Baaghi TV

Author: +9251

  • لٹریسی ریٹ کم ہے شاید لوگ اس لیے مجھ پرتنقید کرتے ہیں، محمد حفیظ کاجوابی وار

    لاہور:لٹریسی ریٹ کم ہے شاید لوگ اس لیے مجھ پرتنقید کرتے ہیں، محمد حفیظ کاجوابی وار،اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑی اور سابق کپتان محمد حفیظ نے سوشل میڈیا پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے ٹوئٹ کو سیاق وسباق سے ہٹ کر سمجھا گیا۔

    ٹڈی دل کا کمزوردل مراد علی شاہ کی فصلوں پرسخت حملہ

    تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹر محمد حفیظ نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نواز شریف کی طبیعت سے متعلق ٹوئٹ کیا اور ملک میں علاج ومعالجے کی صورت حال پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے ردعمل میں سوشل میڈیا صارفین نے کرکٹر پر لفظی گولہ باری شروع کردی۔

    محمد حفیظ نے ایک ویڈیو کے ذریعے ٹوئٹ کی وضاحت کی، ان کا کہنا تھا کہ میرے ٹوئٹ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھا گیا، میرا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے، تنقید کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ یہاں لٹریسی ریٹ کم ہے، اختلاف رائے کا احترام کرنا چاہیئے۔میرے ٹوئٹ کا غلط مطلب لیا گیا جسے ٹوئٹ سمجھ نہ آیا وہ دوبارہ پڑھیں، نوازشریف کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں، امید ہے نوازشریف صحت یاب ہوکر دوبارہ پاکستان آئیں گے۔

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبراورکرفیوکا106واں دن ، کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتا رہا

    محمد حفیظ نے مزید کہنا تھا کہ ملک میں علاج معالجے کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہے، میرا سوال ہے کیا 20 کروڑ پاکستانی بھی محفوظ نہیں؟ امید کرتا ہوں میرے سوال کے بعد طبی سہولتوں کو بہتر کیا جائے گا۔

  • ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں جنرل پریڈ کاانعقاد

    ٹوبہ ٹیک سنگھ: وقار قریشی DPOٹوبہ ٹیک سنگھ کی زیر نگرانی ڈسٹرکٹ پولیس لائنز ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جنرل پریڈ کاانعقاد کیا گیا پریڈ میں ضلع پولیس، ایلیٹ فورس، ٹریفک پولیس اور پٹرولنگ پولیس کے دستوں نے سلامی دی۔ اس موقع پر DSP/SDPOصدر ٹوبہ نعیم عزیز سندھو،DSPپٹرولنگ ہائی وے پولیس محمود ہارون،لائن آفیسر عطاء محمد OSI بابر نثار،اورPROمحمد عطاء اللہ بھی ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ہمراہ تھے۔DPOٹوبہ ٹیک سنگھ کی جانب سے بہترین ٹرن آؤٹ پرشرکاء پریڈ میں سے15ملازمان پولیس کوتعریفی سرٹیفیکیٹس سے بھی نوازاگیا۔ اس موقع پر وقار قریشی ڈسرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ نے خطاب کرتے ہوئے ڈسپلن، فٹنس اور پولیس ورکنگ کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔DPOٹوبہ ٹیک سنگھ نے کہا کہ دور حاضر میں پولیس کی ذمہ داریاں کافی حد تک وسیع ہوگئیں ہیں۔ پولیس ملازمین کبھی بھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کریں عوام الناس کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔ جرائم کا سدباب، معاشرے میں اموامان اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچانا اولین ذمہ داریاں ہیں پولیس اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے رویوں میں مزید بہتری لانا ازحد ضروری ہے۔ عوام والناس کی مشکلات اور مسائل کا مداوا اور انکی دادرسی پولیس ورکنگ کا بنیادی اصول ہے۔ تمام پولیس افسران و اہلکار اپنی صحت اور فٹنس پر خاص توجہ دیں کسی بھی ذاتی یا محکمانہ مسائل یا مشکلات کے لئے وہ بلا جھجک ڈی پی او آفس میں پیش ہوسکتے ہیں۔ان کی ویلفیئر اور مالی، اخلاقی امداد محکمہ کی ذمہ داری ہے۔

