Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ

    
آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ

    ‎آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    ‎حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، عوامی ریلیف اور مطالبات پر عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک اور مکالمے کے بجائے دباؤ اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔
    ‎ترجمان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج اور ہڑتالوں پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن سڑکیں بند کرنا، عوامی زندگی کو مفلوج کرنا اور ریاستی نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
    ‎حکومت نے واضح کیا کہ عوامی مطالبات کی آڑ میں کسی بھی گروہ کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی قسم کی ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ آزاد کشمیر کو مسلسل احتجاج، ہڑتالوں اور محاذ آرائی کی سیاست کے بجائے استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسمبلی اور جمہوری اداروں کے فیصلوں کو سڑکوں پر دباؤ ڈال کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ 9 جون کو اعلان کردہ ہڑتال یا انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔ عوام کو بندشوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، آئینی عمل اور جمہوری اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
    ‎حکومت آزاد کشمیر کے مطابق مذاکرات کے دروازے آج بھی کھلے ہیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے تصادم اور محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث سیاسی اور سماجی حلقوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • 
ای سی سی کی اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    
ای سی سی کی اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    ‎وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ملک بھر میں ترقیاتی، فلاحی، سکیورٹی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی گرانٹس اور فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں قومی ترقی، عوامی فلاح اور سکیورٹی سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
    ‎ای سی سی نے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پروگرام کے لیے 7 ارب 2 کروڑ 63 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے ہنگور پراجیکٹ کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے تاکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
    ‎اجلاس میں اسلام آباد پیس ٹاکس کے سکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے، جبکہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ دھماکے کے متاثرین کی امداد کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے فاسٹ پیٹرول بوٹس اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 80 کروڑ روپے بھی منظور کیے گئے۔
    ‎دارالحکومت میں سکیورٹی نظام کو جدید بنانے کے لیے اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کے لیے 1 ارب 88 کروڑ 37 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جبکہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی آپریشنل ضروریات کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
    ‎اجلاس میں ریکوڈک منصوبے کے سکیورٹی اخراجات کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ روپے اور پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 73 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ گلگت بلتستان کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے۔
    ‎شہری ترقی کے شعبے میں کراچی اور حیدرآباد کے اربن انفراسٹرکچر پیکجز کے لیے 8 ارب 75 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (SAP) منصوبوں کے لیے 2 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ پاکستان منٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور ہوئی۔
    ‎دوسری جانب پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں خواتین کی ترقی اور خودمختاری کے لیے 4 ارب 95 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی تجویز پیش کی ہے۔ ان منصوبوں میں ورکنگ ویمن ہاسٹلز، ڈے کیئر سینٹرز، خواتین کے بزنس انکیوبیشن سینٹرز، ڈیجیٹل اسکلز پروگرام "ای لرن، شی ارنز” اور دیہی خواتین کے لیے معاشی خودمختاری کے مختلف پروگرام شامل ہیں۔
    ‎حکومت پنجاب کے مطابق خواتین کے لیے روزگار، کاروبار اور جدید مہارتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے، جس سے خواتین کی معاشی شرکت میں اضافہ اور صوبے کی مجموعی ترقی میں بہتری متوقع ہے۔

  • اورنگی ٹاؤن میں بیوی کو قتل کرنے والے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

    اورنگی ٹاؤن میں بیوی کو قتل کرنے والے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

