Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • بانی پی ٹی آئی مزید اقتدار میں رہتے تو  پاکستان کا بھی سودا کردیتے،پرویز خٹک

    بانی پی ٹی آئی مزید اقتدار میں رہتے تو پاکستان کا بھی سودا کردیتے،پرویز خٹک

    نوشہرہ: پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین پرویز خٹک نےکہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی مزید اقتدار میں رہتے تو پاکستان کا بھی سودا کردیتے۔

    باغی ٹی وی : نوشہرہ میں انتخابی جلسے سےخطاب میں پرویز خٹک نےکہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام تحریک انصاف کے اصل مقاصد سے باخبر ہوچکے ہیں، صوبے سے پی ٹی آئی کو ختم کرنےکا مشن 8 فروری کو اختتام پر پہنچ جائےگا پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی مقبولیت سے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں، عوام پگڑی کے نشان پر مہر لگانےکے لیے 8 فروری کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں،پاکستانی سیاست میں تحریک انصاف کا مستقبل ویران ہوچکا ہے، تحریک انصاف کی بچی کھچی سیاست 8 فروری کو ختم ہوجائے گی ۔

    ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک

    غیر شرعی نکاح کیس: دوران سماعت عمران خان، بشریٰ اور خاور مانیکا کے درمیان …

    پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے قواعد وضوابط جاری کردیئے

  • پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے قواعد وضوابط جاری کردیئے

    پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے قواعد وضوابط جاری کردیئے

    لاہور: پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے قواعد وضوابط جاری کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری قواعد و ضوابط کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کے کاغذات نامزدگی کی ناقابل واپسی فیس 50 ہزار مقرر کی گئی ہے، تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے پینل فیس ایک لاکھ روپے مقرر کردی گئی۔
    https://x.com/PTIofficial/status/1753046385732063514?s=20
    امیدواروں کو نامزدگی فیس بینک ڈرافٹ کے ذریعے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، نامزدگی فارم کے ساتھ تجویز وتائید کنندگان کا پارٹی ممبر شپ کارڈ لگانا لازمی ہوگا،پی ٹی آئی ممبران پارٹی ممبر شپ کارڈ رابطہ ایپ کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں۔

    چین نے پاکستان کا 2ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کر دیا

    اس سے قبل آج ہی پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کا اعلان کیا تھا، پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات 5 فروری کو ہوں گے،گزشتہ روز تحریک انصاف کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں انٹرا پارٹی الیکشن کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔

    برطانیہ کی ارب پتی کاروباری شخصیت ڈینی لیمبو نے اسلام قبول کرلیا

    نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی حسن روف نے کہا کہ ہم سے غیر قانونی طور پر بلے کا انتخابی نشان لیا گیا تھا ، اس وقت پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں ہے ، ہمیں عہدے دینے کیلئے دوبارہ انٹراپارٹی الیکشن کرانا ہوں گے ، جس کیلئے ہم نے جنرل باڈی بنائی ہےاسی کے فیصلوں کیمطابق انٹراپارٹی الیکشن ہوں گے ، پاکستان تحریک انصاف 5فروری کو دوبارہ انٹراپارٹی الیکشن کرائے گی تاکہ دوبارہ پارٹی فنگشنل ہو جائے اور اس صورت شائد الیکشن کمیشن ہمیں الیکشن سے پہلے ہمارا انتخابی نشان واپس دیدے-

    انتخابات میں رخنہ ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائیگا، چیف الیکشن کمشنر

  • سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی  اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    راولپنڈی : سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ اسپیشل کورٹ کے جج نے بڑا مناسب اور بہترین فیصلہ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان جب باہر آتی تھیں تو کہتی تھیں کہ میرے بھائی کو سزائے موت سنائی جائےگی،وہ پوری قوم کا ذہن بنا رہی تھیں میری دعا تھی انہیں سزائےموت نہ ہو،شکر ہےایسی کوئی سزا نہیں آئی جج صاحب نے بڑا اچھا فیصلہ دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کیا رویہ اپناتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سائفر کیس میں سماعت کے دوران ہمارے وکیلوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ایک چھوٹے کمرے میں لے جاکر ان پر بندوقیں تانیں گئیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ آج تک وکیلوں کو کبھی عدالت سے نہیں نکالا گیا، پہلی دفعہ ڈیفینس لائرز کو عدالتوں سے نکالا گیا جہاں انہوں نے جرح کرنی تھی، اور جرح اپنے من پسند وکیل سے کرائی گئی، جو کہ جرح نہیں کہلا سکتی،پہلی دفعہ وکیلوں پر بندوقیں تانی گئیں، جو واقعات سامنے آئے ہیں کہ انہیں ایک چھوٹے کمرے میں لے جا کر ان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان پر بندوقیں تانی گئی ہیں، جو کہ بدترین مثال ہے ملک میں انصاف کے نظام کو کنورٹ کرنے کی، لہٰذا اس کو ہم ٹرائل نہیں مانتے-

