Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
موسمیاتی تبدیلی اینٹی بائیوٹک مزاحمت بڑھانے لگی

    
موسمیاتی تبدیلی اینٹی بائیوٹک مزاحمت بڑھانے لگی

    ‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت میں اضافے اور قدرتی آفات کا باعث نہیں بن رہی بلکہ یہ انسانی صحت کیلئے ایک نئے اور سنگین خطرے کو بھی جنم دے رہی ہے۔
    ‎ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی بحران دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے، جس سے خطرناک بیکٹیریا کے خلاف ادویات کی تاثیر کم ہوتی جا رہی ہے۔
    ‎دی لانسیٹ پلانیٹری ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اینٹی بائیوٹک مزاحمت تیزی سے عالمی صحت کیلئے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہو سکتی ہیں۔
    ‎تحقیق میں بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سالمونیلا بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق 1940 سے 2040 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سالمونیلا میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کی شرح میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
    ‎تحقیق میں کہا گیا کہ اگرچہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال اب بھی اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے، لیکن بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
    ‎محققین کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے جراثیموں کے افعال اور رویوں کو تبدیل کیا ہے، جس کے نتیجے میں ان میں ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے سے بیکٹیریا زیادہ مضبوط اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، جس سے عام انفیکشنز کا علاج بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
    ‎تحقیق کے دوران 1940 سے 2023 تک 139 ممالک میں سالمونیلا کے 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد نمونوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کے ساتھ اینٹی بائیوٹک مزاحمت کرنے والے جینز کا موازنہ کیا گیا۔
    ‎ماہرین نے حکومتوں اور عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کیلئے فوری اور مؤثر پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ انسانی صحت کو مستقبل کے خطرات سے بچایا جا سکے۔

  • ‎پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بننے لگا

    ‎پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بننے لگا

    ‎امریکی جریدے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک ابھرتی ہوئی سفارتی اور معاشی طاقت کے طور پر عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا رہا ہے، جس کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق مختلف معاشی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
    ‎امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہیں جبکہ پاکستانی روپیہ تقریباً 280 روپے فی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔
    ‎اسی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کے ایس ای 100 انڈیکس میں سال بھر کے دوران صرف 1.3 فیصد معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین معاشی استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی مضبوطی کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون، خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات اور سعودی عرب و چین کی مالی معاونت شامل ہیں۔
    ‎امریکی جریدے کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر کے ذخائر اور 5 ارب ڈالر کی قرض سہولت میں توسیع کی ہے، جس سے ملکی مالی صورتحال کو سہارا ملا۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چین نے پاکستان کے پہلے “پانڈا بانڈ” کیلئے 257 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جسے دونوں ممالک کے معاشی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎امریکی جریدے کے مطابق عالمی معاشی طاقتیں پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کر رہی ہیں، خاص طور پر گوادر بندرگاہ مستقبل میں خطے کے ایک اہم لاجسٹکس اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

