط کے لیے بیرسٹرگوہر کو ٹاسک دے دیا گیا۔

    دوسری جانب بیرسٹرگوہر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں مذاکرات سے متعلق گفتگو کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات یا رابطوں سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی، ملاقات میں تمام گفتگو علی امین گنڈاپور نے کی، ہم نے احتجاج کی کال واپس لینےکی درخواست نہیں کی۔