Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • ٹربیونل تبدیلی کیس:الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے اور دلائل کیلئے آخری موقع دیدیا

    ٹربیونل تبدیلی کیس:الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے اور دلائل کیلئے آخری موقع دیدیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں پاکستان تحریک انصاف کے 3 حلقوں کے ٹربیونل تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : ممبر سندھ نثاردرانی کی سربراہی میں 3 رکنی الیکشن کمیشن نے 3 حلقوں کے ٹربیونل کی تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت کی، پی ٹی آئی کی جانب سے جونئیر وکیل پیش ہوئے اور انہوں نے استدعا کی کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے کوئی نہیں پہنچ سکا، جواب جمع کرانے اور دلائل کے لیے وقت دیا جائے۔

    جس پر ممبر الیکشن کمیشن نے ریمارکس دیے کہ 9 اکتوبر کو جواب اور دلائل دیے جائیں، 9 اکتوبر کے بعد کوئی موقع فراہم نہیں ہوگا اور فیصلہ کردیا جائے گا، بعدازاں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    پی ٹی آئی کو کئی مواقع فراہم کیے ہیں کہ وہ اپنے آئینی تقاضے پورے کرے،الیکشن کمیشن

    واضح رہے کہ قبل ازیں پریس ریلیز میں الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پرہمیشہ قانونی لچک کا مظاہرہ کیا ہے، جماعت کی جانب سے بارہا التواء کا استعمال کیاگیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ تا حال حل نہیں ہو سکا،تاہم، اس سست روی اور تاخیر کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پارٹی پر عائد ہوتی ہے الیکشن کمیشن اس معاملے کو قانونی طور پر حل کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے-

    انٹراپارٹی الیکشن: پی ٹی آئی کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مزید مہلت

  • ڈی چوک احتجاج:  اڈیالہ جیل کا قیدی پاکستان میں جلاؤ گھراؤ اور مار دھاڑ چاہتا ہے،عظمی بخاری

    ڈی چوک احتجاج: اڈیالہ جیل کا قیدی پاکستان میں جلاؤ گھراؤ اور مار دھاڑ چاہتا ہے،عظمی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور کی پلاننگ ہے لاشیں گریں اور ان کو کیش کریں۔

    باٹی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کی اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کی کال پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرینوں، لفٹر اور سرکاری وسائل و سرکاری ملازمین کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے آرہے ، کیا اس قسم کی مشینری کے ساتھ سیاسی جدوجہد ہوتی ہے؟ علی امین گنڈا پور سیاسی شو نہیں فساد پھیلانے آرہے ہیں، سیاسی لوگ سیاسی جدوجہد کرتے ہیں لیکن یہ دہشت گرد جماعت ہے، پنجاب کے لوگوں نے فتنہ فساد کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے، جو بھی قانون توڑے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شنگائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، پاکستان کے انٹرنیشنل کمیونٹی سے تعلقات دوبارہ بحال رہے ہیں لیکن یہ جماعت پاکستان کو دوبارہ عالمی تنہائی کا شکار کرنے والے حربے استعمال کر رہی ہے، اڈیالہ جیل کا قیدی(عمران خان) پاکستان میں جلاؤ گھراؤ اور مار دھاڑ چاہتا ہے۔

    پی ٹی آئی کا ی چوک پر احتجاج :موبائل سروس معطل، ڈبل سواری پر پابندی،سڑکیں …

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جس پر گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ غیر ملکی سربراہ کی دارالحکومت میں موجودگی میں احتجاج مناسب نہیں، پی ٹی آئی احتجاج کی کال پر نظر ثانی کرے، کوئی مظاہرہ کرے گا تو نرمی نہیں برتی جائے گی۔

    دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی پی ٹی آئی کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس ختم ہونے تک اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کو احتجاج مؤخر کرنے کا مشورہ دیا۔

    احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ …

    ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی آج ہونے والے احتجاج میں ہر صورت ڈی چوک پہنچنے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اپنے بیان میں عمران خان کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے احکامات پر ہر صورت عمل کیا جائےگاحکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا احتجاج پُر امن ہوگا اور حالات کی خرابی کے ذمہ داری تشدد کرنے والے ہوں گے۔

  • احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار  نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا،علی امین گنڈا پور

    احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا،علی امین گنڈا پور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہرصورت ڈی چوک جائیں گے، اکیلا بھی رہ گیا، تب بھی جاؤں گا-

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ن علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ڈی چوک احتجاج کیلئے ہماری تیاری مکمل ہے اور ہمارا احتجاج پُرامن ہے، اگر ہمارے جلوس پر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دارہوگا قائد عمران خان کا حکم میرے لیے ریڈ لائن ہے، مجھ سے احتجاج کے حوالے سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میرے پاس احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے، میرا اختیار عمران خان کے پاس ہےجب تک بانی قائد کا حکم نہیں آتا میں آگے بڑھتا رہوں گا، اگر جلوس میں اکیلا بھی رہ جاتا ہوں تب بھی آگے بڑھتا رہوں گا،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا-

    پنجاب پولیس اپنی آئینی حدود میں رہے ورنہ قانونی طور پر آخری حد تک جائیں گے،بیرسٹر سیف

    مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ معلومات موصول ہو رہی ہیں کہ لیگی سرکار نے گلو بٹ تیار کر لئے ہیں، ہمارے پر امن احتجاج پر تشدد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، گزشتہ روز بھی بدنام زمانہ پنجاب پولیس نے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، ن لیگیوں نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے، ن لیگ فاشزم اور جبر کی علامت بن چکی ہے، تشدد کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا-

    انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس اپنی آئینی حدود میں رہے ورنہ قانونی طور پر آخری حد تک جائیں گےپرامن لوگوں کو کمزور نہ سمجھا جائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں، قوم بخوبی جانتی ہے پنجاب پولیس اور ن لیگ کی ڈوریں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں، پر امن احتجاج کو کچھ اور رنگ دینے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، ہم کاغذی شیروں کو جلا کر رکھ دیں گے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے آج اسلام آباد میں ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، حکومت نے بھی احتجاج سے نمٹنے کا پلان فائنل کرلیا ہےاسلام آباد کے تمام راستے کنٹینرز لگاکر بند کردیے گئے، تمام نجی سکول آج بند ہیں، میٹروسروس معطل رہے گی-

  • پی ٹی آئی کا ڈی چوک پر احتجاج :موبائل سروس معطل، ڈبل سواری پر پابندی،سڑکیں بند

    پی ٹی آئی کا ڈی چوک پر احتجاج :موبائل سروس معطل، ڈبل سواری پر پابندی،سڑکیں بند

    اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آج اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث مختلف شاہراوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : پنجاب کے 4 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی، حکومت پنجاب نے لاہور، راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز بھی طلب کر لیں پنجاب کے شہروں لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، یعنی ان شہروں میں عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی حکام کے مطابق اس کی خلاف ورزی پر پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کر سکیں گے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق راولپنڈی اور اٹک میں 4 اور 5 اکتوبر کے لیے رینجرز کی 6 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئیں ہیں اٹک میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی 10 پلاٹون بھی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئیوفاقی کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کی منظوری دی، اہم سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کی سیکیورٹی فوج کے سپرد ہوگی، اسلام آباد میں رینجرز پہلے ہی تعینات ہے مری روڈ اور فیض آباد میں مزید کنٹینرز پہنچ گئے ہیں جبکہ احتجاج کے باعث اسلام آباد کے داخلی راستوں کو مکمل بند رکھا جائے گا صوابی، ہارون آباد، برہان، جی ٹی روڈ ، براہمہ بہتر، واہ کینٹ اور میاں خان کے مقامات پر موٹرویز بھی بند کر دی گئی ہیں، ریسٹ ایریا میں ہیوی مشینری پہنچ گئی ہے جبکہ فائر برگیڈ، موبائل کرینز، ایمبولینس بھی پہنچا دی گئی ہیں۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو نشان پاکستان سے …

    خیبرپختونخوا سے آنے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں، موٹروے ایم ون چار مقامات جی ٹی روڈ، اٹک خورد، حسن ابدال، چسکاپوانٹ پر مکمل بند ہے جبکہ سی پیک کو بھی مختلف مقامات سے سیل کردیا گیا ہے ضلع بھر کے داخلی خارجی راستے بند ہونے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق اسلام‏ آباد پولیس نے بھی احتجاج سے قبل گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ پولیس نے شہر بھر سے مالشیے، بھکاری، موٹر سائیکل سوار سمیت اسلام آباد آنے والے 412 افراد گرفتار کر لئے ہیں فغان بستیوں سے بھی کارروائی کر 60 کے قریب افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہےتمام افراد کو بہارہ کہو، ترنول، سنگجانی سے گرفتار کیا گیا، اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے گرفتار تمام افراد تحریک انصاف کے کارکنان ہیں مظاہرین سے کیل لگے ڈنڈے، غلیل اور کنچے بھی برآمد کر لیے گئےمظاہرین کی گرفتاری کے بعد سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا –

    اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاری کے لئے سات ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ہر ٹیم میں 15 سے 17 پولیس اہلکار اور افسران کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ سات ٹیمیں اسلام آباد کے مختلف مقامات پر گرفتاریاں کریں گی، ہر ٹیم کا انچارج سب اسپکٹر رینک کا افسر ہوگاگرفتاری کے لئے تشکیل ٹیموں کی سربراہی ایس پی رینک کا افسر کرے گا، ٹیمیں آج رات سے کریک ڈاؤن شروع کریں گی، تھانوں کی مدد سے مقامی افراد کو گرفتار کیا جائے گی، کل احتجاج کے لئے آنے والوں کو بھی یہ ہی ٹیمیں گرفتار کریں گی۔

    عالمی طاقتیں اسرائیل کے تنازع سے دور رہیں،ایران کا انتباہ

    شہر میں امن و امان کے لیے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے آئندہ دو روز کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوچکا ہے، خلاف ورزی کرنے والے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی، جڑواں شہروں میں چلنی والی میٹروبس سروس بھی آج مکمل طور پر بند رہے گی، راولپنڈی صدر اسٹیشن تا پاک سیکریٹریٹ تک میٹرو بس سروس بند رہے گی، موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے، تمام تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کی تیاری مکمل کرلی، وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبرپختونخوا سے قافلے روانہ ہوں گےپارٹی ذرائع کے مطابق ڈی چوک احتجاج کیلئے مخصوص اور تربیت یافتہ دستہ قافلوں سے پہلے جائے گا، راستے کلئیر کرنے کیلئے بھاری مشینری قافلوں سے آگے ہوگی۔

    ڈریپ کا مشتبہ اینٹی ریبیز ویکسین پر الرٹ: بھارتی ویکسین کی فوری ری کال کا …

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے قافلوں کو اسلام آباد کے راستے بند ہونے کے باوجود ہر صورت ڈی چوک تک پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہےڈی چوک احتجاج کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا 11 بجے پشاور سے روانہ ہوں گے اور 12 بجے صوابی میں کارکنوں سے خطاب کریں گے،کابینہ اراکین، پارٹی قیادت اور اراکین اسمبلی اپنے حلقوں کے قافلوں کی نگرانی کریں گے،رکن قومی اسمبلی کو احتجاج کے لیے 500 کارکن لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے جبکہ احتجاج کے لیے خصوصی کنٹینر تیاراور ساؤنڈ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔

  • سپریم کورٹ کے باہر احتجاج:یرسٹر گوہر سمیت 20 وکلا کے خلاف مقدمہ درج

    سپریم کورٹ کے باہر احتجاج:یرسٹر گوہر سمیت 20 وکلا کے خلاف مقدمہ درج

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر سمیت 20 وکلا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے باہر وکلا کے احتجاج کے معاملے پر بیرسٹر گوہر سمیت 20 وکلا کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ اور سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،مقدمے میں ایم این اے لطیف کھوسہ، سینیٹر شبلی فراز،سلمان اکرم راجہ، مصطفین کاظمی، نیاز اللہ نیازی، اعظم سواتی، نسیم حیدر پنجوتھہ، انصر ایڈووکیٹ اور عبداللہ وزیر بھی نامزد ہیں جب کہ مصطفین کاظمی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے سرکاری ادارے کے سربراہ کا پُتلا جلایا اور ٹائر جلا کر راستے بھی بند کیے گئے، مقدمے میں پی ٹی آئی کے جھنڈے اٹھانے والے 100 سے زائد نامعلوم افراد بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب بہاولپورمیں پی ٹی آئی کےاحتجاج کےدوران 439 کارکنوں کے خلاف 9 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ 3 ایم پی اے ٹکٹ ہولڈر اور ایک ایم این اے ٹکٹ ہولڈر سمیت 73 گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کیخلاف شدید نعرے بازی کی، وکلا قاضی فائز عیسی کا پتلا بھی ساتھ لائے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے عوام کے حقوق کا تحفظ کرے، عدلیہ کو جب بھی تقسیم کرنے کی کوشش ہوئی وکلاء باہر آئے ہیں، مجوزہ آئینی ترمیم غیر آئینی ہے، پورے ملک کو کنٹینرستان بنادیا گیا ہے۔

  • عمران خان کو پریشانی یہ ہے کہ معیشت بہتر ہوگئی ہے اور ملک پٹری پر چڑھ گیا ہے،فیصل واوڈا

    عمران خان کو پریشانی یہ ہے کہ معیشت بہتر ہوگئی ہے اور ملک پٹری پر چڑھ گیا ہے،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی پہلے خود کو ذہنی غلامی سے تو آزاد کریں، بزدلی یہ ہے کہ آپ غریبوں کو مروانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں-

    باغی ٹی وی : سلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے خود کو ذہنی غلامی سے تو آزاد کریں، بزدلی یہ ہے کہ آپ غریبوں کو مروانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں، یہ چاہتے ہیں معصوم پاکستانیوں کا خون بہے، پی ٹی آئی کو لاشیں چاہئیں، عمران خان آزادی کی جدوجہد کے لیے پہلے اپنے بیٹوں کو واپس بلائیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ڈی چوک اس لیے آئیں گے کیونکہ انہیں تصادم چاہیے، پی ٹی آئی کے اندر سے لاشوں کے ڈھیر گرانے کی تیاری ہے، بانی پی ٹی آئی اپنی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک رہے ہیں، پی ٹی آئی کے لوگوں کا دماغ کدھر ہے، بیرسٹرگوہر شریف آدمی ہیں، ان کو کہہ دیا بزدل ہے نکال دیں،گنڈا پور ایک پیادہ ہے مگر اس کی زندگی بھی اہم ہے، اس کے پیچھے ایک کہانی چل رہی ہے، جو بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی بات کررہاہے وہ وزیراعلیٰ ہے، آپ کے پی کے وسائل اپنے احتجاج کے لیے استعمال کر رہے ہیں، کے پی اور پنجاب کی پولیس آمنے سامنے کھڑی شیلنگ کررہی ہے۔

    آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے

    فیصل واوڈا نے کہا کہ 2018 میں ہم نے مینڈیٹ چوری کیا آج انہوں نے کرلیا، فیض حمید جب ڈی جی تھا تب میں نے اس سے تکلیف اٹھائی تھی، فیض حمید کے سامنے اس وقت کھڑا ہوا جب وہ کرسی پر تھے، مجھے اس دوراہے پر نہ لائیں کہ اپنےفون سے قوم کے سامنے کچھ رکھنا پڑے، میں ان میں سے نہیں جو 9 مئی کے بعد پریس کانفرنس کرکے الگ ہوئے۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ ملک میں سمٹ ہورہی ہے، دیگر ممالک کے وزرائے اعظم آرہے ہیں، 9 سینٹ کی بجلی دینے کی بات ہورہی ہے، ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے، عمران خان کو پریشانی یہ ہے کہ معیشت بہتر ہوگئی ہے اور ملک پٹری پر چڑھ گیا ہے، حکومت کی نالائقی ہے کہ وہ ان چیزوں کو نہیں ہائی لائیٹ کر رہی۔

    آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

  • ڈی چوک پر پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج،راولپنڈی پولیس کے 4 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

    ڈی چوک پر پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج،راولپنڈی پولیس کے 4 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ڈی چوک پر پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج ، راولپنڈی پولیس کے 4 ہزار اہل کاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 4 اکتوبر جمعہ کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جس سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد میں سخت انتظامات کیے گئے ساتھ ہی راولپنڈی میں بھی پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے داخلی اور اسلام آباد کی جانب جانے والے راستوں کو سیل کرکے وہاں بھاری پولیس نفری تعینات رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیاراولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع مقامات روات ٹی چوک، اسلام ایکسپریس وے پر کھنہ پل، شکریال، کورال کے مقام گلزار قائد اور فیض آباد تک ملنے والے صادق آباد کے راستے اسی طرح فیض آباد انٹرچینج، پنڈورا چونگی، کٹاریاں خیابان سرسید چوک، چک مدد، ڈھوک حسو، پیرودھائی موڑ، ٹیکسلا، 26 نمبر چونگی پشاور روڈ وغیرہ کے مقامات پر کنٹینرز و رکاوٹیں کھڑی کرکے بھاری پولیس نفری تعینات رکھی جائے گی اور یہ عمل جمعرات و جمعہ کی شب سے شروع کردیا جائے گا۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی،درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

    دوسری جانب سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کے ممکنہ احتجاج کے حوالے سے امن وامان کو برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، 4 ہزار سے زائد پولیس افسران و جوان ڈیوٹی سرانجام دیں گے، شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر پولیس تعینات رہے گی، امن و امان میں خلل ڈالنے والوں سے نمٹنے کے لئے خصوصی تربیت یافتہ دستے تعینات کیے جائیں گے-

    خالد ہمدانی نے کہا کہ امن و امان میں خلل، املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، شہر بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے شرپسند عناصر اور قانون شکنوں کی شناخت کی جائے گی امن و امان میں خلل یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون کی عمل داری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، والدین اپنے بچوں کو کسی بھی غیر قانونی اقدام کا حصہ نہ بننے دیں۔

    آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے ریڈ زون کی سیکیورٹی رینجرز کے حوالے کرنے پر غور کیا جارہا ہے، رینجرز کی تعیناتی ایس سی او کانفرنس ختم ہونے تک کی جائے گی جبکہ ریڈ زون کے داخلی راستوں پر بھی رینجرز کی نفری تعینات ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں اہم ترین غیرملکی شخصیات کی آمد اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے حوالے سے وفاقی حکومت ریڈ زون کی سیکیورٹی رینجرز کے حوالے کرنے پر غورکر رہی ہے رینجرز کی تعیناتی ایس سی او کانفرنس ختم ہونے تک کی جائے گی، رینجرز اہلکاروں کو اہم سرکاری عمارتوں کے باہر تعینات کیا جائے گا ریڈ زون کے داخلی راستوں پر بھی رینجرز کی نفری تعینات ہو گی۔

    ملائیشین وزیراعظم کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

    اس سے قبل گزشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس ہوا تھا،اس اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کے لیے فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو منعقد ہوگا، جس میں روس اور چین کے وزرائے اعظم اور دیگر رکن ممالک کے وفود کی شرکت متوقع ہے۔

  • آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آرٹیکل 63 اے تشریح نظرِ ثانی کیس کی عدالتی کارروئی سے علیحدہ ہو گئی-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ میں شامل ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی ہے، ملاقات میں پولیس افسران بھی ہمراہ بیٹھے رہے، ملاقات کوئی وکیل اور کلائنٹ کی ملاقات نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی نے خود ویڈیو لنک پر پیش ہونے کی استدعا کی ہے، پہلے معلوم ہو جائے کہ بانی پی ٹی آئی کو خود دلائل کی اجازت ملتی ہے یا نہیں، ان سے ملاقات آزادانہ نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کون سی خفیہ باتیں کرنا تھیں، آپ نے صرف آئینی معاملے پر بات کرنا تھی، علی ظفر صاحب، آپ بلا جواز قسم کی استدعا کر رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں باںی پی ٹی آئی کی ہی بات کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ افسر آف کورٹ ہیں، 5 منٹ ضائع ہو چکے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے بینچ کی تشکیل درست نہیں، حصہ نہیں بنیں گے، اگر بانی پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دیں گے تو پیش نہیں ہوں گے، حکومت کچھ ترامیم لانا چاہتی ہے، بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لیے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے بات کرنی ہے تو آج سے نہیں بلکہ شروع سے کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں جو بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ آپ کرنے نہیں دے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی گفتگو کر رہے ہیں تاکہ کل سرخی لگے، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آج بھی اخبار کی ایک سرخی ہے کہ آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے قبل لازمی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں، حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور تاثر ہے عدالت ہارس ٹریڈنگ کی اجازت دے گی، ہم اس بات پر آپ پر توہین عدالت لگا سکتے ہیں، کل آپ نے ایک طریقہ اپنایا، آج دوسرا طریقہ اپنا رہے ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہماری عزت کریں، ہارس ٹریڈنگ کا کہہ کر بہت بھاری بیان دے رہے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟ آپ کو ہم بتائیں تو آپ کو شرمندگی ہو گی، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ ہارس ٹریڈنگ کو روکتا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتوں کا مذاق بنانا بند کریں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے 63 اے پر اپنی رائے دی تھی کوئی فیصلہ نہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں اگلے 7 منٹ میں کمرۂ عدالت سے باہر ہوں گا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویری گُڈ، ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ اگر کیس کا فیصلہ دیتے ہیں تو مفادات کا ٹکراؤ ہو گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو بول رہے ہیں اسے نہ سنیں گے نہ ریکارڈ کاحصہ بنائیں گے، کیا آپ بطور وکیل یا عدالتی معاون ہمیں دلائل دے سکتے ہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ بطور عدالتی معاون دلائل دے سکتا ہوں، جس کے بعد سپریم کورٹ نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

    سپریم کورٹ بار اور پیپلزپارٹی نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا، چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ کے دلائل سے مستفید ہونا چاہتے تھےعلی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں، اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لئے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ نہیں رائے ہے تو اس پر عملدرآمد کیسے ہو رہا ہے؟ کیا صدر نے کہا تھا یہ رائے آگئی ہے، اب ایک حکومت کو گرا دو؟چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کو یاد ہے حاصل بزنجو نے ایک سینیٹ الیکشن پر کیا کہا تھا، سینیٹ جیسے ادارے میں الیکشن کے دوران کیمرے لگائے گئے، علی ظفر صاحب آپ کیوں ایک فیصلے سے گھبرا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ دلائل دیں شاید ہم یہ نظر ثانی درخواست مسترد بھی کر سکتے ہیں جس پر علی ظفر نے بطور عدالتی معاون دلائل کا آغاز کر دیا،علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے حوالے سے صدر نے ایک رائے مانگی تھی، اس رائے کے خلاف نظرثانی دائر نہیں ہو سکتی، صرف صدر پاکستان ہی اگر مزید وضاحت درکار ہوتی تو رجوع کر سکتے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک درخواست آپ نے بھی اس کیس میں دائر کی تھی جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ہم نے فلور کراسنگ پر تاحیات نااہلی مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا آپ اس پر پارلیمان میں قانون سازی کر سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا 63 اے کا فیصلہ دینے والے اکثریتی ججز نے رائے کا لفظ لکھا یا فیصلے کا لفظ استعمال کیا؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ یہ تو اس عدالت نے طے کرنا ہے کہ وہ رائے تھی یا فیصلہ، چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب آپ اس حد تک نظر ثانی کی حمایت کرتے ہیں کہ لفظ فیصلے کی جگہ رائے لکھا جائے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں اور جسٹس میاں خیل پہلے والے بنچ کا بھی حصہ تھے، ہم دونوں ججز پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، علی ظفر نے جواب دیا کہ اعتراض کسی کی ذات پر نہیں بلکہ بنچ کی تشکیل پر ہے۔

    علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ بار کی اصل درخواست تحریک عدم اعتماد میں ووٹنگ سے متعلق تھی، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں کو غلط طور پر ایک ساتھ یکجا کیا، عدالت نے آئینی درخواستیں یہ کہہ کر نمٹا دیں کہ ریفرنس پر رائے دے چکے ہیں، نظر ثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی آئین یا سزائے موت سے ناخوش ہوسکتا ہے لیکن عملدرآمد کرنے کے سب پابند ہوتے ہیں، کیا کوئی جج حلف اٹھا کر کہ سکتا ہے آئین کی اس شق سے خوش نہیں ہوں، ہر ڈکٹیٹر کہتا ہے تمام کرپٹ ارکان، اسمبلی اور ایوان کو ختم کر دوں گا، سب لوگ ملٹری رجیم کو جوائن کر لیتے ہیں، پھر جمہوریت کا راگ شروع ہو جاتا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں دیئے گئے حق زندگی کے اصول کو کافی آگے بڑھا چکی ہے، کسی بنیادی حق کے اصول کو آگے بڑھانا آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں ہوتا، آئین میں سیاسی جماعت بنانے کا حق ہے، یہ نہیں لکھا کہ جماعت الیکشن بھی لڑ سکتی ہےعدالتوں نے تشریح کر کے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کا اہل قرار دیا، بعد میں اس حوالے سے قانون سازی بھی ہوئی لیکن عدالتی تشریح پہلے تھی، عدالت کی اس تشریح کو آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں کہا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جج کون ہوتا ہے یہ کہنے والا کہ کوئی رکن منحرف ہوا ہے؟ پارٹی سربراہ کا اختیار ہے وہ کسی کو منحرف ہونے کا ڈیکلیئریشن دے یا نہ دے، ارکان اسمبلی یا سیاسی جماعتیں کسی جج یا چیف جسٹس کے ماتحت نہیں ہوتیں، سیاسی جماعتیں اپنے سربراہ کے ماتحت ہوتی ہیں۔

    جسٹس امین الدین خان نے استفسارکیا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کا انتخاب کون کرتا ہے؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ ارکان پارلیمان اپنے پارلیمانی لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ کرنے کا حق تو رکن پارلیمنٹ کا ہے، یہ حق سیاسی جماعت کا حق کیسے کہا جا سکتا ہے جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ارکان اسمبلی کو ووٹ دینے یا نہ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دیتی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر پارٹی سربراہ نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس حساب سے تو پارٹی کیخلاف ووٹ دینا خودکش حملہ ہے، ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا اور نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا، اگر کوئی پارٹی پالیسی سے متفق نہ ہو تو مستعفی ہو سکتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ یہ امید ہوتی ہے کہ شاید ڈی سیٹ نہ کیا جائے اور نشست بچ جائے، عدالت نے قرار دیا کہ کسی کو ووٹ کے حق کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تشریح جمہوری ہے؟ ججز منتخب نہیں ہوتے انہیں اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے، آپ تو جمہوریت کے بالکل خلاف بات کر رہے ہیں، تاریخ یہ ہے کہ مارشل لاء لگے تو سب ربڑ سٹیمپ بن جاتے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملکی تاریخ کو مدنظر رکھ کر بات کرتے ہیں، اسی مقصد کیلئے پارلیمانی پارٹی بنائی جاتی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک پارٹی سربراہ کا اختیار ایک جج استعمال کرے تو کیا یہ جمہوری ہوگا؟ جج تو منتخب نہیں ہوتے، انحراف کے بعد کوئی رکن معا فی مانگے تو ممکن ہے پارٹی سربراہ معاف کردے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تاریخ میں تو یہ ہے کہ آمریت آئے تو سب 10 سال چپ کر کے بیٹھ جاتے ہیں، جیسے ہی جمہوریت آتی ہے، سب شروع ہو جاتے ہیں، میگنا کارٹا کے بعد برطانوی جمہوریت سے آج تک وہاں کئی لوگ ناخوش ہیں، اس کے باوجود وہاں جمہوریت چل رہی ہے، یہاں بھی جمہوریت چلنے دیں۔

    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے فیصلے میں لکھا ہے ہارس ٹریڈنگ کینسر ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ غلط الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، جج صرف یہ طے کر سکتا ہے کوئی چیز آئینی و قانونی ہے یا نہیں، یہ کوئی میڈیکل افسر ہی بتا سکتا ہے کینسر ہے یا نہیں۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ووٹ نہ گنے جانے کے حوالے سے قانون سازی کیوں نہ کی؟ تحریک عدم اعتماد آنے والی تھی، اس وقت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا گیا، اس وقت پارلیمنٹ کی جگہ سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، ریفرنس دائر کرنے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد اڑا دی، یہاں چیف جسٹس سے کچھ ججز نے رابطہ کیا تو سوموٹو لیا گیا۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 63 اے کا فیصلہ صرف ایک جج کے مارجن سے اکثریتی فیصلہ ہے، کیا ایک شخص کی رائے پوری منتخب پارلیمان پر حاوی ہے؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ پارلیمان کو اگر یہ تشریح پسند نہ ہو تو وہ کوئی دوسری قانون سازی کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک بندہ سوچتا رہے میں فلاں فلاں کو قتل کروں گا مگر کرے نہ تو کیا سزا ہوگی؟ کیا میں سرخ اشارہ محض توڑنے کا سوچوں تو کیا میرا چالان ہو سکتا ہے؟جمہوریت اس لئے ڈی ریل ہوتی رہی کہ یہ عدالت غلط اقدامات کی توثیق کرتی رہی، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ کل یہاں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ دے کر دیکھیں، کیا ایسے ڈرا دھمکا کر فیصلہ لیں گے،سوشل میڈیا پر چل رہا ہوتا ہے فلاں جج نے ایک ٹھاہ کر دیا، فلاں نے وہ ٹھا کر دیا، اداروں کو اہم بنائیں، شخصیات کو نہیں۔

    علی طفر نے کہا کہ جو کچھ باہر چل رہا ہے اس پر میں آنکھیں بند نہیں کر سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ میں اندر کی بات بتا رہا ہوں، اندر کچھ نہیں چل رہا، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ میرا مشورہ ہوگا آپ تمام ججز آپس میں مل کر بیٹھیں، ججز رولز بنا لیں، سکون ہو جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ادارہ ٹوٹ گیا ہے،آپ ہمیں مفت کا مشورہ دے رہے ہیں تو ایک مفت کا مشورہ ہمارا بھی ہے، آپ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر معاملات طے کر لیں، پھر کہہ دیا جائے گا آپ نے مشورہ دیا ہے، ہم صرف ساتھ بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں، بیٹھ کر جو مرضی کریں۔

    علی ظفر نے کہا کہ میں نے ساڑھے 11 بجے کے بعد جو بھی گفتگو کی وہ بطور عدالتی معاون کی، بطور وکیل بانی پی ٹی آئی میں کیس کی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں،اس کے ساتھ ہی عدالتی معاون علی ظفر نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

    عدالت نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا ’آپ نے باعزت طریقے سے دلائل دیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کے مشورے پر انشاء اللہ غور کریں گے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ نیو گینی میں منحرف رکن کا ووٹ نہ گنے جانے کا قانون بنایا گیا تھا، نیو گینی میں عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں کسی جمہوری ملک میں ووٹ نہ گننے کا قانون نہیں، امید ہے ایک دن ہم بھی میچیور جمہوریت بن جائیں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےپیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا صدر مملکت نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی اکثریتی رائے سے متفق ہیں یا اقلیتی سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ صدر مملکت کی جانب سے ریکارڈ پر کچھ نہیں آیا کہ کس سے متفق ہیں کس سے نہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت معاملہ صدر مملکت کو بھیج دیں کہ وہ فیصلہ کریں کس رائے سے متفق ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے معاملہ صدر مملکت کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواستیں بھی ریفرنس کے ساتھ ہی نمٹائی گئی ہیں، آئینی درخواستیں نمٹانے کا معاملہ صدر مملکت کو نہیں بھیجا جا سکتا، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ریفرنس پر آنے والے رائے کی ریاست پابند ہوگی، ریاست سپریم کورٹ کی رائے کی پابند ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر کوئی رکن ووٹ نہ ڈالے تو وہ بھی نااہل ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے جماعت کا سربراہ رکن کے نہ پہنچنے کی وجہ تسلیم کر لے، آرٹیکل 63 اے واضح ہے تو اس کی تشریح کی کیا ضرورت ہے، سپریم کورٹ میں منحرف اراکین کی اپیلیں بھی آنی ہوتی ہیں، اگر عدالتی فیصلہ ہی نااہلی کا باعث بنے تو اپیل غیر موثر ہو جائے گی۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تحریری صورت میں ہی تصور کی جائے گی، حسبہ بل کیس کے مطابق ریفرنس پر رائے جس نے مانگی اس پر رائے کی پابندی لازم ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر صدر مملکت رائے پر عمل نہ کرے تو کیا ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ عدالت صدر مملکت کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔

    فاروق ایچ نائیک نے منحرف رکن سے متعلق پی ٹی آئی کی عائشہ گلالئی کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے نام غلط لیا، شاید آپ کو ان سے پبلکلی معافی مانگنی پڑ جائے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ گلالئی پشتو کا لفظ ہے جس کا مطلب بھی دیکھ لیں۔

    بعد ازاں عدالت نے آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاسپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، فیصلہ پانچوں ججز نے متفقہ طور پر سنایا ہے۔

    بعدازاں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو نہ سنے جانے پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ہے، عمران خان کو موجودہ بینچ پر اعتراض ہے، ہمارا موقف واضح ہے کہ بینچ کو قانون کے مطابق تشکیل نہیں دیا گیا۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022ء کو اُس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکن لارجر نے صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر تین دو کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا۔

    ججز نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں کیا کیا جائے گا اور پارلیمنٹ ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے پانچ رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

  • عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری

    عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری

    اسلام آباد: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے آزادی مارچ کے حوالے سے درج مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری کردیا –

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف آزادی مارچ کے حوالے سے کیس کی سماعت کی،سابق وزیراعظم عمران خان کے وکلا عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ خرم نواز، عامر محمود کیانی اور جمشید مغل بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے،وکیل تنویر حسین نے علی نواز اعوان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔

    جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ اسد عمر کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ اسد عمر اس مقدمے سے ڈسچارج ہو چکے ہیں، جج نے ریمارکس دیے کہ تنویر حسین کا میڈیکل سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ لگا دیں، عمران خان کی حاضری کے حوالے سے رپورٹ آئی ہے جس میں کہا گیا انٹر نیٹ میسر نہیں، آن لائن حاضری نہیں ہو سکتی، گزشتہ روز بھی یہی رپورٹ آئی تھی شو کاز نوٹس جاری کیا تھا، آج بھی نوٹس جاری کر رہا ہوں، لکھوں گا نیٹ نہیں تو ذاتی حیثیت میں پیش کریں۔