  • 
مسجد اقصیٰ کے انتظام سے اردن کو ہٹانے کا مبینہ منصوبہ سامنے آگیا

    
مسجد اقصیٰ کے انتظام سے اردن کو ہٹانے کا مبینہ منصوبہ سامنے آگیا

    ‎برطانوی نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے انتظامی اختیارات اردن سے واپس لینے کیلئے ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت اردن کی نگرانی میں قائم اسلامی وقف اتھارٹی کو ختم کر کے ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے گا جو مسجد اقصیٰ کو ایک “کثیر المذاہب مرکز” کے طور پر چلائے گا۔
    ‎مڈل ایسٹ آئی نے امریکی، اردنی، فلسطینی اور خلیجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس مجوزہ منصوبے کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کی حمایت حاصل ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق نئے انتظام کے تحت یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں برابر رسائی دینے اور انہیں بڑے گروہوں کی صورت میں عبادت کی اجازت دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کے امام، خطیب اور دیگر سینئر مذہبی عہدیداروں کی تقرری میں بھی اہم کردار حاصل ہو سکتا ہے جبکہ جمعہ کے خطبات کے مواد کی منظوری میں بھی اسرائیلی شمولیت شامل ہوگی۔
    ‎رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ واشنگٹن نے مسجد اقصیٰ کے مستقبل سے متعلق ایک دستاویز تیار کی ہے جس میں اس مقام کی اسلامی شناخت ختم کر کے اسے تینوں ابراہیمی مذاہب کیلئے مشترکہ سیاحتی مرکز بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں مختلف عرب ممالک کو باری باری مسجد اقصیٰ کے انتظام میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
    ‎رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بحرین، مصر، مراکش اور متحدہ عرب امارات کو اس منصوبے پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔
    ‎تاہم دو خلیجی ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے کیونکہ وہ اردن کو مسجد اقصیٰ کی نگرانی میں اہم اتحادی سمجھتا ہے۔
    ‎سیاسی اور مذہبی مبصرین کے مطابق مسجد اقصیٰ کی حیثیت اور انتظامی معاملات پورے مسلم دنیا کیلئے انتہائی حساس موضوع ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی تبدیلی پر شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

  • 
ابراہیمی معاہدہ سرنڈر کی دستاویز ہے، حافظ نعیم الرحمان

    
ابراہیمی معاہدہ سرنڈر کی دستاویز ہے، حافظ نعیم الرحمان

    ‎امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ابراہیمی معاہدے کو “سرنڈر کی دستاویز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو قانونی شکل دینے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
    ‎اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکی صدر ایک بار پھر مسلم ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ ابراہیمی معاہدے کا حصہ بن جائیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اور فلسطین کے مسئلے پر کوئی بھی ایسا فیصلہ قبول نہیں کیا جا سکتا جو فلسطینی عوام کے حقوق اور مسلم اُمہ کے مؤقف کے خلاف ہو۔
    ‎امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ابراہیمی معاہدہ دراصل اسرائیل کے قبضے کو مضبوط بنانے اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
    ‎حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ناجائز مطالبات” کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعلان کریں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا معاملہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے ایمان اور غیرت کا مسئلہ ہے۔
    ‎جماعت اسلامی کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا تاریخی اور اصولی مؤقف ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق میں رہا ہے اور اس پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ابراہیمی معاہدے سے متعلق حالیہ بیانات نے پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک میں نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے معاملے پر پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مؤقف ہمیشہ حساس اور سخت رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب حکومتِ پاکستان کی جانب سے ابراہیمی معاہدے سے متعلق کسی نئی پالیسی یا موقف کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

  • 
پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    
پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    ‎پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ملکوال، پھالیہ، دیپالپور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جبکہ حجرہ شاہ مقیم اور پھول نگر میں بھی زمین لرزنے سے شہری خوفزدہ ہو گئے۔
    ‎ادھر منڈی بہاؤالدین، حویلی لکھا اور قریبی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جہاں لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلی جگہوں کی جانب نکل آئے۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع سامنے نہیں آئی تاہم شہریوں میں شدید خوف و بے چینی دیکھی گئی۔
    ‎یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
    ‎اس سے قبل آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.7 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس کی گہرائی 170 کلومیٹر بتائی گئی تھی۔
    ‎زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا جس کے اثرات پاکستان کے مختلف شہروں تک محسوس کیے گئے تھے۔
    ‎گزشتہ زلزلے کے دوران اسلام آباد، سوات، شانگلہ، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ملاکنڈ، ہزارہ ڈویژن اور ساہیوال سمیت مختلف علاقوں میں شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان جغرافیائی لحاظ سے زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے، اس لیے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے رہتے ہیں۔

