دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر لاپتہ ہونے کے بعد چھ روز تک انتہائی خطرناک حالات میں زندہ رہنے والے نیپالی شیرپا گائیڈ نے اپنی بقا کی حیران کن داستان بیان کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدید سردی، آکسیجن کی کمی اور خوراک نہ ہونے کے باوجود برف اور جیب میں موجود چند چاکلیٹس کے سہارے زندگی برقرار رکھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 52 سالہ داوا شیرپا نے بتایا کہ وہ دراصل لاپتہ نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کے آکسیجن سلنڈر ختم ہو جانے کے باعث وہ واپس آنے والے گروپ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہائی مشکل حالات میں زندہ رہنے کے لیے وہ برف چباتے رہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور وقتاً فوقتاً جیب میں موجود چاکلیٹس کھا کر توانائی حاصل کرتے رہے۔
داوا شیرپا اس وقت نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کا ڈی ہائیڈریشن، فروسٹ بائیٹ اور ایک ٹوٹی ہوئی ہڈی کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ بتدریج صحت یاب ہو رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق داوا شیرپا ایک پولش کوہ پیما کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کے بعد واپس آ رہے تھے، جب وہ کیمپ تھری اور کیمپ فور کے درمیان شدید موسمی حالات کے باعث پھنس گئے۔ دونوں کوہ پیما چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
ان کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ اور ساتھی کوہ پیماؤں نے انہیں مردہ تصور کر لیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے خاندان نے آخری رسومات کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ تاہم ایک ہفتے بعد ان کا زندہ مل جانا نہ صرف خاندان بلکہ کوہ پیمائی کی دنیا کے لیے بھی ایک حیران کن واقعہ ثابت ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کے انتہائی بلند اور سرد علاقوں میں خوراک اور اضافی آکسیجن کے بغیر کئی دن تک زندہ رہنا غیر معمولی بات ہے۔ اسی وجہ سے داوا شیرپا کی بقا کو ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔
نیپالی شیرپا دنیا بھر میں اپنی کوہ پیمائی کی مہارت اور برداشت کے لیے مشہور ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد شیرپا گائیڈز نے ایورسٹ پر اہم ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں اور دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر کوہ پیماؤں کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایورسٹ پر 6 دن پھنسے شیرپا نے زندگی کی داستان سنا دی
-

جاپان میں ریچھ کا فیکٹری پر حملہ، 4 افراد زخمی
جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں ایک ریچھ الیکٹرانکس فیکٹری میں داخل ہو گیا اور حملہ کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا۔ واقعے کے بعد ریچھ کئی گھنٹوں تک فیکٹری کے اندر موجود رہا اور حکام کی تمام کوششوں کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریچھ اچانک فیکٹری میں داخل ہوا اور وہاں موجود ملازمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ واقعے کے بعد فیکٹری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ریچھ فیکٹری کے اندر ہی چھپا رہا۔ امدادی اور جنگلی حیات کے ماہرین نے اسے پکڑنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تاہم وہ ہر کوشش سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ رات کے وقت ریچھ نے کھڑکی کی کنڈی کھول کر فیکٹری سے فرار ہونے کا راستہ بنایا اور موقع سے نکل گیا۔
رپورٹس کے مطابق ریچھ نے فیکٹری کے اندر موجود پانی کے نل کو اپنے پنجوں سے کھول کر پانی بھی پیا، جس نے حکام اور ماہرین کو حیران کر دیا۔ اس غیر معمولی رویے کے باعث جانور کی ذہانت پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ریچھ کو قابو کرنے کے لیے حکام نے پہلے بے ہوش کرنے والے انجیکشن گن کا استعمال کیا، لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ بعد ازاں اسے شہد اور اس کے پسندیدہ پھلوں کی مدد سے پھانسنے کی کوشش بھی کی گئی، مگر یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہو سکی۔
فوکوشیما کے میئر نے ریچھ کے فرار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "انتہائی ذہین” قرار دیا اور کہا کہ جانور نے غیر معمولی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ حکام اب بھی علاقے میں ریچھ کی تلاش میں مصروف ہیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ جاپان میں حالیہ برسوں کے دوران ریچھوں کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران ریچھوں کے حملوں میں کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے بعد جنگلی حیات اور انسانی آبادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگلات کے سکڑنے اور خوراک کی تلاش میں جنگلی جانوروں کے شہری علاقوں کا رخ کرنے کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ -

فلائی جناح زم زم جدہ میں چھوڑ آئی، حجاج پریشان
حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آنے والے متعدد حجاج کرام کو اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب معلوم ہوا کہ فلائی جناح کی پرواز 9P701 ان کے لیے لایا گیا آبِ زم زم جدہ میں ہی چھوڑ آئی ہے۔ مسافروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف انتظامی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ حجاج کے لیے روحانی اہمیت رکھنے والی امانت کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچنے والے حجاج کرام سامان وصول کرنے کے لیے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک بیگیج بیلٹ پر انتظار کرتے رہے۔ تاہم اس دوران انہیں زم زم کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں ایئرلائن کے ایک نمائندے نے بتایا کہ زم زم حاصل کرنے کے لیے اگلے روز دوبارہ ایئرپورٹ آنا ہوگا۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ جب وہ اگلے دن ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ آبِ زم زم اسلام آباد پہنچا ہی نہیں بلکہ جدہ ایئرپورٹ پر رہ گیا ہے۔ اس اطلاع کے بعد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے حجاج مزید پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔
متاثرہ مسافروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر زم زم کی عدم ترسیل ایئرلائن کی غلطی تھی تو اضافی سفری اخراجات اور وقت کے ضیاع کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ دور دراز علاقوں سے دوبارہ ایئرپورٹ آنا ان کے لیے مالی اور جسمانی طور پر مشکل ہے۔
حجاج کرام کا کہنا ہے کہ آبِ زم زم ان کے لیے صرف ایک بیگ یا سامان کا حصہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت اور روحانی تحفہ ہے، جسے وہ اپنے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور دوستوں تک پہنچانے کی نیت سے ساتھ لاتے ہیں۔ اس لیے اس کی ترسیل میں غفلت کو معمولی انتظامی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایئرلائن اس معاملے کی مکمل وضاحت کرے اور زم زم کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنائے۔ ساتھ ہی ایسے حجاج جنہیں دوبارہ ایئرپورٹ آنے پر مجبور کیا گیا، ان کے اضافی سفری اخراجات کے ازالے پر بھی غور کیا جائے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ حج کے بعد وطن واپسی کے سفر کو خوشگوار اور آسان بنانا ایئرلائنز کی ذمہ داری ہے، تاکہ حجاج کرام کو غیر ضروری مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ -

گرفتار خارجی کے اہم انکشافات، نوجوانوں کو خبردار کر دیا
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے رکن عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے اندرونی معاملات اور سرگرمیوں سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔ اس نے نوجوانوں کو بھی انتباہ کیا ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔
عمر دین عرف جذبہ کے مطابق اس نے اپنے والد کے ساتھ اختلافات اور گھریلو تنازع کے بعد تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ جذباتی فیصلوں اور غلط رہنمائی کے باعث وہ اس راستے پر چلا گیا، جس پر بعد میں اسے شدید پچھتاوا ہوا۔
گرفتار رکن نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے کئی بڑے کمانڈروں کے ساتھ درجنوں افغان جنگجو موجود ہیں اور متعدد افراد نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے۔ اس کے مطابق مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تربیتی سرگرمیوں میں بیرونی عناصر بھی شامل رہے ہیں۔
عمر دین نے مزید دعویٰ کیا کہ مذکورہ نیٹ ورک شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ملوث تھا، جس میں ماہ رمضان کے دوران سات پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ اس نے کہا کہ تنظیم مختلف دہشت گرد کارروائیوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
اعترافی بیان میں اس نے الزام عائد کیا کہ تنظیم کے بعض ارکان منشیات کے استعمال میں ملوث ہیں اور مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس کے مطابق بعض کمانڈرز اپنے دعوؤں اور عملی رویوں میں تضاد رکھتے ہیں۔
گرفتار شخص نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنظیم کو افغانستان میں موجود بعض کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے مطابق بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے، اغوا برائے تاوان اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں تنظیم کی آمدنی کے ذرائع میں شامل ہیں۔
عمر دین کا کہنا تھا کہ تنظیم نوجوانوں کو شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر متاثر کرتی ہے اور مختلف طریقوں سے انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے دعوؤں اور گمراہ کن بیانیوں سے محتاط رہیں اور اپنی زندگی کو مثبت سرگرمیوں اور تعلیم کے لیے وقف کریں۔ -