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

  • پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    باغی ٹی وی: انتشاری جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ہنگامہ آرائی، ہلڑ بازی اور ملک کا امن تہہ و بالا کرنے کیلئے جلسے جلوسوں اور احتجاج کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے، جسے وہ سیاسی جدوجہد کا نام دیکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیل میں بند انتشاری ذہن کا مالک دراصل ایک منصوبہ بندی کے ذریعے سب کچھ کر رہا ہے اور یہ ایک ایسا وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے معاشی اشاریے بہتر مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کی انتشاری ذہنیت کو یہ گوارا نہیں ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر چلے اور اس سارے عمل کو روکنے کیلئے اس نے خیبرپختونخوا کے شدت پسند وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ذریعے ملک کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔

    اگر نگاہ دوڑائی جائے تو معاشی اعداد و شمار کے مطابق افراط زرجو مئی 2023ء میں 38 فیصد تک چلا گیا تھا، آج یہ سنگل ڈیجیکٹ یعنی کم ہو کر 9.6 فیصد پر آچکا ہے۔ جون 2023ء میں ڈالر 333.5 روپے تک جا پہنچا تھا مگر آج جی ڈی پی کی نمو میں ریکوری سے کرنسی ایکسچینج ریٹ اور روپیہ مستحکم ہو گیا ہے آج ڈالر 277.72 روپے تک آچکا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    آئی ایم ایف کی جانب سے 7 ارب ڈالر مالیت کا پروگرام منظور کیا گیا۔ بہترین معاشی اقدامات کے باعث پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی سٹاک ایکسچینج بن کر ابھری۔ سٹاک مارکیٹ میں سرفہرست 86 کمپنیوں نے 1.7 ٹریلین روپے کا ریکارڈ منافع کمایا۔ جون 2023ء میں کے ایس ای 100 انڈیکس 41452.69 پوائنٹس پر تھا آج یہ انڈیکس 82463.05 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے۔

    وفاقی حکومت تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی بڑی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، ہماری برآمدات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔بہتر معاشی اشاریوں کے باعث موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ سی سی 2 سے سی سی 3 کردی ہے، بہتری ہوتی معیشت کے پیش نظر حکومت نے اس کے فوائد عام عوام تک بھی منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں اور سب دیکھ رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت ہر پندرہ روز کے بعد کم کی جا رہی ہے اسی طرح سب سے عام استعمال اور ضروری چیز آٹے کی قیمت جسے کچھ عرصہ قبل پر لگ چکے تھے اب غریب آدمی کیلئے بھی قابل خرید ہے۔

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    سب سے سنجیدہ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملائیشین وزیراعظم اپنے پہلے دورہ پاکستان پر موجود ہیں تو پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ جو شرپسندوں کے جتھے لیکر کبھی حملہ آور ہوتا ہے اسلام آباد، کبھی لاہور اور کبھی راولپنڈی تو اس نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے رہا ہے کہ اگر ایک گولی چلے گی تو وہ دس گولیاں چلائے گا۔ اسی بیانیے کو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا وائرل بھی کر رہا ہے یعنی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہلڑ بازی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔اس سے پہلے 9مئی کا سانحہ اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح معصوم لوگوں کو ورغلاء کر اُن کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا گیا اور بعد میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اُس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

    اس طرح کے شرپسند اعلانات اور دھمکیوں سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہی ایجنڈا یہ شرپسند جماعت اپنے سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے اور باہر بیٹھے پاکستانیوں، اہم شخصیات کویہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، وہاں کوئی بھی غیر ملکی دورہ اور سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی۔

    امریکی خفیہ ایجنسی نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں کی بھرتیاں …

    پی ٹی آئی کی جانب سے اس شدت پسندی اور شرپسندی کا بڑا ایجنڈا پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والی ایک بڑی شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس بھی ہے، جسے وہ سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے سب واضح نظر آرہا ہے کہ 4 اکتوبر کو انہوں نے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی ہے ظاہر ہے کہ جب ملائیشین وزیراعظم پاکستان میں موجود ہے تو وفاقی حکومت میں ویسے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ ہو گی اور انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اس شرپسند جماعت کے سیاسی جتھوں کو روکیں گے جس سے یہ بے قابو ہو جائیں گے اور ٹکراؤ ہونا نوشتہ دیوار ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم ایک بڑا بین الاقوامی فورم ہے جس میں پاکستان سمیت دوست ملک چین، روس، بھارت، بیلوروس، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں اور اس کی فورم کی اس خطے میں اپنی ایک اہمیت ہے۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    ایک ایسی کانفرنس جس کی بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت ہے اس کے انعقاد پر پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ ملک بڑے ممالک کے سربرہان کی میزبانی کیلئے تیار ہے اس موقع پر شرپسند جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال دینا، ڈنڈے، اسلحہ اور خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کے ساتھ ساتھ شرپسند عناصر کو لیکر دھرنا دینے کی دھمکی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ جماعت ملک دشمن ایجنڈے پرچل رہی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول ہے۔