ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اہم سفارتی اور علاقائی مذاکرات کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔
خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی وفد قطر کے امیر اور وزیر اعظم سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے مختلف پہلو زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور سفارتی پیشرفت کو آگے بڑھانا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی بھی قطر پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی مذاکراتی کمیشن سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق ایران امریکا مذاکرات میں تہران کی اہم ترجیحات میں اپنے منجمد مالی وسائل تک رسائی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف ممالک خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رابطوں میں مصروف ہیں۔
گزشتہ ہفتے قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ایران کا دورہ کر چکا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایرانی اعلیٰ وفد اہم مذاکرات کیلئے قطر پہنچ گیا
-

ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آ گئیں
ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیشرفت اور آبنائے ہرمز کھلنے کی امید کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت تقریباً 5 ڈالر کمی کے بعد 90.84 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔
اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 6 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 97.30 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں یہ کمی امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کی توقعات کے باعث سامنے آئی ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بہتر ہو سکتی ہے، جس سے مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ریلیف مل سکتا ہے جبکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کچھ کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب عالمی سرمایہ کار اب ایران امریکا مذاکرات کے حتمی نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان مذاکرات کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

امریکا کے ناجائز مطالبات نہیں مانیں گے، ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکا کے ناجائز اور غیر ضروری مطالبات کے سامنے کسی صورت سرینڈر نہیں کرے گا۔
ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اس انداز میں کیے جا رہے ہیں جس میں ایرانی قوم کے حقوق اور قومی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے عمل میں سنجیدگی سے شریک ہے لیکن کسی بھی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ملکی خودمختاری یا قومی وقار کے خلاف ہو۔
انہوں نے کہا کہ دشمن عسکری محاذ پر ناکامی کے بعد اب معاشی جنگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
ایرانی صدر کے مطابق حکومت اور نجی شعبہ مکمل یکجہتی اور تعاون کے ساتھ اس معاشی دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ملک اس مرحلے سے بھی کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا۔
پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے عوام کے حقوق، اقتصادی استحکام اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کا سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ تہران مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں ضرور ہے لیکن وہ دباؤ کے تحت فیصلے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ -

نقیب محسود کیس میں راؤ انوار کی بریت کے خلاف اپیل کو نئی حمایت مل گئی
نقیب محسود قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی بریت کے خلاف دائر اپیلوں کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مقتول نقیب محسود کے صاحبزادے نے اپنے چچا کی حمایت میں سندھ ہائیکورٹ میں بیانِ حلفی جمع کرا دیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران مقتول کے کمسن بیٹے عاطف کی جانب سے جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں کہا گیا کہ انہیں اپنے چچا کی جانب سے دائر اپیلوں پر کوئی اعتراض نہیں۔
بیانِ حلفی میں عاطف نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس وقت کم عمر تھے جبکہ ان کی والدہ معاشرتی روایات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں، اسی لیے دادا کے انتقال کے بعد ان کے چچا نے قانونی کارروائی آگے بڑھائی۔
سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے وکلا نے اعتراض اٹھایا کہ اپیلیں مقتول کے بھائی کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا تھا، جس کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیلیں زیرِ سماعت ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی جبکہ عاطف کی جانب سے جمع کرایا گیا بیانِ حلفی بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نقیب محسود قتل کیس پاکستان کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا ہے، جس نے پولیس مقابلوں اور انسانی حقوق کے معاملات پر ملک بھر میں شدید بحث کو جنم دیا تھا۔ -

ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے 11 مختلف کمپنیوں کی 17 آٹو ڈس ایبل سرنجز کو غیر معیاری قرار دے کر ان کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل پراڈکٹ الرٹ کے مطابق ان سرنجز کے نمونوں کی جانچ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی میں کی گئی، جہاں یہ مصنوعات معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق 3 سے 5 ایم ایل کی یہ سرنجز “آٹو ڈس ایبلیٹی ٹیسٹ” میں ناکام رہیں، جس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد ان کا خودکار طور پر ناکارہ ہونے والا نظام درست طریقے سے کام نہیں کر رہا۔
حکام کے مطابق ان سرنجز کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈریپ نے بتایا کہ ان غیر معیاری سرنجز کی تیاری میں چین، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ دو چینی کمپنیوں کے تیار کردہ تین بیجز بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہیں۔
ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام صوبائی حکومتوں، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں موجود متاثرہ بیجز فوری ضبط کیے جائیں۔
ڈریپ نے فیلڈ فورس کو ملک بھر میں مارکیٹ سروے کرنے اور ان سرنجز کی سپلائی روکنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
اس کے علاوہ مینوفیکچررز، امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ سرنجز فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوائیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر معیاری سرنجز کا استعمال پاکستان میں پہلے سے موجود ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے، اس لیے عوام کو صرف مستند اور محفوظ طبی مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں۔ -