    ‎کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے 11 میں گھریلو تنازع ایک افسوسناک واقعے میں تبدیل ہو گیا، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود پولیس تھانے پہنچ کر جرم کا اعتراف کر لیا۔ واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی جبکہ مقتولہ کے چار بچے ماں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔
    ‎پولیس کے مطابق ملزم بیوی کو قتل کرنے کے بعد براہ راست تھانے پہنچا اور واقعے کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچی اور خاتون کی لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ موقع سے مبینہ آلہ قتل، لوہے کی راڈ بھی برآمد کر لی گئی۔
    ‎عدالت میں پیشی کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ابتدائی تفتیش میں جرم کا اعتراف کر چکا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق مزید شواہد اکٹھے کرنے، آلہ قتل کی فرانزک جانچ اور ملزم کے ممکنہ کریمنل ریکارڈ کی پڑتال کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت نے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق میاں بیوی کے درمیان گھریلو جھگڑے چل رہے تھے۔ مبینہ طور پر اسی تنازع کے دوران ملزم نے لوہے کی راڈ سے وار کر کے خاتون کو قتل کر دیا۔ ڈیوٹی افسر کے مطابق ملزم نے ذاتی رنجش اور گھریلو اختلافات کی بنیاد پر قتل کا اعتراف بھی کیا ہے۔
    ‎مقتولہ چار بچوں کی ماں تھی، جن میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت گھر میں کوئی اور فرد موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے قتل کی واردات بغیر کسی مزاحمت کے انجام دی گئی۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل وجوہات اور پس منظر سامنے لایا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
    ‎سماجی حلقوں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گھریلو تنازعات کے حل کے لیے مؤثر مشاورت اور آگاہی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • 
بلاول بھٹو نے جی بی عوام سے فارم 45 کے تحفظ کی اپیل کر دی

    
بلاول بھٹو نے جی بی عوام سے فارم 45 کے تحفظ کی اپیل کر دی

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ اور انتخابی نتائج کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس بار فارم 45 کے حصول اور حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں ان کے حقوق اور مفادات کی مؤثر نمائندگی کون کر سکتا ہے۔
    ‎گلگت میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے اور اس بار کسی کو بھی عوامی مینڈیٹ پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اس مرتبہ ووٹرز کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
    ‎پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ خطے کے موجودہ چیلنجز اور قومی حالات میں کون سی سیاسی قوت ان کی بہتر نمائندگی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی آواز بلند کی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے جبکہ بے نظیر بھٹو نے ملکی دفاعی صلاحیتوں میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کیے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دور میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بنیاد رکھی گئی، جو توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
    ‎علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خطہ اس وقت کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے اور امن کی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی اور سیاسی کوششیں کامیاب ہوں گی، جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • 
ایران کا امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا انتباہ

    
ایران کا امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا انتباہ

    ‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو استعمال کیا گیا تو تہران انہیں جائز عسکری اہداف تصور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے خطے کے مختلف ممالک کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
    ‎ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے میں استعمال ہونے والے امریکی فوجی اڈے ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت کے مقابلے میں طویل عرصے تک ثابت قدم رہنا ایرانی قوم کے عزم اور طاقت کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حالات نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ایرانی قوم دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے خطے کے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے اقدام کو سنجیدگی سے لے گا جو اس کی سلامتی کے خلاف استعمال ہو سکتا ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی ممالک کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
    ‎تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق تہران خطے میں استحکام، تعاون اور باہمی احترام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ریاض کے ساتھ پائیدار اور مثبت تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر روابط نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق عباس عراقچی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے اور مختلف ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • 
نوجوان کے اکاؤنٹ میں اچانک 21 ارب ڈالر آ گئے