خیبرپختونخوا کا بجٹ سرپلس نہیں، متوازن بجٹ پیش ہوگا
خیبرپختونخوا حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ سرپلس نہیں ہوگا بلکہ متوازن بجٹ پیش کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے کو مالی وسائل اور وفاقی محاصل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح سرپلس بجٹ دینا ممکن نہیں رہا۔
محکمہ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے انعقاد میں تاخیر اور مالی تقسیم کے معاملات واضح نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت کو بجٹ سازی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے مالی سال 2026-27 کے لیے متوازن بجٹ تیار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 2300 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی اعداد و شمار وفاقی حکومت کی جانب سے مالیاتی تخمینوں اور محصولات کی تقسیم کے اعلان کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے کی مالی ضروریات کا 90 فیصد سے زائد حصہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے حاصل ہونے والی رقم پر منحصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی بجٹ اور محصولات کی تقسیم کے خدوخال واضح نہ ہونے تک صوبائی بجٹ کی حتمی تیاری ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے تاحال اپنے بجٹ کی مکمل تفصیلات اور مالیاتی فریم ورک واضح نہیں کیا، جس کے باعث صوبائی حکومت کو آمدنی اور اخراجات کے درست تخمینے لگانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبے بھی وفاقی محاصل پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں، اس لیے این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی مالی پالیسیوں میں تاخیر صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی خدمات کے لیے وسائل مختص کیے جائیں گے۔ بجٹ میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے شعبوں کو ترجیح دیے جانے کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت آئندہ چند روز میں بجٹ کی مزید تفصیلات سامنے لائے گی، جس کے بعد ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اخراجات اور محصولات کے حوالے سے مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔ -

480 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس، دیامر میں دفعہ 144 نافذ
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ ضلع دیامر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ صوبائی انتظامیہ اور الیکشن حکام نے انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور پرامن بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 24 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ انتخابات میں 7 خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں، جو مختلف حلقوں میں اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔
صوبے بھر میں ووٹنگ کے لیے 1368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 480 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس، 350 کو حساس جبکہ 457 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔ حساس علاقوں میں اضافی سیکیورٹی اور خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 780 ہے۔ ان میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد ووٹرز جبکہ 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں، جو اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
صوبائی حکومت نے سیکیورٹی پلان بھی حتمی شکل دے دی ہے۔ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 15 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی معاونت فراہم کریں گے۔
انتخابی عمل کے انتظامی امور کے لیے ہزاروں افسران اور سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے۔ انتخابی فرائض انجام دینے والے تقریباً ساڑھے سات ہزار افسران اور ملازمین کے لیے 27 کروڑ 60 لاکھ روپے اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔ ریٹرننگ افسران، اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران، پریزائیڈنگ افسران، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران اور پولنگ افسران کے لیے بھی الگ الگ اعزازیے مختص کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ضلع دیامر میں 60 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ، پٹاخوں کے استعمال اور غیر مجاز ڈرون پروازوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ ڈرون استعمال کرنے کے لیے ضلعی مجسٹریٹ سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ -

بجٹ پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں اہم ملاقات آج متوقع
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے سلسلے میں وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی سے رابطہ کر لیا ہے، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان اہم مشاورتی ملاقات آج متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایوانِ صدر میں ہونے کا امکان ہے جہاں بجٹ تجاویز، ترقیاتی منصوبوں اور مالی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری مشاورت کا مقصد آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اتفاق رائے پیدا کرنا اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنا ہے۔ اس نشست میں وفاقی ترقیاتی پروگرام، صوبوں کے لیے مالی وسائل اور عوامی فلاحی منصوبوں سمیت مختلف اہم امور زیر غور آئیں گے۔
اطلاعات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری ملاقات میں موجود ہوں گے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، نوید قمر اور شیری رحمان شریک ہوں گے۔
حکومتی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی بھی ملاقات میں شرکت کا امکان ہے، جس سے اس نشست کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری، حکومتی وفد سے مذاکرات سے قبل صدر آصف علی زرداری سے علیحدہ ملاقات بھی کریں گے، جس میں بجٹ اور سیاسی معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔
پیپلز پارٹی پہلے ہی بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز مرتب کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے چکی ہے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور صوبوں کے حقوق کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات آئندہ بجٹ کی منظوری اور اتحادی حکومت کے استحکام کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ امکان ہے کہ دونوں فریق ترقیاتی فنڈز، صوبائی منصوبوں اور عوامی ریلیف سے متعلق امور پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔
حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والی یہ مشاورت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی سمت اور سیاسی ماحول پر بھی نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ -

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل
گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ نے پولنگ کے روز شفاف، پرامن اور منظم انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
حکام کے مطابق ریٹرننگ افسران (آر او) کے دفاتر سے انتخابی سامان مختلف پولنگ اسٹیشنز کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔ بیلٹ پیپرز، بیلٹ بکس، انتخابی ریکارڈ اور دیگر ضروری مواد کی محفوظ ترسیل کے لیے جامع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر سے بچا جا سکے۔
انتخابی عملے کی تعیناتی اور انہیں متعلقہ پولنگ اسٹیشنز تک پہنچانے کے لیے بھی تمام انتظامات حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں عملے اور سامان کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ کے روز ووٹرز کو سہولت فراہم کرنے اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔ حساس اور انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔
گلگت بلتستان میں انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں آخری مراحل کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ امیدوار عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جلسے، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق انتخابی سامان کی ترسیل مکمل ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشنز پر حتمی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ ووٹنگ کے دن تمام عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔ -

کیپٹن(ر) صفدر کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی بات پر تبصرہ کروں، شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے بیانات کو اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی باتوں پر تبصرہ کیا جائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر ماضی میں مزار قائد کے تقدس اور حرمت کا خیال رکھنے میں بھی ناکام رہے تھے، اس لیے ان کے بیانات پر ردعمل دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی یادگاروں اور تاریخی مقامات کا احترام ہر سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کی حمایت اور پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں کلین سوئپ کرے گی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی ہے، اسی وجہ سے عوام کا اعتماد پارٹی پر برقرار ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے لیے درست فیصلے کریں گے۔
کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ شہر پر آبادی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کی آبادی بھی کراچی کی آبادی سے کم ہے، جس کی وجہ سے شہری انفراسٹرکچر اور وسائل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ، خصوصاً کراچی، کو ترقیاتی منصوبوں میں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا یہ حق دار ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق صوبے میں موٹرویز اور مواصلاتی منصوبوں کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں اور وفاقی سطح پر سندھ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
سینئر وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی اور سندھ کی ترقی پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ -

پاکستان کا تجارتی خسارہ 39 فیصد کم ہوگیا
پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مئی 2026 کے دوران ملک کے تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی کے باعث تجارتی توازن میں بہتری دیکھی گئی، جسے ماہرین معیشت استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ برآمدات میں اضافے سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملتا ہے بلکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے۔
دوسری جانب درآمدات میں 22 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق غیر ضروری اشیاء کی درآمدات پر کنٹرول، مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی اور متبادل مصنوعات کے استعمال نے درآمدی بل میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارے میں نمایاں کمی ملکی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ برآمدات بڑھانے، درآمدات کو متوازن رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے پر مرکوز ہے۔
خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ معیشت کو صرف تجارتی شعبے سے ہی نہیں بلکہ دیگر ذرائع سے بھی تقویت مل رہی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر بھی مثبت رجحان دکھا رہی ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کسی بھی معیشت کے لیے خوش آئند اشارہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے تجارتی خسارہ کم ہوتا ہے اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ میں کمی آتی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی اقتصادی استحکام میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔
حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ حالیہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملکی معیشت بتدریج درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور معاشی اصلاحات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