Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پاکستان تحریک انصاف کو 24 نومبر کو ہونے والے احتجاجی مارچ کے لیے ایک بڑا دھچکا لگا ہے،  وفاقی وزارت داخلہ نے سخت اقدامات کرتے ہوئے سرکاری مشینری، سرکاری افرادی قوت، اور عوامی وسائل کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    وزارت داخلہ نے اس حوالے سے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو ایک باضابطہ مراسلہ جاری کیا ہے۔ مراسلے میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے سرکاری وسائل کو احتجاجی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی مشینری، گاڑیاں، اور دیگر وسائل کو لانگ مارچ کے لیے فراہم نہ کریں۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو متحرک رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    تحریک انصاف اپنے احتجاجی مظاہروں کے لیے خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں سے کارکنوں کی بڑی تعداد کو متحرک کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، اس حکومتی اقدام کے بعد مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ماضی کی طرح اب بھی سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر لشکر کشی کا ارادہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو خط لکھا ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اس پابندی کے باوجود اپنے احتجاج کو کامیاب بنا سکے گی؟ یا حکومت کے اقدامات اسے کمزور کر دیں گے؟ آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو احتجاج، 23 نومبر سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس جزوی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اسلام آباد، کے پی اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں معطل کی جا سکتی ہے،پی ٹی اے کی جانب سے 22 نومبر سے موبائل انٹرنیٹ سروس پر فائر وال ایکٹیو کر دی جائے گی، فائر وال ایکٹیو ہونے سے انٹرنیٹ سروس سلو جبکہ سوشل میڈیا ایپز پر ویڈیوز، آڈیوز ڈؤان لوڈ نہیں ہو سکیں گی،احتجاج کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت مخصوص مقامات پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کہتے ہیں کہ 24 نومبر احتجاج کےلئے ہم نے حکمت عملی تبدیل کی ہوئی ہے، پشاور، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ کے کارکن صوابی سے اسلام آباد جائیں گے، باقی اضلاع کے کارکن مختلف روٹس سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے

    علاوہ ازیں تحریکِ انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے خصوصی اسکواڈ تیارکیا ہے، اسکواڈ میں پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے 9 ہزار کارکنان شامل ہوں گے، صوبائی وزیر مینا خان اور معاونِ خصوصی سہیل آفریدی اس اسکواڈ کی قیادت کریں گے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پی ٹی آئی پشاور کے اجلاس میں اسکواڈ کو جہادی قرار دیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسکواڈ سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خصوصی اسکواڈ مرکزی قافلے کے آگے ہو گا اور اس اسکواڈ کو شیلنگ سے بچاؤ کا سامان بھی دے دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے راولپنڈی میں کنٹینرز کا جال بچھا دیا گیا، دفعہ 144نافذ کی گئی ہے، راولپنڈی میں 26 نومبر تک دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے جلسے جلوس،ریلیوں اور 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، تو ہیں پی ٹی آئی جلسے کو روکنے کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد جانے سے روکنے کے لئے راولپنڈی کو 50 مختلف مکامات سے بند کرنے منصوبہ بنا لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ راولپنڈی کو 50 پوائنٹس سے مال بردار کنٹینرز، اور خاردار تاروں سے سیل کر دیا جائے گا کیونکہ ایلیٹ فورس کے کمانڈوز سمیت ضلعی پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علاوہ ازیں وزارت داخلہ پاکستان نے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ 24 نومبر کے احتجاج میں کوئی بھی سرکاری مشینری، لوگ یا پیسہ استعمال نہیں ہو گا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ کل عمران خان کو ریلیف ملا ہے،باقی کیسز میں بھی ملے گا،قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے اور ریلیف مل جائے گا،پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، باقی کیسز میں بھی ریلیف ملے گا،

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے،بیرسٹرسیف

    بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے،بیرسٹرسیف

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتےہیں، مقامی طورپر بھی ان دہشت گردوں کے سہولت کار موجودہیں۔