ایران کی اجازت سے 33 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی اجازت سے 33 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق گزرنے والے جہازوں میں آئل ٹینکرز، تجارتی اور کنٹینر بردار بحری جہاز شامل تھے، جنہیں ایرانی بحریہ کی نگرانی اور اجازت کے بعد راستہ فراہم کیا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر پاسداران انقلاب کی بحریہ کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور تمام بحری نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران خطے کی سیکیورٹی اور بحری راستوں کی نگرانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی پر فوری ردعمل دیا جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس علاقے کی صورتحال پر عالمی منڈیاں اور بڑی طاقتیں مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق مسلسل بیانات خطے میں جاری سفارتی اور عسکری تناؤ کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ -

امریکا اور ایران بڑے معاہدے کے قریب، آبنائے ہرمز کھولنے پر پیش رفت
امریکا اور ایران ایک اہم سفارتی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
امریکی خبر ایجنسی اے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں، جس کی مدت ابتدائی طور پر 60 روز ہوگی جبکہ باہمی رضامندی سے اس میں مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران 60 روز تک آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھے گا، جبکہ ایران اس اہم سمندری راستے میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر بھی آمادہ ہوگا تاکہ تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکا اس کے بدلے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بعض پابندیاں نرم کرے گا اور ایران کو عالمی مارکیٹ میں تیل فروخت کرنے کی جزوی اجازت دی جائے گی، جس سے ایرانی معیشت اور عالمی تیل مارکیٹ دونوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کا بنیادی اصول “کارکردگی کے بدلے ریلیف” ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال کرے گا، امریکا بھی اسی رفتار سے معاشی پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے میں ایران کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی شامل ہو سکتی ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، جبکہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور حساس جوہری مواد سے متعلق مذاکرات جاری رہیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق خطے میں موجود امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران اپنی موجودگی برقرار رکھیں گی اور صرف حتمی معاہدے کی صورت میں انخلا ممکن ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اس سفارتی عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں مختلف ملاقاتوں کے دوران معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں حصہ لیا۔ -

اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 10 دیہات خالی کرنے کا حکم دے دیا
اسرائیلی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان کے 10 دیہات کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقے خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث اسرائیلی فوج سخت کارروائی کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔
انہوں نے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں سے نکل جائیں اور کم از کم ایک ہزار میٹر دور کھلے مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان 15 مئی کو جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق کیا گیا تھا جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان جون کے آغاز میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونا تھے۔
تاہم جنگ بندی کے باوجود سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی اور گزشتہ ماہ سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
علاقائی مبصرین کے مطابق حالیہ انخلا کے احکامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنوبی لبنان میں صورتحال دوبارہ خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تناؤ پہلے ہی بڑھا ہوا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق دیہات خالی کرنے کے اعلانات کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ متعدد خاندان محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ -

ٹرمپ نے اوباما ایران معاہدے کو امریکی تاریخ کی بدترین ڈیل قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما دور کے ایران جوہری معاہدے کو امریکی تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے نے ایران کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کا راستہ ہموار کیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے تحت ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اوباما دور کی پالیسی سے مکمل طور پر مختلف ہیں اور اب معاملات زیادہ منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تعمیری انداز میں جاری ہیں اور امریکی نمائندوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی جلد بازی کے بغیر درست معاہدے تک پہنچا جائے کیونکہ وقت امریکا کے حق میں ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے، تصدیق اور دستخط سے قبل تمام پابندیاں اور اقتصادی محاصرہ پوری شدت کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا کہ اسے کسی صورت جوہری ہتھیار یا ایٹم بم بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے تعلقات اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیشہ ورانہ اور تعمیری رخ اختیار کر رہے ہیں، تاہم کسی بھی معاہدے میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کا تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں تعاون اور سفارتی روابط تاریخی ابراہم اکارڈز کے ذریعے مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے مستقبل میں اسلامی جمہوریہ ایران بھی ابراہم اکارڈز کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ -

ترکی میں اپوزیشن ہیڈکوارٹر پر پولیس چھاپہ، سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا
ترکی میں سیاسی بحران نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب انسدادِ ہنگامہ آرائی پولیس نے مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہو کر وہاں موجود قیادت کو نکالنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے اتوار کے روز پارٹی دفتر کے باہر قائم عارضی رکاوٹیں توڑ کر عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران عمارت کے اندر آنسو گیس کے بادل پھیل گئے جبکہ اندر موجود افراد نے نعرے بازی کی اور دروازوں کی جانب اشیا پھینکیں۔
تاحال کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم واقعے کے بعد انقرہ میں سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔
ترک عدالت نے چند روز قبل اپوزیشن جماعت CHP کے رہنما اوزگور اوزیل کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ عدالت نے 2023 کے پارٹی انتخابات کو مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیتے ہوئے سابق چیئرمین کمال کلیچدار اوغلو کو دوبارہ بحال کر دیا۔
اتوار کو انقرہ کے گورنر نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں موجود افراد کو نکالنے کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔
اوزگور اوزیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ “ہم پر حملہ کیا جا رہا ہے” اور انہوں نے عدالتی فیصلے کو “جوڈیشل کُو” قرار دیتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ترکی میں جمہوریت اور حکومتی اختیارات کے درمیان توازن کے لیے ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے صدر رجب طیب اردوان کی طویل حکمرانی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
ترکی، جو نیٹو کا اہم رکن ملک ہے، اس وقت اندرونی سیاسی کشیدگی اور اپوزیشن کے بحران کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