  • شہزادیوں کا جہاں،نیا پاکستان،ایک اورملکہ اب آئےگی پاکستان

    اسلام آباد: شہزادیوں کا جہاں، نیا پاکستان ،ایک اورملکہ پاکستان آنے کو تیار،اطلاعات کےمابق پاکستان میں برطانوی شاہی جوڑے کی آمد نے دنیا کے دوسرے ممالک کے شہزادوں اورشہزادیوں کو پاکستان کا رخ کرنے کرپر مجبورکردیا ہے، پہلے شہزارہ ولیم اور کیٹ پاکستان تشریف لائے تھے تواب پاکستان کے خوبصورت مناظر دیکھنے کے لیے ہالینڈ کی ملکہ “کوئن میکسیما” نے پاکستان آنے کا اعلان کردیا۔

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبراورکرفیوکا106واں دن ، کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتا رہا

    تفصیلات کےمطابق پاکستان ایک اور شاہی مہمان کے استقبال کے لیے تیار ہے، نئے شاہی مہمان کی آمد کے سلسلے میں تیاریوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہالینڈ کی ملکہ کوئن میکسیما 25 سے 27 نومبر تک پاکستان کا دورہ کریں گی۔

    ٹڈی دل کا کمزوردل مراد علی شاہ کی فصلوں پرسخت حملہ

    ملکہ میکسیما اقوام متحدہ کی خصوصی ترجمان برائے مالیاتی ترقی کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کررہی ہے ، ملکہ میکسیما پاکستان کی دعوت پر دورہ کررہی ہیں اور شاہی محل نے ان کے دورہ پاکستان کی تصدیق کردی ہے۔ملکہ میکسیما دورہ پاکستان کے دوران صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف سرکاری و نجی سیکٹرز کے وفود اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گی۔

    میں شراب نہیں پیتا،شہزادہ اینڈریوپرجنسی الزامات،برطانیہ کے شاہی خاندان پربھاری وقت

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبراورکرفیوکا106واں دن ، کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتا رہا

    لاہور:مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبر،قہراورکرفیوکا106 واں روز،کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا مقبوضہ وادی سے اطلاعات کے مطابق وادی میں کرفیو کا106 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے کھلم کھلا کشمیری نوجوانوں کے قتل اور خواتین کی عصمت دری کے عزائم سامنے آنے لگے ہیں، جب کہ مقبوضہ وادی میں ایک سو چھ دن سے کرفیو نافذ ہے۔

    عالمی طاقتوں نے مکمل طور پر چپ سادھ لی ہے، پاکستانی حکومت کی بھرپور کوششوں کے بعد عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کی پہلی بار طاقت ور گونج پیدا ہوئی، تاہم انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور چھوٹے ممالک کو مجبور کرنے والی طاقتیں کشمیر پر خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔106 روز گزرنے کے بعد بھی عالمی طاقتیں جموں و کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن ختم نہیں کروا سکیں۔

    ادھر مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، موبائل سروس، ٹرانسپورٹ بدستور بند ہیں، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی کے تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور دکانیں بھی بند پڑی ہوئی ہیں۔

    بھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، بھارت نے کشمیری رہنماؤں غلام نبی خان، ظفر حسین بٹ کی جائیداد سیل کر دی ہے، کے ایم ایس کے مطابق وادی میں شدید سردی پڑ رہی ہے، دوسری طرف کھانے پینے اور ادویات کی قلت ہے جس کی وجہ سے کشمیری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی بے رحمانہ پامالی، کرفیو، لاک ڈائون، گھر گھر تلاشی کے دوران کشمیری نوجوانوں کی جانوں سے کھیلنے، مساجد میں نماز پڑھنے پر پابندی اور اشیائے خوردنی و ادویات کی قلت کو 103دن گزر گئے ہیں مگر زبانی جمع خرچ سے زیادہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان ظالمانہ اقدامات کو روکنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

