فرانس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے نیٹو کے کردار ادا کرنے کے تصور کو مسترد کر دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ فرانس کا مؤقف اس معاملے پر واضح اور مستقل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدہ صرف شمالی بحر اوقیانوس کے علاقوں تک محدود ہے اور مشرقِ وسطیٰ یا آبنائے ہرمز میں مداخلت نیٹو کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔
فرانسیسی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنا نہ تو نیٹو کا بنیادی مقصد ہے اور نہ ہی یہ اتحاد اس کردار کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کے تحفظ اور جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے اتحادی کردار پر زور دیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نگرانی اور اجازت ناموں کے نئے نظام کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی تجارت اور توانائی مارکیٹ پر اثرات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
فرانسیسی حکومت کا مؤقف سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یورپی اتحادی اس معاملے پر یکساں رائے نہیں رکھتے اور خطے میں عسکری کردار کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
فرانس نے آبنائے ہرمز میں نیٹو کے کردار کی مخالفت کردی
