Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • حکومت نے پیٹرول سستا کردیا: جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار

    حکومت نے پیٹرول سستا کردیا: جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار

    ‎حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مقامی معاشی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی، تاہم ڈیزل کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی مالیاتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
    ‎دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت نے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق بعض دور دراز علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ کئی شہروں اور قصبوں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی محدود ہونے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ متعدد مقامات پر پمپس عارضی طور پر بند بھی ہو چکے ہیں۔
    ‎مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت صرف سفری مشکلات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
    ‎شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرکے غیر قانونی منافع کمانے والوں کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی عوام کے لیے ایک مثبت قدم ہے، تاہم بلوچستان میں جاری قلت اور مہنگے داموں فروخت ہونے والا ایندھن اس ریلیف کے اثرات کو محدود کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کی بہتری اور موثر نگرانی کے ذریعے ہی صورتحال کو معمول پر لایا جا سکتا ہے۔

  • 
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    ‎پاکستان نے گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس قسم کے دعوے زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
    ‎اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کے فروغ کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    ‎دفتر خارجہ کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق یعنی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔
    ‎بیان میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
    ‎دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لے اور مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا کو رسائی فراہم کرے تاکہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

  • 
مشرقِ وسطیٰ جنگ سے لاکھوں افراد بھوک کے خطرے سے دوچار

    
مشرقِ وسطیٰ جنگ سے لاکھوں افراد بھوک کے خطرے سے دوچار

    ‎اقوامِ متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں مزید افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق جنگ کے اثرات صرف تنازع والے علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور سپلائی چین کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔
    ‎ڈبلیو ایف پی کے مطابق ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے نے خوراک کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار مالی وسائل کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امدادی تنظیمیں محدود وسائل کے باعث اپنی امدادی کارروائیوں میں کمی کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر کمزور اور غریب آبادیوں پر پڑ رہا ہے۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج فارس میں کشیدگی اور اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں کئی بحری جہازوں کو اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑے، جس سے سامان کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں تاخیر پیدا ہوئی۔
    ‎ڈبلیو ایف پی کے مطابق افغانستان، صومالیہ اور سری لنکا ان ممالک میں شامل ہیں جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک کے عوام کو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایندھن کے مہنگے ہونے، آمدنی میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
    ‎ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں تقریباً 6.5 ملین افراد، جو ملک کی ایک تہائی آبادی کے برابر ہیں، 2026 تک شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان میں 17.4 ملین افراد خوراک کی کمی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
    ‎رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں ختم نہ ہوئیں تو صومالیہ میں مزید 2.5 ملین جبکہ افغانستان میں مزید 2.3 ملین افراد شدید بھوک اور غذائی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک خوراک اور توانائی کی درآمدات پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں، اس لیے عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ان کے لیے سنگین انسانی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے عالمی برادری سے فوری امدادی اقدامات اور مالی تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے تاکہ لاکھوں جانوں کو بھوک اور غذائی قلت سے بچایا جا سکے۔

  • 
ٹرمپ کا اعتراف، ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں

    
ٹرمپ کا اعتراف، ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں ہے اور اسے ایک آسان یا فوری تنازع نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے صورتحال پیچیدہ ہے اور اس کے حل کے لیے مختلف عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی نوعیت واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور یہ واشنگٹن کی بنیادی پالیسی رہے گی۔
    ‎ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اگر چاہے تو ایران سے جوہری مواد نکال سکتا ہے، تاہم ان کے بقول اس وقت ایسا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سفارتی اور سیاسی ذرائع سے بھی معاملات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
    ‎امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور اسے جلد مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
    ‎ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے امکان کے بارے میں سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ذاتی خواہش ایسی ملاقات کی نہیں، تاہم اگر کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقات ضروری ہوئی تو وہ اسے اعزاز سمجھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کا مقصد تنازعات کا حل اور استحکام کا فروغ ہونا چاہیے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو اہمیت دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک اہم اختلافی نکات پر پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں کمی اور استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
    ‎عالمی برادری بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی بھی مثبت یا منفی پیش رفت کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
غازی آباد میں مدرسہ مسمار، دو افراد گرفتار

