لاہور میں بیٹی کے جہیز کیلئے بکرے فروخت کرنے والے ایک شہری کو جعلی نوٹ دے کر دھوکا دینے والے بین الصوبائی گروہ کا پولیس نے سراغ لگا لیا۔
پولیس کے مطابق نشتر کالونی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی کرنسی پنجاب بھر میں سپلائی کرنے والے منظم نیٹ ورک کے دو مرکزی ملزمان ندیم اور اکرم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے جعلی کرنسی سے خریدا گیا بکرا اور وارداتوں میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب ایک غریب شہری نے اپنی بیٹی کے جہیز کی تیاری کیلئے بکرے فروخت کیے اور خریداروں نے اسے جعلی نوٹوں کی گڈی تھما دی۔
متاثرہ شہری کو دھوکے کا علم اُس وقت ہوا جب وہ بازار میں خریداری کیلئے گیا اور دکانداروں نے نوٹ جعلی قرار دے دیے۔
بعد ازاں شہری نے نشتر کالونی تھانے میں درخواست دی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
دورانِ تفتیش اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ملک ندیم گزشتہ 13 سال سے جعلی کرنسی کے کاروبار میں ملوث تھا اور درہ آدم خیل سے جعلی نوٹ منگواتا تھا۔
تحقیقات کے مطابق ایک “کاٹن” میں تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کے جعلی نوٹ ہوتے تھے جبکہ ملزم ہر پندرہ روز بعد دو سے چار کاٹن لاہور منگواتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان جعلی نوٹوں کو مارکیٹ میں چلانے کیلئے مویشی منڈیوں، فارم ہاؤسز اور ڈیلرز سے بکرے اور دنبے خریدتے تھے، پھر انہی جانوروں کو عام شہریوں کو فروخت کر کے اصلی رقم حاصل کرتے تھے۔
ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ لاکھوں روپے مالیت کے جانور جعلی کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کر چکا ہے۔
بیٹی کے جہیز کیلئے بکرے بیچنے والے شہری کو جعلی نوٹ تھما دیے گئے
