خیبر پختونخوا کی سیاست میں بڑا سیاسی بحران سامنے آ گیا ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے 50 سے زائد اراکینِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف الگ گروپ تشکیل دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جس کے باعث صوبائی حکومت کو آئندہ بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کے خلاف سامنے آنے والا گروپ پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی اور حکومتی معاملات پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے بانی بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی سے خوش نہیں اور صوبائی حکومت کی موجودہ صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔
50 سے زائد اراکین کی ناراضی سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں اور اپنی حکومت کو مستحکم رکھنے کیلئے سرگرم رابطے کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے حالیہ سیاسی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی اہم ملاقات کی ہے تاکہ پیدا ہونے والے بحران سے نکلنے کیلئے ممکنہ راستے تلاش کیے جا سکیں۔
اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ کیا ہے اور صوبائی حکومت کو برقرار رکھنے کیلئے سیاسی تعاون طلب کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پارٹی کے اندر اختلافات میں مزید اضافہ ہوا تو صوبائی حکومت کیلئے بجٹ کی منظوری سمیت اہم فیصلے کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آنے والے دن سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ اندرونی اختلافات حکومت کے استحکام پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو صوبائی سیاست کیلئے اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے 50 سے زائد ایم پی ایز وزیراعلیٰ کے خلاف متحد