    
غازی آباد میں مدرسہ مسمار، دو افراد گرفتار

    ‎بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے، جہاں اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ایک مدرسے کو مسمار کیے جانے اور دو افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر مختلف ردعمل کو جنم دیا ہے اور مذہبی آزادی و اقلیتی حقوق کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ مدرسہ سرکاری زمین پر قائم کیا گیا تھا، جس کے باعث کارروائی عمل میں لائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ زمین سے متعلق قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔
    ‎دوسری جانب مدرسے کی انتظامیہ نے انتظامیہ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ سن 2000 سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور اس کے پاس تمام ضروری قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ مدرسہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ادارے کے خلاف کارروائی غیر ضروری اور قابل اعتراض ہے۔
    ‎اس واقعے کے بعد مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
    ‎رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک ہندو تنظیم کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ دارالعلوم دیوبند کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد تعلیمی اور مذہبی حلقوں میں مزید بحث شروع ہو گئی ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں مذہبی اور اقلیتی امور سے متعلق واقعات اکثر قومی سطح پر توجہ حاصل کرتے ہیں اور ان کے سیاسی و سماجی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف قانونی عمل اور تمام فریقوں کے حقوق کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔
    ‎فی الحال واقعے سے متعلق مختلف دعوے اور مؤقف سامنے آ رہے ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • 
حق مہر کی زمین پر شوہر بیوی کے حقوق سلب نہیں کرسکتا، لاہور ہائیکورٹ

    
حق مہر کی زمین پر شوہر بیوی کے حقوق سلب نہیں کرسکتا، لاہور ہائیکورٹ

    ‎لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر میں دی گئی زمین کے تنازع سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں موجود کسی ابہام یا تکنیکی نکتے کا سہارا لے کر بیوی کے قانونی اور شرعی حقوق سلب نہیں کر سکتا۔ عدالت نے اس معاملے کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے تناظر میں ایک اہم نظیر قرار دیا ہے۔
    ‎جسٹس سلطان تنویر احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سیشن کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت حق مہر میں مقرر کی گئی زمین کے بدلے خاتون کو 16 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے کیس دوبارہ سماعت اور نئے فیصلے کے لیے اپیلٹ کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔
    ‎عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا تھا اور نکاح کے وقت خاتون کے حق مہر میں دو ایکڑ زرعی زمین مقرر کی گئی تھی۔ بعد ازاں شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ نکاح نامے کے اندراج کی بنیاد پر زمین منتقل کرنے کے بجائے رقم ادا کی جا سکتی ہے، جس پر خاتون نے عدالت سے رجوع کیا۔
    ‎لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نکاح نامہ ایک باقاعدہ سول معاہدہ ہے اور اس کی تشریح فریقین کی اصل نیت، مقاصد اور معاہدے کے حقیقی مفہوم کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ محض تکنیکی یا مبہم نکات کی بنیاد پر کسی خاتون کو اس کے جائز حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی وجہ سے حق مہر میں دی گئی زمین کے بدلے رقم ادا کرنا ضروری ہو تو اس کی مالیت موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق طے کی جائے گی، نہ کہ کئی سال پرانی یا من مانی قیمت کے مطابق۔ اس اصول کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خاتون کو اس کے حق کا مکمل اور منصفانہ معاوضہ مل سکے۔
    ‎فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں یہ جانچیں کہ نکاح کے وقت خاتون کو اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور معاہدے کی تمام شرائط کا مکمل ادراک تھا یا نہیں۔ اگر کسی قسم کا ابہام موجود ہو تو اس کی تشریح انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق کی جانی چاہیے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں حق مہر سے متعلق مقدمات کے لیے ایک اہم رہنما اصول ثابت ہو سکتا ہے اور خواتین کے مالی و قانونی حقوق کے تحفظ میں مددگار ہوگا۔

  • 
پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گلگت بلتستان انتخابات میں اتحاد

    
پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گلگت بلتستان انتخابات میں اتحاد

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں سیاسی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں سیاسی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
    ‎مسلم لیگ (ق) کے ترجمان کے مطابق پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں اور خطے میں سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ اور خطے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق انتخابات میں یہ اشتراک دونوں جماعتوں کے کارکنوں اور ووٹرز کے لیے بھی مثبت پیغام ہے۔
    ‎دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ہمایوں خان نے مسلم لیگ (ق) کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی تعاون سے پیپلز پارٹی کی انتخابی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی سے انتخابی مہم کو تقویت ملے گی اور عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات سے قبل مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور انتخابی تعاون کے فیصلے سیاسی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ حکمت عملی بعض حلقوں میں انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں۔ ایسے میں سیاسی اتحاد اور تعاون کے اعلانات انتخابی ماحول کو مزید دلچسپ بنا رہے ہیں۔