    
نوجوان کے اکاؤنٹ میں اچانک 21 ارب ڈالر آ گئے

    ‎ترکیہ کے مشرقی صوبے وان میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان کے بینک اکاؤنٹ میں اچانک 21 ارب ڈالر سے زائد رقم ظاہر ہونے پر نہ صرف وہ خود حیران رہ گیا بلکہ بینکاری حکام بھی فوری حرکت میں آ گئے۔ واقعے نے سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
    ‎ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ احمد جہانگیر تاکالو، جو آذربائیجان کا شہری ہے، روزمرہ خریداری کے دوران اس وقت پریشان ہو گیا جب اس کا بینک کارڈ اچانک کام کرنا بند کر گیا۔ مسئلے کی وجہ جاننے کے لیے وہ فوری طور پر متعلقہ بینک کی شاخ پہنچا۔
    ‎بینک حکام نے جب اس کے اکاؤنٹ کی تفصیلات چیک کیں تو ایک غیر معمولی انکشاف سامنے آیا۔ ریکارڈ کے مطابق اس کے اکاؤنٹ میں 999 ارب، 999 ملین، 999 ہزار، 999 ترک لیرے اور 99 قروش کی خطیر رقم موجود تھی، جس کی مالیت تقریباً 21 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 60 کھرب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
    ‎یہ غیر معمولی بیلنس دیکھ کر احمد جہانگیر خود بھی حیران رہ گیا۔ اس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ اس کے اکاؤنٹ میں اتنی بڑی رقم کیسے منتقل ہوئی۔ اس کے مطابق اس نے کبھی ایسی کوئی مالی لین دین نہیں کی جو اس رقم سے منسلک ہو۔
    ‎واقعے کے بعد بینک انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر متعلقہ اکاؤنٹس کو فوری طور پر منجمد کر دیا تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ ساتھ ہی مالیاتی اداروں اور متعلقہ حکام نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ بینکنگ سسٹم میں کسی تکنیکی خرابی، ڈیٹا انٹری کی غلطی یا سافٹ ویئر کے مسئلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق جدید بینکاری نظام میں بعض اوقات تکنیکی خرابیوں کے باعث اکاؤنٹس میں غیر حقیقی بیلنس ظاہر ہو سکتا ہے، تاہم ایسے معاملات فوری طور پر درست کر لیے جاتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بینکنگ سسٹمز میں ڈیجیٹل نگرانی اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔

  • 
اسلام آباد کے لیے الگ اسمبلی بنانے کی تجویز

    
اسلام آباد کے لیے الگ اسمبلی بنانے کی تجویز

    ‎وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی لانے اور الگ قانون ساز اسمبلی قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے قائم خصوصی کمیٹی نے اپنی سفارشات وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی ہیں، جن پر منظوری کے بعد باقاعدہ قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق خصوصی کمیٹی میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری اور مصدق ملک شامل تھے۔ کمیٹی نے اسلام آباد کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے لیے ایک نیا حکومتی ڈھانچہ تجویز کیا ہے۔
    ‎تجاویز کے مطابق اسلام آباد کے لیے ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی قائم کی جائے گی، جس کے ارکان کی تعداد 20 سے 30 کے درمیان ہوگی۔ اسمبلی کے اراکین براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوں گے اور دارالحکومت سے متعلق قانون سازی اور عوامی مسائل کے حل کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اسلام آباد کا ایک الگ چیف ایگزیکٹو مقرر کیا جائے جو مقامی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔ اس کے علاوہ اسمبلی کا اپنا علیحدہ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ قانون سازی اور انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
    ‎ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت دارالحکومت کے ترقیاتی اور انتظامی معاملات بھی نئی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو مضبوط بنانا اور شہری مسائل کے حل کو تیز تر بنانا ہے۔
    ‎حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی آبادی میں مسلسل اضافہ اور شہری ضروریات میں وسعت کے باعث ایک جدید اور بااختیار مقامی حکومتی نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ نئی اسمبلی کے قیام سے شہریوں کو براہ راست نمائندگی ملے گی اور مقامی ترقیاتی منصوبوں پر بہتر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
    ‎ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اس معاملے پر پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ اگر تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو اسلام آباد کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں یہ ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہوگی، جس کے اثرات دارالحکومت کی گورننس اور عوامی خدمات پر مرتب ہوں گے۔