  • 
غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 18 افراد شہید

    
غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 18 افراد شہید

    ‎اسرائیل کے غزہ اور لبنان پر تازہ فضائی حملوں میں کم از کم 18 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
    ‎لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں مشرقی لبنان کے علاقے وادی بیکا میں کم از کم 11 افراد جان سے گئے جبکہ 15 دیگر زخمی ہوئے۔
    ‎لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملے پیر اور منگل کی درمیانی شب وادی بیکا کے گاؤں مشغرا میں کیے گئے۔
    ‎اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حملوں کے دوران وادی بیکا اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زائد ٹھکانوں اور جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے لبنان بھر میں حزب اللہ کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کی اجازت دی ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب غزہ میں بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں جہاں فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کم از کم سات افراد شہید ہو گئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران بھی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
    ‎سول ڈیفنس حکام نے بتایا کہ وسطی غزہ کے مغازی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
    ‎سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد زخمیوں اور شہدا کو الاقصیٰ شہداء اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسپتال انتظامیہ نے ہلاکتوں کی تصدیق بھی کی۔
    ‎اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے حالیہ حملوں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
    ‎یاد رہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری جنگ کے باعث ہزاروں فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ خطے میں انسانی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

  • 
ایران پر امریکی حملے کے بعد چین نے جنگ بندی پر زور دے دیا

    
ایران پر امریکی حملے کے بعد چین نے جنگ بندی پر زور دے دیا

    ‎امریکا کی جانب سے جنوبی ایران پر فضائی حملے کے بعد چین نے اہم ردعمل دیتے ہوئے تمام فریقین پر جنگ بندی کی پاسداری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا حل صرف پُرامن مذاکرات اور سفارتی کوششوں میں ہے۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ تمام متعلقہ فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں تاکہ امن کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎چین کی وزارت خارجہ کے مطابق ایران جنگ کے آغاز سے ہی بیجنگ مختلف ممالک اور فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ چین خطے میں پائیدار امن کیلئے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے چار اصولوں کے تحت خلیجی خطے میں استحکام اور امن کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎چین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے جوہری معاملے کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ امید ہے تمام متعلقہ فریق موجودہ صورتحال کو مذاکرات کے موقع میں تبدیل کریں گے تاکہ ایسا حل سامنے آئے جس میں سب کے جائز تحفظات کا خیال رکھا جا سکے۔
    ‎چینی وزارت خارجہ کے مطابق عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کا تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں مستقل امن عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
    ‎واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹکام نے جنوبی ایران میں فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ کارروائی میں ڈرون لانچنگ تنصیبات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

  • 
اے آئی سے نوکریوں کا خاتمہ توقع سے کم ہوا

    
اے آئی سے نوکریوں کا خاتمہ توقع سے کم ہوا

    ‎اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی کے باوجود دنیا کو “نوکریوں کی تباہی” جیسے بڑے بحران کا سامنا نہیں ہوا۔
    ‎غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سیم آلٹمین نے آسٹریلیا کے کامن ویلتھ بینک کی سڈنی میں منعقدہ کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں ابتدا میں خدشہ تھا کہ اے آئی دنیا بھر میں وائٹ کالر ملازمتوں پر بہت بڑا اثر ڈالے گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جب اوپن اے آئی نے 2022 میں چیٹ جی پی ٹی متعارف کرایا تو کمپنی کی تکنیکی پیش گوئیاں کافی حد تک درست ثابت ہوئیں، لیکن سماجی اور معاشی اثرات کے بارے میں اندازے مکمل طور پر درست نہیں نکلے۔
    ‎سیم آلٹمین کا کہنا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ ابتدائی سطح کی دفتری اور وائٹ کالر نوکریاں اب تک بڑی تعداد میں ختم ہو چکی ہوں گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ “میں خوش ہوں کہ میری پیش گوئی غلط ثابت ہوئی، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ملازمتوں پر کہیں زیادہ منفی اثر پڑے گا۔”
    ‎اوپن اے آئی کے سربراہ نے کہا کہ اب وہ بہتر انداز میں سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں نہیں ہوا اور یہ صورتحال ان کیلئے اطمینان کا باعث ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ ان سے کہتے ہیں کہ اگر یہ خدشات درست ثابت نہیں ہوئے تو دنیا میں خوف اور بے یقینی کم پھیلائی جا سکتی تھی، تاہم اس وقت انہیں یہ خطرہ حقیقی محسوس ہوتا تھا۔
    ‎سیم آلٹمین نے خبردار کیا کہ اگرچہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر نوکریاں ختم نہیں ہوئیں، لیکن مستقبل میں اے آئی کے اثرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نے کئی شعبوں میں کام کے انداز کو ضرور تبدیل کیا ہے، تاہم نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئی مہارتوں اور روزگار کے مواقع بھی سامنے آ رہے ہیں۔