  • 
ن لیگ کا گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کا وعدہ

    
ن لیگ کا گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کا وعدہ

    ‎پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں خطے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ پارٹی کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہاں کے عوام کو ان وسائل کے ثمرات ملنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ قومی سرمایہ کاری کو کس طرح مؤثر بنایا جائے اور مختلف علاقوں کے وسائل کو عوامی فلاح کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ ادوار میں گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے اور سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبے شروع کیے تھے۔ ان کے مطابق اگر پارٹی کو دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل ہوا تو گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مزید جامع منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے اور مستقبل میں بھی پارٹی عوامی خدمت کے اسی سفر کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں گلگت بلتستان کا حصہ یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ خطے کو مالی وسائل کی منصفانہ فراہمی ممکن ہو سکے۔
    ‎انہوں نے علاقے میں توانائی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں چشمے، آبشاریں اور ندی نالے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی قلت برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے منصوبوں، سولر سسٹمز اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
    ‎جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے ہوں گے تاکہ خطے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ترقیاتی وعدے اور سیاسی پروگرام پیش کر رہی ہیں، جن میں این ایف سی ایوارڈ اور علاقائی ترقی کے معاملات نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

  • 
ہائی کورٹ نے ٹریڈ افسران کی تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    
ہائی کورٹ نے ٹریڈ افسران کی تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 10 افسران کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت نے وزیر اعظم کی منظوری سے دوبارہ اشتہار جاری کرنے کے عمل کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔
    ‎جسٹس انعام امین منہاس نے 26 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت اور وزارت تجارت عدالت کو یہ بتانے میں ناکام رہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ایسا کیا مواد موجود تھا جس کی بنیاد پر افسران کو "ناٹ سوٹ ایبل” قرار دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی انتظامی فیصلے کے لیے ٹھوس شواہد اور معقول وجوہات کا ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر ایسا فیصلہ من مانی تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری افسران کے خلاف کسی انٹیلی جنس رپورٹ کو ان کا مؤقف سنے بغیر استعمال کرنا قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ وزارت تجارت کے حکام نے بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے رپورٹ کا مکمل جائزہ نہیں لیا اور صرف ایک غیر واضح سفارش کی بنیاد پر سیکیورٹی کلیئرنس روک دی۔
    ‎فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ عدالت پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتی ہے، تاہم اس کیس میں درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ عدالت کے مطابق وزارت تجارت کو متعدد بار ہدایت کی گئی کہ مبینہ رپورٹ کا مواد پیش کیا جائے یا افسران کو وضاحت کا موقع دیا جائے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
    ‎عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انٹیلی جنس رپورٹ کو خفیہ قرار دینے سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن یا قانونی دستاویز بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ مزید برآں، درخواست گزاروں کے خلاف کسی قسم کا منفی مواد یا شواہد بھی ریکارڈ پر نہیں لائے گئے۔
    ‎فیصلے میں کہا گیا کہ متعلقہ افسران تمام تحریری امتحانات اور انٹرویوز کامیابی سے مکمل کر کے 28 کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ میں شامل ہوئے تھے۔ ان میں سے 18 افسران کو بیرون ملک تعینات کر دیا گیا جبکہ 10 افسران کو الگ کر کے ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی سلوک کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
    ‎اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت تجارت کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار افسران کو تعیناتی کے خطوط جاری کیے جائیں اور 30 دن کے اندر تمام انتظامی کارروائیاں مکمل کر کے انہیں بیرون ملک پاکستانی تجارتی مشنز میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت دی جائے۔

  • رمشا اقبال کے ثاقب چدھڑ پر سنگین الزامات

    رمشا اقبال کے ثاقب چدھڑ پر سنگین الزامات

    ‎اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثاقب چدھڑ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کی بہن مومنہ اقبال کو دھمکی آمیز پیغامات اور وائس نوٹس موصول ہوئے، جن میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
    ‎رمشا اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثاقب چدھڑ نے انہیں نکاح نہ کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے باعث پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں اور اب ثاقب چدھڑ کو اپنے تمام الزامات اور دعوے عدالت یا متعلقہ فورمز پر ثابت کرنا ہوں گے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر ثاقب چدھڑ کروڑوں روپے کے مالی دعوے کر رہے ہیں تو وہ ان کے ثبوت پیش کریں۔ رمشا اقبال کے مطابق ان کا خاندان تمام معاملات کو قانونی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور اگر کوئی مالی تنازع موجود ہے تو وہ اسے قانون کے مطابق نمٹانے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر ان کے اور مومنہ اقبال کے خلاف منظم اور معاوضہ لے کر چلائی جانے والی مہم شروع کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور متعلقہ افراد کو ان دعوؤں کے شواہد پیش کرنے چاہئیں۔
    ‎رمشا اقبال نے کہا کہ ان کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے معاملے پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی ہدایات پر غیر جانبدارانہ کارروائی کو یقینی بنایا گیا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اب تک میڈیا کے سامنے کوئی ایسی بات نہیں کی جس کے ثبوت ان کے پاس موجود نہ ہوں۔ ان کے مطابق قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے ایک نئی درخواست بھی جلد جمع کروائی جائے گی۔
    ‎واضح رہے کہ چند روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ فی الحال الزامات اور جوابات کا تبادلہ جاری ہے جبکہ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