Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی کے تین ٹکٹ ہولڈرزامید وار  گرفتار

    پی ٹی آئی کے تین ٹکٹ ہولڈرزامید وار گرفتار

    لاہور: پی ٹی آئی کے تین ٹکٹ ہولڈرزامید وار قومی اسمبلی گرفتار کر لئے گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے تین ٹکٹ ہولڈرزامید وار قومی اسمبلی اورنگزیب خان کھچی ، سابق صوبائی وزیر جہانزیب خان کچھی اور سابق ایم پی اے امیدوار حلقہ پی پی 236 علی رضا خان خاکوانی کو چوک میتلا میں کمپین کے دوران پولیس نے گرفتار کرلیا۔
    تازہ ترین
    ساہیوال سرگودھا سے سابق ایم پی اے اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر پی پی 79 تحصیل ساہیوال علی اصغر خان لاہٹری کے گھر پر گرفتاری کے لیے پولیس نے چھاپہ مارا تو اسکا خاندان کا کوئی فرد گھر نہ تھا تو پولیس نے پی پی 80 کے امید وارسابق ایم پی اے چوہدری افتخار حسین گوندل کے گھر پر چھاپہ ماراوہ بھی گھر پر نہ ملے،ریٹرننگ آفیسر کے پاس نشان لینے کے لیے ان کے وکلا پیش ہوئے۔

    مرکزی جمعیت اہلحدیث نے ن لیگ سے علیحدگی اختیار کر لی

    دوسری جانب رحیم یار خان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ممتاز مصطفیٰ کی جانب سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (ڈی آر او) کے دفتر میں گھس کر افسر اور عملے کو یرغمال بنانے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھاکہ ڈی سی اور ڈی آر او آفس میں پی ٹی آئی امیدوار زبردستی گھس آئے، پی ٹی آئی کے ممتازمصطفیٰ ایڈووکیٹ کے ہمراہ 100سے زائد افراد تھے ان کے حامیوں نے دفتری عملے سےبدتمیزی کی اور سرکاری انتخابی دستاویزات چھیننےکی کوشش کی، ممتاز مصطفیٰ کےحامیوں نے ڈی آر و اور عملے کویرغمال بنایا، حلقہ این اے171 سے پی ٹی آئی امیدوارانتخابی دستاویزات میں من پسند ردو بدل کرانا چاہتے تھے، واقعے کی اطلاع ملنے پرپولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی تو ممتاز مصطفیٰ اور ان کے حامی 3 گھنٹے بعد نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے۔

    جنگ بذات خود انسانیت کے خلاف جرم ہے،پوپ فرانسس

    دوسری جانب پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے، پولیس کے مطابق این اے 171 سے پی ٹی آئی امیدوار اور 100 سے زائد حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی ہے،شیر افضل مروت

  • پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی ہے،شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی ہے،شیر افضل مروت

    کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی ہے، آج کراچی کے عوام خود گھروں سے نکل کر آئے ہیں-

    باغی ٹی وی: کراچی میں پی ٹی آئی کی جانب سے بلاول چورنگی سے سی وی یو نشان پاکستان تک ریلی نکالی گئی ریلی میں کئی عرصے سے پس منظر سے غائب رہنے والے پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان ، آفتاب جہانگیر، فہیم خان، راجا اظہر، سعید آفریدی، ایڈووکیٹ علی پلھ، ایڈوکیٹ رحمان مہیسر سمیت دیگر قیادت سی ویو پر موجود تھی۔

    رہنما پاکستان تحریک انصاف شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہمارا انتخابی نشان چھینا گیا، امیدوار گرفتار ہوئے لیکن آج بھی انتخابی عمل کا حصہ ہےپی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی ہے، آج کراچی کے عوام خود گھروں سے نکل کر آئے ہیں لیکن جن لوگوں نے انہیں جلسے کی دعوت دی، وہ خود گھروں سے نہیں نکلے،آج جو لوگ نکلے وہ غیور ہیں۔

