ایران کے تازہ میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب اور اس کے اطراف میں متعدد مقامات پر میزائل کے ٹکڑے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے ساتھ متاثرہ مقامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایمبولینس سروسز کے مطابق حملوں کے بعد کم از کم 9 افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ مزید نقصان کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana

تل ابیب میں میزائل حملوں کے بعد آگ، عمارتوں کو نقصان

خارگ جزیرے پر امریکی نظر، ایران پر دباؤ بڑھانے کا منصوبہ
ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر قبضے یا ناکہ بندی کے ممکنہ منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس مقام کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس کے عالمی توانائی منڈی اور خطے کی سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ کشیدگی میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔
آئرن ڈوم اہلکار گرفتار، ایران کیلئے جاسوسی کا الزام
اسرائیل میں آئرن ڈوم سسٹم پر تعینات ایک اہلکار کو ایران کیلئے مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ اہلکار نے ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے آئرن ڈوم کی حساس لوکیشنز شیئر کیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ اہلکار کئی ماہ سے ایک ایرانی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ کے ساتھ رابطے میں تھا اور معمولی رقم کے عوض معلومات فراہم کر رہا تھا۔
حکام کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کو قومی سلامتی کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کا امریکا کو اسلحہ برآمد کرنے سے انکار، ایران جنگ کے اثرات گہرے
ایران جنگ کے باعث سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوئس حکومت کے مطابق امریکا کو جنگی سامان کی برآمدات کی فی الحال اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس حوالے سے کمپنیوں کو لائسنس جاری نہیں کیے جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی ایسے ملک کو اسلحہ فراہم نہیں کیا جائے گا جو ایران کے ساتھ جاری مسلح تصادم میں شامل ہو۔
حکومت نے واضح کیا کہ تنازع کے دوران غیر جانبداری برقرار رکھنا ضروری ہے، اسی لیے جنگی سامان کی ترسیل محدود کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی کچھ جنگی پروازوں کو اجازت دینے سے بھی انکار کیا تھا۔
دوسری جانب ایران جنگ کے اثرات عالمی سطح پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک ہنگامی بنیادوں پر توانائی بحران اور سپلائی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری فیصلے ناگزیر ہیں، جبکہ کئی ممالک آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستہ یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس کی تجویز، عالمی توانائی سپلائی پر خدشات
ایران میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تجویز کے تحت اس اہم سمندری راستے کو استعمال کرنے والے ممالک کو ایران کو ادائیگی کرنا ہوگی تاکہ محفوظ گزرگاہ کی سہولت کا معاوضہ لیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر مؤثر کنٹرول کی اطلاعات ہیں۔ عام حالات میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے اتحادی ممالک، جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان شامل ہیں، نے کہا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے پر محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹول ٹیکس نافذ کیا گیا تو اس کے عالمی توانائی مارکیٹ، شپنگ اخراجات اور تیل کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سندھ میں کفایت شعاری مہم، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کفایت شعاری مہم کے تحت صوبے میں 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کر دی گئی ہیں تاکہ ایندھن کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق 47 سے زائد سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر 2837 گاڑیوں میں سے 1524 گاڑیاں بند کر دی گئی ہیں۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ اس اقدام میں محکمہ صحت، خزانہ، اسکول ایجوکیشن، انرجی اور اینٹی کرپشن سمیت اہم شعبے شامل ہیں، جبکہ بعض محکموں میں بندش کی شرح 65 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ انٹر پروونشل کوآرڈی نیشن کے محکمے کی تمام گاڑیاں بھی بند کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ایندھن کی کھپت کو قابو میں رکھنے اور سرکاری وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ قومی خزانے کو کروڑوں روپے کی بچت بھی ہوگی۔
وزیر کے مطابق صرف ہنگامی اور ضروری خدمات کے لیے مخصوص گاڑیاں ہی استعمال میں رہیں گی، جبکہ دیگر گاڑیوں کو عارضی طور پر بند رکھا جائے گا۔
تنخواہوں میں کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری، افسران کی 2 روز کی تنخواہ کم
پنجاب میں محکمہ خزانہ نے سرکاری افسران اور سیاسی شخصیات کی تنخواہوں میں کٹوتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کی دو روز کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
حکام کے مطابق یہ رقم وفاقی حکومت کے ایمرجنسی فنڈ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ موجودہ مالی حالات سے نمٹا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزراء، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکرٹریز کی دو ماہ کی مکمل تنخواہ جبکہ اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
مزید برآں سلیب کے مطابق بھی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں 3 سے 10 لاکھ روپے تنخواہ پر 5 فیصد، 10 سے 20 لاکھ پر 15 فیصد، 20 سے 30 لاکھ پر 25 فیصد جبکہ 30 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والوں پر 30 فیصد کٹوتی ہوگی۔
اس کے علاوہ سرکاری و نجی کمپنیوں کے بورڈز میں شامل حکومتی ارکان کی فیس میں 100 فیصد کٹوتی کی جائے گی، اور یہ تمام رقم وزیر اعظم آسٹیریٹی فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
یہ اقدامات کفایت شعاری پالیسی کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
امریکا نے ایرانی تیل پر پابندیاں ختم کردیں، قیمتیں کنٹرول کرنے کا فیصلہ
امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔
امریکی وزیر توانائی کے مطابق ایرانی تیل آئندہ چند دنوں میں عالمی مارکیٹ میں دستیاب ہونا شروع ہو جائے گا اور تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ تک سپلائی جاری رہے گی، جس سے قیمتوں میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ساتھ ساتھ امریکا اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے بھی تیل جاری کر رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں دباؤ کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور سپلائی میں بہتری متوقع ہے، جبکہ توانائی کے بحران کے خدشات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
ایران کی سخت وارننگ: دشمن کہیں بھی محفوظ نہیں رہے گا
ایران کے اعلیٰ فوجی ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حکام اب دنیا بھر میں کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر دشمنوں کے لیے دنیا بھر میں عوامی مقامات، پارکس اور سیاحتی جگہیں بھی غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران کے مخالفین کو اب عالمی سطح پر عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑے گا اور موجودہ صورتحال میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
نجی اسکولز کا مطالبہ: تعلیمی ادارے 24 مارچ سے کھولے جائیں
پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی ادارے 24 مارچ سے دوبارہ کھولے جائیں اور 31 مارچ تک تعطیلات کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
ایسوسی ایشن کے رہنما ابرار احمد خان کے مطابق پنجاب میں تدریسی دنوں کی تعداد صرف 124 ہے، جو عالمی اوسط 186 دنوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک جیسے سری لنکا، بھارت اور بنگلادیش میں تعلیمی ادارے بند نہیں کیے گئے، اس لیے پنجاب میں بھی اس فیصلے پر نظرثانی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صوبے بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں کو 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی تجاویز پر غور کیا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور نصاب کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
تعلیمی حلقوں کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ تعلیمی سال میں ہفتہ وار چھٹیوں میں کمی کی جائے، جبکہ موسم گرما اور سرما کی تعطیلات کو محدود کر کے تعلیمی دنوں کی تعداد کم از کم 180 تک بڑھائی جائے۔ ساتھ ہی طلبہ کے لیے سمر کیمپس متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ تعلیمی نقصان کا ازالہ ہو سکے۔









