اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسلی نیبنزیا نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے اور وہاں جہازوں کی آمدورفت محدود کرنے کا حق حاصل ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب وہ خود کو خطرے میں محسوس کرے۔
اپنے بیان میں روسی سفیر نے کہا کہ ایران پر مکمل ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ یہ تاثر درست نہیں کہ ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جنگی حالات میں کسی بھی ساحلی ریاست کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے اپنی علاقائی سمندری حدود میں جہاز رانی کو محدود کرے۔
نیبنزیا نے مغربی ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے انہیں منافقت کا مرتکب قرار دیا اور کہا کہ مغربی ریاستیں اپنی کارروائیوں کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کرتی ہیں، حالانکہ وہ خود بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
انہوں نے یورپی ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین کی جانب سے بحیرہ اسود میں روسی تجارتی جہازوں پر حملوں کی حمایت کر رہے ہیں، جسے انہوں نے دہرا معیار قرار دیا۔
روسی سفیر نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں قزاق کھلے عام اپنی شناخت ظاہر کرتے تھے، جبکہ آج مغربی ممالک اپنی کارروائیوں کو مختلف جوازوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مختلف طاقتوں کے درمیان بیانیے کی جنگ کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ہر فریق اپنی پوزیشن کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا حق، روسی سفیر