    منگل کو گاندربل میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ اس طرح گزشتہ 24گھنٹے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 5ہو گئی۔ اسی دوران ریاست کا اسلامی تشخص مٹانے کے لئے اہم عمارتوں، اسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ گرائونڈز اور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی پر بھی عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔

    لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔

    بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

    ان 100 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

    آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔

    اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔

    بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد وادی میں ٹرین سروس منگل سے دوبارہ شروع ہوگئی۔جموں و کشمیر ریلوے انتظامیہ نے ٹرین سروس بحال کرنے سے قبل ریلوے کی پٹریوں کا معائنہ کیا اور سرینگر سے بارہمولہ تک ٹرائل ٹرین چلائی۔جموں و کشمیر ریلوے کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرین نمبر 74619 صبح 10.05 بجے سرینگر سے روانہ ہوئی اور 11.45 بجے بارہمولہ پہنچی۔ٹرین نمبر74618 ، 11.55 بجے بارہمولہ سے روانہ ہوکر 1.40 بجے سرینگر پہنچی۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ٹرین سروس کو مرحلہ وار شروع کیا جائے گا اور چند روز کے بعد بارہمولہ سے بانیہال کا ٹریک بھی شروع کر دیا جائے گا۔

    مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔

    جموں سرینگر قومی شاہراہ آمد و رفت کے لیے بحال کر دی گئی ۔جموں سرینگر قومی شاہراہ چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے بند تھی جہاں منگل کو دو روز بعد گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔دو روز قبل رامبن میں ڈیگڈول کے قریب قومی شاہراہ پر زمین اور چٹانیں کھسک گئی تھی جس کی وجہ سے شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدو رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ٹریفک پولیس کے سربراہ نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایاکہ گذشتہ روز 270 کلو میٹر لمبی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر بھاری چٹانیں کھسکنے سے سڑک نقل و حرکت کے لیے دوبارہ بند ہو گئی تھی جس کی وجہ سے تقریبا دو ہزار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔ پھنسی ہوئی گاڑیوں کو اب جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں منگل کو ایک تیندوے نے 18 سالہ لڑکے کوہلاک کر دیا۔ایک پولیس عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ پیرشوتم کمار پر پیر کی رات دیر گئے رامکوٹ کے علاقے مکوال گاؤں میں اپنی رہائش گاہ کولوٹتے ہوئے تیندوے کے حملے میں ہلاک ہوا۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی لاش جھاڑیوں سے برآمد ہوئی ہے اور قانونی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد آخری رسومات کے لئے اس کے اہل خانہ کے حوالے کردی گئی۔اس واقعے نے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے ۔

    حریت کانفرنس کے معمر رہنما سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک اہم خط میں اس صورتحال کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ کئے جانے والے تمام معاہدے توڑ ڈالے ہیں، اس لئے پاکستان بھی تاشقند، شملہ اور لاہور معاہدوں سمیت تمام سمجھوتوں سے قطع تعلق کا اعلان کر دے، لائن آف کنٹرول کو دوبارہ جنگ بندی لائن کا نام دے اور ایل او سی پر باڑ کے معاملہ پر نظر ثانی کرے،

    پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔

    لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔

    بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

    ان 103 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

    آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔

    اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔

    بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    ایک کشمیری تھنک ٹینک کشمیرشماریات مرکز(KSC) اور کشمیری صحافیوں کی تنظیم ایسوسی ایشین آف کشمیری ڈس پلیسڈ جرنلسٹس(AKDJ) کے زیر انتظام آج 15نومبرسہہ پہر تین بجے اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینارمنعقد کیا جارہا ہے جس کا عنوان ‘تنازعہ کشمیر : بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، بھارتی تسلط اور ہندوتوا ۔ امن اور انسانیت کے لئے چیلنج اور خطرہ’ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وفاقی وزیربرائے امور کشمیر علی امین گنڈا پورکے علاوہ ڈاکٹر محمد فیصل ترجمان دفترخارجہ ، سابق سفیر عبدالباسط ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ایم ایس شیخ تجمل الاسلام ، ڈاکٹر ماریہ سلطان چیئرپرسن / ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ (SASSI) یونیورسٹی، چیئرمین تنظیم امن و ثقافت مشعال حسین ملک اورماہربین الاقوامی قانون بیرسٹر افضل حسین جعفری اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

    ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔

  • ٹڈی دل کا کمزوردل مراد علی شاہ کی فصلوں پرسخت حملہ

    سیہون:ٹڈی دل،کمزوردل مراد علی شاہ کے حلقے سیہون پہنچ گیا، کھیتوں پر حملہ،اطلاعات کےمطابق فصلوں کے دشمن ٹڈی دل کی سندھ بھر میں تباہ کاریاں جاری ہیں، کراچی کے بعد ٹڈیوں نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے حلقے سیہون پہنچ کر کھیتوں پر حملہ کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ سرکار کی نااہلی کا ایک بار پھر پول کھل گیا، ٹڈی دل نے وزیراعلیٰ کے حلقے میں ہی حملہ کرکے کھیت اجاڑنا شروع کردیا۔ کپاس، پیاز اور گندم کی فصلیں شدید متاثر ہورہی ہیں، کاشتکاروں کی شکایت کے باوجود ضلعی انتظامیہ کا عملہ لاپتہ ہے۔

    امریکہ ترکی کومشورہ نہ دے ہمیں‌ پتہ ہے کہ ہم نے دفاع کیسے کرنا ہے، طیب اردوان

    صوبائی حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، ٹڈی دل کو تاحال ٹھکانے نہیں لگایا جاسکا، سیہون میں کاشتکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈیوں کو کھیتوں سے بھگانے کی کوششیں شروع کردیں۔اندرون سندھ کے بعد ٹڈی دل کا کراچی پر حملہ، وزیر زراعت نے بچنے کا انوکھا مشورہ دے دیا

    لاڈلےکوریلیف دینےوالے یادرکھیں معاشرتی تفریق اورتباہی کے ذمہ بھی یہی ہیں‌، فیصل واڈا

    خیال رہے کہ 10 نومبر کو صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کو اسپرے کرنے کا حکم دیا تھا جس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دل چسپ ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ کراچی کے شہری ٹڈی دل کی کڑھائی اور بریانی بنا کر کھا سکتے ہیں، ٹڈی دل کراچی کے شہریوں کے پاس خود چلا آیا ہے تو فائدہ اٹھائیں۔

    ایواکاڈو سے ٹائپ 2 ذیابیطس میں بھی کمی سے خوشخبری سنادی گئی

    اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کراچی کے بعد بلوچستان چلا گیا ہے، ملیر میں ٹڈی دل نے فصلوں کو نقصان نہیں پہنچایا، شہری پریشان نہ ہوں ٹڈی دل عوام کو نقصان نہیں پہنچاتا، اس کے خاتمے کے لیے نوابشاہ اور بدین میں اسپرے کرا رہے ہیں۔واضح رہے کہ اندرون سندھ کے علاوہ ٹڈی دل کراچی پر بھی حملہ کرچکا ہے۔

  • مولانا شبلی نعمانی وفات پاگئے ، تاریخ‌ اپنے آپ کو دہراتی ہے !

    اعظم گڑھ:تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور آج کے دن 105سال قبل اٹھارہ نومبر 1914ء کو اردو زبان کو علمی سرمائے سے مالا مال کرنے والے نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ۔علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔

    1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔

    ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔

    بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ شخصیت کی تعمیر میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے اور کسی بھی زبان کے لٹریچر میں اس سرمایہ کی موجودگی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ مولانا شبلی نعمانی اس اعتابر سے بڑے نامور ہیں۔ کہ انھوں نے اردو میں بزرگوں کی سیرت کا سرمایہ فراہم کیا۔ ان کا شمار اردو نثر کے عناصر خمسہ میں ہوتا ہے۔

    سیرت النبی، الفاروق، المامون، الغزالی، شعرالعجم، سوانح مولانا روم، سیرت النعمان، موازنہ انیس و دبیر، علم الکام ، اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر اور بے شمار مقالات ان میں سے یادگار ہیں۔ شاعری میں مثنوی صبح امید، قطعات اور دیوان شبلی موجود ہیں۔

  • میں شراب نہیں پیتا،شہزادہ اینڈریوپرجنسی الزامات،برطانیہ کے شاہی خاندان پربھاری وقت

    لندن :میں شراب نہیں پیتا،شہزادہ اینڈریوپرجنسی الزامات،برطانیہ کے شاہی خاندان پربھاری وقت اطلاعات کےمطابق برطانوی ملکہ الزبتھ کے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے خود پر لگنے والے جنسی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں شراب نہیں پیتا اور مجھے پسینہ بھی نہیں آتا ہے۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہزادہ اینڈریو نے برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ورجینیا رابرٹس نامی خاتون سے کبھی ملاقات نہیں کی، میری یاد داشت میں ایسی کوئی خاتون نہیں ہیں.شہزادہ اینڈریو نے بتایا کہ فاک لینڈ کی جنگ میں مجھے گولی لگی تھی جس کے بعد بطور علاج ایڈرینالین کی زیادہ مقدر لینے سے اب مجھے پسینہ نہیں آتا۔

    شہزادہ اینڈریو کا کہنا ہے کہ جس روز ورجینیا کے ساتھ تصویر لینے کی بات ہے وہ بھی غلط ہے، کیونکہ جس روز تصویر لینےکا دعویٰ کیا گیا ہے وہ اس دن اپنی بیٹی کےساتھ پیزا کھانے گئے تھے۔

    شہزادہ اینڈریو پر جنسی استحصال کا الزام لگانے والی امریکی خاتون ورجینیا رابرٹس نے امریکی عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا ہے کہ جب وہ 15 سال کی تھی جب ایک ارب پتی بزنس مین جیفری اپیسٹین نے اسے شہزادہ اینڈریو کے ساتھ مل کر جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا تھا۔

    ورجینیا رابرٹس کا دعویٰ ہے کہ پسینے میں شرابور شہزادے نے اس کے ساتھ ڈانس کیا تھا اور اسے کمسنی میں ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ورجینیا رابرٹس کا شہزادہ اینڈریو پر الزامات لگاتے ہوئے مزید کہنا ہے کہ شہزادے سے اس کی ملاقات نائٹ کلب میں ہوئی تھی جہاں وہ نوکری کرتی تھی، شہزادے نے اسے شراب پلائی اور اس کے ساتھ رقص کیا تھا۔

  • انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے ، ایس پی سٹی احمد شاہ

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی ) عوام کو انصاف کی فراہمی اور سرگودھا سٹی میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے سٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر قابو پاکر لوگوں کو تحفظ کا حساس دلانے کیلئے سرکل کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو احکامات جاری کر دیئے ہیں ان خیالات کا اظہار نئے تعینات ہونیوالے اے ایس پی سٹی احمد شاہ نے صحافیوں سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اپنی تعیناتی کے دوران میری کوشش ہوگی کہ عوام اور پولیس کے مابین پائے جانیوالے فاصلوں کو کم کرکے پولیس کا میج بہتر بناؤں۔ تھانوں میں اپنے کاموں کے سلسلہ میں آنے والے سائلین کو بھی تبدیلی کا احساس ہو میرٹ پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بناکر جہاں آپ لوگوں کو ان حق دیتے ہیں اس کے ساتھ آپ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل کرتے ہیں جس سے انسان کو حقیقی خوشی ملتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈی پی او سرگودھا حسن مشتاق سکھیرا کی راہنماء میں اشتہاریوں اور عادی مجرموں کو جیل کی سلاخوں کے پییچھے ڈالا جائے گا پولیس کا فرض ہے کہ وہ امن و امان کو یقینی بناکر لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کریں دوسری جانب شہریوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے وہ جرائم کے خاتمہ میں بلا خوف و خطر پولیس کی مدد کریں