    شیر افضل مروت نے ریلی میں بعض رہنماوں کی عدم موجودگی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران سندھ کی قیادت کے علاوہ اسلام آباد میں کسی کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا لیکن آج کے جلسہ میں سندھ کی قیادت ڈھونڈنے پر نہیں مل رہی، جتنے ٹکٹ ہولڈر آئے ان کو سلام جو نہیں آئے ان پر لعنت بھیجتا ہوں ہماری صفوں میں بزدلوں کی کوئی جگہ نہیں، بانی پی ٹی آئی کو بتاؤں گا جو امیدوار بزدلی سے گھروں میں بیٹھے رہے، ہمت نہیں تھی نکلنے کی تو ٹکٹ کیوں مانگا۔

    شیر افضل مروت نے کہا کہ کل عدالتوں میں انصاف کے منہ پر کالک مل دی، عدالتوں نے بلا چھینا، ہمارے امیدوار گرفتار ہوئے، ہمیں ایسے نشان الاٹ کیے گئے جو ہمارے پہچان نہیں ہمارے کاغذات چھینے گئے۔ پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دیا گیا پاکستان میں پاکستانیوں کیخلاف ہی سازش ہوئی، پاکستانیوں سے ووٹ کا حق چھینا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگوں کی پی ٹی آئی سے محبت کا اندازہ ہے، پی ٹی آئی کیلئے ہر سطح پر زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے، میں کراچی والوں کا پیغام عمران خان کو دوں گا بانی پی ٹی آئی کو بتاؤں گا سندھ کے عوام پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں،صبح سے رکاوٹیں لگائی گئیں پولیس کے ڈالے گھوم رہے تھے۔ جس طرح ورکرز نکلے انہیں سلام، ہم 8 فروری تک اپنی جمہوری جنگ لڑیں گے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے سندھ میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹکٹوں کی تقسیم کی مذمت کرتے ہیں جو ٹکٹ ہولڈر آج کی ریلی میں شریک نہیں وہ ہمارے وفادار نہیں 15 سالوں سے پیپلز پارٹی سندھ پر قابض ہے لیکن آج تک سندھ کو قبضوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا، آج بھی کراچی میں شہری پانی ٹینکرز سے خریدنے پر مجبور ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے نے جمہوریت کی سمت درست کی،اکبرایس بابر

    سپریم کورٹ کے فیصلے نے جمہوریت کی سمت درست کی،اکبرایس بابر

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے منحرف بانی رہنما اکبرایس بابر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کوشفاف انٹراپارٹی الیکشن کرواناپڑیں گے۔

    اسلام آباد کے باہر میڈیا سےگفتگو میں اکبر ایس بابر نے کہا کہ پہلی مرتبہ انٹراپارٹی الیکشن کی اہمیت سامنے آئی ہے تفصیلی فیصلے سے انٹراپارٹی الیکشن کی اہمیت واضح ہوگی، سپریم کورٹ کے فیصلے نے جمہوریت کی سمت درست کی، تمام سیاسی جماعتوں کوانٹراپارٹی انتخابات کروانا ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جمہوری نظام میں تجدید کی ضرورت ہے، جھوٹ کے بت ٹوٹ گئے اور سچائی سامنے آگئی، آج اللہ نے انٹراپارٹی الیکشن کیس میں بھی سرخرو کردیا ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی اللہ نےسرخروکیاتھا، ہم نے سچائی کے راستے پر چلنا ہے۔

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا ہے جس کے بعد بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے،آج کے فیصلے سے سپریم کورٹ کے متنازع فیصلوں میں اضافہ ہوا ہے، پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے اختیار پر ایسا فیصلہ دینا درست نہیں، اس فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی،سپریم کورٹ کے فیصلے پرنظرثانی اپیل دائرکریں گے، اس فیصلے سے ہماری مخصوص نشستیں چلی گئی ہیں، ہمارے امیدواروں کے انتخابی نشانات مختلف ہوں گے، ٹیکنیکل بنیادوں پر کیس کا فیصلہ ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان …

    بیرسٹر علی طفر کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ نےپشاورہائیکورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیں گے، اس فیصلے پر بہت بات ہو گی اور تاریخ فیصلہ کرے گی بلے کے متبادل کے طور ہر کئی روز سے تیاری کر رکھی ہے، پارٹی رجسٹر ہے اور پارٹی کو نہیں چھیڑا گیا۔

    نگران وفاقی وزیر تجارت نے تاجروں کیخلاف چارج شیٹ پیش کرد ی

  • پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی نشان بلے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی تمام نشستوں پر آزاد انتخاب لڑے گی، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بلا چھین لیا ، پی ٹی آئی کے امیدوار اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے،ہم سے نشان لے لیا گیا ہے اس کا مطلب نہیں کہ پارٹی ختم ہوگئی ،آپ ووٹ دیں گے 8 فروری کو دوبارہ حکومت بنائیں گے،پارٹی کو نہیں چھیڑا گیا ، نشان واپس لیا گیا ہے-

    تحریک انصاف کا پلان بی، "بلے باز” کے نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو میں کہا کہ آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ،سپریم کورٹ کے متازع فیصلوں میں آج نئے باب کا اضافہ ہوا،تاریخ اس فیصلے کا فیصلہ کرے گی 14 لوگوں کی بات کی گئی وہ پی ٹی آئی کے ممبران نہیں تھے، انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے لیکن آج ایسا نہیں ہوا،بلا رہے نہ رہے، عوام بانی پی ٹی آئی کی آواز پر ووٹ دیں گے ،12 کروڑ ووٹرز میں سے 10 کروڑ ووٹرز پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں-

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

  • پی ٹی آئی رہنما آئی پی پی میں شامل

    پی ٹی آئی رہنما آئی پی پی میں شامل

    لودھراں : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما مہر اشرف سیال نے استحکام پاکستان (آئی پی پی )میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : لودھراں کے سابق رکن اسمبلی مہر اشرف سیال کو پی پی 227 سے آئی پی پی کا ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے ، جبکہ پارٹی پیٹرن انچیف جہانگیر ترین نے پی پی 227 لودھراں سے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لئے ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کے گڑھ لاہور پی پی 149 یوسی 167 سے صدر مسلم لیگ ن ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شامل ہو ئےمختلف وفود کی آئی پی پی پارٹی سیکریٹریٹ لاہور ڈویژن میں مرکزی رہنما محمد شعیب صدیقی سے ملاقات کی-

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ریاض نے کہا ہے کہ میری طبیعت خراب ہو گئی جس کے سبب این اے 104 کے الیکشن سے دست بردار ہو رہا ہوں،راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ میری جگہ اب میرا بیٹا راجہ دانیال شیر کے نشان پر الیکشن لڑے گا، اس فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے، اپنے حلقے کے مسائل حل کرنے میں مشغول ہوں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا شکر گزار ہوں کہ مجھے موقع فراہم کیا، حلقے کی عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کروں گا۔

  • عمران خان توشہ خانہ کیس،مزید 4 گواہان کے بیان قلمبند

    عمران خان توشہ خانہ کیس،مزید 4 گواہان کے بیان قلمبند

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی اوپن کورٹ سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی –

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی اوپن سماعت کی، عدالت میں نیب پراسیکیوٹرز، وکلا صفائی، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی اور 11 صحافیوں اور پی ٹی آ ئی کے 25 کارکنوں کو اجازت دی گئی، عدالت نے مزید چار گواہان کے بیانات قلم بند کیے اور مزید سماعت پیر 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    سماعت سے قبل عمران خان جب کمرہ عدالت میں پہنچے تو کارکنوں نے ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق شکایات شروع کر دیں ،کارکنان کی شکایت پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے ٹکٹوں کے بارے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی، مجھے نہیں معلوم کس کو ٹکٹ ملا کس کو نہیں، 850 ٹکٹوں کے بارے میں زبانی کلامی کیسے فیصلہ کرسکتا ہوں۔