    باغی ٹی وی: مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نے کہا کہ زیادہ ترکارروائیوں میں دہشت گرد مارے جاتےہیں، خیبر پختونخوا پولیس کومضبوط کیا جارہاہے، پولیس کیلئے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں ،کے پی کے حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے، قومی سلامتی کا معاملہ وفاقی حکومت کا بنتاہے، تاہم وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی ہے، دہشت گردی کا مسئلہ پرانا ہے، دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتےہیں، مقامی طورپر بھی ان دہشت گردوں کے سہولت کار موجودہیں۔

    مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وفاق کی جانب سے ہمیں فنڈز نہیں دیئےجارہے، سرحد کے معاملات بھی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں، ٹیلی کمیونیشن بھی اسی کےحصےمیں آتاہے، موجودہ حکومت کونہ ہٹایا گیا تومسائل حل نہیں ہوں گے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی کیس درست نہیں ہے، 9 مئی کےکیسز میں تاحال عدالتوں میں چالان پیش نہیں ہوئے ہیں، حکمراں صرف الزامات کی سیا ست کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے، احتجاج کے حوالےسے ہماری بھرپور تیاریاں جاری ہیں ۔

  • پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال مناسب نہیں،مولانا فضل الرحمان

    پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال مناسب نہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے مسلسل احتجاج کی کالز کے بعد اب 24 نومبر کے احتجاج کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔

    انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں مؤثر حکمت عملی بنانے والے لوگ نہیں ہیں، پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کا وقت مناسب نہیں اور انہیں دوبارہ اس کے حوالے سے سوچنا ہوگا،پی ٹی آئی کے ساتھ ہماری تلخیاں تھیں جو کم ہورہی ہیں، اب ہم اپوزیشن کے ساتھ بھی اپوزیشن تو نہیں کرسکتے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت جو ڈرافٹ لایا گیا وہ کالا ناگ تھا، جس کے ذریعے آئین و قانون معطل ہوجاتا، تاہم ہم نے بعد میں تمام متنازعہ شقوں کو اس سے نکال دیا، آئینی ترمیم کے وقت مجھ پر ایک ماہ تک بہت پریشر رہا، تاہم ہم نے بات چیت کے ذریعے ہی تمام مسائل کا حل نکالا۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مدارس کے حوالے سے جو بل دونوں ایوانوں سے پاس ہوا اس پر ابھی تک صدر مملکت نے دستخط نہیں کیے، اس حوالے سے میں نے وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے بھی بات کی ہے، پاکستان میں دہشتگردی سمیت دیگر معاملا ت پر افغانستان سے بامعنی بات چیت کرنے کی ضرورت ہے، میں نے جب افغانستان کا دورہ کیا تو تمام چیزوں پر اتفاق ہوا تھا لیکن بعد میں پھر معلوم نہیں کہ کس کی نظر لگ گئی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا جب افغانستان میں اترا تو ہم نے اسے اڈے فراہم کیے، اس وقت پرویز مشرف واشنگٹن کی نظروں میں مقبول ہونے کے لیے کسی کی بات نہیں سنتے تھےامریکا جب افغانستان سے نکلا تو دنیا کو ایک تاثر ملا کہ مسلح لوگوں کی جیت ہوئی اور امریکا ہار گیاعام انتخابات میں ہمارے ساتھ بدترین دھاندلی کی گئی، اور ہماری سیٹوں کو گزشتہ دور سے بھی کم کیا گیا لیکن حکومت کو آئینی ترمیم کے وقت پھر ہمارے پاس آنا پڑا کیوں کہ ان کے پاس اکثریت نہیں تھی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی ہے، جس کی کامیابی کے لیے بشریٰ بی بی بھی متحرک ہیں اور انہوں نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ پارٹی عہدیداروں کو بھی اہم ہدایات دی ہیں، اُدھر حکومت نے بھی تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کیلئے اسلام آباد میں ابھی سے اقدامات شروع کردیئے ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت میں دو ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ایف سی اور رینجرز کو بھی طلب کرلیا گیاہے۔

  • زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست

    زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست کی ہے۔

    با غی ٹی وی :ذرائع کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور گزشتہ روز مذاکرات کا پروپوزل لے کر اڈیالہ جیل پہنچے،بانی پی ٹی آئی نے پروپوزل میں شامل کچھ چیزوں پر اعتراض اٹھایا بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے پروپوزل پر مزید بات چیت کیلئے وقت مانگا ہے جبکہ مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماؤں کو گرین سگنل دے دیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات میں پیشرفت سے آگاہ کیا گیا بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا مذاکرات کے عمل کو ابتدائی مرحلے میں حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیامذاکرات میں مزید پیشرفت کے بعد 24 نومبر کے احتجاج سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

    جبکہ بانی پی ٹی آئی نے آج ہونے والی ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو بات چیت میں پہل کرنےکا حکم دیا، بیرسٹرگوہر اور علی امین گنڈاپور نے 24 نومبر کی کال واپس لینےکی درخواست کی، بیرسٹرگوہرکا مؤقف تھا کہ احتجاج سے ملکی معیشت کو نقصان ہوگا، حکومت سے بات کرنی چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نےکہا کہ جتنا کریک ڈاؤن ہو رہا ہے زیادہ ورکرز کو جمع نہیں کرسکیں گےکریک ڈاؤن اور وسیع تر ملکی مفاد میں کال واپس لینی چاہیے،سردیوں کے باعث ورکرز کو دھرنے پر بٹھانےمیں مشکلات آسکتی ہیں، بیرسٹرگوہر نے عاطف خان اور علی امین کی لڑائی کی تفصیلات سے بھی عمران خان کو آگاہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کے لیے علی امین گنڈاپور کو ٹاسک دیا گیا ہے جب کہ حکومتی شخصیات سے روابط کے لیے بیرسٹرگوہر کو ٹاسک دے دیا گیا۔

    دوسری جانب بیرسٹرگوہر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں مذاکرات سے متعلق گفتگو کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات یا رابطوں سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی، ملاقات میں تمام گفتگو علی امین گنڈاپور نے کی، ہم نے احتجاج کی کال واپس لینےکی درخواست نہیں کی۔

  • احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اب تحریک انصاف یہ شور کر رہی ہے کہ اسکے کارکنان کو پولیس گرفتار کر رہی ہے تاہم ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کی‌حقیقت سامنے رکھ دی ہے، پی ٹی آئی کی کال پر عوام اسلام آباد جانے کو تیار نہیں، کوئی بات نہیں سن رہا اسلئے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما از خود پولیس کو گرفتاریاں دے رہے ہیں تا کہ بدنامی سے بچا جا سکے

    تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال پر پولیس نے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی ہے تو وہیں کارکنان کو بھی گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے ،تاہم حقیقت میں عمران خان کی کال پر اس بار عوام نکلنے کو تیار نہیں وہیں بشریٰ بی بی کی دھمکیوں اور ہتک آمیز رویئے کے بعد اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی نالاں ہیں کہ بشریٰ جو گھریلو خاتون ہے پارٹی سے تعلق نہیں اسکا حکم کیسے اور کیوں مانیں،اسی لئے پی ٹی آئی رہنما عوام کو نکالنے میں دلچسپی نہیں لے رہے تو ہیں عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما بھی مایوس ہو چکے ہیں اور از خود پولیس کو گرفتاریاں دینا شروع کر دی ہین، ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پی ٹی آئی کا مقامی رہنما از خود پولیس کو گرفتاری دے رہا ہے،اس ویڈیو نے پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال کی پول کھول دی ہے،