  • 
بیلسٹک دفاعی نظام دنیا بھر میں نایاب ہو رہے ہیں، زیلنسکی

    
بیلسٹک دفاعی نظام دنیا بھر میں نایاب ہو رہے ہیں، زیلنسکی

    ‎یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے دفاعی نظام دنیا بھر میں نایاب ہوتے جا رہے ہیں، تاہم یوکرین کو اپنی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کیلئے فوری حل تلاش کرنا ہوگا۔
    ‎ویڈیو پیغام میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کیلئے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اس وقت سب سے بڑی ترجیح ہے کیونکہ ملک کو مسلسل میزائل اور فضائی حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث دنیا بھر میں بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس سے ان سسٹمز کی دستیابی محدود ہو رہی ہے۔
    ‎زیلنسکی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین اپنے دفاعی نظام کی پیداوار تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ملک کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    ‎یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ مزید حمایت اور دفاعی تعاون کیلئے مسلسل رابطے میں ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک مالی امداد کے ذریعے یوکرین کی مدد کر رہے ہیں لیکن بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کی پیداوار بڑھانے کیلئے امریکا کی مضبوط قیادت اور فوری کردار ناگزیر ہے۔
    ‎زیلنسکی کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال نے دفاعی نظام، خاص طور پر فضائی اور میزائل دفاعی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
    ‎دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے دنیا بھر میں جدید دفاعی نظاموں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق کئی ممالک اب اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے جدید میزائل شکن نظام حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے عالمی دفاعی منڈی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • 
اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیے

    
اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیے

    ‎اسرائیل نے جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع میں اپنے فضائی حملے مزید تیز کر دیے ہیں جبکہ حزب اللہ نے غیر ملکی سرپرستی، تقسیم اور وفاقیت کے منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو “کچل دیا جائے گا”۔
    ‎اس اعلان کے بعد بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں شہری محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے لگے۔
    ‎ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
    ‎دوسری جانب حزب اللہ کے جنگجوؤں نے مقبوضہ لبنانی علاقوں اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی افواج کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا ردعمل ہیں۔
    ‎لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حزب اللہ نے لبنانی آئین کے اجرا کی صد سالہ تقریب کے موقع پر ایک بیان جاری کیا جس میں طائف معاہدے کے بعد ترمیم شدہ آئین کو تنازعات کے حل اور ریاستی نظم و نسق کیلئے بنیادی حوالہ قرار دیا گیا۔
    ‎حزب اللہ نے اپنے بیان میں تقسیم، وفاقیت اور آبادکاری کے منصوبوں کو لبنان کے اتحاد اور آئین کی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ فرقہ وارانہ نظام اب ایک مستحکم اور منصفانہ ریاست قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے طائف معاہدے کی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد اور سیاسی فرقہ واریت کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
    ‎حزب اللہ نے “شہری ریاست” کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی خطرے کے پیش نظر مزاحمت لبنان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
    ‎تنظیم کے مطابق لبنان سے “طاقت کے عناصر” ختم کرنے کی کوششیں طائف معاہدے کی خلاف ورزی تصور کی جائیں گی۔