  • 
پاکستان کو 5 سال میں 123 ارب ڈالر درکار ہوں گے

    
پاکستان کو 5 سال میں 123 ارب ڈالر درکار ہوں گے

    ‎پاکستان کی معیشت کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ دستاویزات نے آئندہ برسوں کے مالی چیلنجز کی نشاندہی کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگلے پانچ سال کے دوران پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 123 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جس کے باعث بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر انحصار ختم ہونے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق پاکستان کا موجودہ 7 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام اگلے سال ستمبر یا اکتوبر میں مکمل ہونے جا رہا ہے۔ تاہم قرضوں کی واپسی، جاری مالی ضروریات اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث مستقبل میں پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف یا دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ 21.2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد مالی سال 2027-28 میں یہ ضروریات بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎مالی سال 2028-29 کے دوران بیرونی مالی ضروریات تقریباً 23 ارب 59 کروڑ ڈالر رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2029-30 میں یہ ضرورت 22 ارب ڈالر تک محدود رہ سکتی ہے۔ اس کے باوجود 2030-31 میں بیرونی فنانسنگ کی ضروریات دوبارہ بڑھ کر 26 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 3.6 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اگر برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
    ‎اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر آئی ایم ایف کے پروگراموں سے نکلنے کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ، صنعتی ترقی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صرف قرضوں کے ذریعے معیشت کو سہارا دینا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔
    ‎ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت معاشی اصلاحات کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھتی ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بناتی ہے تو آنے والے برسوں میں بیرونی مالی انحصار میں کمی لانا ممکن ہو سکتا ہے۔

  • 
بہاولپور میں کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق

    ‎بہاولپور کے علاقے یزمان میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق یہ واقعہ سیوریج ڈسپوزل موٹر سے کرنٹ لگنے کے باعث پیش آیا، جس نے ایک ہی خاندان سمیت کئی افراد کی جان لے لی۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حادثہ یزمان تحصیل کے ایک دیہی علاقے میں پیش آیا، جہاں سیوریج نظام سے متعلق ایک ٹربائن روم میں موٹر کو چلانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اسی دوران اچانک بجلی کا شدید کرنٹ پھیل گیا جس کی زد میں آ کر چار افراد جان کی بازی ہار گئے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص کو کرنٹ لگنے کے بعد دیگر افراد اسے بچانے کے لیے آگے بڑھے، تاہم وہ بھی بجلی کے جھٹکے کی زد میں آ گئے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے لاشوں کو تحویل میں لے کر ضروری کارروائی کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہو گئے۔
    ‎مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ موٹر اور بجلی کے نظام میں حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق بجلی سے چلنے والی مشینری اور موٹروں کے استعمال کے دوران حفاظتی اصولوں پر عمل نہ کرنے سے ایسے جان لیوا حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ اور حفاظتی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔
    ‎انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ اہل خانہ اور مقامی آبادی متاثرین کے لیے انصاف اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کر رہی ہے۔

  • خیبرپختونخوا میں 56 ارب روپے کے 41 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    خیبرپختونخوا میں 56 ارب روپے کے 41 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    ‎خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے 56 ارب روپے سے زائد لاگت کے 41 اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 21ویں اجلاس میں مختلف شعبوں سے متعلق منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
    ‎اجلاس میں صحت، تعلیم، توانائی، مواصلات، آبپاشی، کھیلوں اور ڈیجیٹل گورننس سمیت متعدد شعبوں کے منصوبے شامل تھے۔ حکام کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان ڈویژنز میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت نئی بلیک ٹاپ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ مختصر راستوں اور متبادل شاہراہوں کی تعمیر سے ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
    ‎صحت کے شعبے میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال اور سوات کے علاقے کبل میں پیڈز اسپتال کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے 100 ماہر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ محکمہ صحت میں نگرانی کے مؤثر نظام کے لیے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا۔
    ‎سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے وسطی اور جنوبی اضلاع میں فلڈ پروٹیکشن منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ کوہاٹ میں سماری پایان ڈیم کی تعمیر، کرم اور اورکزئی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی کشادگی اور بحالی جبکہ جنوبی وزیرستان میں اہم شاہراہوں کی بہتری کے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔
    ‎توانائی کے شعبے میں بینک آف خیبر کے تعاون سے سولر ہوم سسٹم منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی منظوری دی گئی، جس سے دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ جنوبی وزیرستان اور کرم میں پن بجلی کے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔
    ‎تعلیم کے شعبے میں سوات میں زرعی یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی گئی جبکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس اور قیوم اسٹیڈیم کے فٹبال گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مزید برآں بے روزگار وٹرنری گریجویٹس کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی، خیبرپختونخوا ڈیجیٹل گورننس منصوبہ، ملاکنڈ میں جبن درگئی عوامی پارک اور جانی خیل ٹی ایس ڈی وزیر کے لیے مربوط ترقیاتی پیکج کی منظوری بھی اجلاس میں دی گئی۔