    تحریک انصاف کے سیاسی معاملات اور حکمت عملی کے حوالے سے حالیہ صورتحال نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ عوامی جلسوں اور مظاہروں کے دوران کم ہوتی ہوئی عوامی شرکت کے ساتھ، پارٹی کے اندرونی معاملات اور موجودہ حکومتی دباؤ نے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اپنی سابقہ مقبولیت کو برقرار رکھ سکے گی؟پی ٹی آئی کے ترجمانوں کی جانب سے بارہا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ گرفتاریاں حکومت کی جانب سے سیاسی دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہیں۔ دوسری طرف، حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتی ہے کہ کارروائیاں قانونی طور پر کی جا رہی ہیں اور یہ صرف ان افراد کے خلاف ہیں جنہوں نے قانون توڑا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ نو مئی, اکیس ستمبر اور پانچ اکتوبر پرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پر گرفتاریاں شروع ہوئیں ،ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 92 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ۔گرفتار ملزمان نو مئی کے پر تشدد واقعات اکیس ستمبر کے جلسہ اور پانچ اکتوبر لاہور احتجاج میں ملوث ہیں ۔زیر التواء گرفتاریاں مکمل کرکے ملزمان کو مقدمات میں نامزد کیا جارہا ہے ،ملزمان کی شناخت کلوزسرکٹ فوٹیجز اور دیگر شواہد کی بناء پر کی جاچکی ہے ۔گرفتاریاں شاہدرہ ۔ راوی روڈ ۔ بادامی باغ ۔ مناواں کے علاقوں سے کی گئیں ۔ گرفتار ملزمان کے حوالے سے موجود شواہد پر تفتیشی دستاویزات مرتب کی جائیں گی ۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب عوام پریشان ہے، احتجاج ، دھرنوں سے جہاں سب کچھ بند ہو جاتا ہے وہیں دیہاڑی دار،مزدور کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس وجہ سے عوام نہیں نکل رہے تو وہیں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور رہنماؤں کی تقسیم کی وجہ سے بھی کارکنان بھی نکل نہیں رہے کیونکہ پچھلی بار علی امین گنڈا پور اسلام آباد آ کر غائب ہو گئے تھے اور کوئی دیگر پارٹی رہنما منظر پر ہی نہیں آئے تھے،پارٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنی حکمت عملی کو بہتر نہ بنا سکی تو اسے مزید سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی کال پر اب کوئی نکلنےکو تیار نہیں، وکیلوں نے تو پی ٹی آئی کا بیڑہ غرق کیا ہی تھا اب باقی کسر بشریٰ بی بی اور علیمہ خان نکال رہی ہیں

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    پی ٹی آئی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کو ضمانت ملنے پر اتنی جلدی خوشیاں منانے کی ضرورت نہیں

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو میں بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دے دی – یہ ایک روٹین کا فیصلہ ہے کیونکہ اس سے پہلے بشری بی بی کو بھی عدالت ریلیف دے چکی ہے، اس لیے ابھی خوشیاں منانے میں جلدی نا کی جائے ،عمران خان جیل سے باہر نہیں آ پائیں گے کیونکہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کی بریَت کی درخواست ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہوئی ہے اور ٹرائل کورٹ میں کیس چل رہا ہے اور اس کیس میں سزا لازمی نظر آ رہی ہے

    اِسی طرح ۹ مئی کے پانچ مقدمات میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور 27 نومبر کو اس کیس پر سماعت بھی ہے اور انکے ضمانتی مچلکے بھی جمع نہیں اس لیے پنجاب پولیس ان مقدمات پر بھی گرفتاری ڈال دے گی، یاسمین راشد اور شاہ محمود قریشی کی تاریخیں ڈلتی جا رہی ہیں اور ضمانت کی درخواست پر فیصلے ہوتے نظر نہیں آتے اِسی طرح قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس بھی اُسی طرح نپٹایا جائے گا

    دوسری بات یہ کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ آج عمران نیازی کو اچانک ضمانت مل گئی ہے – کچھ عرصہ پہلے بشریٰ بی بی کو بھی رہا کر دیا گیا تھا – جیل میں ملاقاتیں بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہے – پہلے ہی واضح تھا کہ پی ٹی آئی نورا کشتی کھیل رہی ہے اور 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان صرف ڈرامہ رچایا جا رہا ہے آج یہ بھی ثابت ہو گیا،

    پی ٹی آئی والے جن عدالتوں کو یہ دن رات گالیاں دیتے ہیں وہی ان کو ہر مقدمے اور اپیل میں ریلیف دیتی جا رہی ہے کس منہ سے یہ لوگ عدلیہ پر تنقید کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کے ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا یہ ٹوپی ڈرامہ بھی عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • 24 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی نے جڑوں شہروں کیلئے کمیٹی بنا دی

    24 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی نے جڑوں شہروں کیلئے کمیٹی بنا دی

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جڑواں شہروں کے لیے کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی گئی

    اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے 12 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے،اسلام آباد سے عامر مغل، شیر افضل مروت ، شعیب شاہین ، سید علی بخاری ، قاضی تنویر اور ملک عامر کمیٹی میں شامل ہیں،راولپنڈی کی کوارڈینیشن کمیٹی میں سیمابیہ طاہر ، شہریار ریاض ، امیر افضل ، عقیل خان ، راجہ بشارت اور چوہدری اجمل صابر شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف فردوس شمیم نقوی کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے،کمیٹی 24 نومبر کے احتجاج کے لئے قائم کی گئی ہے جو جڑواں شہروں میں احتجاج کے معاملات کو دیکھے گی

    دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے تیاریاں شروع کردیں،پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور چھٹی پرگئے اہلکار واپس بلا لیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے 8 ہزار پولیس اہلکار پنجاب، کشمیر اور سندھ سے مانگ لیے، پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا کر دی گئیں۔

    دوسرے صوبوں کے پولیس اہلکار 21 نومبر کی رات اسلام آباد رپورٹ کریں گے، وفاقی دارالحکومت میں رینجرز اور ایف سی اہلکار پہلے ہی تعینات ہیں، اسلام آباد کے گردونواح میں کنٹینرز پہنچانے کا کام شروع ہوگیا ہے-

    24 نومبراحتجاج: جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا،عمران خان

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • پی ٹی آئی کا 24 نومبراحتجاج:پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا

    پی ٹی آئی کا 24 نومبراحتجاج:پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اجتماع کو روکنے کی تیاریاں شروع کردیں۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے تاحال احتجاج یا دھرنے کی کوئی درخواست نہیں دی اور کسی بھی اجتماع کیلئے 7 دن پہلے اجازت لینا لازمی ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے تیاریاں شروع کردیں،پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور چھٹی پرگئے اہلکار واپس بلا لیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے 8 ہزار پولیس اہلکار پنجاب، کشمیر اور سندھ سے مانگ لیے، پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا کر دی گئیں۔

    دوسرے صوبوں کے پولیس اہلکار 21 نومبر کی رات اسلام آباد رپورٹ کریں گے، وفاقی دارالحکومت میں رینجرز اور ایف سی اہلکار پہلے ہی تعینات ہیں، اسلام آباد کے گردونواح میں کنٹینرز پہنچانے کا کام شروع ہوگیا ہے-

    جبکہ پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کی تیاریاں شروع کر دیں اے آئی جی کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق پنجاب پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے 24 نومبر کا احتجاج روکنے کیلئے صوبے بھر سے 10ہزار 700کی نفری اسٹینڈ بائی کردی ہے-

    پی ایچ پی سے 3500 جبکہ 500پہلے سے ،پی سی سے 1000جبکہ 3000 کی نفری پہلے سے ہے، ایس پی یو سے 1000، ٹریننگ ڈائریکٹریٹ سے 1200،گوجرانوالہ ریجن سے 1300جبکہ 600 نفری پہلے سے موجود ہے، اسی طرح سرگودھا ریجن سے 500 جب کہ 400نفری پہلے سے ہے، شیخوپورہ سے 200، ننکانہ صاحب سے100، ضلع سرگودھا سے 200، خوشاب سے 200،فیصل آباد سے 500جبکہ 800نفری پہلے سے، بہاولنگر سے 200،بہاولپور سے 300،مظفرگڑھ سے 300اوراوکاڑہ سے 200اہلکار اسٹینڈ بائی رکھے گئے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فورس اینٹی رائٹ سامان سے لیس، متعلقہ ضلع و یونٹ کا آرپی او ، سی پی او اور ڈی پی او فورس کے ٹرانسپور ٹ کا ذمہ دار ہو گا آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی آپریشنز پنجاب نے متعلقہ افسران کو مراسلہ ارسال کردیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دے رکھی ہے-

  • بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا،خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا،خواجہ آصف

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمااور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی کال دے کر پی ٹی آئی نے سیاسی غلطی کی ہے، اس مس کال کا انہیں سیاسی طور پر نقصان ہوگا یہ (پی ٹی آئی) چاہتے ہیں کہ لاشیں گریں اور انہیں آگے رکھ کر فتنے کو پھیلائیں جس طرح 5 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ لاؤ لشکر لائے تھے کوشش ہے کہ اس بار یہ عمل نہ دہرایا جاسکے اس بار ان لوگوں کو روکنا کوئی مشکل نہیں ہوگا، 5 اکتوبر کو ڈی چوک پہنچے تھے تو اجازت سے پہنچے تھے اور آپ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق واپس چلے گئے تھے، ایک قومی اسمبلی کے حلقے سے انہیں 20 ہزار لوگ لانا ہوں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کی ناراضگی ہے، ہم سے بھی کچھ کوتاہی ہوئی، وزیراعظم نے ڈار صاحب کی ذمہ داری لگائی ہے، ہم بلاول بھٹو کی ناراضگی دور کریں گے بلاول بھٹو اتنے شدید ناراض نہیں ہیں۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی جب بھی ریڈ زون میں آتی ہے یہ تشدد کرتے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتی اس خطرے کا مقابلہ کریں گی، کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی، جب بھی ملک آگے چلنے لگتا ہے یہ انتشار پیدا کرتے ہیں۔

    خواجہ آصف کا بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 24 نومبر کے لئے رقوم اکٹھی کررہی ہے، رقوم دینے والے خیال کر لیں، اگر 24 نومبر کو کچھ نہ ہوا تو رقم واپس نہیں ملے گی، بعد میں گلہ نہ کرنا کے وقت پہ خبردار نہیں کیا، ہوسکتا یہ ڈرامہ ہی نہ ہو۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے 9 مئی کو کچھ نہیں کیا تو پھر حالات نہیں سدھر سکیں گے،نجی ٹی وی کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 99فیصد صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے بات کی۔

    انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور نے تبرکاً ایپکس کمیٹی میں عمران خان کی قید اور ان کی بے گناہی اور جلسے کی اجازت پر ہلکی پھلکی بات کی، بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے 9 مئی کا پل عبور کرنا ہوگا، اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے 9 مئی کو کچھ نہیں کیا تو پھر حالات نہیں سدھر سکیں گے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان ایک سال سے ناحق جیل میں قید ہے،بانی چیرمین پرقائم مقدمات بے بنیاد ہیں اس کے علاوہ ہمیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے زیادہ باتیں اپنے صوبے میں دہشتگردی کے حوالے سے کیں، آج کے اجلاس کا اہم پوائنٹ بھی دہشتگردی سے نمٹنے پر غوروخوض کرنا تھا اور کچھ اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں-

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 25 نومبر کو عمران خان پر فرد جرم عائد ہونے کے حوالے سے نہیں پتا،بانی پی ٹی آئی نے نو مئی کا ثبوت مانگا تھا انہوں نے ویڈیوز دے دیں، یہ اندر اسٹیبلمشمنٹ سے معافی تلافی سمیت سب کچھ کرنے پر تیار ہیں، باہر بڑھکیں مارتے ہیں اور نورا کشتی کرتے ہیں،گنڈاپور جو کچھ بھی کرتا ہے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر کرتا ہے، بانی پی ٹی آئی کا ٹارگٹ آزادی نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ مجھے پھر بیٹا بنالے اور سب ہنسی خوشی رہیں۔