Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آرٹیکل 63 اے تشریح نظرِ ثانی کیس کی عدالتی کارروئی سے علیحدہ ہو گئی-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ میں شامل ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی ہے، ملاقات میں پولیس افسران بھی ہمراہ بیٹھے رہے، ملاقات کوئی وکیل اور کلائنٹ کی ملاقات نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی نے خود ویڈیو لنک پر پیش ہونے کی استدعا کی ہے، پہلے معلوم ہو جائے کہ بانی پی ٹی آئی کو خود دلائل کی اجازت ملتی ہے یا نہیں، ان سے ملاقات آزادانہ نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کون سی خفیہ باتیں کرنا تھیں، آپ نے صرف آئینی معاملے پر بات کرنا تھی، علی ظفر صاحب، آپ بلا جواز قسم کی استدعا کر رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں باںی پی ٹی آئی کی ہی بات کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ افسر آف کورٹ ہیں، 5 منٹ ضائع ہو چکے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے بینچ کی تشکیل درست نہیں، حصہ نہیں بنیں گے، اگر بانی پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دیں گے تو پیش نہیں ہوں گے، حکومت کچھ ترامیم لانا چاہتی ہے، بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لیے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے بات کرنی ہے تو آج سے نہیں بلکہ شروع سے کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں جو بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ آپ کرنے نہیں دے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی گفتگو کر رہے ہیں تاکہ کل سرخی لگے، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آج بھی اخبار کی ایک سرخی ہے کہ آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے قبل لازمی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں، حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور تاثر ہے عدالت ہارس ٹریڈنگ کی اجازت دے گی، ہم اس بات پر آپ پر توہین عدالت لگا سکتے ہیں، کل آپ نے ایک طریقہ اپنایا، آج دوسرا طریقہ اپنا رہے ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہماری عزت کریں، ہارس ٹریڈنگ کا کہہ کر بہت بھاری بیان دے رہے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟ آپ کو ہم بتائیں تو آپ کو شرمندگی ہو گی، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ ہارس ٹریڈنگ کو روکتا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتوں کا مذاق بنانا بند کریں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے 63 اے پر اپنی رائے دی تھی کوئی فیصلہ نہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں اگلے 7 منٹ میں کمرۂ عدالت سے باہر ہوں گا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویری گُڈ، ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ اگر کیس کا فیصلہ دیتے ہیں تو مفادات کا ٹکراؤ ہو گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو بول رہے ہیں اسے نہ سنیں گے نہ ریکارڈ کاحصہ بنائیں گے، کیا آپ بطور وکیل یا عدالتی معاون ہمیں دلائل دے سکتے ہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ بطور عدالتی معاون دلائل دے سکتا ہوں، جس کے بعد سپریم کورٹ نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

    سپریم کورٹ بار اور پیپلزپارٹی نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا، چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ کے دلائل سے مستفید ہونا چاہتے تھےعلی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں، اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لئے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ نہیں رائے ہے تو اس پر عملدرآمد کیسے ہو رہا ہے؟ کیا صدر نے کہا تھا یہ رائے آگئی ہے، اب ایک حکومت کو گرا دو؟چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کو یاد ہے حاصل بزنجو نے ایک سینیٹ الیکشن پر کیا کہا تھا، سینیٹ جیسے ادارے میں الیکشن کے دوران کیمرے لگائے گئے، علی ظفر صاحب آپ کیوں ایک فیصلے سے گھبرا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ دلائل دیں شاید ہم یہ نظر ثانی درخواست مسترد بھی کر سکتے ہیں جس پر علی ظفر نے بطور عدالتی معاون دلائل کا آغاز کر دیا،علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے حوالے سے صدر نے ایک رائے مانگی تھی، اس رائے کے خلاف نظرثانی دائر نہیں ہو سکتی، صرف صدر پاکستان ہی اگر مزید وضاحت درکار ہوتی تو رجوع کر سکتے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک درخواست آپ نے بھی اس کیس میں دائر کی تھی جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ہم نے فلور کراسنگ پر تاحیات نااہلی مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا آپ اس پر پارلیمان میں قانون سازی کر سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا 63 اے کا فیصلہ دینے والے اکثریتی ججز نے رائے کا لفظ لکھا یا فیصلے کا لفظ استعمال کیا؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ یہ تو اس عدالت نے طے کرنا ہے کہ وہ رائے تھی یا فیصلہ، چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب آپ اس حد تک نظر ثانی کی حمایت کرتے ہیں کہ لفظ فیصلے کی جگہ رائے لکھا جائے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں اور جسٹس میاں خیل پہلے والے بنچ کا بھی حصہ تھے، ہم دونوں ججز پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، علی ظفر نے جواب دیا کہ اعتراض کسی کی ذات پر نہیں بلکہ بنچ کی تشکیل پر ہے۔

    علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ بار کی اصل درخواست تحریک عدم اعتماد میں ووٹنگ سے متعلق تھی، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں کو غلط طور پر ایک ساتھ یکجا کیا، عدالت نے آئینی درخواستیں یہ کہہ کر نمٹا دیں کہ ریفرنس پر رائے دے چکے ہیں، نظر ثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی آئین یا سزائے موت سے ناخوش ہوسکتا ہے لیکن عملدرآمد کرنے کے سب پابند ہوتے ہیں، کیا کوئی جج حلف اٹھا کر کہ سکتا ہے آئین کی اس شق سے خوش نہیں ہوں، ہر ڈکٹیٹر کہتا ہے تمام کرپٹ ارکان، اسمبلی اور ایوان کو ختم کر دوں گا، سب لوگ ملٹری رجیم کو جوائن کر لیتے ہیں، پھر جمہوریت کا راگ شروع ہو جاتا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں دیئے گئے حق زندگی کے اصول کو کافی آگے بڑھا چکی ہے، کسی بنیادی حق کے اصول کو آگے بڑھانا آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں ہوتا، آئین میں سیاسی جماعت بنانے کا حق ہے، یہ نہیں لکھا کہ جماعت الیکشن بھی لڑ سکتی ہےعدالتوں نے تشریح کر کے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کا اہل قرار دیا، بعد میں اس حوالے سے قانون سازی بھی ہوئی لیکن عدالتی تشریح پہلے تھی، عدالت کی اس تشریح کو آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں کہا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جج کون ہوتا ہے یہ کہنے والا کہ کوئی رکن منحرف ہوا ہے؟ پارٹی سربراہ کا اختیار ہے وہ کسی کو منحرف ہونے کا ڈیکلیئریشن دے یا نہ دے، ارکان اسمبلی یا سیاسی جماعتیں کسی جج یا چیف جسٹس کے ماتحت نہیں ہوتیں، سیاسی جماعتیں اپنے سربراہ کے ماتحت ہوتی ہیں۔

    جسٹس امین الدین خان نے استفسارکیا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کا انتخاب کون کرتا ہے؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ ارکان پارلیمان اپنے پارلیمانی لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ کرنے کا حق تو رکن پارلیمنٹ کا ہے، یہ حق سیاسی جماعت کا حق کیسے کہا جا سکتا ہے جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ارکان اسمبلی کو ووٹ دینے یا نہ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دیتی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر پارٹی سربراہ نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس حساب سے تو پارٹی کیخلاف ووٹ دینا خودکش حملہ ہے، ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا اور نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا، اگر کوئی پارٹی پالیسی سے متفق نہ ہو تو مستعفی ہو سکتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ یہ امید ہوتی ہے کہ شاید ڈی سیٹ نہ کیا جائے اور نشست بچ جائے، عدالت نے قرار دیا کہ کسی کو ووٹ کے حق کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تشریح جمہوری ہے؟ ججز منتخب نہیں ہوتے انہیں اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے، آپ تو جمہوریت کے بالکل خلاف بات کر رہے ہیں، تاریخ یہ ہے کہ مارشل لاء لگے تو سب ربڑ سٹیمپ بن جاتے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملکی تاریخ کو مدنظر رکھ کر بات کرتے ہیں، اسی مقصد کیلئے پارلیمانی پارٹی بنائی جاتی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک پارٹی سربراہ کا اختیار ایک جج استعمال کرے تو کیا یہ جمہوری ہوگا؟ جج تو منتخب نہیں ہوتے، انحراف کے بعد کوئی رکن معا فی مانگے تو ممکن ہے پارٹی سربراہ معاف کردے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تاریخ میں تو یہ ہے کہ آمریت آئے تو سب 10 سال چپ کر کے بیٹھ جاتے ہیں، جیسے ہی جمہوریت آتی ہے، سب شروع ہو جاتے ہیں، میگنا کارٹا کے بعد برطانوی جمہوریت سے آج تک وہاں کئی لوگ ناخوش ہیں، اس کے باوجود وہاں جمہوریت چل رہی ہے، یہاں بھی جمہوریت چلنے دیں۔

    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے فیصلے میں لکھا ہے ہارس ٹریڈنگ کینسر ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ غلط الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، جج صرف یہ طے کر سکتا ہے کوئی چیز آئینی و قانونی ہے یا نہیں، یہ کوئی میڈیکل افسر ہی بتا سکتا ہے کینسر ہے یا نہیں۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ووٹ نہ گنے جانے کے حوالے سے قانون سازی کیوں نہ کی؟ تحریک عدم اعتماد آنے والی تھی، اس وقت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا گیا، اس وقت پارلیمنٹ کی جگہ سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، ریفرنس دائر کرنے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد اڑا دی، یہاں چیف جسٹس سے کچھ ججز نے رابطہ کیا تو سوموٹو لیا گیا۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 63 اے کا فیصلہ صرف ایک جج کے مارجن سے اکثریتی فیصلہ ہے، کیا ایک شخص کی رائے پوری منتخب پارلیمان پر حاوی ہے؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ پارلیمان کو اگر یہ تشریح پسند نہ ہو تو وہ کوئی دوسری قانون سازی کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک بندہ سوچتا رہے میں فلاں فلاں کو قتل کروں گا مگر کرے نہ تو کیا سزا ہوگی؟ کیا میں سرخ اشارہ محض توڑنے کا سوچوں تو کیا میرا چالان ہو سکتا ہے؟جمہوریت اس لئے ڈی ریل ہوتی رہی کہ یہ عدالت غلط اقدامات کی توثیق کرتی رہی، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ کل یہاں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ دے کر دیکھیں، کیا ایسے ڈرا دھمکا کر فیصلہ لیں گے،سوشل میڈیا پر چل رہا ہوتا ہے فلاں جج نے ایک ٹھاہ کر دیا، فلاں نے وہ ٹھا کر دیا، اداروں کو اہم بنائیں، شخصیات کو نہیں۔

    علی طفر نے کہا کہ جو کچھ باہر چل رہا ہے اس پر میں آنکھیں بند نہیں کر سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ میں اندر کی بات بتا رہا ہوں، اندر کچھ نہیں چل رہا، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ میرا مشورہ ہوگا آپ تمام ججز آپس میں مل کر بیٹھیں، ججز رولز بنا لیں، سکون ہو جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ادارہ ٹوٹ گیا ہے،آپ ہمیں مفت کا مشورہ دے رہے ہیں تو ایک مفت کا مشورہ ہمارا بھی ہے، آپ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر معاملات طے کر لیں، پھر کہہ دیا جائے گا آپ نے مشورہ دیا ہے، ہم صرف ساتھ بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں، بیٹھ کر جو مرضی کریں۔

    علی ظفر نے کہا کہ میں نے ساڑھے 11 بجے کے بعد جو بھی گفتگو کی وہ بطور عدالتی معاون کی، بطور وکیل بانی پی ٹی آئی میں کیس کی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں،اس کے ساتھ ہی عدالتی معاون علی ظفر نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

    عدالت نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا ’آپ نے باعزت طریقے سے دلائل دیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کے مشورے پر انشاء اللہ غور کریں گے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ نیو گینی میں منحرف رکن کا ووٹ نہ گنے جانے کا قانون بنایا گیا تھا، نیو گینی میں عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں کسی جمہوری ملک میں ووٹ نہ گننے کا قانون نہیں، امید ہے ایک دن ہم بھی میچیور جمہوریت بن جائیں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےپیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا صدر مملکت نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی اکثریتی رائے سے متفق ہیں یا اقلیتی سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ صدر مملکت کی جانب سے ریکارڈ پر کچھ نہیں آیا کہ کس سے متفق ہیں کس سے نہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت معاملہ صدر مملکت کو بھیج دیں کہ وہ فیصلہ کریں کس رائے سے متفق ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے معاملہ صدر مملکت کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواستیں بھی ریفرنس کے ساتھ ہی نمٹائی گئی ہیں، آئینی درخواستیں نمٹانے کا معاملہ صدر مملکت کو نہیں بھیجا جا سکتا، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ریفرنس پر آنے والے رائے کی ریاست پابند ہوگی، ریاست سپریم کورٹ کی رائے کی پابند ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر کوئی رکن ووٹ نہ ڈالے تو وہ بھی نااہل ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے جماعت کا سربراہ رکن کے نہ پہنچنے کی وجہ تسلیم کر لے، آرٹیکل 63 اے واضح ہے تو اس کی تشریح کی کیا ضرورت ہے، سپریم کورٹ میں منحرف اراکین کی اپیلیں بھی آنی ہوتی ہیں، اگر عدالتی فیصلہ ہی نااہلی کا باعث بنے تو اپیل غیر موثر ہو جائے گی۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تحریری صورت میں ہی تصور کی جائے گی، حسبہ بل کیس کے مطابق ریفرنس پر رائے جس نے مانگی اس پر رائے کی پابندی لازم ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر صدر مملکت رائے پر عمل نہ کرے تو کیا ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ عدالت صدر مملکت کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔

    فاروق ایچ نائیک نے منحرف رکن سے متعلق پی ٹی آئی کی عائشہ گلالئی کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے نام غلط لیا، شاید آپ کو ان سے پبلکلی معافی مانگنی پڑ جائے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ گلالئی پشتو کا لفظ ہے جس کا مطلب بھی دیکھ لیں۔

    بعد ازاں عدالت نے آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاسپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، فیصلہ پانچوں ججز نے متفقہ طور پر سنایا ہے۔

    بعدازاں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو نہ سنے جانے پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ہے، عمران خان کو موجودہ بینچ پر اعتراض ہے، ہمارا موقف واضح ہے کہ بینچ کو قانون کے مطابق تشکیل نہیں دیا گیا۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022ء کو اُس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکن لارجر نے صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر تین دو کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا۔

    ججز نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں کیا کیا جائے گا اور پارلیمنٹ ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے پانچ رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

  • عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری

    عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری

    اسلام آباد: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے آزادی مارچ کے حوالے سے درج مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری کردیا –

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف آزادی مارچ کے حوالے سے کیس کی سماعت کی،سابق وزیراعظم عمران خان کے وکلا عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ خرم نواز، عامر محمود کیانی اور جمشید مغل بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے،وکیل تنویر حسین نے علی نواز اعوان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔

    جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ اسد عمر کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ اسد عمر اس مقدمے سے ڈسچارج ہو چکے ہیں، جج نے ریمارکس دیے کہ تنویر حسین کا میڈیکل سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ لگا دیں، عمران خان کی حاضری کے حوالے سے رپورٹ آئی ہے جس میں کہا گیا انٹر نیٹ میسر نہیں، آن لائن حاضری نہیں ہو سکتی، گزشتہ روز بھی یہی رپورٹ آئی تھی شو کاز نوٹس جاری کیا تھا، آج بھی نوٹس جاری کر رہا ہوں، لکھوں گا نیٹ نہیں تو ذاتی حیثیت میں پیش کریں۔

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

  • پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    باغی ٹی وی: انتشاری جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ہنگامہ آرائی، ہلڑ بازی اور ملک کا امن تہہ و بالا کرنے کیلئے جلسے جلوسوں اور احتجاج کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے، جسے وہ سیاسی جدوجہد کا نام دیکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیل میں بند انتشاری ذہن کا مالک دراصل ایک منصوبہ بندی کے ذریعے سب کچھ کر رہا ہے اور یہ ایک ایسا وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے معاشی اشاریے بہتر مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کی انتشاری ذہنیت کو یہ گوارا نہیں ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر چلے اور اس سارے عمل کو روکنے کیلئے اس نے خیبرپختونخوا کے شدت پسند وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ذریعے ملک کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔

    اگر نگاہ دوڑائی جائے تو معاشی اعداد و شمار کے مطابق افراط زرجو مئی 2023ء میں 38 فیصد تک چلا گیا تھا، آج یہ سنگل ڈیجیکٹ یعنی کم ہو کر 9.6 فیصد پر آچکا ہے۔ جون 2023ء میں ڈالر 333.5 روپے تک جا پہنچا تھا مگر آج جی ڈی پی کی نمو میں ریکوری سے کرنسی ایکسچینج ریٹ اور روپیہ مستحکم ہو گیا ہے آج ڈالر 277.72 روپے تک آچکا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    آئی ایم ایف کی جانب سے 7 ارب ڈالر مالیت کا پروگرام منظور کیا گیا۔ بہترین معاشی اقدامات کے باعث پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی سٹاک ایکسچینج بن کر ابھری۔ سٹاک مارکیٹ میں سرفہرست 86 کمپنیوں نے 1.7 ٹریلین روپے کا ریکارڈ منافع کمایا۔ جون 2023ء میں کے ایس ای 100 انڈیکس 41452.69 پوائنٹس پر تھا آج یہ انڈیکس 82463.05 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے۔

    وفاقی حکومت تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی بڑی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، ہماری برآمدات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔بہتر معاشی اشاریوں کے باعث موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ سی سی 2 سے سی سی 3 کردی ہے، بہتری ہوتی معیشت کے پیش نظر حکومت نے اس کے فوائد عام عوام تک بھی منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں اور سب دیکھ رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت ہر پندرہ روز کے بعد کم کی جا رہی ہے اسی طرح سب سے عام استعمال اور ضروری چیز آٹے کی قیمت جسے کچھ عرصہ قبل پر لگ چکے تھے اب غریب آدمی کیلئے بھی قابل خرید ہے۔

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    سب سے سنجیدہ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملائیشین وزیراعظم اپنے پہلے دورہ پاکستان پر موجود ہیں تو پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ جو شرپسندوں کے جتھے لیکر کبھی حملہ آور ہوتا ہے اسلام آباد، کبھی لاہور اور کبھی راولپنڈی تو اس نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے رہا ہے کہ اگر ایک گولی چلے گی تو وہ دس گولیاں چلائے گا۔ اسی بیانیے کو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا وائرل بھی کر رہا ہے یعنی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہلڑ بازی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔اس سے پہلے 9مئی کا سانحہ اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح معصوم لوگوں کو ورغلاء کر اُن کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا گیا اور بعد میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اُس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

    اس طرح کے شرپسند اعلانات اور دھمکیوں سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہی ایجنڈا یہ شرپسند جماعت اپنے سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے اور باہر بیٹھے پاکستانیوں، اہم شخصیات کویہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، وہاں کوئی بھی غیر ملکی دورہ اور سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی۔

    امریکی خفیہ ایجنسی نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں کی بھرتیاں …

    پی ٹی آئی کی جانب سے اس شدت پسندی اور شرپسندی کا بڑا ایجنڈا پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والی ایک بڑی شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس بھی ہے، جسے وہ سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے سب واضح نظر آرہا ہے کہ 4 اکتوبر کو انہوں نے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی ہے ظاہر ہے کہ جب ملائیشین وزیراعظم پاکستان میں موجود ہے تو وفاقی حکومت میں ویسے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ ہو گی اور انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اس شرپسند جماعت کے سیاسی جتھوں کو روکیں گے جس سے یہ بے قابو ہو جائیں گے اور ٹکراؤ ہونا نوشتہ دیوار ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم ایک بڑا بین الاقوامی فورم ہے جس میں پاکستان سمیت دوست ملک چین، روس، بھارت، بیلوروس، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں اور اس کی فورم کی اس خطے میں اپنی ایک اہمیت ہے۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    ایک ایسی کانفرنس جس کی بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت ہے اس کے انعقاد پر پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ ملک بڑے ممالک کے سربرہان کی میزبانی کیلئے تیار ہے اس موقع پر شرپسند جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال دینا، ڈنڈے، اسلحہ اور خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کے ساتھ ساتھ شرپسند عناصر کو لیکر دھرنا دینے کی دھمکی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ جماعت ملک دشمن ایجنڈے پرچل رہی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول ہے۔

  • پی ٹی آئی کو کئی مواقع فراہم کیے ہیں کہ وہ اپنے آئینی تقاضے پورے کرے،الیکشن کمیشن

    پی ٹی آئی کو کئی مواقع فراہم کیے ہیں کہ وہ اپنے آئینی تقاضے پورے کرے،الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پرہمیشہ قانونی لچک کا مظاہرہ کیا ہے، جماعت کی جانب سے بارہا التواء کا استعمال کیاگیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ تا حال حل نہیں ہو سکا۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ پی ٹی آئی نے حالیہ انٹراپارٹی الیکشن 3 مارچ 2024 کو کرایا اس انٹرا پارٹی الیکشن میں بھی متعدد خامیاں تھیں، لہذا الیکشن کمیشن نے اس کو 23 اپریل 2024 کو نوٹس بھیجا۔

    اس کیس کی پہلی سماعت 30 اپریل 2024 کو ہوئی، اپریل 2024 سے لے کر اکتوبر 2024 تک اس کیس کی چھ سماعتیں ہو چکی ہیں، لیکن ان سماعتوں میں سے پانچ بار اس جماعت نے مزید وقت مانگا اور ہر بار سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی،بشمول 2 اکتوبر 2024 (آج) کی سماعت میں بھی adjournment مانگی۔

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر …

    الیکشن کمیشن اس معاملے میں مسلسل لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے اور پی ٹی آئی کو کئی مواقع فراہم کیے ہیں کہ وہ اپنے آئینی تقاضے پورے کرے تاہم، اس سست روی اور تاخیر کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پارٹی پر عائد ہوتی ہے الیکشن کمیشن اس معاملے کو قانونی طور پر حل کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پرہمیشہ قانونی لچک کا مظاہرہ کیا ہے، جماعت کی جانب سے بارہا التواء کا استعمال کیاگیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ تا حال حل نہیں ہو سکا۔

    سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی وکلا کا احتجاج،چیف جسٹس کیخلاف شدید نعرے …

    الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 208 اور 209 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے پارٹی آئین کے مطابق پانچ سال کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں۔ پی ٹی آئی نے 13 جون 2021 کو اپنے انٹرا پارٹی انتخابات کروانے تھے، تاہم مقررہ وقت تک یہ انتخابات منعقد نہیں کیے گئے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو متعدد بار یاد دہانیاں کرائیں اور بالآخر 27 جولائی 2021 کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ اس نوٹس کے جواب میں جماعت کی جانب سے ایک سال کی توسیع کی درخواست کی گئی، جس میں کووڈ-19 کی صورتحال کو جواز بنایا گیا۔

    انٹراپارٹی الیکشن: پی ٹی آئی کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مزید مہلت

    الیکشن کمیشن نے پارٹی کو 13 جون 2022 تک کی مہلت دیتے ہوئے یہ درخواست قبول کی،اِنہوں نے جون 2022 میں فارم 65 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کی دستاویزات جمع کرائیں، جوکہ نامکمل تھیں الیکشن کمیشن نے متعدد مرتبہ یاد دہانی کرائی اور مزید دستاویزات طلب کیں، مگر جماعت کی جانب سے تاخیر کا سلسلہ جاری رہا الیکشن کمیشن کی طرف سے اس معاملے پر باقاعدہ سماعتیں کی گئیں۔

  • انٹراپارٹی الیکشن: پی ٹی آئی کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مزید مہلت

    انٹراپارٹی الیکشن: پی ٹی آئی کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مزید مہلت

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی-

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ہوئی، ممبر کمیشن نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ انٹرا پارٹی الیکشن ریکارڈ ایف آئی اے سے حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، عدالت نے ایف آئی اے سے ہمارا ریکارڈ مانگ لیا ہے-

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے ایف آئی اے کو کہا ہے کہ ہمیں ریکارڈ دیں ہم کاپی کرکے انہیں واپس کر دیں گے، ہم نے ایف آئی اے کو کہا کہ آپ کی گاڑی میں ہمارا ریکارڈ پڑا ہے اسے واپس دے دیں، امید ہے 10 دن تک ہمیں ایف آئی اے سے ریکارڈ مل جائے گا، دستاویزات جمع کرانے کے لیے ہمیں مزید مہلت دے دیں۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دیتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،بی ایل اے کے 6 اہم دہشتگرد ہلاک

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کچھ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ میں چیئرمین نہ رہوں لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ہوں گی، 4 اکتوبر کو ہر صورت احتجاج ہوگا، ہم نے احتجاج کی مکمل تیاریاں کر رکھی ہیں، آج پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کا کیس سماعت کیلئے مقرر تھا، الیکشن کمیشن نے جو ہدایات دی تھیں اس کے مطابق انتخابات کروائے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کا ریکارڈ ڈیجیٹل فارم میں ہمارے پاس موجود ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) ہمارے مرکزی دفتر سے سارا ریکارڈ لے گئی، الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی کہ ایف آئی اے کو ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت دے عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیا ہوا ہے، امید ہے ہمیں یہ ریکارڈ مل جائے گا اور پھر پیش کریں گے، اگر ریکارڈ مل گیا تو 22 اکتوبر کو یہ کیس یہ منطقی انجام تک پہنچ جائے گا،وزیر قانون نے میرے ساتھ کوئی مسودہ شیئر نہیں کیا، سپریم کورٹ نے نواز شریف کو کہا تھا کہ آپ پارٹی سربراہ نہیں رہیں گے تو اراکین آزاد ہوں گے۔

    ڈنمارک میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دھماکے،عملہ خوفزدہ

  • اسلام آباد کا احتجاج فائنل راؤنڈ ہوگا ، علیمہ خان

    اسلام آباد کا احتجاج فائنل راؤنڈ ہوگا ، علیمہ خان

    راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو اگر جیل سے نکالنا ہے اور اس فسطائیت کو ختم کرنا ہے تو پُرامن احتجاج جاری رکھنا ہوگا، اسلام آباد کا احتجاج فائنل راؤنڈ ہوگا-

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے بات چیت میں علیمہ خان ن ںے کہا کہ جج شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت خارج کردی، اسی جج نے عدت کیس کو تین ماہ تک چلایا اور اب اس کیس کو بھی گھسیٹ لیا، عمران خان کو اگر جیل سے نکالنا ہے اور اس فسطائیت کو ختم کرنا ہے تو پُرامن احتجاج جاری رکھنا ہوگا اگر ہم پُرامن احتجاج نہیں کریں گے تو وہ عمران خان کو باہر آنے کے بجائے کل انہیں فوجی جیل میں بھی ڈال سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پنڈی کے لوگ اپنی آزادی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے پُرامن احتجاج کے لیے نکلے تھے ہم بھی ان کے ساتھ شامل تھے، ہم گواہی دے سکتے ہیں کہ ہمارے سامنے پولیس نہیں تھی کالے کپڑوں میں کوئی اسپیشل یونٹ تھا، وہ بندوق اٹھا کر لوگوں پر ربڑ کی گولیاں سیدھی برسا رہے تھے، علی امین کا بہت بڑا قافلہ برہان تک پہنچا تھا ان پر فائرنگ کی گئی حکومت والے خوف زدہ ہیں کہ لوگ اپنا ووٹ کا حق واپس مانگ رہے ہیں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ احتجاج کبھی روکا نہیں جاتا پرسوں کے احتجاج کو بھی نہیں رکنا چاہیے تھانہ ہی کوئی چیز کال آف کی جاتی ہے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ اب جو احتجاج ہوگا وہ نہیں رُکے گا ہمارا احتجاج جاری رہے گا ہمیں عمران خان باہر چاہئیں ہمیں عدلیہ آزاد چاہیے اس کے سوا عمران خان اور قیدیوں کو باہر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں،بدھ کو بہاولپور، میانوالی اور فیصل آباد میں احتجاج ہے یہ عوام کا آئینی حق ہے کوئی بھی لوگوں کا آئینی حق نہیں چھین سکتا اور نہ روک سکتا ہے، بانی پی ٹی آئی کی سالگرہ پر پانچ اکتوبر کو لاہور مینار پاکستان میں احتجاج ہے، کراچی کے احتجاج کے لیے حتمی تاریخ کا تعین کرنا باقی ہے اسلام آباد کا احتجاج فائنل راؤنڈ ہوگا اس کی تاریخ جلد انتظامیہ دے گی، آپ جتنی آنسوگیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں چلالیں ہم آئیں گے اور اپنا آئینی حق استعمال کریں گے۔

  • راولپنڈی احتجاج: پنجاب پولیس نے زخمی پولیس افسران اور اہلکاروں کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی

    راولپنڈی احتجاج: پنجاب پولیس نے زخمی پولیس افسران اور اہلکاروں کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی

    لاہور: پنجاب پولیس نے28 ستمبرکو سیاسی جماعت کےمظاہرے کےدوران زخمی ہونے والے افسران اور اہلکاروں کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی میں 28 ستمبر کو بلوائیوں نے 26 پولیس افسران اور اہلکاروں کو زخمی کیا، سیاسی جماعت کے جتھوں نے حارو برج،کٹی پہاڑی اور ایم ون موٹروے اٹک پولیس پارٹیوں پر حملے کیے، ڈنڈوں اور پتھروں سے ایس ایچ او انسپکٹر ساجد، اے ایس آئی عامر سجاد اور اے ایس آئی خرم شہزاد زخمی ہوئے، زخمی اہلکاروں میں عثمان علی، عمر شہزاد، شاکر علی، اکبر، عرفان علی اور اظہرکانسٹیبل عزیز احمد ،ثاقب علی، عبدالمالک، مظہر اور ظہیر عباس شامل ہیں ،بلوائیوں کے حملے میں کانسٹیبل غلام فرید،عمران،طیب حسین اور محمد عمران نشانہ بنے، کانسٹیبل عرفان، شرجیل، عمران خان، قاسم انمول اور فیضان خان بھی زخمی ہوئے جب کہ 28 ستمبر کو آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا اور ڈی پی او اٹک پورا دن فیلڈ میں رہے۔

  • پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی  کے درمیان  کل ملاقات پر اتفاق

    پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان کل ملاقات پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں جماعتوں نے کل ملاقات پر اتفاق کیا۔

    باغی ٹی وی : امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے تحریک انصاف کی قیادت سے رابطہ کیا ، جماعت اسلامی کا وفد کل پیر کو پی ٹی آئی وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کرے گا،ملاقات کے دوران سیاسی امور اور اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی بارے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی قیادت سیاسی صورتحال کے حوالے سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کیساتھ بھی کئی ملاقاتیں کر چکی ہے،دونوں جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے پر اتفاق کرتے ہوئے باہمی مشاورت سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ، ملاقات کے دوران ماضی کی ملاقاتوں کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث لائے گئے، جے یو آئی کی طرف سے خود تحریک چلانے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا،دونوں جماعتوں کے درمیان مزید تعاون بڑھانے کے لیے کمیٹیاں قائم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

    سپریم کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری

    لیاقت آباد احتجاج: پی ٹی آئی کے 58 سے زائد رہنماؤں پر مقدمہ …

    سرائیل مسلم حکمرانوں سے نہیں مسلم لیڈرز سے خوفزدہ ہے،حافظ نعیم

  • راولپنڈی احتجاج:عمران خان اور علی امین گنڈاپور کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

    راولپنڈی احتجاج:عمران خان اور علی امین گنڈاپور کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

    راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج اور توڑ پھوڑ کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف تھانہ سٹی میں ایس ایچ او سٹی خالد یار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ عمران خان اور علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں سب انسپکٹر عمر صدیق کی مدعیت میں درج کیا گیا مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت، بلوہ، سرکاری گاڑی پر پیٹرول بم سے حملہ کے الزامات شامل ہیں، ایف آئی آر میں توڑ پھوڑ کی منصوبہ بندی کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔

    متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ ساتھ 45 رہنما و کارکن ایف آئی آر میں نامزد کر لیے گئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل سے احتجاج کی کال دے رکھی تھی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے بھی احتجاج میں شرکت کا اعلان کر رکھا تھا، ملزمان پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

    لیاقت آباد احتجاج: پی ٹی آئی کے 58 سے زائد رہنماؤں پر مقدمہ …

    ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ ملزمان نے ٹائر اور کپڑے جلا کر عوام الناس کا راستہ روکا اور ان کے لیے مشکلات پیدا کیں، ملزمان نے جلاؤ گھیراؤ اور پتھراؤ کیا، منع کرنے پر ملزمان نے پتھروں، اینٹوں، ڈنڈوں سے پولیس پر حملہ کیا، پولیس نفری نے بڑی مشکل سے اپنی جانیں بچائیں، ملزمان کے تشدد کے باعث پولیس اہلکار زخمی ہوئےمظاہرین نے پستول سے پولیس پر فائرنگ کی، ملزمان نے ربڑ بلٹ گن، ٹیئر گیس گن چھین کر زمین پر مارکر توڑی اور کانسٹیبل سے وائرلیس سیٹ چھین کر لے گئے۔

    سپریم کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری

  • لیاقت آباد  احتجاج: پی ٹی آئی کے 58 سے زائد  رہنماؤں پر مقدمہ درج ،دہشتگردی کی دفعات شامل

    لیاقت آباد احتجاج: پی ٹی آئی کے 58 سے زائد رہنماؤں پر مقدمہ درج ،دہشتگردی کی دفعات شامل

    راولپنڈی پولیس نے گزشتہ روزلیاقت آباد میں ہونے والے احتجاج اور جھڑپوں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے 58 سے زائد مقامی رہنماؤں پر مقدمہ درج کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کیا گیا جس میں سیمابیہ طاہر، شہریار ریاض، اعجاز خان جازی، راشدحفیظ، اجمل صابر اور ناصرمحفوظ کو نامزد کیا گیا ہے؛راولپنڈی پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں چوہدری امیر افضل، عمرتنویر بٹ اور ملک فیصل سمیت 150 نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں دہشتگردی، اقدام قتل، توڑپھوڑ،کارسرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے لیاقت باغ میں ریاست مخالف نعرے لگائے،کارکنان نے اسلحہ، ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں جبکہ کارکنان نے پولیس اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا، کارکنان کے تشدد سے پولیس اہلکار منیب عباس، اجمل خان زخمی ہوئے، ملزمان کے پتھراؤ سے افسران کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ ملزمان نے سرکاری اسلحہ چھین کر ہوائی فائرنگ کی اور خوف و ہراس بھی پھیلایا۔

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں پر شیلنگ کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

    نجی خبررساں اداری سے گفتگو میں مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ کل پی ٹی آئی کارکنوں پر براہ راست شیلنگ اور فائرنگ کی گئی، شیلنگ پر کے پی حکومت عدالت جائے گی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل کے پی سے قانونی کارروائی سے متعلق کہا جائے گا،پُرامن کارکنوں پر اس طرح شیلنگ اور فائرنگ کہاں کا قانون ہے؟ قانون کی پاسداری کوئی خیبرپختونخوا حکومت سے سیکھے، کل وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے جس طرح پنجاب پولیس اہلکاروں کو محفوظ بنایا سب کے سامنے ہے-

    کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ آئینی عدالتوں کی حدود کیا ہوں گی،شاہد خاقان عباسی