پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کی خود قیادت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد پارٹی نے جلسوں کا باقاعدہ شیڈول بھی تیار کر لیا۔
پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر آٹھ بڑے انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق انتخابی مہم کا آغاز 31 مئی کو شگر سے ہوگا جہاں بلاول بھٹو زرداری پہلا بڑا جلسہ عام کریں گے۔
شیڈول کے تحت بلاول بھٹو یکم جون کو خپلو، 2 جون کو اسکردو اور 3 جون کو دیامر میں عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔
دوسری جانب آصفہ بھٹو زرداری بھی انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کریں گی۔ وہ 3 جون کو ہنزہ اور 4 جون کو نگر میں پارٹی جلسوں کی قیادت اور خطاب کریں گی۔
پیپلز پارٹی کے مطابق انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں بلاول بھٹو زرداری 4 جون کو غذر جبکہ 5 جون کو گلگت میں بڑے جلسوں سے خطاب کر کے مہم کا اختتام کریں گے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیڈول سامنے آنے کے بعد گلگت بلتستان بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکنان متحرک ہو گئے ہیں اور انتخابی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کی براہ راست انتخابی مہم میں شرکت سے گلگت بلتستان کی سیاست میں سرگرمی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات ملکی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں اور بڑی سیاسی جماعتیں اس خطے میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کیلئے متحرک ہیں۔
پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے مسلسل عوامی رابطہ مہم کو پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

بلاول اور آصفہ بھٹو گلگت بلتستان انتخابی مہم کی قیادت کریں گے
-

پاکستان موبائل سروسز پر بھاری ٹیکس لینے والے ممالک میں شامل
عالمی معاشی تحقیقی ادارے “فرنٹیئر اکنامکس” کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جس سے ڈیجیٹل ترقی اور معاشی نمو متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل سروسز پر مجموعی سیلز اور ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 37 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں شمار کی جاتی ہے۔
ادارے کے مطابق اس 37 فیصد ٹیکس میں 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ٹیلی کام کمپنیوں کے منافع پر 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس کے ساتھ 10 فیصد سپر ٹیکس بھی عائد کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھاری ٹیکسوں کے باعث نہ صرف صارفین پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹلائزیشن، انٹرنیٹ رسائی اور مالی شمولیت کی رفتار بھی متاثر ہو رہی ہے۔
“فرنٹیئر اکنامکس” نے سفارش کی ہے کہ موبائل سروسز پر عائد مجموعی 37 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 17 فیصد کیا جائے جبکہ صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی کو 2.5 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کیا جائے اور جنرل سیلز ٹیکس کو 19.5 فیصد سے کم کر کے 16 فیصد تک لایا جائے۔
عالمی ادارے نے موبائل سروسز، سم کارڈز اور رسائی سے متعلق اضافی چارجز ختم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ اصلاحات نافذ کی جاتی ہیں تو موبائل آپریٹرز کی آمدن میں 6.4 فیصد اضافہ متوقع ہے جبکہ صارفین کی تعداد اور ڈیٹا استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
تحقیقی ادارے کا کہنا ہے کہ موبائل فون کے استعمال میں صرف ایک فیصد اضافے سے فی کس جی ڈی پی گروتھ میں تقریباً 0.115 فیصد پوائنٹس اضافہ ممکن ہے، جس سے پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی 4.2 فیصد سے بڑھ کر 4.5 فیصد تک جا سکتی ہے۔ -

پی ٹی آئی کے 50 سے زائد ایم پی ایز وزیراعلیٰ کے خلاف متحد
خیبر پختونخوا کی سیاست میں بڑا سیاسی بحران سامنے آ گیا ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے 50 سے زائد اراکینِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف الگ گروپ تشکیل دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جس کے باعث صوبائی حکومت کو آئندہ بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کے خلاف سامنے آنے والا گروپ پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی اور حکومتی معاملات پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے بانی بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی سے خوش نہیں اور صوبائی حکومت کی موجودہ صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔
50 سے زائد اراکین کی ناراضی سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں اور اپنی حکومت کو مستحکم رکھنے کیلئے سرگرم رابطے کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے حالیہ سیاسی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی اہم ملاقات کی ہے تاکہ پیدا ہونے والے بحران سے نکلنے کیلئے ممکنہ راستے تلاش کیے جا سکیں۔
اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ کیا ہے اور صوبائی حکومت کو برقرار رکھنے کیلئے سیاسی تعاون طلب کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پارٹی کے اندر اختلافات میں مزید اضافہ ہوا تو صوبائی حکومت کیلئے بجٹ کی منظوری سمیت اہم فیصلے کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آنے والے دن سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ اندرونی اختلافات حکومت کے استحکام پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو صوبائی سیاست کیلئے اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ -

ایران نے امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کر دیا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرایا جبکہ امریکی ایف 35 فائٹر جیٹ پر بھی فائرنگ کی گئی۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے امریکی فوج کو جنگ بندی کی کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کے خلاف سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دفاع اور جواب دینے کے حق کو مکمل طور پر جائز اور حتمی سمجھتا ہے۔
ترجمان ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تو ایران بھرپور ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان، سینٹ کام، نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی ایران میں فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایران کی ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں پر بھی حملے کیے گئے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہیں تاہم امریکی فوج اپنے دفاع کیلئے ہر ضروری اقدام کرے گی۔
امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ بندرعباس کی صورتحال قابو میں ہے اور فی الحال تشویش کی کوئی بات نہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایسے بیانات خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی خطہ اس وقت عالمی سیاست اور توانائی کی منڈی کیلئے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے، اس لیے کسی بھی فوجی کشیدگی کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر خطے میں جنگ بندی برقرار رکھنے کیلئے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں جبکہ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ -

بیٹی کے جہیز کیلئے بکرے بیچنے والے شہری کو جعلی نوٹ تھما دیے گئے
لاہور میں بیٹی کے جہیز کیلئے بکرے فروخت کرنے والے ایک شہری کو جعلی نوٹ دے کر دھوکا دینے والے بین الصوبائی گروہ کا پولیس نے سراغ لگا لیا۔
پولیس کے مطابق نشتر کالونی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی کرنسی پنجاب بھر میں سپلائی کرنے والے منظم نیٹ ورک کے دو مرکزی ملزمان ندیم اور اکرم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے جعلی کرنسی سے خریدا گیا بکرا اور وارداتوں میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب ایک غریب شہری نے اپنی بیٹی کے جہیز کی تیاری کیلئے بکرے فروخت کیے اور خریداروں نے اسے جعلی نوٹوں کی گڈی تھما دی۔
متاثرہ شہری کو دھوکے کا علم اُس وقت ہوا جب وہ بازار میں خریداری کیلئے گیا اور دکانداروں نے نوٹ جعلی قرار دے دیے۔
بعد ازاں شہری نے نشتر کالونی تھانے میں درخواست دی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
دورانِ تفتیش اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ملک ندیم گزشتہ 13 سال سے جعلی کرنسی کے کاروبار میں ملوث تھا اور درہ آدم خیل سے جعلی نوٹ منگواتا تھا۔
تحقیقات کے مطابق ایک “کاٹن” میں تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کے جعلی نوٹ ہوتے تھے جبکہ ملزم ہر پندرہ روز بعد دو سے چار کاٹن لاہور منگواتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان جعلی نوٹوں کو مارکیٹ میں چلانے کیلئے مویشی منڈیوں، فارم ہاؤسز اور ڈیلرز سے بکرے اور دنبے خریدتے تھے، پھر انہی جانوروں کو عام شہریوں کو فروخت کر کے اصلی رقم حاصل کرتے تھے۔
ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ لاکھوں روپے مالیت کے جانور جعلی کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کر چکا ہے۔ -

بیلجیم میں ٹرین اور سکول وین میں خوفناک تصادم، کئی افراد ہلاک
بیلجیم میں ٹرین اور سکول کی منی بس کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ واقعے نے پورے علاقے میں غم کی فضا پیدا کر دی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ بیلجیم کے شہر بگن ہاؤٹ میں ایک ریلوے کراسنگ پر پیش آیا جہاں تیز رفتار ٹرین نے سکول کی منی بس کو ٹکر مار دی۔
فلیمش سرکاری نشریاتی ادارے وی آر ٹی کے مطابق حادثے کے وقت منی بس میں سات بچے، ایک نگران اور ڈرائیور سوار تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ صبح آٹھ بجے کے کچھ دیر بعد پیش آیا جب ریلوے کراسنگ کے بیریئر پہلے ہی نیچے آ چکے تھے۔
وفاقی پولیس کی ترجمان این برگر نے بتایا کہ متاثرین کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی جا سکتیں کیونکہ پہلے اہل خانہ کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ٹرین میں سوار کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا تاہم سکول وین کو شدید نقصان پہنچا۔
حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں، پولیس اور ریسکیو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
بیلجیم کی فلیمش وزیر تعلیم زوہال دمیر نے سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک خبر ہے اور ان کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں اور اس سانحے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق حادثے کی اصل وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں جبکہ ریلوے کراسنگ کے نظام اور حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ یورپی ممالک میں ریلوے کراسنگ حادثات کے بعد اکثر حفاظتی نظام اور ٹریفک قوانین پر سخت سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ -

تہران میں متاثرہ گھروں کی 97 فیصد مرمت مکمل
تہران بلدیہ کے ترجمان عبدالمطہر محمد خانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے بیشتر گھروں کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ تہران میں مجموعی طور پر 39 ہزار 650 گھروں کو معمولی نقصان پہنچا تھا جن میں سے 97 فیصد کی مرمت مکمل کر دی گئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ “معمولی نقصان” سے مراد ایسے گھروں کو ہونے والا نقصان ہے جہاں دروازے، کھڑکیاں یا دیگر بیرونی حصے متاثر ہوئے تھے۔
عبدالمطہر محمد خانی کے مطابق ایسے گھروں کی بحالی اور مرمت کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا تاکہ شہری جلد معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔
بلدیہ حکام نے یہ بھی بتایا کہ جن گھروں کو درمیانے درجے کا نقصان پہنچا تھا، ان میں سے تقریباً 75 فیصد کی تعمیر نو بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
حکام کے مطابق تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں بلدیہ، امدادی اداروں اور مقامی انجینئرنگ ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
تہران بلدیہ کا کہنا ہے کہ باقی متاثرہ گھروں کی مرمت اور بحالی کا عمل بھی جاری ہے اور جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد ایران میں شہری انفراسٹرکچر، رہائشی علاقوں اور سکیورٹی انتظامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے اثرات خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ -

ایران نے نئی جارحیت پر سخت اور وسیع ردعمل کی دھمکی دے دی
ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت یا خلاف ورزی کا جواب خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ کوئی کارروائی کی گئی تو تہران کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید، طاقتور اور مختلف نوعیت کا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج نے ممکنہ اہداف کی نشاندہی پہلے ہی کر لی ہے اور کسی بھی نئی صورتحال کا فوری اور مؤثر جواب دینے کیلئے مکمل تیاری موجود ہے۔
ترجمان ایرانی مسلح افواج کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ابوالفضل شکارچی نے مزید کہا کہ اگر ایران کی تیل برآمدات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ایران بھی خطے سے تیل کی ترسیل کا راستہ بند کر دے گا۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز، ایران امریکا مذاکرات اور خطے کی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کیلئے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے باوجود خطے میں فوجی تیاریوں اور سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو عالمی پذیرائی
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کے ثالثی کردار کو عالمی سطح پر مسلسل سراہا جا رہا ہے۔
ترک میڈیا ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر مؤثر کردار ادا کیا اور دیگر علاقائی قوتوں کے برعکس خاموش، منظم اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارت کاری تشہیر سے دور، بیک چینل رابطوں اور خاموش مذاکرات پر مبنی رہی، جس کے ذریعے مشکل حالات میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے برقرار رکھے گئے۔
ٹی آر ٹی کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، عسکری و انٹیلیجنس ساکھ، اور امریکا، ایران، چین، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ متوازن تعلقات نے اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ اقتصادی راہداریوں، علاقائی روابط اور سفارتی استحکام کی ضامن کے طور پر بھی سامنے آئی ہے۔
ترک میڈیا نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون نے بھی پاکستان کی علاقائی ساکھ کو مضبوط کیا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف سخت اور واضح مؤقف اپنایا۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا جسے مختلف فریق قابلِ قبول ثالث سمجھتے ہیں۔
تاہم ٹی آر ٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کو اپنے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونی معاشی چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی، ایرانی، سعودی، قطری اور ترک حکام بھی ایران امریکا کشیدگی کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار اور ثالثی کی کوششوں کی تعریف کر چکے ہیں۔ -

آبنائے ہرمز ہر صورت کھلے گی، امریکا کا واضح مؤقف
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھولنا ہوگا اور عالمی بحری آمدورفت کی بحالی ناگزیر ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معاہدے کی زبان اور تفصیلات طے کرنے میں ابھی چند دن لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج قطر میں اہم مذاکرات ہوئے ہیں اور ابتدائی دستاویز میں استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ اور شرائط پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی کئی تکنیکی اور سفارتی معاملات طے ہونا باقی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “آبنائے ہرمز کو کھلنا ہوگا، جس طرح بھی ممکن ہو، یہ کھلنی ہی چاہیے۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت عالمی سیاست اور معیشت کا اہم ترین مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تیل منڈی، معیشت اور تجارتی سرگرمیوں پر مزید بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب مارکو روبیو نے یوکرین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا اور یوکرین کے درمیان کوئی فعال یا حتمی مذاکرات جاری نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی موجودہ توجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران مذاکرات اور خطے میں استحکام پر مرکوز ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قطر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی حساس معاملات زیر بحث ہیں۔