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے گواہان کے بیانات کروائے لیکن جرح کے وقت فیصلہ دے دیا، گزشتہ روز ہمارے ساتھ بدتمیزی کی گئی، ہمارے ساتھ جو فراڈ کیا وہ سب کے سامنے ہے، مجھے بھی جیل میں ڈال دیں، میں اسے فراڈ کہوں گی ،عدلیہ کا کام انصاف دینا ہے، انہیں تنخواہ ملتی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان مان لیں جو وہ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    یوٹیوب پر ڈیجیٹل چینل کو انٹرویو دیتے میں بلاول بھٹو زراداری نے کہا کہ میں نے سیاست کے ذریعے ہی ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی میرے خیال میں دونوں ایک دوسرے سے کافی جڑے ہوئے ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں مشورہ دونگا کہ پرانی سیاست چھوڑ دیں، آئیں جمہوری سیاست کریں۔ مان لیں کہ آپ غلط تھے، جو آپ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا عمران خان اُن لوگوں سے معافی مانگیں جنہیں انہوں نے چور کہا اور زندہ لاشیں کہا مجھے امید ہے کہ عمران خان جو وقت جیل میں گزار رہے ہیں، اس سے ان میں بہتری آئے، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائے جانے پر کہا ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمودقریشی کا جرم بڑا ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سائفر جیسے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کو پبلک کرنا جرم ہے جس سے ریاست کا نقصان ہوا،عدالتی فیصلے پر ہمیں مکمل بھروسہ ہے ریاست پرحملہ کرنے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہوناچاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو سزا ہی سپریم کورٹ سے ہوئی تھی جس میں وہ اپیل تک نہیں کرسکتے تھے۔

    اس فیصلے پر قانون ماہرین کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی کامیابی ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمود مجرم ثابت ہوگئے،قانونی ماہرین نے مزید کہا کہ عمران نیازی اور شاہ محمود کے وکلا ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود کو سائفر کیس میں 10 سال غیر قانونی سزا دلوا کر جج ابوالحسنات نے قانون کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔

    بانی پی ٹی آئی کو سزا کے بعد وڈیو پیغام میں اسد قیصر نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہم ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے اور یہ فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا انہوں نے ورکرز سے اپیل کی کہ اپنا پورا زور 8 فروری کے الیکشن پر مرکوز کریں اور عمران خان کو جتوا کر اس نظام کو شکست دیں۔عمران خان اور شاہ محمود کی سزا کا فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا

    تحریک انصاف کے رہنما اور بیرسٹر علی ظفر نے کہاہے کہ یہ کیس کی سماعت نہیں تھی، عدالتی نظام سے ایک فراڈ تھا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل کو ہٹا دیاگیاتھا،وکیل کو نکال کر جن کو رکھا گیا اجازت کے بغیر رکھا گیا، اگر فیصلے کی کاپی مل جاتی ہے تو کل ہی اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی جائے گی،اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں،وکلا کو ایک روز پہلے کیس فائل دی گئی، انہوں نے چھوٹی سی جرح کی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل فائل کی تھی کہ خدشہ ہے سزا آج سنا دی جائے گی اسے روکا جائے جتنے بھی دستاویزات تھے اس سے ظاہر ہورہا تھا کہ یہ ٹرائل نہیں تھا، انصاف نظام کے ساتھ مذاق تھا، انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے بلکہ ان کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں، کیس ٹھیک چل رہا تھا، اوپن ٹرائل نہیں ہورہا تھا، چار پانچ دنوں میں انصاف اور قانون کے تقاضوں کو رد کیا گیا، یہ مس ٹرائل ہے، آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، سزاتب ہوتی ہے جب جرم ثابت ہو، یہاں تو ٹرائل ہی نہیں ہوا، سزا کم تب ہوتی ہے جب اعتراف ہو کہ جرم کیا ہے سزا کم کی جائے۔

    سائفر کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اعظم خان کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی۔

    مبینہ آڈیو میں بانی پی ٹی آئی کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، نام نہیں لینا امریکا کا، بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی، نئی جو چیز آئی ہے نا کہ وہ جو لیٹر‘، جس پر اعظم خان کہتے ہیں کہ ’سر میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ جو سائفر نا، میرا خیال ہے کہ ایک میٹنگ کر لیتے ہیں اس کے اوپر، دیکھیں اگر آپ کو یاد ہو تو آخر میں سفیر نے لکھا ہوا تھا کہ ڈیمارچ کریں، اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو انٹرنل میٹنگ، کیونکہ رات میں نے بڑا سوچا ہے اس کے اوپر شاید‘۔

    اعظم خان نے مزید کہا کہ آپ نے کہا کہ شاید اُنہوں نے اُٹھایا لیکن نہیں پھر میں نے سوچا کہ How to cover all this? ایک میٹنگ کریں شاہ محمود قریشی اور فارن سیکرٹری کی، شاہ محمود قریشی یہ کریں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سُنائیں گے، تو جو بھی سُنائیں گے تو اُس کو کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس میں کر دوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ چیز بنا دی ہے، بس اس کا یہ کام ہوگا، مگر یہ کہ اس کا Analysis ادھر ہی ہو گا، پھر Analysis اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے تاکہ منٹس آفس کے ریکارڈ میں ہو، ’Analysis یہ ہوگا کہ یہIndirect Threat ہے۔ Diplomatic Language میں اسے تھریٹ کہتے ہیں، دیکھیں منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں نا، وہ اپنی مرضی سے ڈرافٹ کر لیں گے‘۔

    جس پر عمران خان نے کہا کہ ’تو پھر کس کس کو بُلائیں اس میں؟ شاہ محمود، آپ، میں اور سہیل‘، اعظم خان نے کہا کہ ’بس‘، بانی پی ٹی آئی نے کہا ’ ٹھیک ہے کل ہی کرتے ہیں’۔

    اعظم خان نے کہا کہ ’تاکہ وہ چیزیں ریکارڈ میں آجائیں آپ یہ دیکھیں کہ وہ Consulate for State ہیں۔ وہ پڑھ کر سنائے گا تو میں کاپی کر لوں گا آرام سے، تو آن ریکارڈ آ جائے گی کہ یہ چیز ہوئی ہے، آپ فارن سیکرٹری سے سنوائیں تاکہ Political نہ رہے اور Bureaucratic Level پر یہ چیز آئے‘۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’نہیں تو اُس نے ہی لکھا ہے Ambassador نے‘، اعظم خان نے کہا کہ ’ہمارے پاس تو کاپی نہیں ہے نا یہ کس طرح انہوں نے نکال دیا؟‘بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ یہاں سے اٹھی ہے، اس نے اٹھائی ہے، لیکنany how ہے تو فارن سازش‘۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کاکہنا ہے کہ میرے خیال میں عدالت نے نرم فیصلہ دیا ہے-

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ ان کے رویے سے پاکستان کے سفارتی تعلقات متاثر ہوئے،بانی پی ٹی آئی نے اپنے خلاف ایف آئی آر خود اپنی حرکتوں سے کٹوائی، بانی پی ٹی آئی نے لاپروائی اورسلامتی کے معاملات پر ظلم کیا ہے، پی ٹی آئی سے جڑے لوگوں کو اپنے آنکھیں اپنے کھول لینی چاہئے،وہ کون ہو سکتا ہے جو شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچائے، بانی پی ٹی آئی نے اپنی ذات کو ریاست سے بڑا سمجھا،بانی پی ٹی آئی کے منظور نظر لوگ سب ان کو چھوڑ کرجا چکے ہیں،ہر روز پی ٹی آئی کے لوگوں کی بڑی تعداد ن لیگ میں شامل ہو رہی ہے۔

    سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہاہے کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے۔

    اس حوالے سے اپنے بیان میں اشتراوصاف نے کہاکہ نیشنل سکیورٹی کے معاملات میں کوتاہی نہیں برتی جا سکتی،ملکی سالمیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،ان کاکہناتھا کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے ۔

    سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا پر بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں۔
    https://x.com/PTIofficial/status/1752224508075774414?s=20
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ بنیادی حق سے محروم کیا جائے تو فیصلہ کیا آنا ہے دنیا کو معلوم ہے،جج صاحب سائفر کیس آئین و قانون سے ہٹ کر چلا رہے ہیں، ہمیں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ پر اعتماد ہے،ہمیں عدالتوں سے انصاف ملے گا، کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں، یہ اشتعال دلائیں گے،مشتعل نہیں ہونا- فوکس الیکشن پر کریں، عدلیہ پر اعتماد ہے، ریلیف ملے گا سزا بھی کالعدم ہو جائیگی،،کوئی قانون ہاتھ میں نہ لیں، ہماری توجہ الیکشن سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن 8 فروری کو سب کا محاسبہ ہوگا۔

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے بیانات کی کاپییاں حاصل کرلی ہیں، شاہ محمود قریشی بھی خود جوابات لکھوا رہے

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔

    کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سماعت کے دوران جج نے کہا کہ آپ کے وکلا حاضر نہیں ہورہے ،آپ کو اسٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی، اس پر وکلا صفائی نے کہا کہ ہم جرح کرلیتے ہیں،جج نے وکلا صفائی سے کہا کہ آپ نے مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جس میں عمران خان نے کہا کہ سائفر میرے آفس آیا تھا لیکن اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکرٹری کی تھی، اس حوالے سے ملٹری سیکرٹری کو انکوائری کا کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ سائفر کے بارے میں کوئی کلیو نہیں ملا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفرکیس میں سرکاری وکلا صفائی کی تقرری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیابانی پی ٹی آئی عمران خان کی وساطت سے ان کے وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں سائفر کیس میں عدالت کا 26جنوری کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،سرکاری وکلا کی تقرری کے بعد کی گئی کارروائی بھی کالعدم قرار دی جائے۔

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے وکلا کے نہ آنے پر اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کیا تھا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ ملک عبدالرحمان بانی پی ٹی آئی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے۔

    سرکاری وکلا صفائی مقرر ہونے پر عمران خان نے جج سے مکالمہ کیا تھا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے، جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سےکہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی، مشاورت نہیں کرنے دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا۔

    علاوہ ازیں گزشتہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے جج کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست جمع کروائی تھی، عدم اعتماد کی درخواست دائر ہونے کے بعد فاضل جج نے کمرہ عدالت تبدیل کر دیا تھا بانی پی ٹی آئی کے 342 کے ریکارڈ کی کاپیاں آج ملزمان کو فراہم کی گئی ہیں۔

    بیلٹ پیپرز کی ڈیلوری کا کام چاروں صوبوں میں شروع ہو چکا ہے،الیکشن کمیشن

    گزشتہ روز اسٹیٹ ڈیفینس کونسل نے مزید 12 گواہان پر جرح مکمل کی تھی اب تک 4 گواہوں پر وکلا صفائی جبکہ 21 پر اسٹیٹ ڈیفینس کونسل جرح مکمل کر چکے ہیں عدالت نے عدم اعتماد کی درخواست کے بعد اسٹیٹ ڈیفینس کونسل کو جرح مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے گزشتہ روز کیس میں مزید 11 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کرلی گئی، سائفر کیس میں مجموعی طور پر تمام 25 گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہوگی، گواہان پر جرح کے بعد ملزمان کے 342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے سوالنامے تیار کرلیے گئے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس نہ سننے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

    اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔

    اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔

    سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

    سائفر آخر ہوتا کیا ہے؟

    بی بی سی کے مطابق سائفر دراصل کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے،سائفر کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے،سائفر کو کوڈڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے،اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنہیں ”سائفر اسسٹنٹ“ کہا جاتا ہے، یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارت خانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    عمران خان کا 342 کا بیان کیا ہے؟

    ماہر قانون وقاص ابریز کا کہنا ہے کہ 342 کا بیان دراصل ملزم کا بیان ہے، جس میں ملزم اگر اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو کہ سکتا ہے ملزم کا بیان زیر دفعہ 342 ض ف قلمبند کرتے ہوئے عدالت خود ملزم سے سوالات کرتی ہے اور ملزم خود ان سوالات کا جواب دیتا ہےاس حوالے سے پراسیکوٹر یا کونسل مستغیث کا سوالنامہ تیار کر کے دے دینا اور کونسل ملزم کا ان کے جوابات تیار کر کے دے دینا دفعہ 342 ض ف کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا جج ابوالحسنات نےکہا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آجائیں جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آرہا ہوں جلدی تو آپ کو ہے، ہم نے تو جیل میں ہی رہنا ہےجج نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ 342 کے بیان پر دستخط کریں گے؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ مجھے پہلے بتائیں یہ ہوتا کیا ہے۔

    جج ابو الحسنات نے کہا کہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو سوالوں کے جواب دینے کا موقع دے رہا ہوں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں اپنا جواب خود لکھوانا چاہتا ہوں جس پر جج نے کہا کہ اچھی بات ہے آپ اپنا جواب خود لکھوائیں۔

    جب عدالت نے عمران خان سے کہا کہ اگر وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں تو عدالت کو بتا دیں جس پر عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں،عمران خان کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے استفسار کیا، ’خان صاحب، آپ سے آسان سا سوال ہے، سائفر کہاں ہے؟، جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’میں نے وہی بیان میں کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے دفتر میں تھا‘۔

    عدالت نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا سائفر آپ کے پاس ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا اور وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری میری نہیں ہے بلکہ وہاں پر ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری بھی ہوتے ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنما کی پیپلز پارٹی میں شمولیت

    کراچی: پی ٹی آئی رہنما اور امیدوار برائے قومی و صوبائی اسمبلی سید ممتاز علی شاہ نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔

    باغی ٹی وی : میر پور خاص سے پی ٹی آئی کے این اے 212 اور پی ایس 46 کے امیدوار سید ممتاز علی شاہ نےپاکستان پیپلز پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، سید ممتاز علی شاہ نے پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما فریال تالپور سے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے پارٹی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی پی میں شمولیت اختیار کر لی۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 61 پر کھڑے ہونے والے امیدوار انور جتوئی پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے،انور جتوئی پی ایس 61 سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار تھے جنہوں نے شرجیل میمن کے حق میں دستبردار ہونے اور پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا، انور جتوئی نے ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے شرجیل میمن کی کامیابی کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم  کارکنوں نے  پاکستان کیخلاف نیا محاز کھول لیا

    پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم کارکنوں نے پاکستان کیخلاف نیا محاز کھول لیا

    اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے لیے پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم اراکین اور مختلف اداکاروں نے فنڈز فراہم کیے ہیں اس مبینہ منصوبے کے بنیادی مقاصد، سفارتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھانا شامل ہے حتمی مقصد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر عالمی دباؤ ڈال کر پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے لیے مراعات حاصل کرنا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس منصوبے میں پروپیگنڈا کی کوششوں کے ذریعے 9 مئی کو جھوٹے فلیگ آپریشن کا الزام لگا کر مسلح افواج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا بھی شامل ہے، ذرائع کے مطابق اس کا مقصد 8 فروری کے انتخابات کو متنازعہ بنانا اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کو بڑھانا ہے۔

    ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے، ایف آئی اے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، جس کے شواہد مبینہ طور پر فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) جیسے اداروں کے پاس پہنچ چکے ہیں-

    مزید برآں، ایف آئی اے ذرائع کا الزام ہے کہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف قراردادیں امریکی ایوان نمائندگان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ماضی میں بھی اسی طرح کے مقاصد کے حصول کے لیے پیش کی جا چکی ہیں، کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بیانیے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی رپورٹ بین الاقوامی فوجداری عدالت برائے تحقیق اور پالیسی (ICCRP) میں پیش کیے جانے کے عمل میں ہے۔

    منصوبے کے ایک حصے کے طور پر، مبینہ طور پر پاکستانی حکومت اور افواج کے کردار کو منفی انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک متعصب دستاویزی فلم تیار کی گئی ہے، جس کی جلد ریلیز کا منصوبہ ہے۔ مزید برآں، ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کا مقصد امریکی اور مغربی میڈیا میں اسپانسر شدہ مضامین کی اشاعت کے ذریعے پاک فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کو نشانہ بنانا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کو جھوٹا فلیگ آپریشن ثابت کرنے کے لیے مزید لابیسٹ فرموں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، حتیٰ کہ من گھڑت کہانی میں سینئر حاضر سروس فوجی افسران کے نام بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر اس منصوبے میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پر ایف بی آئی کی رپورٹ شائع کرنے کے ارادے سے پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کو دھمکیاں دینے کا الزام لگانا شامل ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق، ان پیش رفت کے درمیان سوشل میڈیا پر "آپریشن گولڈ سمتھ” کے حوالے سے باتیں گردش کر رہی ہیں۔ خبروں اور تجزیوں کی اشاعت کو "آپریشن گولڈ سمتھ” کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ایف آئی اے نے "آپریشن گولڈ سمتھ پلس” کے مشتبہ سودوں کے ذریعے کئی افراد کے خلاف اہم شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ مہم شروع کی گئی ہے مختلف بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس، جن میں دی انٹرسیپٹ، دی اکانومسٹ، نیویارک ٹائمز، الجزیرہ، بی بی سی اردو، اور دیگر شامل ہیں، مبینہ طور پر اس رپورٹ کردہ اقدام کے حصے کے طور پر پاکستان مخالف مضامین شائع کر چکے ہیں۔

  • پاکستان تحریک انصاف نے منشور کا اعلان کردیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے منشور کا اعلان کردیا، جس کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہوگا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے پی ٹی آئی کےبیرسٹر گوہر خان نے منشور کا اعلان کرتےہوئےبتایا کہ نیا پاکستا ن نیا تبدیلی کا نظام ہمارے منشور کا حصہ ہے ، ایک جمہوری حکومت میں وزیر اعظم پاور کا منبع ہوتا ہے،تحریک انصاف حکومت میں آ کر آئینی ترامیم کرے گی کہ وزیراعظم کا انتخاب چند ایم این ایز کی بجائے ڈائریکٹ عوام کرے یعنی وزیراعظم عوام کی مرضی سے منتخب ہو کر آئے گا۔

    اس حوالے سے بیرسٹر گوہر نے مزید بتایا کہ ہم اسمبلی کی مدت 5 سال سے کم کر کے 4 سال کریں گےسینیٹ کی مدت پانچ سال کریں گے ، سینیٹ میں بھی ریفارمز لائیں گے ، آدھے سینیٹر براہ راست منتخب ہوں گے، اقتدار میں آکر عوام کے بنیادی حق کیلئے کریمنل پروسیجر کو تبدیل کریں گے، جس ٹیم نے چھ ماہ میں منشور کو تیار کیا وہ سامنے نہیں بیٹھ سکے ، ہمیں منشور دینے میں دشواری ہے تو پارٹی کیلئے اور کیا مشکلات ہوں گی۔

    پی ٹی آئی منشور سے متعلق بیرسٹر گوہر نے مزید بتایا کہ ہمارا سلوگن ’ ایک قوم ایک جیسے قانون، سب ہوں گے برابر ’ ہے ریاست مدینہ میں مدینہ جیسے قانون ہوں ،ہمارےسول اور کریمنل پی ایل ڈی قوانین بہت مشکل ہیں صحت کارڈ کو مزید بہتر کریں گے، ایجوکیشن میں پڑھا لکھا پاکستان بنےگا ، ہنر مند پاکستان سلوگن ہوگا، ایجوکیشن سسٹم میں بہتری لائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 168 صفحوں کا منشور پیش کیا ہے جو سب سے مختلف ہے، ایک ملک میں دو قانون نہیں ہو سکتے، قانون کی حکمرانی میں چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے ساری طاقت ایک ادارے کے پاس نہیں ہونی چاہیے، صحت کارڈ کو مزید بہتر کریں گے اپنے منشور میں چھوٹا خاندان خوشحال پاکستان ہمارا سلوگن ہوگا ، آبادی کو کنٹرول کرنے پر کام کریں گےپاکستان کی نوجوان نسل کیلئے مضبوط جواں خوشحال پاکستان سلوگن ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ، ہم اداروں کو پرائیوٹائز کریں گے، ہم بچت کے نظام کی طرف بھی جائیں گے ، ماحولیات کی طرف سلوگن ہرا بھر خوشحال پاکستان ہوگا، ہم غیر ملکی فیول کے بجائے سولر کی طرف توجہ دیں گے ہمارے نشان آزاد ہیں لیکن ہمارے امیدوار آزاد نہیں، شاندار پاکستان شاندار مستقبل اور خراب ماضی سے چھٹکارہ ہمار سلوگن ہوگا، اقتدار میں آنے کے بعد ایک ٹرتھ اینڈ ریکنیسلیشن کمیشن بنایا جائے گا۔

  • پی ٹی آئی کی  لاہور، کراچی ، پشاور سمیت مختلف علاقوں میں ریلیاں ،درجنوں کارکن گرفتار

    پی ٹی آئی کی لاہور، کراچی ، پشاور سمیت مختلف علاقوں میں ریلیاں ،درجنوں کارکن گرفتار

    لاہور: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے لاہور، کراچی ، پشاور سمیت مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالیں ، تاہم پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی:کراچی میں تحریک انصاف نے کلفٹن میں ریلی نکالی جہاں پولیس نے 50 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا جبکہ کراچی میں پی ٹی آئی کی ریلی کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوگیا،تین تلوار پر تقریر کے دوران پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس میں جھڑپ ہوئی، پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا گیا،پتھراؤ سے ایس ایچ او سمیت متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے-

    پولیس کا کہنا ہےکہ ایس ایچ او بوٹ بیسن ریاض نیازی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے ریلی میں شرکت کے لیے آنے والےکارکنوں کو منتشر کردیا جب کہ متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا اس دوران ٹریفک بھی معطل رہی جو کہ کچھ دیر بعد بحال ہوگئی۔

    جمہوریت پر چلنے سے مسائل حل ہوں گے اور بلوچستان کی بقا اسی میں ہے …

    https://x.com/PTIofficial/status/1751569593368289424?s=20

    راولپنڈی میں این اے 56 میں ریلی نکالی گئی جو ڈھوک رتہ سے ہوتی ہوئی ریلی سید پور روڈ پر اختتام پذیر ہوئی، راولپنڈی میں جاتلی کے علاقے میں پولیس نے کریک ڈاؤن کرکے دس کارکنوں کو تحویل میں لے لیا،ریلی کے شرکا نے ایک ریاست دو دستور نامنظور کے نعرے لگائے، انہوں نے پی ٹی آئی پرچم اور عمران خان کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، پشاور میں بھی ریلی نکالی گئی تاہم پولیس نے ریلی کو رنگ روڈ پر روک دیا، اس موقع پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی، پولیس نے کئی پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

    عوام کا سمندر بتا رہا ہے کہ آٹھ فروری کو شیر آرہا ہے ،شہباز شریف

    لاہور میں علامہ اقبال روڈ بانی چیرمین کے نعروں سے گونج اٹھا۔ این اے 119میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار میاں شہزاد فاروق کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس میں مردوں ، عورتوں اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی، پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی لیکن کارکنوں کی تعداد زیادہ ہونے پر راستے سے ہٹ گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے ریلی کے لئے این او سی نہیں لیا جس کے بغیر جو بھی روڈ پہ آئے گا گرفتار کیا جائے گا۔

    اس ملک کو صرف پاکستان پیپلزپارٹی ہی بچا سکتی ہے،بلاول

  • جاوید ہاشمی کےگھر پولیس کا چھاپہ،داماد اور نواسہ گرفتار

    جاوید ہاشمی کےگھر پولیس کا چھاپہ،داماد اور نواسہ گرفتار

    ملتان : سینیئر سیاستدان جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ ملتان کے علاقے مخدوم رشید میں تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن کے دوران ان کی رہائش گاہ پر پولیس نے چھاپہ مارا اور پی ٹی آئی امیدوار زاہد بہار ہاشمی اور ان کے ملازمین کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: جاوید ہاشمی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پنجاب پولیس کے رات ایک بجے بیسیوں اہلکاروں نے میری مخدوم رشید کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا اور غیر قانونی طور میرے گھر کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے بلا وارنٹ اندر داخل ہو گئے میرے داماد شاہد بہار ہاشمی اور نواسے قاسم ہاشمی کو غیر قانونی تحویل میں لے لیا گیا ہے تمام ملازمین کو گرفتار لیا گیا ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہوئی اور تشدد کیا۔
    https://x.com/JavedHashmiJH/status/1750257104282091824?s=20
    ذرائع کے مطابق جاوید ہاشمی کی رہائش گاہ پر منعقدہ پی ٹی آئی کے ورکرز کنونشن میں پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی اور زین قریشی کو بھی شرکت کرنا تھی۔
    https://x.com/JavedHashmiJH/status/1750263193925038111?s=20

    تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور اخلاقیات پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی،عارف علوی

    ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    دفع 144 کی خلاف ورزی پر لاہور میں گرفتاریاں شروع

  • نگران حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں،عمران خان

    نگران حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں،عمران خان

    راولپنڈی : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 9 مئی واقعات پر نگران وفاقی حکومت کی نگرانی میں تحقیقات کو نہیں مانتے پنجاب میں دفعہ 144 صرف پی ٹی آئی کے لیے لگائی گئی ہے، اب دیکھ لینا پی ٹی آئی کو جلسے اور ریلیوں کی اجازت نہیں ملے گی، دفعہ 144 نواز شریف نے لگوائی ہوگی،یہ جو مرضی کرلیں ہم نے آخری بال تک الیکشن لڑنا ہے۔

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 9 مئی واقعات پر نگران وفاقی حکومت کی نگرانی میں تحقیقات کو نہیں مانتے، 9 مئی سے متعلق کوئی آزادانہ انکوائری نہیں ہوئی نگران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں، جب تک جی ایچ کیو، جناح ہاؤس اور دیگر تنصیبات کی سی سی ٹی وی فوٹیج چوری کرنے والوں کو نہیں پکڑا جاتا حقائق سامنے نہیں آسکتے، جس نے بھی جلاؤ گھیراؤ کیا ہے اس کو پکڑا جائے لیکن پہلے آزادنہ تحقیقات کرائی جائیں۔

    نیب نے پشاور میں پی ٹی آئی دور میں بھرتی ہونے والے …

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور، جی ایچ کیو اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز ہی غائب کر دی ہیں، امریکا میں کیپیٹل ہِل پر جب حملہ ہوا تو ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ہمارے پاس ویڈیوز ہیں جس میں یاسمین راشد کارکنان کو تلقین کر رہی ہیں کہ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف نہیں جانا۔

    عمران خان نے کہا کہ 80 فیصد فوج پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، یہ جو مرضی کر لیں، انتخابی نشان لے لیں پی ٹی آئی کوہرا نہیں سکتے، ایسی پری پول دھاندلی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی، انہوں نے 8 فروری کو بھی دھاندلی کرنی ہے، دھاندلی کے باوجود ضمنی انتخابات ہارنے پر یہ پی ٹی آئی کو فیلڈ نہیں دے رہے، میرا ہاتھ عوام کی نبض پر ہے، عوام کا غصہ8 فروری کو نکلے گا،8 فروری کو جو ان کے ساتھ ہونے والا ہے وہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں-

    انتخا بی مہم کے دوران حکومتی مشینری کا استعمال،الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری ایک ہی ڈیل ہے اور وہ ہے صاف اور شفاف انتخابات کرائیں اور جمہوریت لائیں، یہ جو سوچ رہے ہیں اس سے ملک کو نقصان پہنچے گا، یہ الیکشن نہیں آزادی کی جدوجہد ہے،ہ میرے اور شاہ محمود سمیت کسی سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہورہے ہم نے پوسٹل بیلٹ کے لیے اپلائی کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے جلسوں میں تو کوئی آ نہیں رہا، اس کے جلسوں میں پی ٹی آئی کے نعرے لگ رہے ہیں، نواز شریف خود تو گھر بیٹھے ہیں کہ یہ مجھے سلیکٹ تو کر رہے ہیں، کیمپین کی ضرورت ہی نہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے امیدواروں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سب تیار رہیں، یہ جس امیدوار کو پکڑیں گے ہم اس کی جگہ کسی اور کو کھڑا کر دیں گے، یہ عوام سے ڈرے ہوئے ہیں، ہمارے امیدواروں کو میری تصویر لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہاں تک کہ امیدواروں کو قیدی نمبر 804 لکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے جو ہماری پارٹی میں نہیں رہے، ان کو ہماری تصویر لگانے کا کہہ رہے ہیں، تحریک انصاف کے ساتھ وہ ہو رہا ہے جو پہلے تاریخ میں کبھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔

    گلگت بلتستان میں زرعی انقلاب کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے،ڈاکٹرکوثرعبداللہ ملک

    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ راولپنڈی میں آپ کی تنظیم کے عہدیداروں نے سمابیہ طاہر پر امیدواروں سے پیسے لینے الزام لگایا ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جواب دیا کہ سمابیہ طاہر کی پیسے لینے کی بات پر میں یقین نہیں کرتا۔

    اس سوال پر کہ آپ نے جن امیدواروں کو ٹکٹ دیئے ہیں ان پر آپ کے اپنے لوگوں کو تحفظات ہیں، عمران خان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کس کو ٹکٹ ملا کس کو نہیں مجھے مشاورت کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔

    گوہر اعجاز کو وزیرداخلہ کا اضافی چارج مل گی،نوٹیفکیشن جاری

  • ابرار الحق  کا الیکشن سے دستبردار ہونے کا اعلان

    ابرار الحق کا الیکشن سے دستبردار ہونے کا اعلان

    نارووال: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے سینئر رہنما ابرار الحق نے بھی الیکشن سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: نارووال کے حلقہ این اے 76 سے پی ٹی آئی امیدوار ابرار الحق نے عام انتخابات سے دستبردا ر ہونے کا اعلان کر دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالت کے پیشِ نظر میں نے دوستوں اور فیملی سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لوں گا، واضح رہے کہ این اے 76 میں ابرار الحق کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال سے تھا۔

    قبل ازیں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی عام انتخابات سے اپنے گروپ سمیت دستبرداری کا اعلان کیا تھا ، فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو خط میں لکھا کہ انتخابات کا مقصد عوام کو اپنے نمائندے چننے کا اختیار دینا ہے، لیکن اگر انتخابات میں چناؤ ہی نہیں تو انتخابات کا کیا مقصد ہے، جہلم میں کیسے الیکشن ہو رہے ہیں، مجھے الیکشن سے دستبردار کرانے کے لیے جعلی مقدمات میں گرفتار کیا گیا، میرے کاغذات نامزدگی میں رکاوٹ ڈالی گئی، میرا بھائی کاغذات جمع کرانے جہلم پہنچا تو اسے گرفتار کیا گیا ، اور دھمکی دی گئی کہ جہلم واپس نہ آنا۔

    جج دلاور کی تحقیقات ہونی چاہئیں،بانی پی ٹی آئی کیخلاف ناجائز فیصلہ کیا

    گزشتہ 3 دہائیون میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں …

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک