پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ اس بار تنقید کی وجہ ایک وائرل ویڈیو بنی ہے، جس میں انہیں ایک مداح کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں شاہد آفریدی ایک اسٹیڈیم سے سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں باہر نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی دوران ایک مداح ان کے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے، جس پر سابق کرکٹر مبینہ طور پر اسے ہاتھ سے پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دھکا دینے کے بعد غصے کے انداز میں اس مداح کی جانب بڑھتے ہیں، جس پر وہاں موجود افراد صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ متعدد صارفین نے شاہد آفریدی کے رویے کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شخصیات کو اپنے مداحوں کے ساتھ تحمل اور احترام سے پیش آنا چاہیے، کیونکہ مداح ہی ان کی مقبولیت کی بنیاد ہوتے ہیں۔
دوسری جانب بعض صارفین نے سابق کپتان کا دفاع بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہجوم میں سیکیورٹی خدشات کے باعث بعض اوقات غیر متوقع ردعمل سامنے آ سکتا ہے، اس لیے ویڈیو کا مکمل پس منظر سامنے آنے سے پہلے حتمی رائے قائم نہیں کی جانی چاہیے۔
تاحال شاہد آفریدی یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس وائرل ویڈیو اور اس پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے اور صارفین اس پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

مداح کو دھکا دینے پر شاہد آفریدی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں
-

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر میں ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی بحران کے پُرامن حل کے لیے ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کشیدگی کے خاتمے، عوام کو ریلیف دینے اور انصاف کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کو درپیش بحران کا حل طاقت یا محاذ آرائی میں نہیں بلکہ مذاکرات، سچائی اور انصاف پر مبنی طریقہ کار میں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک آزاد اور بااختیار ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن تشکیل دیا جائے جو موجودہ بحران اور باہمی ٹکراؤ کے اسباب کا جائزہ لے اور فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کرے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کا مقصد صرف موجودہ کشیدگی کا خاتمہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ، معمولات زندگی کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل ہونی چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس فورم کے ذریعے ہر متاثرہ شخص کو اپنی بات رکھنے کا موقع ملے، تمام شکایات غیر جانبدارانہ انداز میں سنی جائیں اور حقائق کو سامنے لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اس تجویز پر اب تک کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان کے بقول اگر تمام سیاسی قوتیں اور متعلقہ ادارے سنجیدگی سے اس تجویز پر غور کریں تو آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام، عوامی اعتماد اور دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق، جمہوری اقدار اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گی جو خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا باعث بنیں۔ -

سندھ میں ایچ آئی وی خطرناک حد تک پھیلنے لگا، 6 ماہ میں 729 بچے متاثر
کراچی سمیت سندھ بھر میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں میں ایچ آئی وی کے تشویشناک پھیلاؤ نے ماہرین صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ذرائع کے مطابق یکم جنوری سے جون 2026 کے اختتام تک صوبے میں 729 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جو ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے بچوں کے کیسز کا 90 فیصد سے زائد حصہ بنتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ بچوں میں 447 لڑکے اور 282 لڑکیاں شامل ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جس پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کے اتنی بڑی تعداد میں سامنے آنے والے کیسز کو صرف ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ انجکشن، آلودہ طبی آلات کا استعمال، انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات اور صحت کے مراکز میں حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا بھی اس اضافے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو متاثرہ بچوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور طبی آلات کے محفوظ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے یہ بھی زور دیا کہ حاملہ خواتین کی بروقت اسکریننگ، متاثرہ مریضوں کی جلد تشخیص، مفت علاج کی فراہمی اور عوام میں آگاہی مہم چلانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
محکمہ صحت سندھ کی جانب سے صورتحال کی نگرانی جاری ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال سمجھتے ہوئے مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ -

بھارت کے بڑے امتحانی اسکینڈل کی اندرونی کہانی
بھارت میں ہونے والے مبینہ امتحانی پرچہ لیک اسکینڈل کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ایک امیدوار کی شکایت نے ایسے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جس نے ملک کے اہم ترین مسابقتی امتحان کے سوالیہ پرچے مختلف ریاستوں میں فروخت کیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مبینہ اسکینڈل کا آغاز راجستھان کے دو افراد سے ہوا، جنہوں نے ناسک میں موجود ایک پرنٹنگ پریس سے امتحانی پرچہ حاصل کیا۔ بعد ازاں یہ پرچہ ہریانہ کے شہر گروگرام میں موجود ایک مبینہ رابطہ کار تک پہنچایا گیا، جہاں سے اسے راجستھان کے شہر سکر میں ایک کنسلٹنسی کمپنی کے حوالے کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس پورے نیٹ ورک میں ایک واٹس ایپ نمبر، جسے "KA400” کے نام سے شناخت کیا گیا، اہم کردار ادا کرتا رہا۔ الزام ہے کہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے مبینہ طور پر لیک ہونے والے سوالیہ پرچے مختلف ریاستوں میں فروخت کیے گئے۔ بعض خریداروں سے مبینہ طور پر 30 ہزار سے 5 لاکھ بھارتی روپے تک وصول کیے گئے، جبکہ ایک شخص کی جانب سے 28 لاکھ بھارتی روپے ادا کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق راجستھان سے لیک ہونے والا مبینہ پرچہ کیرالا تک پہنچا، جہاں اسے طلبہ کے درمیان فوٹو کاپیوں کی صورت میں تقسیم کیا گیا۔ امتحان کے انعقاد کے بعد بعض امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ بائیولوجی اور کیمسٹری کے متعدد سوالات پہلے سے گردش کرنے والے مبینہ لیک پرچے سے مماثلت رکھتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق کیرالا کے ایک امیدوار نے اس معاملے پر پہلے مقامی پولیس سے رجوع کیا، تاہم کارروائی نہ ہونے پر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو ای میل کے ذریعے شکایت درج کرائی۔ بعد ازاں یہ معاملہ متعلقہ تحقیقاتی اداروں تک پہنچا، جس کے بعد مختلف مقامات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
یہ امتحان بھارت میں میڈیکل، انجینئرنگ، ایوی ایشن اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جس میں ہر سال لاکھوں امیدوار شرکت کرتے ہیں۔ اس مبینہ اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت، نگرانی اور سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ -

کراچی: گھریلو ملازمہ 85 لاکھ روپے مالیت کے زیورات چوری کرنے کے الزام میں گرفتار
کراچی کے علاقے منصور آباد میں پولیس نے ایک گھریلو ملازمہ کو 85 لاکھ روپے مالیت کے زیورات چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق یہ واردات تین روز قبل ایک رہائشی گھر میں پیش آئی تھی، جہاں سے بڑی مالیت کے زیورات غائب ہونے کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے مختلف شواہد اور معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا۔
تحقیقات کے دوران گھریلو ملازمہ کو حراست میں لیا گیا، جس سے پوچھ گچھ کے بعد اہم شواہد بھی برآمد کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا اس واردات میں کوئی اور شخص بھی ملوث تھا یا نہیں۔
پولیس حکام کے مطابق گھریلو ملازمین کے ذریعے چوری کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث ایسے مقدمات کی تفتیش میں خصوصی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہری گھریلو ملازمین کی بھرتی سے قبل ان کی مکمل تصدیق اور پولیس ویری فکیشن ضرور کرائیں تاکہ اس نوعیت کے جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکے۔
پولیس نے بتایا کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو انہیں بھی قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر گھریلو ملازمین کی بھرتی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ -

گانچھے کے گاؤں گھورس میں اچانک سیلاب سے تباہی، متعدد خاندان بے گھر
گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے گاؤں گھورس میں آنے والے اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں زرعی اراضی، کھڑی فصلیں، درخت اور متعدد مکانات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شدید بارشوں کے بعد آنے والے ریلے نے گاؤں کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے مقامی آبادی کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ سیلابی پانی نے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا جبکہ کئی پھلدار اور سایہ دار درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے۔
قدرتی آفت کے باعث متعدد خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں اور عارضی طور پر خیموں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں اور روزگار کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث انہیں خوراک، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے، متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، خیمے اور مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ معمول کی زندگی کی جانب واپس آ سکیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ ہنگامی امداد کے منتظر ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ متعلقہ حکام جلد از جلد نقصانات کا جائزہ لے کر بحالی کے اقدامات کریں گے۔ علاقے میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ مزید بارشوں کی صورت میں مقامی آبادی کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ -

نئی دہلی میں احتجاج کے دوران پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگنے کی ویڈیو وائرل
نئی دہلی میں ہونے والے ایک احتجاج کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مظاہرین نے پاکستان، پاک فوج اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حق میں نعرے لگائے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں احتجاج کے دوران مختلف نعرے سنائی دیتے ہیں، جبکہ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ مظاہرین بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ویڈیو کے حوالے سے مختلف نوعیت کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نعرے کس تناظر میں لگائے گئے اور ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی۔
کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احتجاج میں شریک افراد نے پاکستان اور اس کی عسکری قیادت کے حق میں نعرے بازی کی -

جعلی سفری مہروں کے شبہے پر کراچی ایئرپورٹ پر مسافر آف لوڈ
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کر دیا۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق آف لوڈ کیے جانے والے مسافر کی شناخت کمیل عباس کے نام سے ہوئی ہے۔ معمول کی امیگریشن جانچ کے دوران اس کے پاسپورٹ پر موجود بعض سفری مہروں کو مشتبہ قرار دیا گیا، جس پر مزید تفصیلی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی جانچ میں پاسپورٹ پر لگی مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ ظاہر ہوا، جس کے بعد ان کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی۔ سسٹم میں متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ موجود نہ ہونے کے باعث یہ شبہ مزید مضبوط ہو گیا کہ پاسپورٹ پر موجود مہریں غیر قانونی یا جعلی ہو سکتی ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق مسافر کو مزید تفتیش کے لیے روک لیا گیا ہے جبکہ اس کے سفری ریکارڈ اور دستاویزات کی مکمل چھان بین جاری ہے۔ تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن نظام کو محفوظ بنانے اور جعلی سفری دستاویزات کے استعمال کی روک تھام کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام سے ہر مشتبہ ریکارڈ کی تصدیق کی جاتی ہے تاکہ غیر قانونی سفری سرگرمیوں کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ -

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
پاکستان میں حکومت نے یومیہ ایندھن قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش، زرعی سرگرمیوں اور دیگر شعبوں میں اخراجات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ بالخصوص مال بردار گاڑیوں، زرعی مشینری اور صنعتی شعبے کے لیے لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، درآمدی اخراجات اور بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ اضافے نے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں پہلے ہی مہنگائی کے باعث شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو آئندہ دنوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان موجود ہے۔ دوسری جانب عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
حالیہ اضافے کے بعد شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کی نظریں آئندہ حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں ہر تبدیلی ملکی معیشت اور روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ -

بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا
بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جہاں پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قیمت 97 بھارتی روپے تک جا پہنچی۔ کرنسی کی اس غیر معمولی گراوٹ نے مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ بھارتی مرکزی بینک کو صورتحال سنبھالنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کو سہارا دینے کے لیے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کی، تاہم اس کے باوجود بھارتی کرنسی دباؤ کا شکار رہی۔
اس سے قبل مئی 2026 میں بھارتی روپیہ 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر کی سطح تک گر گیا تھا، جو اس وقت تک کی کم ترین سطح تھی۔ تاہم حالیہ گراوٹ کے بعد روپیہ مزید کمزور ہو کر 97 روپے فی ڈالر تک پہنچ گیا، جسے ملکی تاریخ کی بدترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے انخلا اور درآمدی اخراجات میں اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے تیل کی بڑھتی قیمتیں ملکی کرنسی پر مزید منفی اثر ڈال رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی حالات اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو بھارتی روپے کو آئندہ بھی دباؤ کا سامنا رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدات مہنگی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