Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ایران کا امریکی بنکر بسٹر بم تباہ کرنے کا دعویٰ

    
ایران کا امریکی بنکر بسٹر بم تباہ کرنے کا دعویٰ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ زنجان میں کارروائی کے دوران تین امریکی بنکر شکن بم تباہ کر دیے گئے جبکہ ایک اور بم کو ناکارہ بنا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی کے دوران GBU-57 طرز کے تین بنکر بسٹر بموں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا، جبکہ ایک اور بم کو غیر فعال بنا کر متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئیں۔
    GBU-57 کو دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا وزن تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ ہوتا ہے۔ یہ ہتھیار زمین کے اندر گہرائی میں موجود مضبوط تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے انتہائی حساس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق اسی کارروائی کے دوران دشمن طیاروں کی جانب سے گرائے گئے 9 ہزار 500 سے زائد دیگر بم بھی تلاش کر کے ناکارہ بنا دیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
    ‎یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس ہونے والی محدود جنگ کے دوران بھی امریکی افواج نے ایرانی جوہری تنصیبات پر ایسے ہی طاقتور بموں کے استعمال کی اطلاعات دی تھیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں شفاف معلومات اور تصدیق شدہ حقائق نہایت اہمیت رکھتے ہیں تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

  • 
ایران میں ’جان فدا‘ مہم، 3 کروڑ رجسٹریشن

    
ایران میں ’جان فدا‘ مہم، 3 کروڑ رجسٹریشن

    ‎ایران میں ملکی دفاع کے لیے شروع کی گئی ’جان فدا‘ مہم نے غیر معمولی عوامی ردعمل حاصل کر لیا ہے، جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق اس مہم میں رجسٹر ہونے والے شہریوں کی تعداد 3 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق یہ مہم 28 فروری کو اس وقت شروع کی گئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد ایران میں زمینی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے عوام کو ملکی دفاع کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی گئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں نے رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروائی۔
    ‎ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مختصر وقت میں اس مہم نے وسیع عوامی توجہ حاصل کی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 30 ملین سے زائد افراد اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد ایران کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا تناسب بنتی ہے، جو عوامی سطح پر ردعمل کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران عراق جنگ کے دوران تقریباً 20 لاکھ افراد رضاکارانہ طور پر محاذ پر گئے تھے، جو اس وقت کی آبادی کا تقریباً 5 سے 6 فیصد تھے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ مہم میں چند دنوں کے اندر 3 کروڑ افراد کی رجسٹریشن ایک نمایاں فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اس مہم کو عوامی حمایت حاصل ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں ایرانی معاشرہ دفاعی معاملات پر متحد نظر آ رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
    ‎یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز پر کسی کی اجارہ داری قبول نہیں: ایران

    
آبنائے ہرمز پر کسی کی اجارہ داری قبول نہیں: ایران

    ‎ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ کارروائیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر کسی بھی بیرونی طاقت کی اجارہ داری ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
    ‎انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز صرف ایران ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کی مشترکہ ملکیت ہیں، اور کسی بیرونی قوت کو ان معاملات میں مداخلت یا رائے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی حدود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے قدرتی وسائل پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی ایسے ملک سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی جہاں بیرونی طاقتیں آ کر وسائل پر کنٹرول حاصل کر لیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب بیرونی مداخلت کا خاتمہ ہو اور علاقائی ممالک اپنے معاملات خود طے کریں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس علاقے سے متعلق بیانات اور اقدامات کو عالمی سطح پر گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

  • 
ٹرمپ کا محفوظ بال روم بنانے پر زور

    
ٹرمپ کا محفوظ بال روم بنانے پر زور

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں جدید سیکیورٹی سے آراستہ بال روم کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات پیش آنے والا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک محفوظ اور جدید بال روم کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔
    ‎اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے فوج، سیکرٹ سروس اور سابق صدور وائٹ ہاؤس میں ایک محفوظ بال روم کی تعمیر کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر زیر تعمیر خفیہ بال روم پہلے سے موجود ہوتا تو حالیہ واقعہ پیش نہ آتا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ نیا بال روم جدید ترین سیکیورٹی فیچرز سے لیس ہوگا اور اسے دنیا کی محفوظ ترین عمارتوں میں شامل کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اس بال روم کی خاص بات یہ ہوگی کہ اس کے اوپر کوئی کمرے نہیں ہوں گے، تاکہ کسی بھی غیر مجاز فرد کے لیے اندر داخل ہونا ممکن نہ ہو سکے۔
    ‎صدر ٹرمپ نے ایک خاتون کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم منصوبے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور تعمیراتی کام مقررہ وقت سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔
    ‎دوسری جانب واشنگٹن میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی پراسیکیوٹر جینین پیرو کے مطابق ملزم پر آتشیں اسلحہ کے ذریعے پرتشدد کارروائی اور ایک وفاقی اہلکار پر حملے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

  • 
ایرانی وزیر خارجہ آج دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے

    
ایرانی وزیر خارجہ آج دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے

    ‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی آج مسقط سے اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ مختصر قیام کے دوران اہم پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کا یہ دورہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے جس کے بعد وہ ماسکو روانہ ہو جائیں گے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق عباس عراقچی کا یہ دورہ ایک سہ ملکی سفارتی سلسلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر اسلام آباد سے اپنے دورے کا آغاز کیا تھا، بعد ازاں مسقط گئے اور اب دوبارہ پاکستان آ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران وہ اہم ملاقاتیں کریں گے جن میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات زیر بحث آئیں گے۔
    ‎گزشتہ روز سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایرانی وفد کا دورہ پاکستان مثبت رہا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں میں اہم امور پر بات چیت ہوئی اور ان ملاقاتوں کے نتائج کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سفارتی روابط کے نتیجے میں آئندہ 48 گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے اپنے پہلے دورہ پاکستان کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں قومی سلامتی، علاقائی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس ملاقات میں مشیر قومی سلامتی جنرل عاصم ملک، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
    ‎ایرانی سفارتخانے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
    ‎وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی وفد سے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بات ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو خوشگوار اور تعمیری قرار دیا۔

  • 
کراچی میں وبا تیزی سے پھیلنے لگی

    
کراچی میں وبا تیزی سے پھیلنے لگی

    ‎کراچی میں خسرہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور ماہرین نے اسے وبائی شکل اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ رواں سال کے دوران سندھ بھر میں خسرہ کے باعث اب تک 40 بچوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ متاثرہ بچوں کی تعداد 1183 تک پہنچ گئی ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
    ‎طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی والدین لاعلمی یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے بچوں کی بروقت ویکسینیشن نہیں کروا رہے، جس کے باعث خسرہ جیسے متعدی مرض کو پھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔
    ‎ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بیماری مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور مزید جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لازمی لگوائیں تاکہ انہیں اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ویکسینیشن مہم کو تیز کیا جا رہا ہے اور والدین کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسپتالوں میں متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے سہولیات بھی بڑھائی جا رہی ہیں۔
    ‎ڈاکٹروں کے مطابق خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، کھانسی، نزلہ اور جسم پر سرخ دانے شامل ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

  • 
نیتن یاہو کا حزب اللہ پر جنگ بندی خلاف ورزی کا الزام

    
نیتن یاہو کا حزب اللہ پر جنگ بندی خلاف ورزی کا الزام

    ‎اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے اقدامات اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کہی، جہاں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی سرگرمیاں نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہیں بلکہ عملی طور پر جنگ بندی کو کمزور کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے کیونکہ یہ خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بھڑکا سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے جنوبی لبنان کے سات دیہات کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہ اقدام ممکنہ کارروائی کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔
    ‎اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد وہ جواب دینے پر مجبور ہے اور اس حوالے سے فیصلہ کن اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو یہ نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن کو متاثر کر سکتا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم تازہ الزامات کے بعد اس معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

  • 
ڈیزل قیمت فارمولا تبدیلی، دباؤ کی تردید

    
ڈیزل قیمت فارمولا تبدیلی، دباؤ کی تردید

    ‎وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ڈیزل کی قیمت کے فارمولے میں تبدیلی سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن اور ملکی ریفائنریز کے درمیان رضاکارانہ معاہدہ طے پایا ہے جس کے بعد یہ نیا فارمولا متعارف کرایا گیا۔
    ‎وزیر پیٹرولیم کے مطابق اس حوالے سے ماہرین اور ریسرچ ٹیم سے مشاورت کے بعد ایک عبوری فارمولا تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد نہ صرف موجودہ نظام کو بہتر بنانا ہے بلکہ مستقبل میں ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ریفائننگ سیکٹر کو اپ گریڈ کر کے مکمل ڈی ریگولیشن کی طرف لے جانا ہے۔
    ‎علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو طویل مدت تک مستحکم رکھنے کے لیے عالمی سطح پر تنازعات کا حل بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ براہ راست مقامی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معاشی بہتری کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے اور توانائی کے شعبے میں مستقل مزاجی سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان کے مطابق نئے فارمولے کے تحت قیمتوں کی ادائیگی کا نظام مقامی ریفائنریز کو علاقائی سطح پر مسابقت کے قابل بنائے گا اور انہیں دیگر ممالک، خصوصاً بھارت کی ریفائنریز کے برابر لانے میں مدد دے گا۔
    ‎وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کا ایک اہم مقصد ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملک کو زیادہ اقتصادی فائدہ حاصل ہو سکے۔ ان کے مطابق مسابقتی ماحول پیدا ہونے سے نہ صرف صنعت ترقی کرے گی بلکہ صارفین کے مفادات کا بھی بہتر تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں اور معیشت کو استحکام مل سکتا ہے۔

  • 
سوات میں ماں اور ساتھی کے ہاتھوں بیٹی قتل

    ‎خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر اپنی ہی تین سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق مقتولہ بچی تمنا کی لاش ایک ملزم کی نشاندہی پر امان کوٹ کے پہاڑی علاقے سے برآمد کی گئی۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ اس افسوسناک واردات میں بچی کی اپنی ماں بھی ملوث تھی، جس نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر یہ جرم کیا۔
    ‎ایس پی کے مطابق گرفتار ملزمان دیگر جرائم میں بھی ملوث رہے ہیں، جن میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں شامل ہیں۔ پولیس نے کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 14 چوری شدہ موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی ہیں، جو ان کے جرائم کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان تک رسائی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ممکن ہوئی، جس کے ذریعے ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے اور مختلف پہلوؤں سے کیس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملزمان کے دیگر ممکنہ جرائم کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
    ‎یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔

  • 
کلفٹن میں فائرنگ، ایف بی آر انسپکٹر زخمی

    
کلفٹن میں فائرنگ، ایف بی آر انسپکٹر زخمی

    ‎کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں فائرنگ کے ایک واقعے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک انسپکٹر کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر ایک سابق پولیس افسر کے بیٹے سے متعلق ہے، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔
    ‎پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت آغا شہریار کے نام سے ہوئی ہے، جو واقعے کے بعد فرار ہو گیا اور تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آ سکا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔
    ‎ملزم کے والد اصغر پٹھان، جو خود سابق پولیس افسر رہ چکے ہیں، نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کا چند روز قبل چار افراد کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا جس کے دوران مبینہ طور پر اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی تنازعے کے پس منظر میں یہ واقعہ پیش آیا ہو سکتا ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے ایف بی آر اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
    ‎دوسری جانب ملزم کے والد نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
    ‎واقعے نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