پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے 20 ایرانی ملاحوں کی رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم انسانی اور دوستانہ اقدام قرار دیا ہے۔
ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ ملاح سنگاپور کی حدود میں اپنے جہاز کی ضبطی کے باعث مشکل صورتحال کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق پاکستان کی بروقت سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ان ملاحوں کی رہائی ممکن ہوئی۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان کی انسان دوست اور خیرسگالی پر مبنی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزارتِ خارجہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلسل رابطوں اور سفارتی اقدامات کے باعث یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
بیان کے مطابق ایرانی ملاحوں کو سنگاپور سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ چند گھنٹے قبل بحفاظت اپنے وطن ایران واپس پہنچ گئے۔
ایرانی سفیر نے اس اقدام کو پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کی بہترین مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا خطے میں اعتماد اور دوستی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اس پیش رفت کو پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت تعلقات کی اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایرانی شہریوں اور صارفین کی جانب سے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

پاکستانی کوششوں سے 20 ایرانی ملاح رہا، ایران کا اظہارِ تشکر
-

معاہدہ نہ کیا تو ایران کیلئے اچھا نہیں ہوگا، ٹرمپ کی ایک بار پھر دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کو ایک موقع دینے جا رہا ہے اور انہیں کسی قسم کی جلدی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک “اچھے معاہدے” کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم اگر تہران نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو صورتحال ایران کیلئے بہتر نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وہ ایران کے معاملے پر مکمل طور پر متفق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “نیتن یاہو کو جو کہیں گے، وہ کرے گا۔”
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنے کیلئے بےتاب ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان آپریشنز کے دوران امریکا کے 13 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
دورہ چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ چین کامیاب رہا۔
انہوں نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا جبکہ انہوں نے چینی صدر کو “بہت اچھا انسان” بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور سفارتی رابطے دونوں عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ -

فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر معافی مانگی جائے:اطالوی وزیرِ اعظم
اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی اتمر بن گویر نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کی ویڈیوز شیئر کر دیں، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں فلوٹیلا ارکان کو ہتھکڑیوں میں زمین پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اتمر بن گویر انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں، “اسرائیل میں خوش آمدید، یہاں کے مالک ہم ہیں۔”
ایک اور ویڈیو کلپ میں ایک خاتون کارکن کو “فری فلسطین” کا نعرہ لگانے پر مبینہ تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا گیا۔
بن گویر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ “یہ لوگ خود کو ہیرو بنا رہے تھے، لیکن یہ دہشت گردی کے حامی ہیں” جبکہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو زیادہ عرصے تک حراست میں رکھا جائے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ جانے والے فلوٹیلا کے کم از کم 87 کارکنان نے اسرائیلی حراست اور مبینہ بدسلوکی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب اٹلی نے اسرائیلی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ فلوٹیلا ارکان، جن میں اطالوی شہری بھی شامل ہیں، کے ساتھ ایسا سلوک انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اس واقعے پر معافی مانگے اور گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔
اطالوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے پر وضاحت طلب کرنے کیلئے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا جائے گا۔
اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 430 رضاکاروں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ انہیں قونصلر نمائندوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔ -

ایران تنازعے اور بجلی بحران نے بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا
دنیا میں کپڑوں کی تیاری کے دوسرے بڑے ملک بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری شدید توانائی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جہاں ایران تنازعے کے بعد ایندھن کی قلت اور بجلی کی بندش نے فیکٹریوں میں کام کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بجلی کی کمی کے باعث متعدد کارخانوں میں پنکھے اور کولر بند کر دیے گئے ہیں، جس سے شدید گرمی میں کام کرنے والے مزدور بے حال ہو رہے ہیں جبکہ پیداواری صلاحیت میں خطرناک حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔
دارالحکومت ڈھاکہ کے اطراف قائم صنعتی علاقوں میں درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ شدید حبس نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔
فیشن انڈسٹری سے وابستہ ماہر جہانگیر عالم نے بتایا کہ چھوٹے صنعت کار بجلی بند ہونے کی صورت میں مہنگے جنریٹر چلانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، اسی لیے وہ ٹھنڈک کے آلات بند رکھنے پر مجبور ہیں۔
مزدوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم “بنگلہ دیش سینٹر فار ورکر سولیڈیرٹی” کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلپنا اختر کے مطابق شدید گرمی کے باعث مزدوروں میں چکر آنا، متلی، بے ہوشی اور جسمانی کمزوری عام ہو چکی ہے۔
بنگلہ دیش اپنی توانائی کی تقریباً 95 فیصد ضروریات درآمدی ایندھن سے پوری کرتا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی دونوں کو متاثر کیا ہے۔
غازی پور میں قائم ایک بڑی ٹیکسٹائل مل کے مینیجر اے کے ایم قمر الزمان نے کہا کہ صنعتیں صرف کسی نہ کسی طرح پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں، مناسب ٹھنڈک اور ہوا کی نکاسی کا نظام چلانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف لیبر اسٹڈیز کے سروے کے مطابق 78 فیصد گارمنٹ ورکرز نے اعتراف کیا کہ گرمی کی شدت نے ان کی صحت اور کام کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا۔
طبی جریدے “دی لانسیٹ” کی رپورٹ کے مطابق صرف 2024 میں گرمی کے باعث بنگلہ دیش میں تقریباً 29 ارب ورکنگ آورز ضائع ہوئے جبکہ اس سے 24 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 5 فیصد کے برابر ہے۔ -

سینیٹ ملازم حمزہ خان قتل کیس، سابق ایس پی عارف شاہ کو سزائے موت
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سینیٹ ملازم حمزہ خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا جس میں مرکزی ملزم عارف حسین شاہ کو قتل جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔
عدالت نے کیس میں شریک دو دیگر ملزمان صابر شاہ اور ثقلین کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ دونوں پر 20،20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق سابق ایس پی عارف شاہ نے سینیٹ ملازم حمزہ خان کو مبینہ طور پر اغواء کرنے کے بعد قتل کیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق مقتول کی لاش بعد ازاں ملزم کے آبائی گھر مانسہرہ سے برآمد ہوئی تھی۔
یہ مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا اور کیس نے اسلام آباد میں کافی توجہ حاصل کی تھی۔
عدالتی فیصلے کے بعد مقتول کے اہل خانہ نے انصاف فراہم کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ قانونی ماہرین نے اسے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ -

سعودی عرب نے ایران امریکا مذاکرات کیلئے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہ دیا
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں سفارتی حل کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو خوش آئند سمجھتا ہے جس میں جنگ کے خاتمے اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کیلئے سفارت کاری کو موقع دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا معاہدہ ضروری ہے جو آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری نقل و حمل کو 28 فروری 2026 سے پہلے کی صورتحال کے مطابق بحال کرے اور تمام متنازع نکات کو اس انداز میں حل کرے جو خطے کے امن اور استحکام کیلئے مؤثر ہو۔
فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب اس عمل میں پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا اور جامع معاہدے کیلئے ہونے والی کوششوں کا مثبت جواب دے گا۔
سعودی وزیر خارجہ کے مطابق خطے اور دنیا میں پائیدار امن کیلئے فوری سفارتی پیش رفت انتہائی ضروری ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ -

آئی ایم ایف مشن کا پاکستان میں قیام مزید دو روز بڑھا دیا گیا
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر مذاکرات جاری ہیں، جس کے باعث آئی ایم ایف مشن کے پاکستان میں قیام میں مزید دو روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام اور پاکستانی معاشی ٹیم کے درمیان بجٹ اہداف، ٹیکس اقدامات، اخراجاتی منصوبوں اور مالیاتی اصلاحات پر تفصیلی مشاورت جاری ہے۔
تاہم اب تک دونوں فریقین کے درمیان اہم مالیاتی اہداف پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کے قیام میں توسیع کا مقصد مذاکرات کو مزید وقت دینا اور نئے مالی سال کیلئے بجٹ تجاویز اور اقتصادی اہداف کو حتمی شکل دینا ہے۔
مذاکرات میں محصولات بڑھانے، اخراجات کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری یہ مذاکرات نہ صرف آئندہ بجٹ بلکہ ملک کے معاشی اصلاحاتی پروگرام اور مستقبل کی مالی معاونت کیلئے بھی انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں عوامی ریلیف اور آئی ایم ایف شرائط کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ -

لاہور میں 22 سالہ لڑکی کے قتل کا معمہ حل، شوہر ہی قاتل نکلا
لاہور میں 22 سالہ لڑکی مہروش کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کر لیا، جبکہ اغواء کا مقدمہ درج کرانے والا شوہر ہی قاتل نکلا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے شوہر خلیل نے پہلے اپنی اہلیہ کے اغواء کا مقدمہ کاہنہ تھانے میں درج کروایا تھا، تاہم تحقیقات کے دوران معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ چند روز بعد خاتون کی لاش روہی نالے سے برآمد ہوئی تھی جس کے بعد مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا آغاز کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش شوہر خلیل نے قتل کا اعتراف کر لیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ طور پر مہروش کو منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اور تفتیشی عمل کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و افسوس کی فضا پائی جاتی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس افسوسناک قتل پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ -

پاکستانی نژاد فرانسیسی فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی ٹیکس فراڈ کیس میں سزا یافتہ
پاکستانی نژاد فرانسیسی فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کو فرانس میں ٹیکس فراڈ اور منی لانڈرنگ کیس میں سزا سنا دی گئی۔
فرانسیسی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیرس کورٹ آف اپیل نے محمود بھٹی کو دو سال قید کی معطل سزا، ایک لاکھ 50 ہزار یورو جرمانہ اور 10 سال کیلئے کسی بھی کمپنی کے انتظامی عہدے سے نااہل قرار دیا ہے۔
عدالت نے ان کی تین قیمتی گھڑیاں اور تین جیگوار گاڑیاں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق محمود بھٹی نے 2009 سے 2012 کے دوران ٹیکس فراڈ جبکہ 2009 سے 2014 کے درمیان منی لانڈرنگ کے الزامات تسلیم کیے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کے ذریعے قرضوں کے نظام سے فائدہ اٹھا کر پرتعیش طرزِ زندگی گزار رہے تھے۔
محمود بھٹی 1980 کی دہائی میں فرانس کی ریڈی ٹو ویئر فیشن انڈسٹری میں تیزی سے ابھرے تھے اور ان کی کامیابی کی کہانی نے فرانسیسی فلم “لا ویریتے سی ژے مان” کے ایک کردار کو بھی متاثر کیا تھا۔
انہوں نے اپنی خود نوشت میں خود کو ایک “سیلف میڈ” کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کیا تھا جو 1970 کی دہائی میں فرانس پہنچے اور محنت سے کامیابی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق ان کا سب سے مقبول پروڈکٹ مصنوعی چمڑے کی سیاہ جیکٹ تھی جس کی لاکھوں تعداد فروخت ہوئی۔
محمود بھٹی اس سے قبل بھی 2001 میں مالیاتی فراڈ کے ایک مقدمے میں قانونی مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں۔
عدالت میں پیشی کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2018 میں وہ ایک ڈکیتی کی واردات کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد انہیں شدید ذہنی اور جسمانی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ -

دوبارہ حملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو جنگ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے سے باہر تک پھیل سکتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
دوسری جانب چین میں تعینات ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے تعلقات ایک پیچیدہ معاملہ ہیں، تاہم موجودہ سفارتی رابطوں میں چین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کوششوں میں چین نے مثبت اور تعمیری انداز میں حصہ لیا کیونکہ بیجنگ صرف اسی وقت ثالثی عمل میں شامل ہونا پسند کرتا ہے جب کسی مثبت پیش رفت کی امید موجود ہو۔
ایرانی سفیر کے مطابق جاری سفارتی عمل ایران، پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تصادم سے بچنے کیلئے سفارتی رابطے انتہائی اہم ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