سعودی عرب کی ایک اہم آئل ریفائنری، جو ایرانی حملوں کے باعث متاثر ہو کر بند ہوگئی تھی، اب دوبارہ فعال کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ریفائنری نے 14 اپریل سے باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ ریفائنری 8 اپریل کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں شدید نقصان کا شکار ہوئی تھی، جس کے باعث اس کے تین بڑے پیداواری یونٹس متاثر ہوئے تھے۔ ان نقصانات کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت ریفائنری کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں تاکہ مرمت اور بحالی کا کام مکمل کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرمت کے عمل کو تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا اور متاثرہ یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے جدید تکنیکی اقدامات کیے گئے۔ بحالی کے بعد اب ریفائنری یومیہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار دے رہی ہے، جو اس کی معمول کی پیداواری صلاحیت کے قریب ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ریفائنری کی بحالی نہ صرف سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم پیداوار کی بحالی سے مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے باوجود تیزی سے بحالی سعودی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب اپنی تیل کی تنصیبات کے تحفظ اور پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایرانی حملوں سے متاثر سعودی آئل ریفائنری دوبارہ فعال
-

چینی لڑاکا طیاروں کی مانگ میں اضافہ، فروخت تقریباً دگنی ہوگئی
بھارت کے ساتھ کشیدگی اور فضائی جھڑپوں میں پاک فضائیہ کی جانب سے چینی ساختہ لڑاکا طیاروں کے مؤثر استعمال کے بعد عالمی سطح پر ان طیاروں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق چینی طیارہ ساز کمپنی اے وی آئی سی چینگڈو ائیرکرافٹ کارپوریشن کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں فروخت تقریباً دگنی ہو گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید جنگی حالات میں ان طیاروں کی کارکردگی نے عالمی توجہ حاصل کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال کمپنی کی آمدنی میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 11 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ منافع میں 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کمپنی کی تاریخ کا سب سے زیادہ منافع قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سنگل انجن ملٹی رول J-10 لڑاکا طیارے گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں میں استعمال کیے گئے۔ ان جھڑپوں کے دوران پاک فضائیہ نے ان طیاروں کی مدد سے بھارتی فضائیہ کے کئی طیارے مار گرائے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ اس پیش رفت نے عالمی دفاعی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ تنازع ان چند مواقع میں سے ایک تھا جہاں جدید چینی ہتھیاروں کو حقیقی جنگی حالات میں آزمایا گیا۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر خریدار ممالک نے ان طیاروں میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔
بھارتی حکام نے بھی اس دوران اپنے کچھ طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے تباہ ہونے والے طیاروں کی درست تعداد ظاہر نہیں کی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حالات میں عملی کارکردگی کسی بھی دفاعی سازوسامان کی عالمی ساکھ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ چینی طیاروں کی فروخت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ -

پاکستان کیلئے 160 ملین یورو فنڈنگ، سندھ میں گھر اور کراچی کیلئے پانی منصوبے
یورپی انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے لیے 160 ملین یورو کی مالی معاونت کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں بنیادی سہولیات کی بہتری اور متاثرہ علاقوں کی بحالی ہے۔ یہ اعلان اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے موقع پر کیا گیا، جہاں دونوں اطراف کے حکام نے ترقیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
اعلامیے کے مطابق اس فنڈنگ میں سے 100 ملین یورو سندھ میں سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 21 لاکھ گھروں کی بحالی کی جائے گی، جس سے لاکھوں متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ محفوظ رہائش میسر آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف متاثرین کی بحالی میں مدد دے گا بلکہ ماحولیاتی خطرات کے مقابلے کے لیے بھی بہتر انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔
دوسری جانب کراچی میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے 60 ملین یورو مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت دو بڑے فلٹریشن پلانٹس تعمیر کیے جائیں گے، جن کے ذریعے تقریباً 22 لاکھ افراد کو روزانہ 30 کروڑ لیٹر صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ شہر میں پانی کی قلت اور آلودگی کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ تمام منصوبے یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں پائیدار ترقی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کو فروغ دینا ہے۔ یورپی انویسٹمنٹ بینک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ترقیاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی۔
بینک حکام نے ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے اور کمزور طبقات کے لیے محفوظ رہائش اور صاف پانی کی فراہمی کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری سے نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں اطراف کے تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔ -
مالی میں طوارق باغیوں کا روسی افواج کے انخلا کا مطالبہ
مغربی افریقی ملک مالی میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے جہاں طوارق باغیوں نے روسی افواج سے فوری اور مکمل انخلا کا مطالبہ کردیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ازواد لبریشن فرنٹ کے ترجمان محمد المولود رمضان نے واضح کیا کہ ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ روسی افواج نہ صرف ازواد بلکہ پورے مالی سے مستقل طور پر نکل جائیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ باغیوں کا مسئلہ کسی ایک ملک سے نہیں بلکہ مالی کی موجودہ فوجی حکومت سے ہے، جس پر انہوں نے سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کے مطابق روس نے ان عناصر کی حمایت کی جو مبینہ طور پر شہریوں کے خلاف کارروائیوں اور قتل عام میں ملوث رہے ہیں، جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران طوارق علیحدگی پسندوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن کا دائرہ کار دارالحکومت باماکو کے اطراف تک پھیل گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف سیکیورٹی صورتحال بگڑی بلکہ حکومتی رٹ کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔
باغیوں نے شمالی صحرائی علاقے کے اہم شہر کِدال پر قبضہ کر لیا ہے، جو اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ شدید جھڑپوں کے دوران مالی کے وزیر دفاع سادیو کامارا کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے حکومتی صفوں میں مزید بے چینی پھیل گئی ہے۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ماسکو کے زیر انتظام افریقہ کور کی نیم فوجی فورسز کو کِدال سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ یہ فورسز مالی کی فوجی حکومت کی مدد کے لیے تعینات تھیں، تاہم باغیوں کے شدید حملوں کے باعث انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
باغیوں کے ترجمان نے عندیہ دیا کہ ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان کا اگلا ہدف گاؤ، ٹمبکٹو اور میناکا جیسے اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس پیش رفت نے مالی میں جاری بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ -

امریکا ایران جنگ سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ نے پاکستان کی گزشتہ دو سالہ مشترکہ معاشی اور سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کے لیے بھی مثبت اقدامات کیے، تاہم جنگ کے اثرات سے ملکی معیشت متاثر ہوئی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں استحکام اور امن کو ترجیح دی، اور اسی مقصد کے تحت سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت سیز فائر موجود ہے، لیکن جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اب بھی عالمی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق جنگ سے قبل پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل تقریباً 30 کروڑ ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اس بڑے اضافے نے ملک کی معاشی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے اور مالی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام تر مشکلات کے باوجود معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ -

بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ملاقات
جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بشریٰ بی بی سے ملاقات کرا دی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ یہ ملاقات اڈیالہ جیل میں ہوئی جہاں وہ زیر حراست ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان اہم امور پر گفتگو بھی ہوئی، تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ جیل حکام کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملاقات کو محدود رکھا گیا۔
دوسری جانب اہل خانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی غیر ضروری ہے اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
ذرائع کے مطابق جیل انتظامیہ سیکیورٹی اور قواعد و ضوابط کے تحت ملاقاتوں کی اجازت دیتی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید وضاحت سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پیش رفت سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ -

بحرین میں ایران کیلئے جاسوسی پر عمر قید
بحرین کی اعلیٰ فوجداری عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات میں 2 افغان شہریوں سمیت 5 افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد پانچوں ملزمان کو قصوروار قرار دیا، جبکہ ایک ملزم کو شواہد کی عدم موجودگی پر بری کر دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد غیر ملکی ملزمان کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ روابط رکھتے تھے اور اس کے لیے حساس معلومات فراہم کرتے تھے۔ مزید یہ کہ ان پر دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
عدالتی فیصلے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے خطے میں جاری سیاسی اور سیکیورٹی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مختلف ممالک ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس ہے اور مختلف ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔ -

بھارت میں شہری بہن کی باقیات بینک لے گیا
بھارت کی ریاست اڑیسہ میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شہری کو بینک سے رقم نکلوانے کے لیے اپنی مرحوم بہن کی باقیات ساتھ لے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس نے صارفین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینجھار کے ایک گاؤں کے رہائشی جیتو منڈا کی بہن کا دو ماہ قبل انتقال ہو چکا تھا۔ ان کے بینک اکاؤنٹ میں تقریباً 19 ہزار 300 روپے موجود تھے، جنہیں نکلوانے کے لیے جیتو منڈا متعدد بار بینک کے چکر لگاتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق شہری نے بینک عملے کو بار بار بتایا کہ اس کی بہن کا انتقال ہو چکا ہے، تاہم حکام نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا اور مطالبہ کیا کہ اکاؤنٹ ہولڈر خود آ کر دستخط کرے۔ اس صورتحال سے تنگ آ کر وہ اپنی بہن کی باقیات لے کر بینک پہنچ گیا تاکہ اپنی بات ثابت کر سکے۔
واقعے کے بعد پولیس نے مداخلت کی اور شہری کو بینک سے باہر لے جا کر باقیات کی دوبارہ تدفین کا انتظام کیا۔ حکام نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متاثرہ شخص کو قانونی طریقے سے رقم تک رسائی دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کئی صارفین نے اسے دل دہلا دینے والا قرار دیا جبکہ بعض نے بینکنگ نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے نچلی سطح پر عوام کو درپیش مشکلات اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو بے نقاب کیا ہے، جس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ -

آبنائے ہرمز پر ایران کا حق، روسی سفیر
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسلی نیبنزیا نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے اور وہاں جہازوں کی آمدورفت محدود کرنے کا حق حاصل ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب وہ خود کو خطرے میں محسوس کرے۔
اپنے بیان میں روسی سفیر نے کہا کہ ایران پر مکمل ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ یہ تاثر درست نہیں کہ ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جنگی حالات میں کسی بھی ساحلی ریاست کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے اپنی علاقائی سمندری حدود میں جہاز رانی کو محدود کرے۔
نیبنزیا نے مغربی ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے انہیں منافقت کا مرتکب قرار دیا اور کہا کہ مغربی ریاستیں اپنی کارروائیوں کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کرتی ہیں، حالانکہ وہ خود بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
انہوں نے یورپی ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین کی جانب سے بحیرہ اسود میں روسی تجارتی جہازوں پر حملوں کی حمایت کر رہے ہیں، جسے انہوں نے دہرا معیار قرار دیا۔
روسی سفیر نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں قزاق کھلے عام اپنی شناخت ظاہر کرتے تھے، جبکہ آج مغربی ممالک اپنی کارروائیوں کو مختلف جوازوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مختلف طاقتوں کے درمیان بیانیے کی جنگ کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ہر فریق اپنی پوزیشن کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ -

ایران جلد جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کرے گا
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ چند روز میں جنگ بندی کے لیے ایک نیا ترمیمی منصوبہ پیش کر سکتا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے دورے کے بعد تہران واپس جا کر اعلیٰ قیادت سے مشاورت کریں گے تاکہ نئے منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی محدود دستیابی کے باعث رابطوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل سست روی کا شکار ہے۔
سی این این کے مطابق اس سے قبل ایران نے ایک تجویز پیش کی تھی جس میں جوہری پروگرام کے معاملے کو مؤخر کرتے ہوئے فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ بظاہر امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے زیادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن پسِ پردہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور فاصلہ اتنا زیادہ نہیں جتنا ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جاری بات چیت ایک مرحلہ وار حکمت عملی پر مبنی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنا اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی رکاوٹ یا ٹیکس کے کھولنا شامل ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے گی۔