  • لیہ -لیہ تھل میلہ کی تقریبات اختتام پذیر،

    لیہ – چوتھی تھل جیپ ریلی کے موقع پر لیہ تھل میلہ کی تین روزہ رنگا رنگ تقریبات ریگزار تھل میں اپنی تمام تررنگینوں کو بکھیرتے ہوئے ا نمٹ یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئیں ۔میلہ کے تےسرے اور آخری دن کی تقرےبات کا آغاز قومی پرچم کشائی اور قومی ترانے سے کیا گےا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ذیشان جاوید،ایم این اے عبدالمجیدخان نیازی،صوبائی پارلیمانی سیکرٹری زراعت محمدطاہر رندھاوا،ڈی پی او عثمان اعجاز باجوہ،پی ٹی آئی رہنماسجن خان تنگوانی وبشارت رندھاوا،اسسٹنٹ کمشنرز سلیمان لون و نیاز احمد،ضلعی افسران موجود تھے۔ گزشتہ رات معروف شعراءکرام جن میں تہذیب حافی،مخمور قلندی ودیگر نے اپنا خوبصورت و مترنم کلام پیش کیااورکمشنرڈی جی خان ڈویژن مدثر ریاض ملک،آر پی او ڈی جی خان ڈویژن عمران احمد ،صوبائی وزیر جیل خانہ جات زوار وڑائچ کی صدارت میں کلچرل نائٹ کا پروگرام ہوا جس میں معروف فوک گلوکار شفاءاللہ روکھڑی نے اپنے فن کا مظاہر ہ کیاجسے شرکاءمحفل نے بے حدداد دی علاوہ ازیں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی پیش کیاگیاجبکہ ملک عمران ڈلو نے کمپپئرنگ کے فرائض سرانجام دیے۔آخری روز کی تقریبات میں شرکاءکے تفریح طبع کے لیے مختلف پروگرامز رکھے گئے تھے جن میں کبڈی،سٹیج شو،رسہ کشی،میجک شو،جھومرقابل ذکر تھے۔رسہ کشی کا مقابلہ شاہین کلب نے جیت لیا کبڈی میچ ڈی سی الیون اور ایم پی اے الیون کے درمیان ہوا جو ایم پی اے الیون نے جیت لیا۔ میلہ کے آخری روز بچوں وخواتین و ہزاروں شائقین نے شرکت کی تاحدنگاہ انسانوں کا سمندر نظر آیاجو مختلف سٹالز سے خریداری کرتے رہے و فوڈسٹریٹ میں معیاری کھانوںسے بھی لطف اندوز ہوتے رہے اس موقع پر مختلف سٹالز پر میوزک کا اہتمام کیاگیا تھاجہاں جھومرکامظاہرہ بھی پیش کیاجاتا رہا جس سے شرکاءمحظوظ ہوتے رہے اورشرکاءنے لیہ تھل میلہ کو ایک شاندار اےونٹ قرار دیا جبکہ کامےاب انعقاد ،موثر سیکورٹی،پارکنگ کے انتظامات پر منتظمین کی کاوشوںکو خراج تحسین پیش کی

  • لیہ – ہوٹلوں پر کھانوں کے شوقین ہو جائیں ہوشیار، مرغیوں کے گوشت کے متعلق باغی ٹی وی نے کر دیا ہوشربا انکشاف

    لیہ – مردہ مرغیوں سے بھرا رکشہ پکڑا گیا ، فوڈ اتھارٹی نے600 کلو گرام مرغیاں مردہ قرار دے کرتلف کردیا، نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کاروائی شروع کر دی ، تفصیل کے مطابق نواحی گاءوں چک نمبر 260ٹی ڈی اے کے قریب اہل علاقہ نے مردہ مرغیوں سے لوڈ رکشہ کی نشاندہی کی ،جس پر بروقت کارائی کرنے پر رکشہ ڈرائےور موقع سے فرار ہو گیا ، میڈیا کی نشاندہی پر فوڈ اتھارٹی لیہ نے موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا ، معائنہ کے بعد20عدد بیگ وزن تقریبا 600سو کلو گرام موقع پر تلف کر دئے ، میڈیا کی نشاندہی پر فوڈ ایکٹ کے تحت رکشہ نمبرےLYU-349 ڈرائیور اور دو نامعلوم افراد سمیت تین افراد کے خلاف تھانہ فتح پور پولیس نے مقدمہ درج کر کے قانونی کاروائی شروع کر دی ۔