    مرحوم جنید جمشید کے بیٹے رشتہ ازدواج میں منسلک

    عدالت کی ہدایت پر سردار شہباز کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی سے پوچھا کیا میڈیا کے کسی اور رکن کو اندر بلایا ہے، جس پر بانی پی ٹی آئی نے کھڑے ہوکر جج سے مکالمہ کیا کہ کیا ہماری چیزیں میڈیا میں رپورٹ میں ہوتی ہیں کمرہ عدالت میں صحافیوں سے بھی پوچھا کہ کیا میری کوئی چیز رپورٹ ہورہی ہے تو صحافیوں نے جواب دیا کہ آپ کی ہر چیز رپورٹ ہورہی ہے، جس پر عمران خان نے حیرانی سے صحافیوں سے پوچھا کیا کیا کہہ رہے ہیں، صحافیوں نے وضاحت کی کہ ایسا ہی ہے، آپ کی ساری گفتگو میڈیا میں رپورٹ ہو رہی ہے۔

    الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    اڈیالہ جیل میں عدالت نے دو صحافیوں کو روسٹرم پر بلا کر کہا کہ جو صحافی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کور کرتے ہیں ان کی فہرست بنا لیں، صحافیوں نے کہا جیل انتظامیہ جتنے صحافیوں کی فہرست مانگے گی ہم دینے کو تیار ہیں، جس پر عدالت نے کہا آپ فہرست فراہم کریں بعد میں ردوبدل کرتے رہیں گے۔

    سونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ

  • الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    اسلام آباد: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کا معاملہ،سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وکیل حامد خان نے دلائل شروع کئے،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ لاہور میں کیس زیر سماعت تھا تو پشاور ہائیکورٹ کیوں گئے،حامد خان نے کہا کہ دونوں کیسز الگ ہیں، الیکشن کمیشن ادارہ ہے متاثرہ فریق کیسے ہوسکتا ہے،الیکشن کمیشن کی اپیل ناقابل سماعت ہے-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 185 میں اپیل دائر کرنے کیلئے متاثرہ فریق کا ذکر موجود ہے؟ حامد خان نے کہا کہ اپیل کیلئے متاثرہ فریق کا لفظ موجود نہیں ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کو تحلیل کردے تو کیا ادارہ اپیل نہیں کر سکے گا؟،کمیشن کے کسی رکن کو ہٹایا جائے تو کیا کمیشن اپیل نہیں کر سکتا؟معاملہ اگر کسی رکن کی تعیناتی غیرقانونی ہونے کا ہو تو الگ بات ہے-

    حامد خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے متعلق فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت درخواست گزار نہیں ہوسکتی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لئے پتہ نہیں اچھی خبر ہے یا بری کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا وقت سات بجے تک بڑھا دیا ہےآپ اپنے دلائل مکمل کریں فیصلہ بھی کرنا ہے،ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ میں درخواست دائر نہیں کر سکتی،الیکشن کمیشن کیخلاف کیسز ہوسکتے ہیں تو وہ اپنا دفاع کیوں نہیں کر سکتے؟ اگر ہائی کورٹ خود اپیل کرے تو بات مختلف ہوگی، الیکشن کمشین نے انتخابی نشان جمع کرانے کیلئے سات بجے تک کا وقت دیا ہے،یہ پتا نہیں آپ کیلئے اچھی خبر ہے یا بری-

    حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے استدعا دلائل کے آخر میں کروں گا، چیف جسٹس نے حامد خان کو ہدایت کی کہ آپ اپنے دلائل جلدی مکمل کریں،حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امتیازی سلوک روا رکھا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے امتیازی سلوک کا معاملہ پٹیشن میں نہیں اٹھایا، 2021 میں آپ حکومت میں تھے الیکشن کمیشن تب سے الیکشن کا کہہ رہا ہے انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں،پھر آپ کس طرح سے کہہ سکتے ہیں امتیازی سلوک ہو رہا ہے،آپ کی پارٹی کے اپنے لوگ انتخابات کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جسٹس وجیہہ الدین والا انتخاب کس سال میں ہوا تھا،اس انتخاب میں کتنے ایشوز ہوئے تھے یاد ہے،الیکشن کمیشن کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں-

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بااختیار ہونے میں کوئی دو رائے نہیں،اختیارات مختلف حالات کے مطابق دیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کےساتھ دوہرا معیار اپنایا،الیکشن کمیشن نے کسی دوسری جماعت کے انتخابات کی اس طرح سکروٹنی نہیں کی، چیف جسٹس نے کہا کہ جن کی سکروٹنی نہیں ہوئی انہیں فریق بناتے اور الگ الگ کیس کرتے، ایک سیاسی جماعت کا وجود ہی الیکشن کمیشن نے ختم کر دیا ہے؟ حامد خان نے کہا کہ درخواست گزاروں نےخود دستاویزات لگائی ہیں دو جماعتوں کی جہاں بلامقابلہ انتخاب ہوا-

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں کیخلاف کوئی شکایت آئی یا کمیشن سوموٹو لیتا؟ حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندہ تو ہمارے ملک میں مل ہی جاتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس وجیہ الدین نے بھی انتخابات کرائے تھے بہت شور پڑ گیا تھا، حامد خان نے کہا کہ سال 2011/12 کا پارٹی الیکشن میں نے کرایا تھا وجیہ الدین ٹربیونل تھے،انٹراپارٹی انتخابات اندرونی معاملہ ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا،پشاور ہائیکورٹ میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات میں مداخلت نہیں کر سکتا-

    چیف جسٹس نے حامد خان کو دلائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی حامد خان نے کہا کہ الیکشن لڑنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے چیف جسٹس نے کہا کہ چودہ درخواست گزار بھی یہی حق مانگ رہے ہیں،حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیسے پارٹی کے اندرونی معاملے میں مداخلت کر سکتا ہے،الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو کیوں انتخابات سے باہر رکھنا چاہتا ہے، الیکشن کمیشن کروڑوں ووٹرز کو حق سے کیسے محروم کر سکتا ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ڈرامائی الفاظ ہیں، اگر یہ چودہ لوگ الیکشن لڑتے تو ووٹرز کے حقوق کیسے متاثر ہوتے؟جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر ہی نہیں ہیں تو الیکشن کیسے لڑتے،آپ نے خود مانا تھا کہ اکبر بابر بانی رکن ہیں، بانی رکن اپنی پارٹی کےخلاف کیسے عدالتوں میں جا چکا ہے،اکبر بابر کو شوکاز جاری کیا گیا تھا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ شوکاز نوٹس دکھا دیں،حامد خان نے کہا کہ اکبر بابر کا پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج نہیں ہے، تین دن پہلے ایک بانی ممبر ایم کیو ایم میں شامل ہوا ہے، کیا بانی ممبر ہمیشہ ہی رکن رہ سکتا ہے؟ ،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں کیس انتخابی نشان کا ہے اندرونی طریقہ کار کا نہیں، حامد خان نے کہا کہ پارٹی اگر کسی کو ممبر نہ مانے تو اس کا کام ہے خود کو عدالت میں رکن ثابت کرے،چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب وقت زیادہ لگے گا تو نتائج کیلئے بھی تیار رہیں،حامد خان نے کہا کہ مقبول سیاسی جماعت کو الیکشن سے باہر کرنے سے ووٹرز کے حقوق متاثر ہونگے، آئین قانونی اور سیاسی دستاویز ہے،پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کر لئے-

    پی ٹی آئی کیخلاف ایک اور درخواست گزار نورین فاروق عدالت میں پیش ہوئیں،دوران سماعت نو ین فاروق نے کہا کہ 1999 میں پی ٹی آئی کا حصہ بنی اور خواتین ونگ کی مقامی صدر تھی نعیم الحق کی سیکرٹری کےطور پر بھی فرائض انجام دیتی رہی ہوں کسی اور جماعت کا حصہ نہیں بنی،الیکشن لڑنا چاہتی تھی لیکن موقع نہیں ملا، چاہتی تھی ہائی لائٹ ہو جاؤں عمران خان مجھے پارٹی کا اثاثہ اور انسائیکلوپیڈیا کہتے تھے-

  • پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جبکہ 83 حلقوں میں ٹکٹ کا فیصلہ تاحال نہیں ہوسکا۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے 32 اور پنجاب اسمبلی کے 83 حلقوں پر امیدواروں کا اعلان زیرِ التوا رکھا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے والے نمایاں امیدواروں میں شاہ محمود قریشی، زین قریشی ، عمر ایوب خان ، مراد سعید ، اسد قیصر ، راجا بشارت ، عالیہ حمزہ ، میاں اظہر ، یاسمین راشد ، شہریار آفریدی ، لطیف کھوسہ،عامر ڈوگر ، جمشید دستی ،زرتاج گل وزیر اور شیر افضل مروت شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ہونیوالی فہرست کے مطابق پی پی 145 سے یاسر گیلانی ، پی پی 146سے جنید رزاق ایڈوکیٹ کوٹکٹ جاری کیا گیا،پی پی 147 سے محمد خان مدنی ، پی پی 148سے غلام محی ا لدین دیوان کو ٹکٹ ملا،پی پی 149 اور پی پی 150 پر امیدوار کااعلان نہیں ہوا، پی پی 151سے قیصر سہیل بٹ کوامیدوار نامزد کیا گیا۔

    ن لیگ کا طلال چوہدری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    پی پی 152 لاہور سے نعمان مجیدکو ٹکٹ جاری ہوا،پی پی 153 اور 154 پر امیدوارکااعلان نہیں کیا گیاپی پی 155 سےبلال اسلم بھٹی ، 156 سےعلی امتیاز وڑائچ ، 157 سےحافظ فرحت عباس امیدوارہوں گے،پی پی 158سے یوسف علی ، 149 سےمہر شرافت علی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کردیا گیا،پی پی 160 ،پی پی 161 اور پی پی 162 سے پارٹی امیدواروں کااعلان نہیں کیا گیا۔

    یکم رجب المرجب بروز ہفتہ کو ہو گی

    پی پی 163 سےعظیم اللہ خان اور 164 سےیوسف میو پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے،پی پی 165سے امیر بھٹی اور 166 سےخالد محمود گجر کو پی ٹی آئی کاٹکٹ ملا،پی پی 167 سے عامر بشیر گجر ، 169 سےمحمود الرشید اور 170 سے ہارون اکبر امیدوار ہوں گے،پی پی 171 سے میاں اسلم اقبال ، 172 سےمہر واجد پی ٹی آئی ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔

    ن لیگ کی اعلی قیادت نے جلسوں کی تیاری مکمل کرلی

  • عام انتخابات میں شرکت کیلئے پی ٹی‌آئی نےپلان بی جاری کر دیا

    عام انتخابات میں شرکت کیلئے پی ٹی‌آئی نےپلان بی جاری کر دیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا عام انتخابات میں شرکت کیلئے پلان ’بی‘ سامنے آ گیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کا انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان بلے سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس کیس کی مزید سماعت کل ہوگی،پی ٹی آئی کا عام انتخابات میں شرکت کیلئے پلان ’بی‘ سامنے آ گیا، ذرائع کے مطابق بلے کا انتخابی نشان نہ ملا تو پی ٹی آئی دوسری جماعت کے نام اور نشان پر الیکشن لڑے گی، پی ٹی آئی نے اپنے امیدواروں کو دو دو ٹکٹ جاری کیے ہیں، ایک ٹکٹ پی ٹی آئی کا اور دوسرا خالی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

  • بلے کے نشان پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ، الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج متوقع

    بلے کے نشان پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ، الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج متوقع

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کو بلے کا نشان واپس دینے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج متوقع ہے-

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرکے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد بیرسٹر گوہر خان کی چیئرمین شپ بھی بحال ہو گئی تھی،عدالت نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بحال نہ کیا تو توہین عدالت ہوگی، ہائی کورٹ کا فیصلہ اگر سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تو وہاں بھی دلائل دیں گے۔

    ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ 22 دسمبر 2023 کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابی نشان بلے سے محروم کر دیا تھا، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کےفیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی تھی۔

    فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے کاالزام،پولیس ملازمین گرفتار،مقدمہ درج

    غزہ: اسرائیلی فوج کا ایمبولینس پر حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن …